خبر ہے:
“فاتحِ شام، صدر احمد الشرع کی موجودگی میں فیحاء ہال کا افتتاح، امریکی ریپر اور ڈانسر مسی ایلیٹ کی مشہور راب گانے ’’Work It‘‘ کی دھنوں پر۔”
آج جبکہ اس واقعے کی ویڈیو عام ہے اور دنیا بھر سے اہلِ دین و محبینِ جہاد کے علاوہ خود شامی مجاہدین و علماء کا ایک بڑا طبقہ حکومت پر تنقید کر رہا ہے، یہ بہت ہی اطمینان و شکر کا مقام ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ یہ فضا بہت زیادہ عرصہ تک ایسی آلودہ نہیں رہے گی اور جلد ہی، باذنِ اللہ رب العزت، اہلِ حق و جہاد کی برکت سے اس زمین سے وہ کچھ دکھائی دے گا جو اہلِ ایمان کے سینوں کی ٹھنڈک اور ظالم کفار کے لیے غم و خوف کا باعث ہوگا۔
پس اس صورتِ حال میں آج یہ چند واضح اور کھلی باتیں کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔
جہاد کا مقصد امت کی آزادی اور اللہ کے دین کا غلبہ ہے۔ دین کا قیام اور شریعت کا نفاذ اس کا شرعی مقصد ہے۔ شام کے اندر اگرچہ نصیریوں اور ان کے پشتیبان ظالم روافض کا دور اپنے اختتام کو پہنچا اور یہ اپنی جگہ ایک اہم پیش رفت ہے، مگر اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مذکورہ بالا جہادی مقاصد میں سے کوئی ایک بھی تاحال حاصل نہیں ہوسکا۔
آزادیٔ امت کی جگہ امت ہی کے خلاف لڑنے والے اتحاد کا حکومتِ شام باقاعدہ حصہ بن چکی ہے ،وہ اتحاد جو صہیونیوں کے مفاد میں جہاں جس طرح چاہے حملوں کی کھلی چھوٹ حاصل کر چکا ہے۔ شریعتِ محمدی ﷺ کی اتباع کی جگہ قدم قدم پر عالمی نظام کفر اور اس کے اصولوں کی پیروی شروع ہے۔ دین دشمنوں(پی کے کے، فری سیرین آرمی اور دیگر) کو فوجی و سول بڑے بڑے عہدے دیے گئے ہیں۔ شرعی اسلامی نظام کی جگہ قولاً و عملاً سیکولر و لادین نظامِ حکومت وجود میں آیا ہے اور ہر کچھ عرصے بعد اس کے سیکولر مظاہر کی باقاعدہ نمائش کی جا رہی ہے۔ فتحِ دمشق تک نفاذِ شریعت کے وعدے کیے جاتے تھے، گو تب بھی آزادی ٔ امت اور نفاذِ شریعت کے لیے لڑنے والے مجاہدین کو حیلے بہانوں سے جیلوں میں ڈالا جارہاتھا، مگر دمشق کے بعد کوئی ایک ایسا اقدام نظر نہیں آ رہا جو دشمنان امت کا راستہ روکنے اور اہلِ ایمان کو راضی کرنے کا موجب ہو۔ اس کے برعکس ہر ہر قدم میں سیکولرز اور دشمنان امت کو خوش کرنے کی کوشش واضح دکھائی دیتی ہے۔
امریکہ اور برطانیہ وغیرہ کو راضی کرنے کی کوششیں اپنے عروج پر ہیں، بلکہ کھلے عام یہ اعلان تک بھی ہوا کہ “سب سے پہلے شام” ہی اب ہمارا نعرہ ہے اور اسے ترقی وخوشحالی دینے میں ابنِ زید و ابنِ سلمان کا وژن ہمارا آئیڈیل ہے۔ یہ باتیں محض زبانی نہیں ہوئیں، عملاً اس کی کوشش ہو رہی ہے اور اس کے لیے تعلیم و میڈیا سمیت پورا حکومتی نظام استعمال ہو رہا ہے، یہاں تک کہ آج یہ دن بھی دیکھنا پڑا کہ “امیرِ شام” ہی کی موجودگی اور ان کی حکومت کے انتظام سے امت کی بیٹیوں کو بدنام فحش گانوں کے ساتھ سٹیج پر نچوایا گیا۔
یہ سب کیوں ہوا؟ یہ کیوں ہو رہا ہے؟ اور اس سے متصل سوال یہ کہ یہ سب کچھ شام میں تو ہو رہا ہے افغانستان میں کیوں نہیں ہور ہاہے؟ افغانستان میں اس کے بالکل برعکس ایک شرعی اسلامی نظام کیوں قائم ہوا، کیوں وہاں شریعت کی پیروی اور اس کی حاکمیت ہی سب سے اول ترجیح نظر آرہی ہے؟
اس کا جواب اس کے سوا کوئی نہیں کہ افغانستان آزاد ہوا ہے، جبکہ شام آج بھی امریکی تسلط کے تحت ہے۔ یہ تسلط عسکری بھی ہے اور سیاسی بھی۔ اور یہ بات بھی واضح ہو، یہی اہم اور امت میں جاری دینی جہادی تحریکوں کے لیے قابلِ غور بات ہے کہ اس تسلط کا سبب شامی حکومت کی یہ موجودہ پالیسیاں قطعاً نہیں ہیں۔ یہ پالیسیاں سبب نہیں، بلکہ نتائج ہیں۔ اصل اسباب وہ خطرناک ترین غلطیاں ہیں (جنہیں اگر جرائم نہ کہا جائے) جو دورانِ جہاد، شام کی موجودہ قیادت سے سرزد ہوئیں۔ انہی غلطیوں کی وجہ سے آج مسلمانانِ شام صہیونیوں کے مشقِ ستم ہیں اور وہ کلچر پروان چڑھایا جا رہا ہے جس کا راستہ اگر نہیں روکا گیا تو یہ امت کی بیٹیوں کی عفت کا جنازہ نکالنے، نوجوانوں کوگمراہ کرنے اور شام کے اہل ایمان وجہاد پر زمین تنگ کرنے پر منتج ہوگا اور اس سب کا فایدہ ظاہر ہے اسرائیل و دیگر دشمنان ہی سمیٹیں گے۔
دورانِ جہاد ایک بڑی غلطی جو ہوئی وہ یہ کہ ایک (رافضی/بعثی) طاغوت کے خلاف امریکہ، ترکی اور اس بلاک کے دیگر طواغیت کی اطاعت و وفاداری قبول کر لی گئی۔ جن دشمنانِ امت سے براءت وعداوت کا رویہ رکھنا لازم تھا، یا کم از کم ان کی بات نہ ماننے اور اس کے مقابلے میں شرعی احکامات کو دانتوں سے پکڑنے کا الٰہی حکم تھا، مطلوبین کی فہرست سے نام ہٹانے، طاغوتِ اکبر کے ڈرون/میزائلوں سے بچنے، اس کی مددوحمایت حاصل کرنے اور اس کی طرف سے دودھ و شہد کی نہریں بہانے کی امید لے کر انہی کی ھدایات و اوامر کے مطابق عمل کامیابی کی کنجی سمجھی گئی۔ یوں بشار تو گر گیا، روافض بھی شام سے نکل گئے، مگر صلیبی صہیونی اپنی سازش و فساد سمیت داخل ہو گئے اور آج انہی کے اوامر و انتظام سے مسلمانانِ شام کے دین و دنیا کو تباہ کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔
یہ ہے وہ پس منظر جس کے سبب آج یہ دل خراش منظر ہمیں دیکھنا پڑ رہا ہے۔ ہمیں اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کہانی اور اس کا یہ اسکرپٹ صرف شام تک محدود نہیں رہے گا۔ جہاں بھی امت کی آزادی اور دینِ اسلام کے غلبہ کی کوشش ہوگی، دشمنانِ دین اسی طرح کی امداد، “کامیابی” اور “ترقی و خوشحالی” کے پیکیج کے ساتھ وہاں نقب لگانے پہنچیں گے۔ ایک طرف آگ و بارود برسایا جائے گا جبکہ دوسری طرف میٹھے زہر کے ذریعے جہادی تحریک کو یرغمال بنانے، اس کو اپنے مطلوب مقاصد سے ہٹانے اور بالآخر دین و امت ہی کے خلاف استعمال کرنے کا منصوبہ عمل میں لایا جائے گا۔ قربانیاں دی جاییں گی مگر ان کا فائدہ دشمنان امت سمیٹیں گے جبکہ دین و امت کے حصے میں غلامی و محرومی کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا۔
امت مرحومہ کے ساتھ یہ سب کب تک ہوگا؟ اُس وقت تک جب ہم جہاد کے نام پر محض جذبات ہی کے ابھارنے کا کام نہ کریں، بلکہ جہاد کی کامیابی اور اس کے شرعی مقاصد کے حصول کے لیے شعور پیدا کرنا بھی اپنا مقصد وہدف بنائیں، اور ان دونوں (جذبہ و شعور) کے ساتھ جب اخلاص ہوگا، صبر و استقامت ان پر ہوگی، تب ہی جا کر منزل کی طرف کچھ قدم بڑھیں گے۔ ورنہ تو بھول بھلیاں ہیں، سراب ہے، ناکامیاں و نامرادیاں ہیں اور خود اپنی کم نگاہی ہی کے سبب ہم منزل سے دور ہوتے جائیں گے۔
مجھے احساس ہے کہ یہ سطور پڑھ کر بعض بھائی خوش نہیں ہوں گے۔ اللہ کرے کہ وہ ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ حقائق کا جائزہ لیں، شرعی مبادی کی روشنی میں شام اور نفسِ جہاد اور اس کی تحریک کے متعلق اپنے مواقف پر نظرِ ثانی کریں۔ اگر ان کا موقف صحیح اور مدلل ہے تو ہم حاضر ہیں، ہماری اصلاح فرمائیں۔ اللہ نہ کرے کہ ہم مجاہدینِ عظام کے ساتھ کسی قسم کا بیر رکھ کر اپنے اعمال کی تباہی کا باعث بن جائیں۔ یہ بھی میں جانتا ہوں کہ بعض بہی خواہوں کی طرف سے مجھے گالیاں ملیں گی، طعنے اور تہمتوں کا سامنا ہوگا۔ یہ سب مجھے قبول ہے اور اجر کی نیت سے ہزار بار قبول ہے۔ میں اس پر صبر کروں تو ان شاء اللہ طنز و طعن کے یہ تیر و پتھر میری آخرت کا سرمایہ بنیں گے۔ مگر یہ قبول نہیں کہ بے دینی کو دین کا نام دیا جائے، سیکولرازم کو اسلام کا لبادہ پہنایا جائے، جہادی ثمرات کافروں کے سجائے گئے بازار میں نام نہاد ترقی و خوشحالی کے نام پر بیچے جائیں، اور یہ سب دیکھ کر ہم محض اس وجہ سے خاموش رہیں کہ کچھ بولیں گے تو مخالفت ہوگی۔
اللہ ہمیں وہ زندگی نہ دے کہ اپنی جان، عزت اور راحت کی خاطر جہاد، مجاہدین اور دین و امت کی مصالح کا سودا کریں۔ اللہ ہماری جان و اولاد اس دین و جہاد پر قربان کرے، نہ کہ اس کا الٹ ہو۔ اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم کمزوروں کو امت کی بیداری اور جہاد و مجاہدین کی نصرت میں استعمال فرمائے۔
آمین ثم آمین
