علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی

آج صحرائے اعظم میں ایک بار پھر پھریرائے اسلام لہرا رہاہے۔ جغرافیائی و تاریخی لحاظ سے قریب قریب یہ وہی خطہ ہے جہاں سے الجزائر تا مراکش و اندلس یعنی سپین تک اقامت و حفاظتِ اسلام کے لیے جہاد و رباط کی کوششیں و کاوشیں ہوتی رہیں۔ ان مجاہدین ِ دعوت و عزیمت کو صد بار آفرین، مبارک باد اور دعائیں۔ اسی طرح ان کے واسطے سے تمام عالمِ اسلام کے مسلمان بھی لائقِ مبارک باد ہیں کہ ’لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ‘ پڑھنے والوں کے جہاد و رباط کے نتیجے میں کفر و نظامِ کفر ذلیل و رسوا ہوا ہے، اور ساتھ ہی باقی عالَم کے مسلمانوں، خصوصاً علماء و داعیان و مجاہدین کے لیے اس فتح میں بہت سے اسباق بھی پنہاں ہیں۔

اللّٰہ ﷻ نے اپنے بندوں کے ساتھ فتح و نصرت اور غلبۂ دین کا وعدہ کیا ہے۔ لیکن فتح و نصرت اور غلبہ محض آرزوؤں اور تمناؤں سے حاصل ہونے والی کسی چیز کا نام نہیں۔ یہ عظیم نعمتیں شرعی و تکوینی سنتوں پر عمل، تقدیر پر بھروسہ اور بہترین تدبیر، حقوق اللّٰہ کی پہچان، شریعتِ محمدی (علی صاحبہا ألف صلاۃ وسلام) سے تمسک اور حقوقِ عباد اللّٰہ کی ادائیگی و امتِ رسول اللّٰہ (صلی اللّٰہ علیہ وسلم) کے ساتھ نرمی، محبت، خیر خواہی و ولاء اور دشمنانِ خدا و رسولؐ کی پہچان اور ان سے دشمنی و براء کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہیں۔ شریعتِ الٰہی صرف مقاصد کے بیان اور ان کے حصول کے لیے ’The end justifies the means‘ قسم کے فلسفے کا نام نہیں ہے۔ بلکہ شریعتِ الٰہی مقاصد کے حصول کے لیے فکر و منہج و طریق بھی بیان کرتی ہے۔ ذرا انبیاءُ اللّٰہ سے شروع ہو کر قیامت پر ختم ہونے والی ورثائے انبیاء کی تاریخِ دعوت و عزیمت پر غور کیجیے تو اصل بات مقاصد کا حصول اور غلبہ حاصل کر لینا نہیں بلکہ اس راہِ مقصد پر ڈٹے رہنا اور کھپتے رہنا ہے، اور راہ اور مقصد پر ڈٹنے، جمنے اور استقامت اختیار کرنے کا ’مقصد‘ رضائے الٰہی کا حصول ہے۔ جو مقصد اور اس کے طریق ’دونوں‘ میں احکامِ شریعت کی رعایت کرتے ہوئے تدبیر اختیار کرے تو یہی کامیاب و کامران ہے۔

آج بچشمِ سرہم ایک خطۂ مسلمین میں شریعتِ مطہرہ کو غالب دیکھ رہے ہیں، یعنی امارتِ اسلامی افغانستان اور ساتھ ہی فتح و نصرت کی طرف کامیاب پیش رفت صومالیہ ومالی کے علاقوں میں نمایاں ہے۔ ان تحریکوں کی کامیابی میں چند نمایاں اوصاف درج ذیل ہیں، جن کو اپنا کر عالمِ اسلام کے دیگر اہالیان عملاً غلبۂ دین اور اقامتِ شریعت کی منزل کی طرف سفر کر سکتے ہیں۔

یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالَم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مَردوں کی شمشیریں

اگر یہ سب چیزیں دنیا کے باقی خطوں، خصوصاً اہالیانِ پاکستان نے اختیار کر لیں تو ان پر صد آفرین، ورنہ جس غلام گردش میں ہم پچھلی ایک صدی سے چکر کاٹ رہے ہیں وہی کاٹتے رہیں گے اور پھر جس بھی قوم و ملت، گروہ و تنظیم و تحریک نے شرعی و تکوینی سنتوں پر عمل کیا تو بہت کم وقت میں زمامِ اقتدار ان کے ہاتھ میں ہو گی۔ اصل راستہ ’تقدیر پر ایمان کے ساتھ بہترین تدبیر سے جہاد‘ ہی ہے، باقی سب ’خیال است و محال است و جنوں‘!

وہی دیرینہ بیماری، وہی نا محکمی دل کی
علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی

اللھم وفقنا لما تحب وترضى وخذ من دمائنا حتى ترضى .اللھم اهدنا لما اختلف فیه من الحق بإذنك. اللھم زدنا ولا تنقصنا وأکرمنا ولا تھنّا وأعطنا ولا تحرمنا وآثرنا ولا تؤثر علینا وارضنا وارض عنا. اللھم إنّا نسئلك الثّبات فی الأمر ونسئلك عزیمۃ الرشد ونسئلك شكر نعمتك وحسن عبادتك. اللھم انصر من نصر دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم واجعلنا منھم واخذل من خذل دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولا تجعلنا منھم، آمین یا ربّ العالمین!

Exit mobile version