مجلّہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ بطلِ اسلام، مجاہد قائد، شہیدِ امت، صاحبِ سیف و قلم شیخ یحییٰ ابراہیم السنوار رحمۃ اللہ علیہ کےایمان اور جذبۂ جہاد و استشہاد کو جلا بخشتے، آنکھیں اشک بار کر دینے والے خوب صورت ناول اور خودنوشت و سرگزشت ’الشوک والقرنفل‘ کا اردو ترجمہ، قسط وار شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔ یہ ناول شیخ نے دورانِ اسیری اسرائیل کی بئر سبع جیل میں تالیف کیا۔ بقول شیخ شہید اس ناول میں تخیل صرف اتنا ہے کہ اسے ناول کی شکل دی گئی ہے جو مخصوص کرداروں کے گرد گھومتا ہے تاکہ ناول کے تقاضے اور شرائط پوری ہو سکیں، اس کے علاوہ ہر چیز حقیقی ہے۔ ’کانٹے اور پھول‘ کے نام سے یہ ترجمہ انٹرنیٹ پر شائع ہو چکا ہے، معمولی تبدیلیوں کے ساتھ نذرِ قارئین ہے۔ (ادارہ)
سولہویں فصل
میری خالہ فتحیہ کی ایک بیٹی ہوئی جس کا نام ’’منى‘‘ رکھا گیا۔ یہ نوزائیدہ بہت خوبصورت، خوش مزاج اور ظریف تھی، لیکن اس کے باوجود میری خالہ کا دھیان اپنے بیٹے عبد الرحیم سے کبھی نہیں ہٹا، جو اب چلنے اور بات کرنے لگا تھا ۔ پھر انہوں نے اسے نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ اسکول بھیجنے کی تیاری شروع کر دی۔ عبد الرحیم ایک خوبصورت سانولا بچہ تھا، لیکن وہ بہت تیز مزاج تھا ، اگر کوئی اسے ناراض کرتا تو وہ چپ رہتا اور اس وقت تک چپ رہتا جب تک کہ وہ اپنے غصے کا اظہار نہ کر لیتا، اور پھر وہ اسے مارتا جس نے اسے ناراض کیا تھا ۔ وہ اپنے چچا عبد الرحمٰن سے بہت قریب تھا۔
عبد الرحمٰن نے اپنی یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد شادی کی اور اس کی ایک بیٹی ہوئی جس کا نام ’’رقیہ‘‘ رکھا۔ عبد الرحمٰن اپنے بھتیجے عبد الرحیم سے بے حد محبت کرتے تھے اور جب بھی موقع ملتا، وہ اسے لے کر باہر جاتے۔ ان کی ماں عبد الرحیم کو تیار کر کے چچا کے ساتھ بھیج دیتی اور وہ اسے یا تو پہاڑ کی طرف لے جاتے یا شام کو گاؤں میں چہل قدمی کے لیے لے جاتے۔ وہ قریبی دکان سے اسے اس کی پسند کی چیز خرید کر دیتے اور اکثر اسے مسجد لے جاتے جہاں وہ مغرب کی نماز پڑھتے اور عبد الرحیم اپنے چچا کے ساتھ کھڑے ہوکر ان کی نقل کرتا۔ اگر چچا نفل نماز میں سجدہ لمبا کرتے، تو عبد الرحیم اپنا سر اٹھا کر دیکھتا کہ چچا کس حالت میں ہیں، اور جب انہیں سجدہ میں دیکھتا تو خود بھی سجدے میں چلا جاتا۔ پھر وہ مسجد میں چچا کے ساتھ بیٹھتا، جہاں کچھ نوجوان آتے، جو کسی فقہی مسئلے، تاریخی واقعے یا سیرت النبی ﷺ کے بارے میں بات کرتے۔ عبد الرحیم ٹانگیں موڑ کر بیٹھ جاتا، اپنا سر جھکا لیتا، پھر بات کرنے والوں کی طرف دیکھتا اور سر اپنے ہاتھوں کے درمیان رکھ لیتا۔ عبد الرحیم کو اکثر اس کے چچا اپنے ساتھ الخلیل لے جاتے، جہاں وہ اپنے دوست اور ساتھی جمال سے ملتے۔ وہ گھر میں بیٹھ کر بات چیت کرتے، اور ان کے ساتھ دوسرے دوست بھی آتے، جو دینی، سیاسی اور دیگر موضوعات پر بات کرتے۔ کبھی کبھی وہ الخلیل کی کسی مسجد یا دوست کے گھر بھی جاتے۔
مقبوضہ علاقوں میں سیاسی شعور میں واضح بہتری آئی تھی، خاص طور پر نوجوانوں کے مراکز، یونیورسٹیوں، کالجوں اور ہائی اسکولوں میں۔ سیاسی اور فکری قوتوں کے درمیان مقابلہ بھی بتدریج بڑھ رہا تھا، کیونکہ ہر قوت زیادہ سے زیادہ مواقع اپنے حق میں کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ مثلاً یونیورسٹیوں میں ہر دھڑا طلباء کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش کرتا تاکہ وہ طلباء یونین کے انتخابات میں کامیابی حاصل کر سکے۔ اس مقابلے کے دوران اکثر چھوٹے اور محدود تصادم ہوتے رہتے تھے جو جلد اور آسانی سے حل کر لیے جاتے تھے۔ لیکن اسلامی تحریک کی طاقت کے مختلف مقامات پر مقابلے کے پیش نظر قومی تحریک، خاص طور پر فتح تحریک، میں شدید حساسیت پیدا ہو گئی تھی۔ قومی تحریک، جو مختلف دھڑوں کے ساتھ مل کر فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کی نمائندگی کرتی ہے، خود کو فلسطین میں واحد رسمی اور نمائندہ تحریک سمجھتی تھی، یہی بات ہے جس پر فلسطینی عوام دہائیوں سے قائم ہیں، اس بات کو عرب لیگ، عرب ممالک، حتیٰ کہ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے بھی تسلیم کیا ہے۔
یہ صورت حال دہائیوں تک جاری رہی پھر اچانک اسلامی تحریک مقبوضہ علاقوں میں ابھری، بڑے پیمانے پر بڑھی اور مختلف مقامات پر پی ایل او کے دھڑوں کے نمائندوں سے مقابلہ کرنے لگی۔ کئی مقامات پر جیتی، دیگر مقامات پر اچھا تناسب حاصل کیا، جس سے شدید تشویش پیدا ہو گئی۔ اس تشویش کو دو مزید پہلوؤں نے بڑھا دیا : پہلا یہ کہ اس تحریک نے مسلح جدوجہد میں کوئی عملی ذمہ داری نہیں نبھائی ، اور دوسرا یہ کہ یہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کو فلسطینی عوام کا واحد رسمی نمائندہ تسلیم نہیں کرتی۔ اگرچہ اس کے رہنما اور قائدین کھلے عام اس کا اقرار نہیں کرتے، لیکن وہ واضح طور پر اس حقیقت کو تسلیم بھی نہیں کرتے۔ اگر ان سے اس بارے میں پوچھا جائے تو وہ مصلحت پر مبنی جوابات دیتے ہیں جن میں نہ صاف ہاں ہوتی ہے نہ صاف ناں۔
اس تحریک کی طاقت میں اضافہ بالخصوص غزہ اور اسلامی یونیورسٹی میں دیکھا گیا ، جہاں اسلامی تحریک نے طلباء کے انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کر کے طلباء پر تقریباً مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ اس کے علاوہ اساتذہ کے انتخابات میں بھی اپنے امیدواروں کو جتوایا، اور طالبات کے انتخابات میں بھی اپنے امیدواروں کو فتح دلوائی۔ اس طاقت کے بڑھنے سے صورت حال تشویش ناک ہو گئی ، جس کے بعد توازن بحال کرنے کی زیادہ سنجیدہ کوششیں شروع ہوئیں ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ بیرونی قیادتوں سے ہدایات آئیں کہ معاملات کو سنجیدگی سے حل کیا جائے۔ اس کے بعد تمام حلقے کام میں لگ گئے، جس سے کئی مقامات پر شدید کشیدگی پیدا ہوئی اور کئی بار یہ تصادم یونیورسٹیوں سے نکل کر گلیوں اور کیمپوں تک پہنچ گئے، جہاں ایک فریق کے اراکین پر دوسرے فریق کی طرف سے حملے ہوتے اور پھر جواب میں پہلا فریق دوسرے پر حملہ کرتا۔ اس طرح کے سلسلے میں جسمانی نقصانات بھی ہوئے اور کئی حالات میں علاج کی ضرورت پیش آئی۔
ان حالات میں ہر کوئی اپنی جماعتوں اور تنظیموں کے ساتھ جڑ گیا تھا، ہر کوئی اپنی جماعت کی حمایت میں بات کرتا اور ان کے موقف کا دفاع کرتا۔ یہ بات فوراً ہمارے گھر پر بھی اثر انداز ہوتی۔ میرے بھائی محمود الفتح سے تعلق رکھتے تھے، میرے بھائی حسن اور محمد اور میرے چچا زاد ابراہیم اسلامی تحریک سے وابستہ تھے اور ہمارا پڑوسی اور حسن کی بیوی کے بھائی کا تعلق الجبهة الشعبية سے تھا۔ جب بھی ایسے تصادم یا جھگڑے ہوتے، یہ باتیں ہمارے گھر اور اس کے تعلقات پر بھی اثر ڈالتی تھیں ، جہاں بحث و مباحثہ شروع ہو جاتا جو چیخ و پکار تک جا پہنچتا ، ’’تم نے یہ کیا، نہیں! تم نے یہ کیا، تم کون ہوتے ہو یہ کرنے والے؟ اور تم اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہو؟……‘‘ میری ماں اصلاح کرنے اور مصالحت کی کوشش کرتیں، یا کم از کم یہ دیکھتیں کہ بات ہاتھا پائی تک نہ پہنچے، اور میں عموماً ان کے ساتھ کھڑا ہوتا۔ محمود کی بیوی اس کے ساتھ ہوتی، اور حسن کی بیوی اس کے ساتھ ہوتی، اور آخر میں سب ، ایک دوسرے سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے، اور اپنی ناراضگی اور غصہ ظاہر کرتے ہوئے اپنے اپنے کمروں میں چلے جاتے۔
یونیورسٹی میں ابراہیم کے کردار اور اسلامی تحریک میں اس کے نمایاں مقام کی وجہ سے اس کی عزت غیر معمولی تھی، جو کچھ حد تک تقدس تک پہنچ جاتی تھی۔ لیکن چونکہ میں بھی یونیورسٹی میں تھا اور اس کے قریب تھا، میں یہ بات واضح طور پر محسوس کرتا تھا اور ڈرتا تھا کہ کہیں کوئی اس پر حملہ نہ کر دے۔ اس لیے، جب تک کہ میری کلاسز اور اس کی موجودگی مجھے اجازت دیتی میں حتیٰ الامکان اس کے قریب رہنے کی کوشش کرتا۔ کبھی کبھار وہ غائب ہو جاتا، اور جب کبھی وہ اسلامی تحریک کے کارکنوں کے ساتھ بیٹھا یا کھڑا ہوتا ، تو میں ان کے قریب نہیں جاتا تھا کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ وہ اپنے خاص معاملات پر بات کر رہے ہوں گے اور یقیناً وہ نہیں چاہتے ہوں گے کہ میں ان کی باتیں سنوں۔
ایسا لگتا تھا کہ ابراہیم کے کردار کے بارے میں معلومات فتح کے کارکنان کے ذریعے میرے بھائی محمود تک پہنچتی تھیں ، جو ان کے ایک لیڈر سمجھے جاتے تھے۔ مجھے محمود کے چہرے پر ابراہیم کے خلاف غصہ اور ناراضگی نظر آتی تھی مگر نہ وہ (کسی برے ارادے سے )اس کے قریب جا سکتا تھااور نہ ہی اس سے کوئی ایسی بات نہیں کر سکتا تھا جو اسے ناراض کر دے، کیونکہ یہ میری ماں کے نزدیک ایک سرخ لکیر تھی۔ ابراہیم کی ناراضگی کا مطلب قیامت کے مترادف تھا، کیونکہ اس کی ماں نے اسے چھوڑ دیا تھا۔ کبھی کبھار محمود تصادم سے بچنے کی خاطر اپنے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے ابراہیم سے بات کرنے کی کوشش کرتا تو میری ماں اس پر غصہ نکالتیں۔ محمود اس سے بات کرتا کہ یہ کام اس طرح نہیں چلتے اور جو تم کر رہے ہو وہ غلط ہے وغیرہ، جس کا مطلب یہ ہوتا کہ وہ، ہونے والے تصادم کا ذمہ دار ابراہیم اور اس کی تحریک کو ٹھہرا رہا ہوتا۔ ابراہیم مسکراتے ہوئے کہتا: یار! تم ہم پر ذمہ داری ڈالنے کی کوشش کر رہے ہو؟ ہم نے جھگڑا شروع نہیں کیا، اور تم لوگ ہمارے وجود کو ایک عوامی قوت اور ایک سیاسی و معاشرتی تحریک کے طور پر تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہو۔
محمود جواب دیتا کہ تم لوگ ہی تشدد کی طرف مائل ہوتے ہو اور لاٹھیاں، زنجیریں اور کلہاڑیاں استعمال کرتے ہو۔ تم لوگ فلسطین کی آزادی کی تنظیم (پی ایل او) کو تسلیم نہیں کرتے اور مسلح جدوجہد میں اپنی ذمہ داری نہیں نبھاتے اور قومی تحریک کے نمائندوں پر حملہ کرتے ہو جبکہ قبضہ کرنے والے تمہیں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔
ابراہیم ناراض نظر آتا اور پوچھتا : کیا ہم پر غداری کا الزام لگا رہے ہو کہ ہم قبضہ کرنے والوں کے پالے ہوئے ہیں؟
محمود وضاحت دینے کی کوشش کرتے ہوئے کہتا کہ میں تم پر الزام نہیں لگا رہا ابراہیم! لیکن ہو سکتا ہے کہ تمہارے قائدین کے ذاتی مقاصد ہوں۔
ابراہیم جواب دیتا : یار ہم نے کبھی جھگڑا شروع نہیں کیا، ہم نے ہر بار اپنے دفاع میں کام کیا ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ تم لوگ ہمارے وجود کو بطور حریف قوت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہو جیسے کہ فلسطینی کام اور اداروں اور تنظیموں پر قبضہ صرف تمہارے نام پر رجسٹرڈ ہو۔ تمہیں تسلیم کرنا ہو گا کہ یہاں ایک حریف قوت ہے جو تم سے نقطہ نظر اور موقف کا اختلاف رکھتی ہے ۔
اسی دوران میری ماں، جو اس گفتگو کو سن رہی ہوتیں اور اس کی پیش رفت کو دیکھ رہی ہوتیں، مداخلت کرتیں اور کہتیں کہ اس بات چیت کو روک دو اور سڑکوں کی مشکلات کو گھر کے جھگڑوں میں تبدیل نہ کرو۔
ایک بار فوجی گورنر نے ابراہیم اور مختلف دیگر تحریکوں کے کارکنوں کو اپنے دفتر میں بلا بھیجا ، جب ابراہیم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ تقریباً دس کارکن جمع ہیں، اور گورنر انہیں باری باری اپنے دفتر میں بلاتا ہے ، جب ابراہیم کو بلایا گیا تو گورنر ان سے بات کرنے لگا اور انہیں حالات کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ ابراہیم نے اس انداز پر اعتراض کیا اور وضاحت کی کہ ان کا جھگڑوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
گورنر نے طریقہ بدلتے ہوئے کہا : تم لوگ جو قبضے میں رہتے ہو، آزادی چاہتے ہو، تم آپس میں لڑتے جھگڑتے ہو، تم لوگ زندگی کے مستحق نہیں ہو، اور تم یہ اور وہ ہو۔
ابراہیم ایک مشکل میں پڑ گیا کہ اگر وہ جواب نہیں دیتا تو یہ ایک تیز تھپڑ کی طرح ہو گا، اور اگر جواب دیتا تو گویا وہ اس کی تصدیق کر رہا ہے یا اس کا حصہ ہے۔ کچھ دیر سوچ کر ابراہیم نے کہا : سب سے پہلے میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میرا ان جھگڑوں سے کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن مجھے یقین ہے کہ آپ جانتے ہیں کہ تمام لوگ جو قبضے میں رہتے ہیں یا جن کے پاس خود مختاری اور ادارے ہوتے ہیں، ان میں اختلافات اور جھگڑے ہوتے ہیں اور یہ آپ کے ہاں بھی بار بار ہوا ہے، پرانے اور نئے دور میں، اور آخری بار ہگانا کے اعمال اِتسل کے خلاف تھے۔1’’ہگانا‘‘ اور ’’اتسل‘‘ دونوں نے بیسویں صدی کے وسط میں فلسطینی سر زمین پر برطانوی حکومت کے خلاف اور بعد میں عربوں کے خلاف یہودی ریاست کے قیام میں حصہ لیا۔
حاکم حیران رہ گیا اور اپنی حیرت چھپا نہ سکا اور پوچھا : تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا ؟ ابراہیم نے جواب دیا : یہ کتابوں میں لکھا ہے۔ حاکم نے دوبارہ ابراہیم کو چیلنج کرنے کی کوشش کی اور کہا : مجھے فخر ہے کہ تم جیسے لوگ یہودی قوم کو اپنے لیے مثال اور نمونہ سمجھتے ہیں۔ ابراہیم نے جواب دیا : میں نے اسے نمونے اور مثال کے طور پر نہیں، بلکہ تاریخ کے ایک واقعے کے طور پر ذکر کیا ہے اور میں پھر سے یقین دلاتا ہوں کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس سے میرا کوئی تعلق نہیں ۔
ہرگزرتے دن کے ساتھ میری نظر میں ابراہیم کی عزت اور احترام بڑھتا جا رہا تھا، کیونکہ وہ ایک یتیم تھا جس کا باپ اس کی عمر کے چوتھے سال میں شہید ہو گیا تھا، پھر اس کی ماں نے بھی اسے کم عمری میں چھوڑ دیا تھا، اور وہ ہمارے درمیان پلا بڑھا۔ وہ مشکل حالات کے تحت قبضے کے باوجود ایک خود انحصار شخص اور باوجود اپنی کم سنی کے سچا قائد بن گیا تھا، حالانکہ حالات قابض حکومت کے تحت دشوار تھے۔
میں اسے دیکھتا تھا جب وہ یونیورسٹی کے صحن میں چلتا پھرتا، اِس سے بات کرتا، اُس سے بات کرتا، ان کو احکام اور ہدایات دیتا، اور چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق چلاتا۔ پھر و ہ ایک مفکر اور اچھا مناظر بھی تھا، اور ان سب سے بڑھ کر اس کا کردار پردے میں رہنے والی باحیا کنواری لڑکی کی طرح تھا، حیا کی وجہ سے اس کا چہرہ اس طرح سرخ ہوجاتا گویا ابھی اس کے گال پھٹ جائیں گے ۔
قابض افواج یونیورسٹی میں تعمیرات کو روک رہی تھیں تاکہ اسے محدود اور تنگ کر سکیں۔ حقیقی صورتحال کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ یونیورسٹی کے طلبہ کی تعداد پندرہ سو سے تجاوز کر گئی تھی اور اس کا اکیڈمک اور انتظامی عملہ بھی اس حد تک بڑھ گیا تھا کہ کسی بھی طالب علم یا ناظر کے دل میں یہ شک نہیں رہا تھا کہ وہ خطرے کے مرحلے سے گزر چکی ہے اور سرکاری یونیورسٹی کے راستے پر گامزن ہے۔
یہ معاملہ استعمار کے خلاف ایک چیلنج میں تبدیل ہو چکا تھا، جو ہم سے ہر چیز میں لڑتا حتیٰ کہ تعلیم کے معاملے میں بھی لڑ رہا تھا، اس لیے ہم نے اس کا حل یہ نکالا کہ ہم خیمے اور کھجور کے پتوں کی آڑ بنا کر پڑھائی کریں۔ ابراہیم ہمارے سروں پر کھڑا ہوتا اور کام کی نگرانی کرتا اور طلبہ میں اصرار اور چیلنج کی روح پیدا کرتا۔ لہٰذا ہم میں سے ہر ایک یونیورسٹی آتا اور محسوس کرتا کہ یہ اس کے قومی فریضے کا حصہ پہلے ہے تعلیمی فکر بعد میں ہے۔ ’’جامعہ الخیم‘‘ کا نام اسلامی یونیورسٹی پر نقش ہونے لگا۔ یہ ہمارے فخر اور اعزاز کا موضوع تھا اور استعمار علم و تعلیم کے لیے عوام کی مرضی کے سامنے کھڑا نہیں ہو سکا، اس نے حقیقی امر کو تسلیم کرنا شروع کر دیا تھا، اور ہمیں آگے بڑھنا تھا۔ اچانک بغیر کسی پیشگی اطلاع کے یونیورسٹی میں کئی ٹرک داخل ہوئے اور بڑی مقدار میں تعمیراتی مواد اتارنا شروع کر دیا، اور اچانک ابراہیم طالب علم اور کارکن سے ٹھیکیدار میں تبدیل ہو گیا جہاں اس نے اور چند معزز طلبہ نے اور ہم میں سے سینکڑوں نے اس کی مدد کی اور اینٹوں سے کلاس رومز کی تعمیر شروع کی اور ان کی چھت اسبیسٹوس (asbestos) سے بنائی۔
اس طرح جب استعمار پر حقیقت مسلط کی گئی تو کچھ ہی دیر میں کئی کلاس رومز تیار ہو گئے، اور کچھ عرصہ بعد مزید کچھ کلاس رومز تیار ہو گئے، پھر تیسری قسط بھی تیار ہو گئی اور یہ واضح ہو گیا کہ ہمیں کھجور کے پتوں اور خیموں کی چھتریوں کی ضرورت نہیں رہی۔ یہ سب کچھ ابراہیم کی عظمت، قدر اور محبت کو میری نظروں اور دل میں بڑھا رہا تھا۔
ابراہیم اپنی پڑھائی میں بہترین تھا، اور طلبہ کی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتا تھا اور اپنے ساتھیوں میں اپنے گروپ کے لیڈر کی حیثیت سے ممتاز مقام رکھتا تھا۔ ان سب کے علاوہ وہ تعمیراتی کام بھی کرتا تھا جس سے اسے اتنے پیسے مل جاتے تھے جو اس کے خرچ کے لیے کافی ہوتے تھے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ ایک دن شام کے وقت جب ہم سب گھر میں بیٹھے تھے، اس نے میری ماں سے مخاطب ہو کر کہا : میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں مگر ڈرتا ہوں کہ کہیں آپ مجھ سے ناراض نہ ہوجائیں۔ ماں نے کہا : تم جانتے ہو کہ میں تم سے ناراض نہیں ہوتی اور میں جانتی ہوں کہ تم کوئی ایسی بات نہیں کہو گے جس سے مجھے دکھ ہو۔ اس نے کہا : لیکن ایسا ہوسکتا ہے کیونکہ یہ پہلی بار ہے کہ میں ایسی بات کرنے چلا ہوں، اس لیے معافی چاہتا ہوں۔ ماں نے حیرانی اور تعجب سے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا : کیا بات ہے، ابراہیم؟ اس نے اپنی جیب سے پیسے نکالتے ہوئے کہا کہ میں گھر کے خرچ میں حصہ ڈالنا چاہتا ہوں، میں اب بڑا ہو گیا ہوں اور کافی پیسے کماتا ہوں، اس لیے مجھے خرچ میں حصہ ڈالنا چاہیے۔ اتنا سننا تھا کہ ماں نے چیختے ہوئے کہا : کیا ہو گیا ہے تمہیں؟ کیا تم پاگل ہو گئے ہو؟ ابراہیم نے آہستہ سے کہا : اماں، میں اب……، ماں نے دوبارہ چیختے ہوئے کہا : نہ تم اب نہ کچھ اور، اس فضول بات کو چھوڑ دو۔ اگر تمہارے پاس ضرورت سے زیادہ پیسے ہیں تو مجھے دے دو، میں انہیں تمہارے لیے بچا کر رکھوں گی۔ کل کو تمہیں ضرورت پڑ سکتی ہے اور ویسے بھی جب تم یونیورسٹی سے فارغ ہو کر شادی کرو گے تو ضرورت پڑے گی۔ پھر ماں نے نرمی سے کہا : جب بھی تمہارے پاس ایک پیسہ زیادہ ہو، مجھے دے دیا کرو۔ میں اسے تمہارے لیے بچا کر رکھوں گی، اس کی تمہیں ضرورت پڑے گی ابراہیم ! مگر ایسا لگتا تھا کہ ماں کا یہ انکار اس کے لیے قابل قبول نہیں تھا کہ میں اسے دیکھتا کہ ہر کچھ دن بعد وہ گھر آتا اور ساتھ میں کھانے پینے کی چیزوں یا پھلوں یا سبزیوں یا مٹھائیوں کا ایک لفافہ یا تھیلا لے آتا، جسے وہ گھر میں اپنے حصے کے طور پر لاتا۔ ماں اسے عزت اور احترام کی نظر سے دیکھتی اور کہتی : ہائے میں تمہارے ساتھ کیا کروں، ابراہیم، خدا تمہیں خوش رکھے۔
مسلح مزاحمت کافی حد تک کم ہو گئی تھی اور یہ مثل مشہور ہو گئی تھی کہ ہر یہودی کی موت سے یہ ہوتا ہے، جس سے اس چیز کی نایابی یا عدم موجودگی کی طرف اشارہ کیا جاتا تھا، نہ صرف دشمنوں کے درمیان موت کم ہو گئی تھی بلکہ کسی بھی مزاحمتی عمل کی علامات بھی کم ہو گئی تھیں۔ فوجی گشت کی تعداد بھی کم ہو گئی تھی جو سڑکوں پر گشت کرتی تھی ، بہت ہی کم کرفیو لگایا جاتا تھا، رات کا کرفیو ہٹا دیا گیا تھا، لوگوں کو کئی علاقوں میں رات کے وقت سمندر کے کنارے رہنے کی اجازت دی گئی تھی۔
یہودیوں کی بسیں ہفتے کے دن تفریح اور سستے داموں چیزوں کی خریداری کے لیے مختلف علاقوں میں آنا شروع ہو گئی تھی ، مثلاً غزہ کے قلب میں۔ اس سے ملک کی روایتی معاشرت پر بہت منفی اثر پڑ رہا تھا۔ جب درجنوں بسیں نیم عریاں لڑکیوں اور عورتوں کو لے کر آتیں تو علاقوں کے ذمہ دار انٹیلی جنس افسران اپنی گاڑیوں (سوبارو) میں سڑکوں پر گھومنے لگتے بلکہ وہ کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ گاڑی روک کر راہگیر کو بلاتے اور اس سے اس کا شناختی کارڈ مانگتے اور اس سے تفتیش شروع کر دیتے یا اس سے بغیر کسی حفاظتی اہلکار اور بنا کسی خوف یا اندیشے کے بات چیت کرنے لگتے، اور کبھی کبھار اگر کسی گلی میں انہیں کچھ مشکوک نظر آتا تو وہ اس گلی میں دوڑتے ہوئے مطلوبہ شخص کے پیچھے جاتے۔ اسی طرح اس بڑی بھاری فورسز کے باوجود جو خیموں پر حملہ نہیں کر سکتی تھی حالات اس سطح پر پہنچ گئے تھے۔ کبھی وہ کسی نوجوان پر چلاتے نظر آتے جسے انہوں نے روکا ہے اور کبھی کبھار اسے تھپڑ یا لات بھی مار دیتے ، پھر اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اس کا شناختی کارڈ واپس کیے بغیر چلے جاتے اور اس نوجوان کو اپنے دفتر میں آنے کا حکم دیتے، اور اگر وہ نہ جائے تو اس کے لیے بڑی مصیبت ہوتی ۔
اندرونی علاقوں میں مزدوروں کی حرکت بغیر کسی حد یا ضابطے کے ہو گئی تھی، اور ان مزدوروں اور کاریگروں نے یہودی مالکان کے ساتھ دوستی کے تعلقات بنا لیے تھے اور یہ صرف کام کے تعلقات تک محدود نہیں رہا بلکہ معاشرتی تعلقات تک بھی پہنچ گیا تھا ۔ اگر کوئی مزدور ایک ہفتے کی چھٹی چاہتا کہ اس کی شادی ہے تو اس کا مالک اس سے شادی کی تاریخ پوچھتا اور اسے بتاتا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ مبارکباد دینے اور تحفے لے کر آئے گا۔ اکثر نظر آتا کہ ایک اسرائیلی گاڑی جس پر پیلے رنگ کی لائسنس پلیٹ تھی ، کیمپس میں داخل ہوتی ، رکتی اور اس کا ڈرائیور عبرانی یا ٹوٹی پھوٹی عربی میں کسی سے فلاں دلہا یا فلاں دلہن کے گھر کا پتہ پوچھتا اور وہ اسے راستہ بتاتے، پھر وہ اپنی گاڑی دروازے کے سامنے روک دیتا اور وہ اور اس کی نیم عریاں بیوی( ہمارے معیار کے مطابق)، تحفے اٹھائے ہوئے گھر کے اندر جاتے، ایک گھنٹے یا اس سے کم وقت کے لیے بیٹھتے اور پھر بغیر کسی مداخلت کے چلے جاتے۔
قابض انٹیلی جنس نے منظم اور منصوبہ بند طریقے سے کیمپس میں سرایت کرنا شروع کر دیا تھا اور اس کے خلاف کوئی مزاحمت یا اعتراض نہیں تھا۔ علاقے کے ذمہ دار انٹیلی جنس افسر سیکڑوں طلبی کے نوٹس نوجوانوں اور مردوں کو بھیجتے اور یہ ان کے دفتر جاتے ، تخشیبہ (یہ وہ جگہ ہوتی ہے جہاں لوگ بیٹھ سکتے ہیں، آرام کر سکتے ہیں، یا کچھ وقت گزار سکتے ہیں) میں گھنٹوں بیٹھے رہتے ، پھر انہیں ایک ایک کر کے بلایا جاتا ، مارا جاتا ، دھمکایا جاتا ، دھمکیاں دی جاتیں ، سودے بازی کی جاتی ، تسلی دی جاتی اور ہر ممکن کوشش کی جاتی کہ ان میں سے کسی کو بھرتی کیا جا سکے، اور یوں کبھی کبھار وہ کچھ کمزور لوگوں پر قابو پانے میں کامیاب بھی ہو جاتے۔ جو بھی بیرون ملک پڑھنے، اپنے رشتہ داروں سے ملنے، یا کام کرنے کے لیے جانا چاہتا، یا تعمیراتی کام، ورکشاپ، یا دکان کھولنے کا اجازت نامہ چاہتا ، یا جو کچھ بھی چاہتا اسے باضابطہ انٹیلی جنس کے دفتر میں حاضری دینی پڑتی، جہاں پھر سودے بازی شروع ہو جاتی اور اپنی خدمات کے بدلے میں اس شہری سے معمولی خدمات طلب کی جاتیں۔ لہٰذا جب ابتدائی تعاون کے لیے آمادگی نظر آتی تو یہ سمجھ لیا جاتا کہ اسے ترقی دے کر مکمل تعاون اور پھر غداری و خیانت تک لے جا سکتے ہیں۔ بات یہاں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس سے بھی تجاوز کر گئی کہ کچھ مخبر مشہور و معروف ہو گئے اور وہ اپنی کمر پر پستول لے کر گلیوں میں گھومنے لگے۔ یہ لوگ جب چاہتے انٹیلی جنس آفس میں داخل ہو جاتے، لوگوں پر غصہ نکالتے اور ان پر حملہ کرتے۔ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ جب کسی کو اجازت نامہ یا لائسنس چاہیے ہوتا اور انٹیلی جنس افسر انکار کر دیتا تو وہ ان مشہور مخبروں میں سے کسی کے پاس جا کر اس سے مدد کی درخواست کرتا، اور یہ مخبر اس کے بدلے کمیشن مانگتا۔
ایک پڑوسی کا بیٹا ترکی میں تحصیل علم کے لیے گیا تھا، اس نے میڈیکل کالج کے چھ سال مکمل کر لیے تھے اور انٹرن شپ کا ایک سال باقی تھا مگر اب اسے سفر کی اجازت نہیں دی جارہی تھی۔ وہ بار بار انٹیلی جنس افسر کے پاس جاتا اور ہر بار اسے انکار ہی سننے کو ملتا، یہاں تک کہ وہ تھک گیا۔ پھر کسی نے اسے مشورہ دیا کہ وہ ایک مشہور مخبر کے پاس جا کر اس سے مدد مانگے۔ لہٰذا اس نے ایسا ہی کیا مگر اس مخبر نے اس کام کے لیے پانچ سو اردنی دینارمانگے جو بہت بڑی رقم تھی۔ جب اس شخص نے بحث کی کہ رقم بہت زیادہ ہے تو مخبر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ میں یہودیوں کا مخبر ہوں، اگر تم مجھے قتل کرنے کی سکت رکھتے ہو تو پھر مجھے اس سے پہلے ہی تمہارا خون چوس لینا چاہیے۔
کچھ نے دفتر کھول کر اجازت نامے اور اس جیسے دیگر معاملات کے حصول میں مدد کی جو انٹیلی جنس کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں تھے اور اس سے کمیشن کما کر دولت بنانے لگے اور مہنگی گاڑیاں چلانے لگے۔ یہ واضح ہو گیا کہ قابض انٹیلی جنس اور اس کے مخبر منشیات، شراب اور حشیش کے کاروبار اور استعمال فروغ دینے لگے تھے۔ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ اس سے عوام کی تباہی اور کسی بھی مزاحمتی روح کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے ، اور ان کے جاسوس اسے تیزی سے پیسہ کمانے کا ذریعہ سمجھتے تھے اور ان کا تحفظ بھی ہوتا تھا۔ مخبر فحاشی اور بدکاری کو فروغ دینے لگے اور نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں فحش تصاویر، میگزین اور جنسی ویڈیوز تقسیم کرنے لگے۔
مختلف تنظیموں کے سرگرم کارکن ان تاریک اور مایوس کن مناظر کو دیکھتے مگر نہ صرف یہ کہ وہ ان مظاہر کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے تھے بلکہ وہ سب ان جاسوسوں کی مستقل نگرانی میں تھے۔ چونکہ میرے بھائی محمود اور میرے چچا زاد بھائی ابراہیم معروف کارکن تھے، اس لیے ایک مخبر نے ہمارے گھر کے مرکزی دروازے کی نگرانی شروع کر دی تھی ، مگر وہ لوگ نہیں جانتے تھے کہ ہمارے گھر کا ایک اور دروازہ بھی ہے، جو پہلے میرے چچا کے گھر کا دروازہ تھا ، لہٰذا محمود اور ابراہیم خاموشی سے پچھلے دروازے سے گھر سے نکل جاتے، اور وہ جاسوس سمجھتے کہ وہ ابھی تک گھر میں ہیں۔
کیمپ میں تمام نوجوان بہت سی خواتین کی کہانیاں جانتے تھے کہ وہ عورت یا لڑکی جاسوسی کے جال میں پھنس کر انٹیلی جنس کے لیے کام کرنے لگی ہے۔ وہ نوجوانوں کو پہلے جنسی تعلقات میں ملوث کرتی، پھر ان کی فحش اور شرمناک حالت میں تصاویر بنائی جاتیں اور پھر انٹیلی جنس انہیں بلیک میل کرکے اپنے ساتھ کام کرنے پر مجبور کرتی۔
کچھ کہانیاں خاص طور پر مشہور ہو گئی تھیں۔ جیسے کچھ بیوٹی پارلر یا فوٹو گرافی اسٹوڈیو جو کہ انٹیلی جنس کے ایجنٹس کے زیر استعمال تھے ، اخلاقی گراوٹ پر مبنی اعمال کے لیے استعمال ہوتے تھے جنہیں بعد میں سکیورٹی والوں کے جال میں پھنسانے کے لیے بطور پہلا قدم استعمال کیا جاتا۔ یہ کہانیاں اُس وقت سامنے آئیں جب کئی لڑکیوں نے خودکشی کی، اور اپنے خاندان کو خط لکھ کر بتایا کہ وہ کس طرح دھوکہ کھا گئی تھیں، مثلاً جب وہ فلاں بیوٹی پارلر گئیں تو وہاں ان کے مشروب میں نشہ آور چیز ملا دی گئی ، جب وہ ہوش میں آئیں تو دیکھا کہ ان کا ریپ ہو چکا تھا اور ان کی فحش تصاویر بنائی جا چکی تھیں، انہیں دھمکی دی گئی کہ انٹیلی جنس کے لیے کام کریں، ورنہ ان کی تصاویر عام کر دی جائیں گی ، اس لیے انہوں نے خودکشی کو ترجیح دی۔
یہ کہانیاں بہت مشہور ہو چکی تھیں اور ان لڑکیوں کے ساتھ ساتھ ان جگہوں اور ان ایجنٹس کے نام بھی سب کو معلوم ہو چکے تھے۔ واضح ہو چکا تھا کہ انٹیلی جنس ایک منظم طریقے سے فساد پھیلانے کا کام کر رہی ہے تاکہ عوام کو برباد کیا جا سکے اور مستقبل میں ان کی آزادی یا مزاحمت کے تمام امکانات ختم کیے جا سکیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کے طور طریقے مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے تھے۔ ایک مشہور ایجنٹ کے دفتر نے ایک اعلان کیا کہ ایک سیاحتی سفر کا اہتمام کیا جا رہا ہے جس میں نوجوان لڑکوں کو اسرائیل کے اندر کچھ مشہور سیاحتی مقامات، جیسے فشخہ، بانیاس یا عین جیدی لے جایا جائے گا۔ جب اس قسم کے سفر ہوتے تو انٹیلی جنس کے ایجنٹس کے ساتھ کئی معروف فاحشائیں بھی شامل ہوتیں جو ان نوجوانوں کو بدنام کرنے کے لیے فحش تصویریں بنا لیتیں ۔
کیمپ کے ایک نوجوان نے ایسے ہی ایک سفر میں شرکت کی اور وہاں اس کی فحش حالت میں تصاویر بنائی گئیں۔ کیمپ کے انٹیلی جنس افسر نے اسے اپنے دفتر بلایا اور اس سے تعاون کرنے کا مطالبہ کیا۔ نوجوان نے انکار کیا تو افسر نے اس کی تصاویر دکھائیں اور اسے بدنام کرنے کی دھمکی دی۔ اس کے باوجود نوجوان نے انکار کیا تو افسر نے کہا : میں تمہیں ایک ہفتے کی مہلت دیتا ہوں، اس کے بعد دوبارہ بلاؤں گا ، اگر تم نے تعاون نہ کیا تو تم دیکھو گے کہ میں تمہیں کیسے بدنام کرتا ہوں۔ نوجوان خوف زدہ ہو کر نکل آیا اور اسے محسوس ہوا کہ وہ ایک جال میں پھنس گیا ہے۔ اگر وہ تعاون سے انکار کرتا ہے تو کیمپ میں اس کی بدنامی ہو گی اور اس کی عزت خاک میں مل جائے گی، اور اگر وہ تعاون کرتا ہے تو وہ اپنے اہل وطن سے غدار کا مرتکب ہوگا۔ آخرکار اس نے اپنے ایک دوست سے مشورہ لیا کہ اس مصیبت سے کیسے نکلا جائے؟ اس کا دوست بھی حیران تھا کیونکہ اسے بھی ایسی باتوں کا کوئی تجربہ نہیں تھا ، دونوں نے مل کر محمود بھائی سے رجوع کیا اور انہیں سارا ماجرا سنایا۔
محمود نے اس نوجوان کو ڈانٹا کہ وہ ایسی جگہوں پر کیوں جاتا ہے اور وہ کیسے مخبروں کے قریب جا پہنچا اور کیسے اس مصیبت میں پھنس گیا؟ آخر میں اس نے نوجوان کو سمجھایا کہ اس کی مشکل کا حل موجود ہے۔ جب اس نے اپنے دوست کو بتا دیا اور اس کے ساتھ یہاں آگیا تو اس مسئلے کا حل نکل آیا۔ کیونکہ عام طور پر انٹیلی جنس ایسی تصاویر کو شائع نہیں کرتی بلکہ انہیں محض نوجوانوں کو دھمکانے کے لیے استعمال کرتی ہے اور بدنامی کا خوف ہی لوگوں کو ان سے تعاون پر مجبور کردیتا ہے۔ اس نے نوجوان کو ہدایت دی کہ اگر دوبارہ انٹیلی جنس افسر سے ملاقات ہو تو اسے صاف بتا دے کہ وہ بدنامی سے نہیں ڈرتا ، بے شک اس کی تصاویر نشر کردی جائیں بلکہ وہ خود ہزاروں نسخے لے کر کیمپ میں تقسیم کرے گا۔
چند دن بعد نوجوان کو طلب کیا گیا اور اس نے محمود کی ہدایت پر عمل کیا۔ ابو ودیع غصے سے پاگل ہو گیا اور دھمکیاں دینے لگا۔ مگر آخر کار اس نے نوجوان کو دفتر سے باہر نکال دیا اور کہا کہ وہ اسے مزید وقت دے گا اور اگر اس نے تعاون نہ کیا تو اس کی زندگی کو عذاب بنا دے گا۔ ایک شام ابو ودیع کیمپ کی گلیوں میں گاڑی چلا رہا تھا کہ اس نوجوان کو کچھ سامان خریدتے ہوئے دیکھا۔ جب ابو ودیع نے اسے بلانے کے لیے گاڑی روکی تو نوجوان بھاگتے ہوئے ایک گلی میں چلا گیا اور ابو ودیع اس کے پیچھے بھاگ کھڑا ہوا۔
محمود اور اس کے ساتھی اکثر اپنی محفلوں میں انٹیلی جنس کی سرگرمیوں اور اس کے جاسوسوں پر بات چیت کرتے تھے کہ ان کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔ وہ اس پر غور کرتے مگر انہیں کوئی تدبیر نہیں سوجھتی تھی۔ لگتا ایسا تھا کہ حالات اتنے بگڑ گئے تھے کہ انہیں قابو میں لانا مشکل ہو گیا تھا۔
ہماری مصیبت یہ تھی کہ میرا چچا زاد حسن دوبارہ کیمپ میں نظر آنے لگا تھا۔ اس کی یہودی محبوبہ نے اسے اپنے اپارٹمنٹ سے نکال دیا تھا کیونکہ اس کی کمپنی اس کے والد کے ساتھ دیوالیہ ہو گئی تھی۔ وہ بے بس ہو کر واپس کیمپ آ گیا تھا۔ جب وہ گھر آیا تو یہ طے تھا کہ اس کا ہمارے بیچ کوئی مقام نہیں ہو گا اوراس کی واپسی کی یہاں کوئی گنجائش نہیں۔ وہ یہودیوں کی طرح ہی لگنے لگا تھا اور ہم میں سے کوئی بھی اسے دیکھنا گوارا نہیں کرتا تھا ۔
محمود کا خیال تھا کہ ہم اسے ایک موقع دیں اور اسے ٹھیک کرنے اور اس کی حالت کو معمول پر لانے کی کوشش کریں۔ ہم نے اس کے لیے مہمان خانہ خالی کر دیا اور ہم سب نے اسے یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ سارا خاندان اس کی حرکتوں سے نالاں ہے۔ لیکن نہ تو اس پر غصے کے اس اظہار سے کوئی فرق پڑا اور نہ ہی ہم سب کی ناراضگی سے۔ ہر روز وہ کسی پڑوسی پر حملہ کرنے یا ان کی عزت پر حملہ کرنے کی کوشش کرتا۔ شکایات آتیں اور محمود اسے نصیحت کرتا، لیکن بے سود۔ یہاں تک کہ صورتحال ناقابل برداشت ہو گئی اور یہ واضح ہو گیا کہ اس کی اصلاح ناممکن ہے۔ اس لیے ہم نے متفقہ طور پر اسے گھر سے نکالنے کا فیصلہ کیا، اور اس معاملے میں سب سے زیادہ سخت ابراہیم تھا۔ ایک روز جب حسن کوئی فضول حرکت کرکے لوٹا تو ابراہیم نے اس سے سختی اور غصے سے بات کرنا شروع کی اور اسے بتادیا کہ ہمارے ہاں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے اور وہ جہاں چاہے چلا جائے۔ ہم سب اس گفتگو میں شامل ہونے کے لیے اندر آئے اور اسے واضح طور پر بتا دیا۔ اس نے اپنا کچھ سامان، خاص طور پر اپنا ٹیلی وژن لیا، اور زیادہ تر عبرانی اور کچھ ٹوٹی پھوٹی عربی میں بڑبڑاتے اور گالیاں دیتے ہوئے نکل گیا۔
چند دنوں بعد ہمیں خبر ملی کہ وہ ایک مشتبہ عورت کے گھر میں رہ رہا ہےجو بہت بدنام تھی۔ پھر خبریں آنے لگی کہ وہ منشیات، چرس اور فحش تصاویر اور رسالے پھیلانے میں ملوث ہے۔ یہ واضح ہو گیا کہ اس کا یقینی طور پر (خفیہ ایجنسی) کے ساتھ تعلق ہے اور ہمیں اس کا یقین اس وقت ہوا جب محمد کے کچھ دوستوں نے بتایا کہ حسن باقاعدگی سے ابو ودیع کے دفتر جاتا ہے اور بغیر کسی سختی یا نگرانی کے وہاں آتا جاتا ہے۔
ہمارے کیمپ میں ہماری ساکھ ہمیشہ بہترین رہی تھی جیسا کہ ہر فلسطینی چاہتا ہے، بلکہ محمود کی فتح میں پوزیشن اور ابراہیم کی اسلامی تحریک میں پوزیشن کی وجہ سے ہم قومی عمل اور دینی استقامت کے مرکز بن گئے تھےــ جیسا کہ میری ماں کہتی تھیں کہ ’’الحمد للہ، پورا کیمپ آپ کی زندگی اور آپ کے ادب کی قسم کھاتا ہے‘‘ــ مگر حسن کی اچانک آمد نے ہماری ساکھ خراب کر دی۔ اس بدنامی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا میرا بھائی حسن تھا کیونکہ اکثر لوگوں نے بڑے بدعنوان اور مشتبہ حسن الصالح کے بارے میں سن رکھا تھا، لہٰذا جب میرے بھائی حسن کا نام حسن الصالح ذکر کیا جاتا تھا تو سننے والا کانپتا اور حیرانی سے آنکھیں پھاڑتا۔ ہر بار حسن کو پوری کہانی شروع سے بیان کرنی پڑتی۔ کبھی سامعین یقین کرتے اور کبھی وہ اپنے سروں کو ہلاتے اور ان کی آنکھیں بتاتی تھی کہ وہ یقین نہیں کر رہے۔
حسن اور حسن کے مسائل ہماری زندگی میں مرکزی اہمیت اختیار کر چکے تھے ۔ اگرچہ محلے اور کیمپ کے سب لوگ ہمیں جانتے تھے، پھر بھی ہم نے یہ محسوس کرنا شروع کر دیا تھا کہ ہمیں اس بدنامی کی وجہ سے سر جھکا کر چلنا پڑے گا جو ہم پر آ پڑی تھی۔ یہ لعنت ہم سے کیسے دور ہو سکتی ہے؟ ہمیں کچھ کرنا تھا، اور ہماری بے بسی واضح تھی۔ ایک دن ابراہیم میرے پاس آیا اور کہنے لگا : احمد، مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ تم وعدہ کرو کہ کسی کو نہیں بتاؤ گے۔ میں نے کہا : میرا وعدہ ہے۔ اس نے کہا : ہمیں حسن کو مارنا ہی ہو گا!
میں نے جو سنا اس پر دنگ رہ گیا، اور بغیر کچھ کہے اسے حیران نظروں سے دیکھنے لگا۔ اس نے دوبارہ کہا : ہاں، ہمیں اسے مارنا ہو گا۔ یا تو ہم اسے علانیہ ماریں گے تاکہ ہم بدنامی کے اس داغ کو دھو سکیں اور میں عمر قید کی سزا بھگتنے کے لیے تیار ہوں، یا ہم اسے چھپ کر ماریں گے، اصل اور اہم بات یہ ہے کہ اسے کسی طرح دنیا سے غائب کر دیا جائے۔
میں ابراہیم کی تکلیف محسوس کر رہا تھا اور وہ سب بھی جانتا تھا جو ہم سب حسن ، اس کے اعمال اور بری شہرت کی وجہ سے برداشت کر رہے تھے، لیکن پھر بھی میں اس حد تک جانے کے لیے تیار نہیں تھا، یہاں تک کہ میں یہ سوچنے تک کو تیار نہ تھا۔
لیکن ہمیں کوئی حل نکالنا تھا، اس لیے میں نے ابراہیم کو تجویز دی کہ ہم حسن کی ٹانگیں توڑ دیں تاکہ وہ گھر میں پڑا رہے اور لوگوں کو تنگ نہ کرے۔ میں نے اسے سمجھایا کہ میں اس سے آگے جانے کے لیے تیار نہیں ہوں ،اس نے مجھ سے اتفاق کیا۔
ہم حسن کے پاس گئے اور اسے معاملہ بتایا۔ وہ فوراً مان گیا اور اس نے لوہے کے تین پائپ اور تین ماسک تیار کرنے کا وعدہ کیا۔ پھر ایک رات جب وہ نشے میں دھت اپنے گھر واپس جا رہا تھا تو ہم نے گھات لگائی اور اس پر حملہ کر دیا۔ ابراہیم نے اس کے سر پر ضرب لگائی اور وہ گر گیا ۔ میں نے ابراہیم کو سر کی بجائے ٹانگوں پر مارنے کی ہدایت دی اور ہم نے اس کی ٹانگوں اور بازوؤں پر بے دریغ ضربیں لگائیں۔ پھر ہم وہاں سے چلے گئے اور حسن نے پائپ اور ماسک چھپا دیے۔
اگلی صبح خبر پھیل گئی کہ ایک گروپ نے حسن کو مارنے کی کوشش کی مگر وہ نہیں مرا، البتہ اسے شدید چوٹیں آئی ہیں اور اس کی ٹانگیں اور ایک بازو ٹوٹ گیا ہے اور اس کی کھوپڑی میں بھی فریکچر ہے۔ اسے ہسپتال لے جایا گیا ۔ ہم نے اس معاملے سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ظاہر کی ، حالانکہ سب کی نظریں کہہ رہی تھیں کہ تم لوگوں نے کر دکھایا، اللہ تمہارے ہاتھ سلامت رکھے۔
کچھ دن بعد پولیس کی گاڑی ہمارے گھر آئی اور ہمیں لے گئی۔ گھر کے تمام نوجوانوں کو لے جایا گیا اور ہم پر حسن کو قتل کرنے کی کوشش کا الزام لگا کر تفتیش کی گئی۔ ہم نے انکار کیا کہ ہم اپنے چچا زاد بھائی کو کیسے مار سکتے ہیں، وہ تو ہمارے گوشت اور خون کا حصہ ہے، اور خون پانی نہیں بن سکتا۔ ہمیں تقریباً دو ہفتے حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا کیونکہ ہمارے خلاف کچھ ثابت نہیں ہوا۔
دو ہفتے گزرنے کے باوجود حسن ابھی بھی پلستر میں لپٹا ہوا ہسپتال میں پڑا تھا۔ تقریباً دو ماہ بعد وہ باہر آیا۔ اس کی چال میں واضح لنگڑاہٹ پیدا ہوگئی تھی جو اندھیرے میں بھی واضح ہوتی۔ اس نے ایک سفید رنگ کی پیجو (۵۰۴) کار خریدلی اور اس میں گھومتا رہتا۔ تاہم،کیمپ میں اس کی مزید بدنامیاں سننے میں نہیں آئیں ۔
۱۹۸۵ء میں اسرائیل اور تنظیم قیادت العامہ احمد جبریل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ ہوا جس کے تحت بڑی تعداد میں فلسطینی قیدی رہا ہوئے۔ ان میں سے زیادہ تر فتح اور الجبھة الشعبية سے تعلق رکھتے تھے اور کچھ ان میں سے اسلامی تحریک کے بھی تھے جو پہلے قوات التحرير الشعبية سے وابستہ تھے۔ ان کی رہائی نے مقبوضہ علاقوں میں ایک قومی جشن کی فضا پیدا کر دی۔ وہ جہاں کہیں بھی جاتے جشن اور مبارکبادی کی محفلیں دیکھنے کو ملتیں۔
دوسری طرف ان تجربہ کار رہائی پانے والوں کی موجودگی نے فلسطینی عوام کے قومی اور سکیورٹی شعور میں واضح اضافہ کیا۔ ان کے تجربے اور معلومات نے مختلف مسائل پر سیاسی مباحثے کو بڑھاوا دیا۔ البتہ جاسوسوں کی نگرانی اور ان کے گشت نہ صرف جاری رہے بلکہ ان کی شدت اور تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔
میرے بھائی شیخ محمدکا دل اپنی ایک مذہبی طالبہ کی طرف مائل ہو گیا تھا ۔ محمد جمعرات کو غزہ واپس آیا اور جمعہ کے دن ہمارے ساتھ رہا۔ اس نے اپنی والدہ کو اس لڑکی کے بارے میں بتایا اور ان سے اجازت مانگی کہ وہ ابتدائی قدم اٹھا سکے۔ کچھ ہچکچاہٹ کے بعد اس کی والدہ نے اجازت دے دی۔ وہ چاہتی تھیں کہ پہلے وہ خود اس لڑکی کو دیکھ لیں کیونکہ انہیں محمد کی رائے کا مکمل اعتبار نہ تھا۔
محمد واپس بیرزیت گیا اور اس لڑکی سے درخواست کی کہ اسے ایک خاص معاملے پر دو منٹ بات کرنے کی اجازت دے۔ حیا سے اس کی اپنی حالت غیر تھی۔ بہرحال اس نے پوچھا کہ کیا وہ اس کے والدین سے اس کا رشتہ مانگ سکتا ہے؟ لڑکی کے گال شرم سے سرخ ہو گئے اور اس نے محض سر ہلا کر اثبات میں جواب دیا اور اپنے والدین کا پتہ بتایا۔
اگلے جمعے کو محمد اپنے اہل خاندان کے ساتھ لڑکی کے گھر گیا۔ اس کے ساتھ اس کی والدہ، بھائی محمود اور حسن، خالہ اور بہنیں فاطمہ اور تہانی بھی تھیں۔ محمد کی والدہ لڑکی سے متاثر ہوئیں اور بعد میں مذاق کرتے ہوئے کہنے لگیں ، ’’اللہ اللہ شیخ محمد! میں تو تمہیں ہمیشہ اندھی بلی سمجھتی تھی، لیکن تم نے تو کمال کر دیا‘‘۔ لڑکی کے والدین نے بھی رضامندی ظاہر کی اور منگنی کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے نکاح اور شادی کو ایک ڈیڑھ سال بعد لڑکی کی تعلیم مکمل ہونے تک موخر کرنے کا فیصلہ کیا جو کہ محمد اور ہم سب کے لیے قابل قبول تھا ۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭
- 1’’ہگانا‘‘ اور ’’اتسل‘‘ دونوں نے بیسویں صدی کے وسط میں فلسطینی سر زمین پر برطانوی حکومت کے خلاف اور بعد میں عربوں کے خلاف یہودی ریاست کے قیام میں حصہ لیا۔
