
خودی، اپنے آپ کی پہچان کا نام ہے۔ اپنی تخلیق میں ڈوب کر خالق کو جاننے، پہچاننے اور ماننے کا نام۔جو اس خودی کو جان گیا تو وہ مقام میں پادشاہوں سے کم نہیں ۔ دنیا کے ہر علم و فن کا مقصدِ حقیقی عرفانِ الٰہی ہے، عرفانِ الٰہی ہی کا نام خودی ہے۔ اب تیری عزت و آبرو اگر قائم ہے تو اسی خودی سے اور اگر یہ خودی چلی گئی تو تیرا مقدر رُو سیا ہی ہے، چاہے تو ظاہر میں کیسا ہی بادشاہ و امیر ہو!
حکیموں اور گتھیوں کو سلجھانے والے فلسفیوں سے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر وقت کے اماموں، قائدین و سرداروں سے اقبالؒ مخاطب ہے۔ اے میرِ زمانہ، اے قافلہ سالار! تُو نے مجھے اور میری قوم کو کچھ منزل کا پتہ نہیں دیا، تُو نے کچھ نہ بتایا کہ منزل کیا ہے اور اس منزل پر پہنچنے کا طریقہ کیا ہے۔ تُو نے ہادی (علیہ ألف صلاۃ وسلام) کا طریقہ چھوڑا اور قوم کو سرابوں کے پیچھے دوڑایا، میدان کے بجائے پارلیمان کی راہیں دکھائیں ۔ لیکن اے میرِ زمانہ! اے رہبرِ ملت! مجھے تجھ سے کچھ گلہ نہیں ہے۔ تُو تو خود انہی سرابوں میں بھٹک رہا ہے، تُو تو خود کبھی اس راہِ الفت کے پاس آیا ہی نہیں، تُو نے تو خود سفر کا ارادہ نہیں کیا، تجھ سے کیسا شکوہ!؟
اقبالؒ کہتا ہے، اقبال یعنی بلندی، بلندی کا پیغام کہتا ہے کہ وہ وقت قریب آ پہنچا ہے کہ بلندی کے طریقوں پر چلنے والوں کی تربیت گاہوں سے ایسے قائد و سپاہی نکلیں گے، ایسے فقیر و درویش برآمد ہوں گے جو آن کی آن میں سب دنیا کے بادشاہوں کا دھڑن تختہ کر دیں گے، انہی فقیروں کے سر پر تاجِ شاہی رکھا جائے گا جن کا نعرہ ’لا غالب الا ھُو‘ ہو گا۔
جابجا اقبالؒ ایک ہی بات بار بار کہتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ سب اپنے اپنے حجروں سے نکلو، یہ جمود توڑو، یہ وقت علمِ کلام و لاہوت کی بحثوں کا نہیں، رہبان باللیل بننا ہے تو ساتھ میں فرسان بالنہار بھی بنو، سید احمد شہید بنو، شاہ اسماعیل شہید بنو، نکل کر خانقاہوں سے رسمِ شبّیری ادا کرو!
گردو پیش کے حالات، اصولِ کائنات، نظم و انتظامِ جہان سے نا آشنا ہو کر جو بھی بلندی و کامیابی کے خواب دیکھتا ہے تو اس کا مقدر ناکامی ہے۔ تُو ہما کا شکار کر رہا ہے، اس تخیلاتی پرندے کا کہ بے عمل لوگ جس کے سائے کو ڈھونڈتے ہیں، کہ اگر اس کا سایہ کسی پر پڑ جائے تو وہ بادشاہ بن جائے، نہیں! عمل کی دنیا میں آ، یہ دنیا اسباب کی دنیا ہے، توکل تو اسباب اختیار کر کے بھروسے کا نام ہے، ہوائی قلعوں کی تعمیر کا نام نہیں۔
زبان کے لیے دل کی رفاقت بڑی لازمی چیز ہے۔ ساری کائنات ایک طرف اور کلمۂ توحید ’لا الٰہ الا اللہ‘ دوسری طرف۔ ایسا عظیم کلمہ بھی اگر تیرے پاس ہو اور وردِ زباں ہو تو تیرے ہاتھ تب تک کچھ نہ آئے گا جب تک کہ تیرا دل اس ’لا الٰہ الا اللہ‘ کی گواہی نہ دے۔ اور جس کی زبان اور دل اس کلمے کی گواہی دیں تو پھر وہ عرب ہو یا عجم ہو، کالا ہو یا گورا ہو، اس کا فتح یاب ہونا اصلی، سچی حقیقت ہے!
٭٭٭٭٭