تیسرا باب: دفاعی سکیورٹی
افراد کی سکیورٹی
سکیورٹی یا امنیت سے مراد ایسے اقدامات ہیں جن سے ایک گروہ، اپنے رازوں کی ، دوسروں سے حفاظت کرتا ہے۔ یہ گروہ سیاسی، اقتصادی، معاشرتی یا حکومتی بھی ہو سکتا ہے۔ ہم رازوں کی سکیورٹی کا بندوبست ان کے سیاسی، عسکری اور اقتصادی اہداف کے مطابق اور ان اہداف کے حصول کے لیے بنائے گئے منصوبوں کے مطابق کرتے ہیں، اس کے لیے ممکنہ احتمالات اور میسر مواقع کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔
دشمن ضرب لگانے کی تاک میں ہوتا ہے، اسی لیے اس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ وار کرنے سے پہلے یہ جانے کہ اس نے وار کرنا کیسے ہے، تاکہ اس کی ضرب مؤثر بھی ہو۔ اس میں سب سے پہلی چیز معلومات ہے جسے وہ دو طریقوں سے حاصل کر سکتا ہے:
-
تنظیم میں نقب لگا کر:
-
نظم میں اپنا کارندہ داخل کر کے۔
-
نظم کے ہی کسی فرد کو اپنا ہم خیال بناکے۔
-
-
تنظیم کے کاموں کی جاسوسی کر کے:
نگرانی، جاسوسی، خفیہ تفتیش، تحقیق اور اس کے علاوہ ایسے اسلوب اپنائے جاتے ہیں جنہیں عام طور پہ خفیہ طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات ایسی تفتیش اعلانیہ بھی کی جاتی ہے، جب کسی علاقے میں دشمن کا جابرانہ تسلط ہو۔ اس میں وہ تمام قدیم و جدید وسائل شامل ہیں جو اس کے لیے استعمال میں لائے جاتے ہیں۔
جماعت کے لیے دشمن سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی معلومات کا دائرہ وسیع رکھے، اور اس کے لیے اسے چاہیے کہ ایسے وسائل استعمال کرے جو اسے اس مرض کا مکمل علاج فراہم کریں۔ ایسے اقدامات جو اس مقصد کے لیے اٹھائے جائیں گے وہ ’حفاظتی‘ اقدامات کہلائیں گے اور اس کے لیے لازم ہے کہ تمام افراد ان اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ ہوں تاکہ مکمل بیداری کا عنصر حاصل ہو۔
جماعت کی سکیورٹی افراد کی سکیورٹی ہے
اس سے مراد وہ تمام تدابیر ہیں جو انسانی عقل و دانش کی حفاظت کے لیے اختیار کی جاتی ہیں تاکہ اسے ہر طرح کے بیرونی اثر سے محفوظ کیا جا سکے اور یہ یقینی بنایا جا سکے کہ راز اور دستاویزات جن افراد کے ہاتھوں میں ہیں وہ محفوظ اور قابل اعتماد لوگ ہیں۔ جماعت کی سکیورٹی کو مندرجہ ذیل اقدامات کے ذریعے حاصل کیا جاسکتا ہے:
-
عقل کی حفاظت یعنی ’جماعت کے افکار‘ اور ’افراد کے افکار ‘ کی حفاظت، اور اس کے لیے مسلسل تربیت کا اہتمام تاکہ افکار کی نہ صرف حفاظت ہو بلکہ دشمن کے میڈیا کے ذریعے درپیش ممکنہ خطروں سے بھی نمٹا جا سکے۔
-
جماعت کو ہر قسم کے اختلاف اور تفریق سے بچانا۔ اس کے لیے کسی بھی فرد کو تنظیم کے کام تدریجاً یعنی مرحلہ وار سپرد کیے جائیں اور اس کے ساتھ ساتھ درس و تدریس بھی ہو اور جس فرد کو منظم کرنا مقصود ہو اس کے متعلق مطلوبہ مقدار میں معلومات مہیا کی جائیں۔
کسی فرد کو ذمہ داری تفویض کرنے کے مراحل
یہ مراحل درج ذیل ہیں:
-
معائنہ اور مشاہدہ
یہ ایسا مرحلہ ہے جس میں ایسے مجاہد ساتھی کا معائنہ اور مشاہدہ کیا جاتا ہے جسے تیار کرنا مقصود ہو کہ کیا وہ کسی تنظیمی کام کا اہل ہے اور اس میں مطلوبہ صفات موجود ہیں؟ ایسے مجاہد ساتھی سے ملاقات کرنے سے پہلے اس کے متعلق کم از کم اتنی معلومات ہونی چاہیے ہیں کہ جو دو آدمیوں کو بغیر تعارف کروائے معلوم ہو سکیں۔ اس مرحلے کو ’درست انتخاب‘ بھی کہا جا سکتا ہے۔
-
تفصیلی معلومات اور جائزہ
جب ایک مجاہد ساتھی پہلا مرحلہ پار کر لیتا ہے اور اس پر کوئی خاطر خواہ اعتراض نہیں ہوتا تو پھر اس ساتھی کے متعلق ہم تفصیلی معلومات جمع کریں گے اور یہ سارا عمل مکمل راز داری کے ساتھ اور اس ساتھی کے علم میں لائے بغیر کیا جائے گا۔ اس صورت میں چند ایک باتوں کا ضرور خیال رکھا جائے گا:
-
اس کے ماضی کی معلومات: اس کے ماضی میں کوئی ایسا مسئلہ نہ ہو جو اس کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتا ہو۔ مثلاً ایک شخص، جس کا پہلے کسی سیاسی جماعت کے ساتھ تعلق تھا، اور جماعت چھوڑنے کی وجہ چند خاص لوگوں کو یا اس جماعت کی قیادت کو معلوم ہو، یعنی اس نے کرپشن کی ہو یا اس کا کردار برا رہا ہو، لیکن عام لوگوں کو معلوم نہ ہو۔ امکان ہے کہ دشمن ایسے ساتھی پر دباؤ ڈالے اور اس کے کردار کو افشا نہ کرنے کی ضمانت پر اس سے کوئی کام کروانے کی کوشش کرے۔
-
موجودہ سیاست کے بارے میں سوچ: یہ معلومات مجاہد ساتھی کے دوست و اقارب یا دیگر حضرات سے پوچھ کر معلوم کی جا سکتی ہیں کیونکہ ہر شخص کی سیاسی سوچ دوسروں کے ساتھ بحث و مباحثہ کرنے سے ہی سامنے آتی ہے۔ اس لیے بعض اوقات ایسے ساتھی کے ذہن میں ’جمہوریت‘ ایک کامیاب حکومت کے قیام کے لیے اچھی راہِ عمل ہوتی ہے یا وہ حکومت حاصل کرنے کے لیے اسے ایک مناسب وسیلہ سمجھتا ہے۔
-
موجودہ افکار کے بارے میں معلومات: اسی طرح کسی بھی فرد کے موجودہ افکار کے متعلق معلومات ہونا بھی ضروری ہیں کیونکہ یہ ایک ایسا اہم معاملہ ہے جس پر افراد کے باہمی اتفاق اور انتشار کا دار و مدار ہوتا ہے۔ منہج و فکر کے واضح ہونے سے ہی جماعت کے اندر ’اختلافات‘ کے عنصر کو کم کیا جا سکتا ہے ورنہ دوسری صورت میں بعض اوقات بہت بڑے بڑے اختلافات رونما ہو جاتے ہیں۔
-
افراد کی چھانٹی
ان دو مرحلوں کو مکمل کرنے کے بعد اب ایسے مجاہد ساتھی کو کسی دو میں سے ایک صف میں رکھا جانا چاہیے:
-
موافق ساتھی: وہ ساتھی جو اللہ کے دین کے لیے مکمل ’ولاء‘ کا اظہار کرتا ہے اور اس کے کسی بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے کا احتمال بہت کم نظر آتا ہے۔
-
غیر موافق ساتھی: وہ شخص جو اللہ کے دین کے لیے مکمل طور پہ ’ولاء‘ کا اظہار نہیں کرتا لیکن یہ کسی دوسری وجہ سے موافق بن جاتا ہے کیونکہ اس کے اندر بعض دوسرے وطنی افکار موجود ہوتے ہیں۔
-
غیر محفوظ ساتھی : ایک ایسا شخص جس کے بارے میں امکان ہو کہ وہ سکیورٹی کے اعتبار سے کسی غلطی کا مرتکب ہو جائے گا، مثلاً اگر اس پر بیرونی دباؤ پڑے تو وہ فوراً اپنے ارادے کو ترک کر دے۔
-
تعلقات قائم کرنا
اس مرحلے میں، وہ شخص ،جس کی تیاری مقصود ہے اسے تنظیم کے بعض کاموں میں شریک کیا جائے گا اور اس کا تنظیم کے مرکزی یا کسی معاون مسئول کے ساتھ رابطہ ہو گا تا کہ اسے اِس دین کے مزاج کے بارے میں سمجھایا جائے اور وحدتِ فکر کے ساتھ جماعت کے امور بہتر طور پر جاری رہیں۔ یہ تعلقات مندرجہ ذیل صورت میں استوار ہوں گے:
-
تنظیم کے ساتھ اجتماعی روابط اور تنظیم کے اندر اس کی شرکت تاکہ وہ تنظیم کے غم کو محسوس کر سکے۔
-
فکری تعلقات تاکہ اسلوبِ عمل اور بصیرت یکجا ہو جائیں۔
-
تنظیم کے امور میں شرکت کے ذریعے اس کے بارے میں معلوم کیا جائے گا کہ وہ کس قدر مہارتوں کا حامل ہے۔ اس کی جسمانی، عقلی اور نفسیاتی استعداد کیا ہے؟ اور کیا وہ راز چھپانے کا اہل ہے اور اس میں ثابت قدمی دکھا سکتا ہے؟ کیا اعمال کے اندر تیزی کے ساتھ تعامل و تصرف دکھاتا ہے اور یہ کہ اس کی اخلاقی و معنوی روح کی کیا کیفیت ہے؟ تاکہ ان تمام معلومات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جائے کہ اسے کس محاذ پر رکھنا مناسب ہے۔ اب اس کی تشکیل کی جائے گی۔
-
تشکیل
-
کھل کر کام کرنے والا فرد
-
خفیہ کام کرنے والا فرد
-
قائد
اب ہم ان تینوں افراد کی سکیورٹی کی صورت حال کے بارے میں علیحدہ علیحدہ پڑھیں گے۔
-
کھل کر کام کرنے والا (جو لوگوں کے ساتھ ملتا جلتا ہے):
-
ایسا شخص فضول گو نہ ہو اور نہ ہی خواہ مخواہ لا یعنی سوال کرنے والا ہو تاکہ وہ اپنے ایسے ساتھیوں کے کاموں میں بگاڑ اور خرابی نہ پیدا کر دے جو اس سے کہیں پرانے ہوتے ہیں۔
-
اپنے ساتھ کبھی بھی اپنی جان پہچان والے دیگر مجاہد ساتھیوں کے فون نمبر یا رابطوں کی معلومات اور پتے نہ لیے پھرے اور اگر ایسا کرنا بہر صورت ضروری ہو تو ان کی مناسب حفاظت کا بندوبست کرے۔
-
جب حالات خراب ہوں اور گرفتاریاں عمل میں لائی جا رہی ہوں تب ایسے شخص کو چاہیے کہ اگر اس کی وضع قطع دین داروں جیسی ہو تو زیادہ حرکت نہ کرے ۔نہ ہی ایسے حالات میں اسے گھر پر وقت گزارنا چاہیے جب کہ اس کے لیے خاص، پر امن اور محفوظ پناہ گاہ موجود ہو۔
-
نہ ہی بہت زیادہ باتونی ہو کہ جو بات اسے بتائی جائے، یا جماعت کا کوئی ایسا کام جو وہ کرنے والا ہو ،یا کسی اہم کام سے متعلقہ بات تو وہ ہر کسی کو بیان کرتا پھرے۔
-
اس کے لیے لازم ہے کہ کبھی بھی فون پر (یا انٹرنیٹ پر) کسی مجاہد ساتھی کو کوئی ایسی معلومات بہم نہ پہنچائے جو دشمن کے لیے قیمتی ہو۔
-
اس کا رابطہ جب کسی اہم فرد یا افراد سے ہو (مثلاً فوج، پولیس یا اسٹریٹیجک جگہوں پر) تو وہ مکمل طور پر محفوظ ہو اور ان کے ساتھ تعامل میں جگہ، وقت اور معلومات کے حجم وغیرہ کا خیال رکھے تا کہ وہ کہیں معلومات سے صحیح استفادہ کیے بغیر ظاہر نہ کر دے۔ اسی طرح کوئی خط یا پیغام بھیجنے کے معاملے میں بالکل عام وسائل استعمال کرے اور ایسے پیغامات کے اندر کوئی ایسی بات نہ ہو جس سے دشمن فائدہ اٹھا سکے۔ ایسے مکتوب کو پڑھنے کے فوراً بعد ضائع کر دے۔
-
خفیہ کام کرنے والا ( وہ جو زیر زمین کا م کرتا ہے):
اس کے لیے مذکورہ بالا تمام سکیورٹی کی تدابیر کے علاوہ درج ذیل امور کا لحاظ رکھا جائے گا:
-
وہ بالکل عام یعنی ایسی وضع قطع میں رہے گا جو کسی صورت اس کے دین دار ہونے پر دلالت نہ کرتی ہو، مثلاً داڑھی، رومال، مسواک، جیبی قرآن، جیبی اذکار کی کتاب وغیرہ۔
-
وہ ان افعال و معمولات سے، جو باقی مجاہد ساتھیوں کے ہاں معمول ہیں، اجتناب کرے گا اور ایسے الفاظ، جو دوسرے استعمال کرتے ہیں، ان سے مکمل اجتناب برتے گا، مثلاً جزاک اللہ، اور اکثر باہر نکلتے اور واپس آتے ہوئے سلام کرنا وغیرہ۔
-
وہ جس بھی جگہ موجود ہو اور جہاں بھی جائے تو اس سے قبل اس کے پاس خاطر خواہ کَوَر یعنی وہاں موجودگی کا جواز ’پہلے سے‘ موجود ہونا چاہیے، مثلاً فلیٹ، ملک، شہر، محلہ، وہاں آنے کا ذریعہ اور مقصد وغیرہ۔
-
اپنے متعلق ایسی اسناد و کاغذات ساتھ رکھے جو ثابت کرتے ہوں کہ وہ ان میں ذکر کردہ کاموں کو پوری مہارت کے ساتھ جانتا ہے۔
-
کہیں بھی وہ کسی منکر کو دیکھ کر اس منکر کے انکار کی طرف متوجہ نہیں ہو گا تاکہ نظریں اس کی طرف متوجہ نہ ہو جائیں، اسے جاننا چاہیے کہ وہ جہاد فی سبیل اللہ میں مصروف ہے اور سب سے بڑے منکر کو ہٹانے کی راہ میں ہے۔
-
کھل کر کام کرنے والے افراد کے ساتھ اس کا رابطہ ناگزیر ہے اور مکمل طور پر محفوظ ہونا بھی ضروری ہے لیکن بلا کسی اشد ضرورت کے کھل کر کام کرنے والے مجاہد ساتھی کے ساتھ ہر گز رابطہ نہ کرے۔
-
کاغذات میں جس شہر کی طرف آپ منسوب ہیں وہاں کی زبان و لہجے میں آپ کو مکمل مہارت ہونی چاہیے تاکہ یہ نہ پتہ چلے کہ یہ ’اجنبی‘ ہے اور اس کے لہجے سے پتہ چلتا ہو کہ یہ لاہور کا یا کراچی کا ہے۔
-
خفیہ کام کرنے والا ساتھی کثرت کے ساتھ مشہور اسلامی جگہوں پر بالکل نہ جائے جیسے کہ مسجد، دینی مراکز اور لائبریری وغیرہ۔
-
مکتوبات بھیجنا اور وصول کرنا ہمیشہ خفیہ کوڈ میں (انکرپٹڈ؍encrypted) ہو۔
-
قائد:
قائد چاہے خفیہ کام کر رہا ہو یا کھل کر کام کر رہا ہو، اس کی خاص اہمیت ہے اور اس کی وجوہات درج ذیل ہیں:
-
کیونکہ اس کے دماغ میں سب سے زیادہ معلومات جمع ہیں۔
-
قیادت کی سطح پر اس کا متبادل ملنا مشکل ہے!
اس لیے یہ از حد ضروری ہے کہ وہ تمام حفاظتی اقدامات، جن کا لحاظ باقی افراد کے بارے میں رکھا جاتا ہے، وہ شدت کے ساتھ قیادت کے لیے بھی رکھا جائے اور قیادت کی حفاظت کے لیے بڑے پہرے کا بندوبست ضروری ہے۔
اہم نوٹ:
شادی شدہ ساتھیوں کو چاہیے کہ کبھی بھی جہادی کاموں سے متعلق کوئی بھی بات اپنی بیویوں کے سامنے ہرگز بیان نہ کریں۔ ان مسائل میں کسی بھی صورت میں نرم رویہ نہ دکھائیں۔
-
تیاری
-
شرعی اور سیاسی تربیت تا کہ مجاہد ساتھی میں دینی اخلاقیات کی بنیاد مضبوط ہو۔
-
عسکری تربیت، لیکن اس میں اس بات کا لحاظ رکھا جائے کہ افراد کی عسکری تربیت، ان کی سکیورٹی کا بندوبست کرنے اور ان کا جائزہ لینے کے بعد، انہیں مناسب درجات میں تقسیم کرنے کے بعد ہی کی جائے۔
-
افراد پر نظر رکھنا
سکیورٹی کے اقدامات کے صحیح سمت میں جاری رہنے اور دشمن کی طرف سے کسی بھی نقب سے بچنے کے لیے وقتاً فوقتاً بعض اقدامات اٹھائے جانے چاہیے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:
-
افراد کے اندر پیدا ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھنا تا کہ کوئی فرد کسی ایسے عمل کی طرف نہ بڑھے جس کا اسے پہلے سے ادراک نہ ہو اور وہ جماعت کے لیے کسی نئے مخمصے کی وجہ نہ بن جائے۔
-
افراد کے بارے میں اس بات کی یقین دہانی کرنا کہ وہ جدید سکیورٹی اور حفاظت کے اقدامات سے پوری طرح آگاہ ہیں۔
-
کسی مجاہد ساتھی کی غلطیوں کا جلد ادراک کرنا اور اسے مناسب جگہ پر رکھنا۔
-
کسی بھی قسم کے انحراف کی طرف فوری توجہ دینا اور تیزی سے اس کا علاج کرنا، مثلاً کسی ساتھی کو خفیہ سے نکال کر کھل کر کام کرنے والے مجموعے میں رکھنا۔
-
ایسے ساتھی سے دور رہنا جو مسلسل انحراف پہ جما ہو ا ہے۔
-
سزائیں
جب سکیورٹی اقدامات اٹھائے جائیں تو درج ذیل پہلوؤں کا لحاظ رکھنا اشد ضروری ہے:
-
کسی بھی مخالفت کے مرتکب کے لیے ایسی سزا متعین ہو جس کے باعث وہ ایسی غلطی کا اعادہ نہ کرے۔
-
ہر ایسے شخص کو دور کر دیا جائے جس کا ’انحراف‘ ثابت ہو جائے۔
خلاصہ
-
اپنی ذات، اپنے کام اور دوسروں کے کام سے متعلق معلومات کبھی بیان نہ کریں۔
-
’معلومات بقدرِ ضرورت ‘کے قاعدے کا لحاظ رکھیں۔
-
کسی بھی قسم کی خفیہ معلومات اپنے گھر نہ لے کر جائیں ،چاہے ان کا مطالعہ ہی مقصود ہو۔
-
خواہ مخواہ مشتعل ہونے اور غصہ کرنے سے اجتناب کریں۔
-
کبھی بلند آواز سے گفتگو نہ کریں ہمیشہ پست آواز میں بات کریں۔
-
فون (اور انٹرنیٹ) کی نگرانی اور ریکارڈنگ سے بچنے کے لیے احتیاط کریں۔
-
کسی بھی قسم کے خفیہ کاغذات اپنے ساتھ لے کر نہ پھریں بلکہ انہیں مناسب خفیہ جگہ پر حفاظت کے ساتھ رکھیں۔
-
خفیہ معلومات کی جگہوں کو مکمل طور پر بند کر لیں اور ان کی حفاظت کا یقین حاصل کرلیں، مثلاً سیف ، یا کوئی دوسری خفیہ جگہیں (مثلاً کمپیوٹر میں انکرپٹڈ کنٹینر) وغیرہ۔
-
اپنے خلاف جاسوسی کے آلات اور ان کے وسائل سے بچیں۔
-
اپنے کام کی جگہ پر داخل ہونے سے قبل جاسوسی کے آلات و وسائل کی اچھی طرح سے تفتیش کر لیں۔
-
بالعموم مزاج پر اثر ڈالنے والی چیزوں سے بچیں، مثلاً برے دوست اور بری صحبت وغیرہ۔
-
محلے اور جس جگہ آپ رہائش پذیر ہیں، وہاں ہونے والے مسائل میں عمومی طور پر شرکت سے اجتناب کریں کیونکہ یہ لوگوں کی طبیعت ہے کہ وہ ایسے افراد پر، جو محلے کے کاموں میں زیادہ عمل دخل رکھیں، خواہ مخواہ نظر رکھتے ہیں اور اس سے آپ نظروں میں آ سکتے ہیں اور آپ کی اصلیت کھل سکتی ہے۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭
