اپسٹین فائلز اور مجاہدین کا موقف

ادارہ شاہد، تنظیم القاعدہ، جزیرۂ عرب

جب ہم امریکی ارب پتی اپسٹین، اس کی خسیس تنظیم اور غلیظ جزیرے کی بات کرتے ہیں، تو بلامبالغہ ہمارا سامنا انسانی تاریخ کی سب سے خبیث اور خطرناک خفیہ تنظیم سے ہوتا ہے، کیونکہ یہاں سازشی نظریے کے خیالی تصورات اور ٹھوس حقیقت کے درمیان کی رکاوٹیں اور سرحدیں مٹ جاتی ہیں اور بالکل اسی جگہ پر، اس گندے جزیرے پر، سازشی نظریات حقیقت میں بدل جاتے ہیں۔ ایک ایسی ناقابل تردید حقیقت جس میں سیاست، صنعت اور معیشت کے لیڈروں، علم و فکر اور ثقافت کے علم برداروں اور ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور سائنس کے ماہرین کی طرف سے کیے جانے والے گھناؤنے جرائم کی کہانیاں رقم کی جاتی ہیں۔ ان خسیس مجرموں نے بے حیائی کے اس جزیرے پر کمسن بچیوں کی عصمت دری جیسے بھیانک جرائم کیے ہیں، تاہم اکثر لوگ اس خبیث تنظیم کے افعال میں صرف اس پستی اور جرائم کی ہولناکی کے علاوہ کچھ بھی محسوس کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

یہ اس لیے کہ ان فائلوں کو افشا کرنے والے، لوگوں کی توجہ ’مسیحِ دجال‘ کے اس جزیرے میں ہونے والی محض شہوانی اور ہوس پرستانہ سرگرمیوں کی طرف مبذول کروانا چاہتے تھے، تاکہ لوگوں کی توجہ ان جرائم کے دیگر پہلوؤں سے ہٹا دیں جو اس جزیرے پر ہو رہے تھے۔ در حقیقت یہ ان مجرموں کا اتحاد تھا جو وہاں انسانیت کو تباہ کرنے کی سازشیں کرتے، انسانی فطرت کو کچلنے کی تدبیریں سوچتے، اور اسلام اور مسلمانوں کا دفاع کرنے والی اسلامی جہادی تحریکوں کے خلاف منصوبے بناتے تھے جو ان کی شیطانی تنظیموں اور مجرمانہ اتحادوں کے خلاف حقیقی مزاحمت کرتے ہیں۔

شیطان کے باپ اپسٹین کا مقصد صرف ایک مجرمانہ تنظیم بنانا نہیں تھا جس کے ارکان کمسن بچیوں کی عصمت دری اور انہیں ذبح کرنے جیسے جرائم کا ارتکاب کرتے تھے، بلکہ اس گھناؤنی سازش کے تخلیق کار ان سرگرمیوں کو عالمی فیصلہ سازوں پر اثر ڈالنے کے ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے تھے، تاکہ بین الاقوامی سیاسی سوچ کی عالمگیریت، صہیونی  صلیبی اتحادیوں کے ساتھ شراکت داری، دنیا کی قوموں کے حکمران طبقے کی شیطانی تعلیمات کے مطابق تربیت، اور ان کی ذہنیت و ضمیر کو دوبارہ تشکیل دے سکیں۔ اس لیے شیطان کے باپ اپسٹین کی تنظیم میں سیاسی، اقتصادی، صنعتی، میڈیا، علمی، فکری اور ثقافتی تمام شعبوں سے وابستہ متعدد چوٹی کے افراد اور اشرافیہ شامل تھے۔ صہیونی  صلیبی اتحاد نے اس جزیرے میں ایک عالمی تنظیم قائم کی تھی جس کی جڑیں دنیا کے ہر ملک میں گہرائی تک پہنچ چکی تھیں، اور ایک وسیع عالمی نیٹ ورک قائم کیا گیا تھا جس میں ان کی کمیونٹی کے بیشتر مؤثر لوگ شامل تھے، جن میں مغربی، مشرقی اور عرب ممالک کے لیڈر، علماء، شیوخ، محققین، مفکرین، صحافی، انجینئرز، ڈاکٹرز اور اعلیٰ فوجی افسران شامل تھے۔

یہاں ایک بڑی اسٹریٹیجک غلطی کی طرف توجہ دلانا مناسب ہو گا جو ان واقعات کا تجزیہ کرتے وقت کی جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ ہم اپسٹین اور اس کے غلیظ جزیرے کے معاملے کو صرف ایک ہی جزیرہ سمجھتے ہیں، جسے بے نقاب کیے جانے کے بعد اس کا معاملہ مہذب دنیا کے سامنے بند ہو گیا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مغرب اور مشرق میں بلکہ خلیج عرب میں بھی اپسٹین کے جزیرے جیسی گندگی رکھنے والی متعدد جگہیں موجود ہیں اور یہ مقامات پہلے بھی فعال تھے اور اب بھی فعال ہیں۔

اور تجزیہ و فکر میں ایک اور اسٹریٹیجک غلطی یہ ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ یہ جزیرے محض نائٹ کلب ہیں جہاں حیوانی لذتیں اور جانوروں والی خواہشات پوری کی جاتی ہیں اور جہاں کم سن لڑکیوں کی عصمت دری اور قتل جیسے شیطانی جرائم کا ارتکاب کیا جاتا ہے، پھر ان پارٹیوں میں ان کا گوشت پکا کر دنیا کے فاسق و فاجر اور عیش پرست لیڈروں کی ضیافتوں میں پیش کیا جاتا ہے۔ جبکہ درحقیقت یہ متعدد جزیرے تھے جو پارٹیوں اور کانفرنسوں کے انعقاد کے لیے قائم کیے گئے تھے تاکہ بین الاقوامی سیاست پر مکمل اور ہمہ گیر اثر ڈالا جا سکے حتیٰ کہ مختلف سائنسی، فکری، ابلاغی اور ثقافتی میدانوں تک رسائی حاصل کی جا سکے اور بچوں پر ہونے والا تشدد، عصمت دری، قتل، اور پھر ان کا گوشت پکانے اور کھانے کی شیطانی رسومات دراصل ان بد کردار کلبوں میں آنے والوں کے لیے تربیتی و اہلیتی کورسز ہیں، جن میں ان کے اذہان اور ضمیروں کو ازسرِ نو ڈھالا جاتا ہے، جن میں استبداد کی فطرتوں کو ایک خبیث شیطانی انداز میں مُشَکّل کیا جاتا ہے اور مجموعی طور پر یہ سب کچھ ان کے معبود شیطانِ رجیم کو خوش کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

اور یہ بھی ضروری ہے کہ ہم سمجھیں کہ اپسٹین کا معاملہ اب صرف ایک اخلاقی اسکینڈل اور گھناؤنا جرم نہیں رہا، بلکہ یہ مکمل طور پر مغربی نظام، صہیونی  صلیبی اتحاد اور دنیا میں اس کے اتحادیوں کی فطرت و حقیقت کو ظاہر کرنے والا ایک آئینہ بن چکا ہے۔ اس نظام نے گزشتہ ایک صدی تک مشترکہ اخلاقی اقدار اور انسانی حقوق کے نعرے بلند کیے اور پھر یہی نظام انسان کی عصمت دری کرتا ہے، اسے اذیت دیتا ہے، پھر اسے ذبح کرتا ہے اور اس کے جسم کے ٹکڑے کر کے پکاتا اور کھاتا ہے!

یہ دنیا کے (نام نہاد) لیڈر ہیں جن کا کوئی دین نہیں ہے جو انہیں قابو کرتا ہو، کوئی اخلاقی اقدار نہیں ہے جو انہیں روکے، نہ وہ کسی عادل خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ ہی کسی جامع دستور و آئین کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ تو شیطان پرستی ہے اور شیطان کی سلطنت میں، مسیحِ دجال کے جزیرے پر اس کی دہشت ناک خدائی کا اظہار ہے، اس کے سوا کچھ نہیں!

یہی وہ وحشی صہیونی  صلیبی نظریہ ہے جس سے مجاہدین اپنی امت اور پوری انسانیت کو خبردار کرتے رہے ہیں اور اس کے گھناؤنے مجرمانہ اعمال سے بھی آگاہ کرتے رہے ہیں۔ ان دستاویزات نے جو کچھ بے نقاب کیا ہے وہ محض ناموں، شخصیات اور اسکینڈلز سے کہیں زیادہ خطرناک ہے، یہ دستاویزات دنیا کے سامنے اس حقیقت کو آشکارا کرتی ہیں کہ اقدار اور اخلاق کس طرح سی آئی اے اور موساد کے خسیس اہلکاروں ہاتھوں بلیک میلنگ کے ذرائع بن جاتے ہیں اور اسکینڈلز کو کیسے ایک انٹیلی جنس ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے دنیا کے لیڈروں اور بڑی کمپنیوں کے سربراہوں کو دباؤ میں لایا جاتا ہے اور کیسے قحبہ گری و جسم فروشی کو اسٹیبلشمنٹ اور ڈیپ سٹیٹ (Centers of Decision Making and Deep State) کے اندرونی تنازع میں ایک مؤثر آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور کیسے عالمی سیاست میں صہیونی  صلیبی عناصر دنیا کو اس شیطانی نظام کے ذریعے کامیابی سے چلاتے ہیں؟!

یہ بات بھی یقینی ہے کہ آج ہم افشا شدہ معلومات کی فائلوں کے ایک گہرے اور وسیع سمندر میں غوطہ زن ہیں، جس میں بے شمار دستاویزات اور بے شمار معلومات سامنے آئی ہیں اور جتنا ہم مزید گہرائی میں جاتے ہیں، اتنے ہی بڑے سوالات ہمارے سامنے آتے ہیں۔ تاہم، یہ سوالات اب ان ملوث افراد کے ناموں تک محدود نہیں رہے، بلکہ زیادہ اہم سوالات کی طرف منتقل ہو چکے ہیں جیسے کہ  یہ فائلیں اسی مخصوص وقت پر ہی کیوں لیک کی گئیں؟ اور اس کا دنیا کے مستقبل، خصوصاً مغرب کے مستقبل کے لیے کیا مطلب ہے؟! اور عالمی طاقت کے ڈھانچے اور ہماری اسلامی دنیا کے خلاف جاری صلیبی جنگوں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟!

یہاں ایک اور بڑا سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ ان سے حقیقی فائدہ اٹھانے والے کون ہیں، جن کا مفاد ان تمام ہولناک جرائم کے ساتھ جڑا ہے، جنہیں اپسٹین اور اس کے ساتھیوں نے برسوں تک چھپائے رکھا؟!

ان سوالات کو سمجھنے اور ان کے جوابات کو جاننے کا راستہ کچھ لوگوں کے لیے بہت طویل اور محنت طلب ہو سکتا ہے، لیکن یہ ان لوگوں کے لیے آسان ہے جو صہیونی  صلیبی دشمن کی فطرت اور اس کے جرائم اور ان جرائم کے پہلوؤں، مقاصد، وسائل اور ان کے انکشاف پر ردعمل کو سمجھ چکے ہیں، اسی طرح یہ ان لوگوں کے لیے بھی آسان ہے جنہوں نے ابوغریب، گوانتانامو اور ان جیسی جگہوں پر اس طرح کے واقعات دیکھے ہیں، کیونکہ یہ بات معلوم ہو چکی ہے کہ یہ مرکب جرائمِ اغوا سے شروع ہو کر انسانوں کی خرید و فروخت تک پہنچتے ہیں۔ کم عمر لڑکیوں کے ساتھ زیادتی اور تشدد کرتے ہوئے، پھر ان کو ذبح کر کے ان کے جسموں کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا اور ان کا گوشت پکانا، پھر ان کو سیاسی اشرافیہ (اسٹیبلشمنٹ) اور ممالک کے لیڈروں کی ضیافت کی میزوں پر پیش کرنے پر ختم ہوتے ہیں تاکہ وہ ان کے استعمال سے لطف اندوز ہو سکیں۔ لیکن آج ہمیں ان جرائم کی خصوصیات کو سمجھنے سے زیادہ ان واقعات کے دائرہ کار کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور یہ کہ یہ جرائم اس اشرافیہ (اسٹیبلشمنٹ) کے لیے تیار اور تخلیق کیے جاتے ہیں تاکہ یہ ان کے لیے تربیتی کورسز کا کام کریں جنہیں مستقبل میں ان کے محکوم عوام پر نافذ کیا جائے، اور اس کے ساتھ ساتھ اس اشرافیہ (اسٹیبلشمنٹ) کو غیر اخلاقی اسکینڈلز کے جال میں پھنسایا جائے تاکہ ان کے مستقبل کے فیصلوں کو کنٹرول میں رکھا جا سکے۔ لیکن اس سب کا ہدف ابتدا اور انتہا دونوں میں، وہ عام انسان اور سادہ لوح عوام ہیں جو فیصلہ سازی سے دور ہیں اور جنہیں جدید ریاست اپنے اداروں اور وسائل کے ذریعے غلام بنا لیتی ہے۔ ہم پورے یقین کے ساتھ جانتے ہیں کہ انسانی ذہن ان میں سے بہت سے گھناؤنے جرائم کا تصور بھی نہیں کر سکتا، لیکن جہاد کے راستے پر نکلنے والے، جو ظلم کے خلاف کھڑے ہوئے اور جلا وطن کیے گئے، انہیں اس حقیقت کا مکمل ادراک ہے اور اس کے علاوہ دنیا بھر میں ظالموں کی جیلوں میں ظلم و ستم کا شکار وہ کمزور لوگ جن پر وحشیانہ مظالم ڈھائے گئے، وہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارے ممالک کے بہت سے حکمرانوں کو کرائے گئے ان اپسٹینی تربیتی کورسز کا ایک عظیم اثر عوامی آزادی اور تبدیلی کی جدوجہد پر پڑتا ہے۔ مصر میں رابعہ کا میدان، سوڈان کا شہر الفاشر، شام کی جیل صیدنایا اور غزہ میں ہونے والی حالیہ نسل کشی، جن میں نہ صرف ہسپتالوں میں دودھ پیتے بچے کو شہید کیا گیا، بلکہ ماؤں کے پیٹ میں موجود بچوں کو بھی شہید کیا گیا۔ یہ تمام ان جیسے دیگر واقعات، یہ سب کچھ ان اپسٹینی تربیتی کورسز کے عملی مظاہر ہیں۔

یہاں جن امور پر بہت زیادہ توجہ دینا، نہایت باریکی سے غور کرنا اور گہرائی سے فکر کرنا ضروری ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اپسٹین کی دستاویزات میں آنے والے زیادہ تر نام اس اشرافیہ (اسٹیبلشمنٹ) سے تعلق رکھتے ہیں جو دنیا بھر کے بہت سے ممالک اور اقوام پر بے پناہ اثر و رسوخ اور بڑی طاقت رکھتے ہیں۔ بطور مثال صرف اتنا ہی کافی ہے کہ ایک بد کار شیطان ٹام باراك (Tom Barrack) کے پاس پورے بلادِ شام پر زبردست اثر و رسوخ اور اختیار ہے اور اس کے ہاتھ میں خطے کے کئی ممالک جیسے شام، لبنان اور عراق اور ان کے عوام کی سمت اور تقدیر کا تعین ہے، وہی ان کا اصل حاکم ہے اور ان کی پالیسیوں کی تشکیل اور فیصلوں پر کنٹرول کرنے والی سب سے بااثر شخصیت ہے۔ یہ شیطان ٹام  باراك (Tom Barrack) ہلاک شدہ جیفری اپسٹین کے قریب ترین دوستوں میں سے تھا اور اس کے انتہائی قریبی حلقے میں شامل تھا، جیسا کہ لیک شدہ دستاویزات ہمیں بتاتی ہیں کہ وہ اس کا گہرا دوست تھا۔ یہ حقیقت ہمیں پچھلی دہائی کے دوران شام میں ہماری سینکڑوں معصوم کمسن بیٹیوں کے لاپتہ ہونے کے کچھ راز سمجھا سکتی ہے۔ آج تک ہم میں سے کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں؟ انہیں کس نے اغوا کیا تھا؟ شاید یہ دستاویزات ہمیں اور ان کے مصیبت زدہ خاندانوں کو ان کے انجام کے بارے میں کچھ بتا سکیں۔ حال ہی میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس نے اشارہ دیا ہے کہ اغوا شدہ بہت سی کم عمر لڑکیوں کو شمالی شام سے لاجسٹکس کمپنی دبئی پورٹس ورلڈ کے ذریعے نامعلوم مقامات پر منتقل کیا گیا اور اپسٹین فائلز اس کمپنی کے ڈائریکٹر اور ہلاک شدہ جیفری اپسٹین کے درمیان گہرے تعلق کو بے نقاب کرتی ہیں۔ لہٰذا آج ہم پر لازم ہے کہ ہم اور شام میں ہمارے بھائی اس معاملے پر نہایت گہری تحقیقات کریں اور ان عناصر کے بارے میں تحقیق کریں جو ہماری شامی بیٹیوں کی جاری انسانی اسمگلنگ اور خرید و فروخت میں ملوث ہیں، اور ہم صرف اللہ ہی سے فریاد کرتے ہیں۔

ہم مخلصانہ نصیحت کرنے کے فریضے کے تحت اپنی امت اور دنیا بھر کی اقوام کو اجتماعی طور پر کہتے ہیں کہ ہم سب آج ایک ایسے سیارے پر زندگی گزار رہے  ہیں جو اپنی اصل حقیقت میں ایک بڑا اپسٹین جزیرہ ہے، لہٰذا ہر غیرت مند مسلمان کو بلکہ ہر اس انسان کو جسے اپنی جان، اپنے اہل و عیال اور اپنے خاندان کی فکر ہے، اسے اپنے انجام اور اپنے خاندان کے انجام بلکہ پوری انسانیت کے انجام پر خطرے اور تشویش کا احساس ہونا چاہیے، خاص طور پر اس عالمی اپسٹینی نظام کی بالادستی کے سائے میں اور بیمار و پست قسم کے شیطانی لیڈروں کی حکمرانی کے تحت جو اس پر اور اس کی جنسِ انسانی پر مسلط ہےاور جدید دنیا پر قابض ہیں۔

بے شک عالمی اپسٹینی نظام، اپنے انتہائی پست، گرے ہوئے اور انسانی اقدار کے لحاظ سے سب سے زیادہ سنگ دل نمونوں کے ساتھ، طغیان و معصیت کی سب سے بڑی مثال اور طاغوت کی سب سے مشہور تعریف ہے۔ اس بین الاقوامی اپسٹینی نظام کے لیڈر اور اس شیطانی گروہ کے چہرے اپنی شیطانی رسومات کی حقیقت میں اس مصیبت زدہ سیارے پر انسانیت کے خلاف نسل کشی کا عمل انجام دیتے رہے ہیں اور اب بھی دے رہے ہیں۔ ان کا مطلوبہ ہدف انسانی معاشروں کو انسانی شناخت، فطرت، اخلاقی اقدار اور ترقیاتی صلاحیتوں سے خالی کرنا اور انسانی مجموعے کو ایسے حیوانی درندوں کے گروہ میں تبدیل کرنا ہے جو اپنی شہوانی لذتوں کی تسکین کے پیاسے ہوں، خون بہانے اور انسانوں کا گوشت تک کھانے پر آمادہ ہوں، یہاں تک کہ وہ پوری طرح شیطانِ رجیم کی غلامی میں داخل ہو جائیں۔

ہمیں امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے اپسٹین فائلوں کے انکشاف کے ایک اہم مقصد کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، یہ مقصد ان لوگوں کے ارادے کو توڑنا ہے جو آزادی اور تبدیلی چاہتے ہیں اور ان کے انسانی جذبات کو صدمے (Shock) کی اسٹریٹجی کے ذریعے تباہ کرنا ہے تاکہ دنیا کے لوگوں کو ڈرا کر کسی بھی تبدیلی کی کوشش سے خوفزدہ اور دہشت زدہ کیا جا سکے، خاص طور پر اس وقت جب ان میں سے بہت سے لوگ عزت کی سرزمین  غزہ میں خواتین اور بچوں کے خلاف مظالم کی ویڈیوز کے نتیجے میں فلسطینی مقصد کی حمایت میں سامنے آئے ہیں، اور اس کے باعث، ہم عالمی صہیونی-صلیبی نظام کا گھناؤنا چہرہ مکمل بے نقاب ہو گیا ہے جو بربریت اور نازی ازم سے کہیں زیادہ وحشیانہ ہے، بلکہ اس نوع کا گھناؤنا پن ہے جس کا ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا، ایسا کچھ نہیں دیکھا تھا جو کرۂ ارض پر اس قسم کے انحطاط کا عکاس ہو اور جس میں انسانیت کے خلاف اتنے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہو کہ انسان تو چھوڑیے مصنوعی ذہانت بھی ان جرائم کا تصور نہیں کر سکتی۔ اس لیے، مستقبل قریب میں ہم یہ توقع کر سکتے ہیں کہ دنیا کی جغرافیائی سیاست میں ایک شدید زلزلہ آئے گا اور اس سے کہیں زیادہ شدید معاشی ابتری بھی پیدا ہو گی جس کا ہم آج مشاہدہ کر رہے ہیں، جو ساری دنیا کو عدم استحکام اور افراتفری کی حالت میں دھکیل دے گی۔ یہ بھی غیر حقیقی نہیں کہ ہم اس فرسودہ بین الاقوامی نظام کے لیڈروں کے خلاف بڑے پیمانے پر ایک عالمی بغاوت دیکھیں اور اُس وقت دنیا کی کوئی فوج عوام کی بغاوتوں کو کسی بھی اسلحے اور کسی بھی طریقے سے روک نہیں سکے گی۔ پس ان جرائم کا اصلی مجرم امریکہ اور اسرائیل کی قیادت میں صہیونی صلیبی اتحاد ہے۔ لہذا یہ فرض ہم پر اور کرہ ارض کے تمام باشندوں پر عائد ہوتا ہے کہ ہم اس سفاک اپسٹینی درندے کے خلاف لڑیں جو صہیونی  صلیبی عالمی اتحاد کی شکل میں موجود ہے، ان زوال پذیر پست انسانوں کے خلاف جہاد کرنا ہی انسانیت کے تقدس کی حفاظت اور مظلوموں کی حمایت کا واحد راستہ ہے۔ ہم یہ بات پورے اعتماد و یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں اسلامی جہادی ہراول دستے ہی تہذیب کا پرچم اٹھائے ہوئے ہیں اور ان جہادی تحریکوں کے ابطال، اپسٹین فائلوں میں آنے والے انکشافات سے نہ تو حیران ہیں اور نہ ہی صدمے کا شکار ہیں، کیونکہ وہ یقین رکھتے ہیں اور انہیں اس بات کا پختہ علم ہے کہ یہ عالمی اپسٹینی نظام اخلاقی طور پر فاسد اور اقدار کے لحاظ سے تباہ ہو چکا ہے اور ان دستاویزات کا انکشاف اور ان کی رازداری کا خاتمہ اس زوال پذیر حیوانی نظام کے بہت سے پردوں میں سے صرف ایک پردہ تھا۔

باخبر اور بیدار رہنے والا چاہے جتنا بھی پڑھے اور مطالعہ کرے، وہ اپسٹینی لوگوں اور اس کی قوم کی اس سے زیادہ سچی تصویر نہیں پائے گا جو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے:

اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُوْنَ اَوْ يَعْقِلُوْنَ  ۭ اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِيْلًا؀ (سورۃ الفرقان:44)

’’ یا تمہارا خیال یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے یا سمجھتے ہیں ؟ نہیں ! ان کی مثال تو بس چوپائیوں کی سی ہے، بلکہ یہ ان سے زیادہ راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ ‘‘

لہٰذا آج یہ کہنا اور اس پر زور دینا ضروری ہے کہ مغربی تہذیب حقیقتاً اسی وقت تباہ ہو گئی تھی جب اس کے اندر اخلاقی اقدار اور انسانی اصول منہدم ہو گئے تھے، کیونکہ اقوام کی زندگی کا معیار ان کے اخلاق سے ہوتا ہے، امیرالشعراء شوقی نے سچ کہا ہے:

قومیں تو اخلاق سے باقی رہتی ہیں
اگر ان کے اخلاق مٹ جائیں تو وہ بھی مٹ جاتی ہیں

بلاشبہ مغربی تہذیب کی باطل اور جعلی اقدار منہدم ہو چکی ہیں اور جلد ہی ان کے تمام مغربی نظریات جیسے جمہوریت، سیکولرازم، لبرل ازم اور گلوبلائزیشن بھی اسی زوال کا شکار ہوں گے اور اہلِ مغرب (Westerners) خود کو وجودی بحرانوں (Existential Crisis)  کی ایک چونکا دینے والی اور گھٹن زدہ بھول بھلیوں میں پائیں گے، خصوصاً اس لیے کہ وہ آج نہ صرف غزہ کی سرزمین میں ہونے والے ہمارے معزز لوگوں کا قتلِ عام دیکھ رہے ہیں، بلکہ وہ اپنی ہی کم عمر لڑکیوں کی عصمت دری اور اپنے ہی بچوں کے گوشت کو اپنے لیڈروں کی میزوں پر پکائے جانے کے مناظر بھی دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے ہم بعید نہیں سمجھتے کہ اہلِ مغرب پر اپسٹین فائلوں کے نتائج و اثرات ایک ایسے عظیم سیلاب کی صورت اختیار کریں جو اپنے پھیلاؤ اور اپنے بہاؤ میں سیاسی اور سماجی تمام سطحوں پر، طوفان الاقصیٰ سے بھی زیادہ شدید ہو۔ اہلِ مغرب بالخصوص امریکیوں میں لامحالہ ایک گہرا شناختی بحران جنم لے گا جس سے نجات آسمانی وحی کی پیروی کے سوا ممکن نہ ہو گی۔

یقیناً اپسٹین فائلز کی وجہ سے مغربی و عالمی نفرت اور انسانیت کا اضطراب عالمی شعور میں اتنی گہری سطح تک پہنچ چکا ہے کہ یہ ہر اس انسان کو متاثر کرتا ہے جس کی فطرت اور ضمیر زندہ ہے۔ اس لئے اہلِ مغرب کو سمجھنا چاہیے کہ ان کے لیڈروں کی حقیقت صرف جھوٹے نبیوں کی سی ہے جن کا علاج اس کے سوا کچھ نہیں کہ انہیں قتل اور ذبح کیا جائے جیسا کہ یوحنا کی انجیل اور عہد نامۂ قدیم میں آیا ہے۔ اہلِ مغرب امریکی جمہوریت کے شیطانی درخت کے سڑے ہوئے پھل کا سامنا کر رہے ہیں، اور اللہ سے سچا کون ہے جو فرماتا ہے:

وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيْثَةِۨ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ؁(سورۃ ابراہیم:26)

’’ اور ناپاک کلمے کی مثال ایک خراب درخت کی طرح ہے جسے زمین کے اوپر ہی اوپر سے اکھاڑ لیا جائے، اس میں ذرا بھی جماؤ نہ ہو۔ ‘‘

یقیناً اللہ تعالیٰ پر ایمان، اہلِ ایمان کے نفس پر حکمرانی کرتا ہے، کیونکہ ایمان ان میں وہ اقدار پیدا کرتا ہے جو نفس اور ذہن پر قابو پانے اور اصولوں کو نافذ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ لہٰذا ایمان، انسانی تعامل اور رویے کو قابو میں رکھتا ہے تاکہ وہ حیوانیت اور لا متناہی خواہشات کے اندھے گڑھے میں نہ جا گرے۔ پس اہلِ ایمان کے یہاں شیطان مردود کی عبادت و غلامی کا تو تصور ہی محال ہے۔ اور مجاہدین فی سبیل اللہ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی تقدیس بیان کرنے اور اللہ پر پختہ ایمان رکھنے پر زور دیتے ہیں، انسانیت کا احترام کرتے ہیں، آسمانی اخلاقی اقدار کی پاسداری کرتے ہیں، شجاعت، سخاوت اور مردانگی کی اہمیت پر زور دیتے ہیں تاکہ انسان کو گہرے عذاب کے گڑھوں میں گرنے سے روکا جا سکے۔ مجاہدین غیبی وحی کی طرف رجوع اور اللہ کی حدود پر عمل کرنے اور اس پر قائم رہنے کی تاکید کرتے ہیں جس کا احترام، انسان تو کجا، درختوں اور پتھروں تک کے معاملے میں ہونا چاہیے۔

بے شک اہلِ جہاد ہی انسانیت و بشریت کا وہ ہراول دستہ ہیں جو اس پستی و زوال سے انسانی شرافت کی حفاظت کے لیے لڑتے اور مزاحمت کرتے ہیں اور بلا مبالغہ وہی انسانیت کی آخری امید ہیں کہ اسے اس شیطانی انحطاط سے نجات دلائیں۔ مجاہدین اب بھی کائنات کی حفاظت اور اس کی انسانیت اور اخلاقی اقدار کی بقا کے لیے لڑ رہے ہیں، وہ امن اور جنگ دونوں میں مستقل اعلیٰ اقدار کے حامل ہیں، اور وہی اس غلیظ جمہوریت اور صہیونی  صلیبی انحطاط و زوال سے انسانیت اور تمام بنی نوع انسان کے ضامن و محافظ ہیں۔ آج وہ یہاں اعلان کر رہے ہیں جبکہ وہ قریبی جگہ سے پسِ پردہ پکارتے رہے ہیں کہ مغرب مکمل طور پر سقوط کر چکا ہے، نہ تو ٹرمپ اور اس کے انجیلی (Evangelical) رپبلکن پیروکاروں پر کوئی اعتماد باقی رہا ہے، نہ ہی ڈیموکریٹس کے شیطانی سرداروں پر۔ یہ صہیونی  صلیبی مغرب ایک اور بحران میں مبتلا ہے جو شدت اور پیچیدگی کی انتہا کو پہنچ چکا ہے، اس وقت جب زیادہ تر امریکی بیڑے اور اس کی ضرب لگانے والی قوت ہماری اسلامی دنیا کا محاصرہ کیے ہوئے ہے، اس کا داخلی مرکز اور اندرونی عوامی حمایت سب کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہے اور اپنے ہی اندر یکسر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ پس امریکہ کے پاس اپنے اندرونی بحرانوں سے نمٹنے کا کوئی راستہ نہیں بچا سوائے اُس پرانے طریقے کے جو امریکہ کی تاریخ میں کامیاب رہا ہے کہ وہ اندرونی بحران کے مواقع پر اپنی جنگوں کو بیرون ملک برآمد کرتا ہے۔ بلا مبالغہ یہ سب سے بڑا شناختی بحران ہے جس کا سامنا امریکہ کر رہا ہے، جہاں وہ اپنی آنکھوں سے اپنی اقدار کا انہدام، اپنے لیڈروں کی بدعنوانی، اپنے نظریات کا زوال، اپنی پست مکروہ حقیقت اور گندے واقعے کا پوری دنیا کے سامنے انکشاف دیکھ رہا ہے، علاوہ ازیں بچوں کی عصمت دری اور اپنے ہی بچوں کا گوشت کاٹنا اور کھانا وغیرہ۔ حقیقتاً اب انہیں کوئی راستہ نہیں ملے گا مگر یہ کہ وہ اپنے نفوس میں فطرت کو دوبارہ بحال کریں، اور اللہ کی رسی کو پکڑ لیں، کیونکہ جو بھی اللہ کی رسی کو پکڑ لیتا ہے وہ اس کی حفاظت، امان اور اس کے قلعے میں ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی نہیں چھوڑتا، چاہے وہ مومن ہوں یا کافر۔ وہی ہے جس نے انہیں وحی کے ذریعے ہدایت دی اور اب بھی انہیں بلاتا اور عزیز و حمید کے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔

فَمَنْ شَاۗءَ فَلْيُؤْمِنْ وَّمَنْ شَاۗءَ فَلْيَكْفُرْ   (سورۃ الکہف:29)

’’اب جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے کفر اختیار کرے۔‘‘

لہٰذا ہم مغرب سے یہ بات بالکل صاف صاف الفاظ میں کہتے ہیں جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

فَفِرُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ ۭ اِنِّىْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ؀ وَلَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ ۭ اِنِّىْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ؀(سورۃ الذاریات:۵۰، ۵۱)

لہٰذا دوڑو اللہ کی طرف ،  یقین جانو، میں اس کی طرف سے تمہارے لیے صاف صاف خبردار کرنے والا (بن کر آیا) ہوں۔   اور اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بناؤ۔ یقین جانو میں اس کی طرف سے تمہارے لیے صاف صاف خبردار کرنے والا ( بن کر آیا) ہوں۔

اور جہاں تک ہماری امتِ مسلمہ کا تعلق ہے، تو اس پر لازم ہے کہ وہ آج مغربی اقدار کی حقیقت، مغربی تہذیب کے مستقبل اور زوال پذیر عالمی نظام کے بارے میں ایک مکمل، جامع اور درست تصور  اپنائے۔ اور اسی طرح یہ بھی لازم ہے کہ وہ دنیا بھر کے لیڈروں اور اسلامی دنیا کے نام نہاد  حکمرانوں کی حقیقت کو سمجھے، کیونکہ ان میں سے اکثر لیڈر اور حکمران ہلاک شدہ اپسٹین کے دوست ہیں۔ ہم نے گزشتہ دہائیوں میں امتِ مسلمہ کے خلاف ان ظالم مجرم حکمرانوں کی جنگوں کا مشاہدہ کیا ہے، جو کچھ ہم نے امتِ مسلمہ کی عرب بہار کے خلاف ردِ انقلاب میں دیکھا، اور جو کچھ ہم اب بھی سوڈان، فلسطین، مصر، امارات، سعودیہ، یمن اور دیگر مقامات پر اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ قتل، خرابی، عصمت دری اور غارت گری کے حوالے سے دیکھ رہے ہیں، یہ سب اپسٹین کے جزیرے پر بنائے گئے منصوبوں اور حاصل کی گئی تربیت کے تحت ہوا ہے، جہاں لیڈروں کو اکٹھا کیا گیا، اتحاد بنائے گئے، ان کی کوششوں کو یکجا کیا گیا اور ان کے مشترکہ دشمن یعنی اسلام کے ہر پہلو اور ہر شکل کے خلاف ان کے مشن تقسیم کیے گئے۔

اور بلاشبہ ان رسوا کن اپسٹین فائلوں کے طوفان کا مقابلہ ان شاء اللہ طوفان الاقصیٰ کے ساتھ ہو گا، جو ’’لوگوں کی اُس رسی‘‘ (حبل الناس) کو کاٹ دے گا جس سے ابھی تک صہیونی اور ان کے اتحادی خوراک لیتے رہے ہیں اور قوت حاصل کرتے آئے ہیں۔ اس وقت صہیونی خود کو امتِ مسلمہ بلکہ پوری انسانیت کے ساتھ ایک بڑے تصادم میں پائیں گے، کیونکہ ان فائلوں کا انکشاف دراصل اُس آخری پردے کے ہٹنے کے مترادف ہے جس کے پیچھے عالمی اپسٹینی نظام اور اس کے مغربی، مشرقی اور علاقائی تمام پہلوؤں نے خود کو چھپایا ہوا تھا۔ ان نظاموں میں آنے والا عدم استحکام، زمین کی ساخت میں ایک عظیم بنیادی انقلاب اور گہری تبدیلیوں کا باعث بنے گا، اور ان شاء اللہ آنے والے خلا کو صرف اسلام اور آسمانی وحی ہی پُر کرے گی، جیسا کہ ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا:

لَيَبْلُغَنَّ هَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ، وَلَا يَتْرُكُ اللهُ بَيْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللهُ هَذَا الدِّينَ بِعِزّ عَزِيزِ، أَوْ بِذلِّ ذَلِيلٍ، عِزَّا يُعِزُّ اللهُ بِهِ الْإِسْلَامَ، وَذَلَّا يُذِلُّ اللهُ بِهِ الْكُفْرَ۔

’’یہ معاملہ (اسلام) وہاں تک پہنچے گا جہاں دن اور رات پہنچتے ہیں اور اللہ نہ کسی کچے گھر کو چھوڑے گا نہ کسی خیمے کو مگر اللہ اسے اس دین میں داخل کرے گا، یا تو عزت والے کی عزت کے ساتھ یا ذلیل کی ذلت کے ساتھ۔ عزت، جس کے ذریعے اللہ اسلام کے ساتھ عزت دیتا ہے، اور ذلت ،جس کے ذریعے اللہ کفر کے ساتھ ذلیل کرتا ہے۔‘‘

لوگوں نے دنیا کے ان ذلیل لیڈروں پر اعتماد کیا لیکن انسانیت اور پوری بشریت کو اس وقت شدید صدمہ پہنچا جب شیطانی اپسٹین فائلوں کا انکشاف ہوا، یہ لوگوں کی خام خیالی تھی کہ ہمارے لیڈر اگر بدتر بھی ہوں تو ملک و قوم کے خیر خواہ ضرور ہیں اور کم از کم انسانی برادری کا حصہ ہیں۔ اب معلوم ہوا کہ وہ تو دراصل اپیسٹینی قوم کے وفادار ہیں اور شیطانوں کے سربراہوں کا حصہ ہیں!

بے شک صاحبانِ بصیرت کو یہ انکشافات اس تناظر میں پڑھنے چاہییں کہ یہ قرآن میں ذکر شدہ مستقبل کے راستے کا حصہ ہیں:

لِيَسُوْۗءٗا وُجُوْهَكُمْ (الإسراء: 8)

’’تمہارے چہروں کو بگاڑنے کے لیے۔‘‘

پس یہ آنے والا مستقبل ہے جو لازماً صہیونیوں صلیبیوں کے پیچھے آئے گا۔ کیونکہ یہ انکشافات اعتقادات میں بدل جائیں گے، پھر اعتقادات افکار میں، اور افکار ایک بھڑکتے ہوئے انقلاب اور بے رحم طوفانی رویّے میں تبدیل ہو جائیں گے جو اپسٹین کی قوم، اس کے لوگوں اور اس کی سرزمین کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتیں گے۔ کیونکہ آج مغرب کی قوموں نے فطرت کے مطابق بات کی ہے اور جب فطرت بولتی ہے تو وہ کھلی سچائی ہی بولتی ہے، کیونکہ مضبوط معرفت اور صحیح علم وحی سے پیدا ہوتا ہے اور وہ فطرتِ سلیمہ اور عقلِ سلیم کے موافق ہوتا ہے۔

امتِ مسلمہ پر لازم ہے کہ وہ قرآن اور اپسٹینی قوم کے ساتھ تنازع کی بنیاد کو یاد رکھے، امت کو شیطان کے دوستوں کے ساتھ تصادم کی نوعیت کو سمجھنا چاہیے۔ اس شیطانی قوم کے ساتھ ہماری جنگ اور جھگڑے کی اصل غیب پر مبنی (یعنی روحانی) ہے نہ کہ دنیاوی، اس لیے ہمیں آسمان سے اسٹریٹیجک جہاد کی ہدایت ملی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اِنَّ الشَّيْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّا    ۭ (سورۃ فاطر:6)

’’یقین جانو کہ شیطان تمہارا دشمن ہے، اس لیے اس کو دشمن ہی سمجھتے رہو۔ ‘‘

یہ ربانی عسکری ہدایت نہ تو بھولنی چاہیے اور نہ ہی نظر انداز کرنی چاہیے، کیونکہ یہ اس ناپاک شیطانی قوم کے ساتھ ہماری کائناتی اور وجودی جنگ کی بنیاد اور اصل ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے کچھ لوگ جو کبھی اللہ کی راہ میں جہاد کے میدان میں تھے، آج وہ صراطِ مستقیم سے منحرف ہو چکے ہیں اور اپنے تعلقات کو شیطان کے ساتھ اتحاد اور مضبوط اسٹریٹیجک شراکت داری میں بدل چکے ہیں۔ جہاں شیطان چودہ سو سال قبل دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پہلی کانفرنس میں ایک نجدی شیخ کے روپ میں نمودار ہوا تھا، آج شیطان ہر ہفتے ایک مغربی شیخ کی صورت میں خطے کا دورہ کرتا ہے جس کا نام ’’ٹام باراک‘‘ ہے۔ تو کیا ہم اس سے بچ کر نکل سکتے ہیں؟!

اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو فتح دے، اور اپنے مومنین دوستوں کو عزت عطا فرما۔ آمین، والحمد للہ رب العالمین۔

٭٭٭٭٭

Exit mobile version