رمضان المبارک کی برکات اور روزے کا مقصد

الحمدللہ وکفی وسلٰمٌ علی عبادہ الذین اصطفٰی أما بعد!

فأعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ﴾ (سورۃ البقرۃ: ۱۸۵)

’’ رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ‘‘

سبحٰن ربک رب العزۃ عمّا یصفون وسلٰمٌ علی المرسلین والحمدللہ رب العٰلمین

کامیاب انسان

اللہ جل شانہ نے انسان کو اس دنیا میں اپنی بندگی کے لیے بھیجا ہے۔ یہ انسان یہاں چند روز کا مہمان ہے، اپنی مہلت اور مدت مکمل ہونے کے بعد اگلے سفر پر روانہ ہو گا۔ خوش نصیب ہے وہ انسان جو یاد الٰہی میں اپنا وقت گزارے، جو اللہ رب العزت کی رضا جوئی کے لیے ہر لمحہ بے قرار رہے، جس کا ہر عمل سنت نبوی ﷺ کے مطابق ہو، جس کا ہر کام شریعت مطہرہ کے مطابق ہو، ایسا انسان دنیا میں بھی کامیاب اور آخرت میں بھی کامیاب ، فقد فاز فوزا عظیما، اس پر صادق آتا ہے۔

فضیلت شعبان

شعبان کا مہینہ بڑا بابرکت ہے، اس لیے کہ یہ رمضان کا مقدمہ ہے۔ امام ربانی حضرت مجدد الف ثانیؒ اپنے مکتوبات میں فرماتے ہیں کہ جیسے سورج طلوع ہونے سے پہلے صبح کی سفیدی نمودار ہونا شروع ہو جاتی ہے اور آہستہ آہستہ بڑھتی رہتی ہے حتی کہ پورا سورج نکلنے سے تھوڑی دیر پہلے ایسی ہوتی ہے جیسے سورج نکل آیا ہو، اسی طرح رمضان المبارک کی برکات پندرہ شعبان کی رات سے شروع ہو جاتی ہیں اور ان میں روز بروز اضافہ ہوتا رہتا ہے حتی کہ رمضان المبارک سے دو چار دن پہلے یہ انوارات ایسے ہی ہوتے ہیں گویا رمضان المبارک ہی کے انوارات ہوں۔ پھر جب رمضان المبارک کی پہلی تاریخ آتی ہے تو انوارات کا یہ سورج اپنے رخ تاباں کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے اور ایمان والوں کے دلوں کو منور کرتا ہے۔ اسی لیے شعبان میں رسول اللہ ﷺ بہت کثرت کے ساتھ روزے رکھا کرتے تھے۔ یعنی کئی دن تک روزے رکھتے جنہیں فقہائے کرام نے ’’صومِ وصال‘‘ کا نام دیا ہے۔

نبی اکرم ﷺ کا انتظار رمضان

حدیث مبارک میں آتا ہے کہ حضور ﷺ دعائیں مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ! شعبان میں ہمارے لیے برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان تک پہنچا۔ یعنی رمضان تک پہنچنے کے لیے اللہ جل شانہ کے پیارے حبیب دعائیں مانگا کرتے تھے؛ اللہ اکبر!

روزے کا فلسفہ و حکمت

روزے کا مقصد انسان کے اندر تقوی و پرہیز گاری پیدا کرنا ہے۔ حضرت ابی بن کعب ﷜سے کسی صحابی نے دریافت کیا کہ تقوی کیا ہے؟ فرمایا: کبھی خاردار راستے سے گزرے ہو؟ جواب ملا، جی ہاں! کئی مرتبہ، پوچھا، کیسے گزرتے ہو؟ کہا کہ بچ بچا کر ، کپڑے سمیٹ کر کہ مبادا دامن کانٹوں میں الجھ نہ جائے، فرمایا: اسی کا نام تقوی ہے۔

روزے کا کمال کب نصیب ہوتا ہے؟

روزے کا کمال تبھی نصیب ہوتا ہے جب انسان پورے کا پوا ، سر کے بالوں سے پاؤں کے ناخنوں تک روزہ دار ہو۔ اسی لیے حدیث پاک میں آتا ہے کہ بعض روزہ دار ایسے ہیں کہ جنہیں روزے سے بھوک اور پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ کیوں؟ کیونکہ روزہ تو رکھا مگر کسی کی غیبت کی، جھوٹ بولا، دھوکہ دیا، کسی کا حق غصب کیا، پس ان گناہوں سے روزے کا ثواب جاتا رہا اور انسان کے ہاتھ فقط بھوک اور پیاس ہی آئی۔

غیبت سے پرہیز

آپ ﷺ کے دور میں دو عورتوں نے روزہ رکھا مگر ان کی حالت اس قدر خراب ہوئی کہ گویا مرنے کے قریب ہو گئیں۔ آپ ﷺ سے عرض کی گئی، فرمایا ان دونوں سے کہو کہ قے کریں، جب قے کی تو اس میں گوشت کے ٹکڑے نکلے۔ معلوم ہوا کہ روزہ رکھ کر غیبت کرتی رہیں اور غیبت تو ایسے ہی ہے جیسے مردہ بھائی کا گوشت کھانا، پس ایسے واقعات کو ظاہر کرنے کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ دیگر مسلمان ان سے عبرت حاصل کریں۔

رمضان المبارک میں معمولاتِ نبوی ﷺ

صحابہ کرامؓ فرماتے ہیں کہ جب بھی رمضان المبارک کا مہینہ آتا تو ہم رسول اللہ ﷺ کے اعمال میں تین باتوں کا اضافہ محسوس کرتے:

پہلی بات: آپ ﷺ عبادت میں بہت زیادہ کوشش اور جستجو فرمایا کرتے تھے، حالانکہ آپ کے عام دنوں کی عبادت بھی ایسی تھی کہ ’’حتی یتورمت قدماہ‘‘ یعنی آپ ﷺ کے قدم مبارک متورم ہو جایا کرتے تھے، تاہم رمضان المبارک میں آپ کی یہ عبادت پہلے سے بھی زیادہ ہو جایا کرتی تھی۔

دوسری بات: آپ اللہ رب العزت کے راستے میں خوب خرچ فرماتے تھے۔ اپنے ہاتھوں کو بہت کھول دیتے تھے۔ یعنی بہت کھلے دل کے ساتھ صدقہ و خیرات فرمایا کرتے تھے۔

تیسری بات: آپﷺ مناجات میں بہت ہی زیادہ گریہ و زاری فرمایا کرتے تھے۔

یعنی ان تین باتوں میں رمضان المبارک کے اندر تبدیلی معلوم ہوا کرتی تھی:

  1. عبادت کے اندر جستجو زیادہ کرنا
  2. اللہ رب العزت کے راستے میں زیادہ خرچ کرنا
  3. دعاؤں کے اندر گریہ و زاری زیادہ کرنا۔

ہم رمضان المبارک میں ان اعمال کا خصوصی اہتمام کریں، عبادت کے ذریعے اپنے جسم کو تھکائیں۔ ہمارے جسم دنیا کے کام کاج کے لیے روز تھکتے ہیں، زندگی میں کوئی ایسا وقت بھی آئے کہ یہ اللہ کی عبادت کے لیے تھک جایا کریں۔ کوئی وقت ایسا آئے کہ ہماری آنکھیں نیند کو ترس جائیں اور ہم اپنے آپ کو سمجھائیں کہ اگر تم اللہ کی رضا کے لیے جاگو گے تو قیامت کے دن اللہ رب العزت کا دیدار نصیب ہو گا۔ یہ آنکھیں آج جاگیں تو کل قبر کے اندر میٹھی نیند سوئیں گی۔

موت کے بعد ہے بیدار دلوں کو آرام
نیند بھر کر وہی سویا جو کہ جاگا ہو گا

تو یہ جاگنے کا مہینہ آ رہا ہے۔ ہم اپنے آرام میں کمی پیدا کر لیں۔ یوں سمجھیں کہ یہ مشقت اٹھانے کا مہینہ ہے۔

حضرت مجدد الف ثانیؒ کا بیان

امام ربانی مجدد الف ثانیؒ جو ہمارے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے سرخیل امام ہیں وہ اپنے مکتوبات میں رمضان المبارک کی بڑی فضیلت بیان فرماتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ رمضان المبارک کے مہینے میں اتنی برکات کا نزول ہوتا ہے کہ بقیہ پورے سال کی برکتوں کو رمضان المبارک کی برکتوں کے ساتھ وہ نسبت بھی نہیں جو قطرے کو سمندر کے ساتھ ہوتی ہے۔ فرماتے ہیں کہ اسی لیے اللہ جل شانہ نے اپنا قرآن اسی مہینے میں نازل فرمایا بلکہ جتنی بھی آسمانی کتابیں نازل ہوئیں سب کی سب رمضان المبارک میں نازل کی گئیں۔ اس مہینے کو اللہ کے کلام سے بہت زیادہ مناسبت ہے لہٰذا اس مہینے میں قرآن پاک کی تلاوت خوب کرنی چاہیے۔

نیکیوں کا سیزن

دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ تجارت کرتے ہیں ان کے کاروباری سیزن آیا کرتے ہیں۔ جس شخص کا سیزن آ جائے وہ اپنی محنت بہت زیادہ کر دیتا ہے، اپنی دیگر مصروفیات ترک کر دیتا ہے، دوسروں سے معذرت کر لیتا ہے کہ میرا سیزن ہے اس لیے میں زیادہ وقت فارغ نہیں کر سکتا۔ بلکہ وہ انسان اپنے کھانے پینے کی پروا نہیں کرتا، رات کو سونے تک کی اسے فکر نہیں ہوتی۔ اس کو ہر وقت یہ غم ہوتا ہے کہ میں کس طرح اس سیزن میں کما لوں، سیزن سے جتنا نفع اٹھا سکتا ہوں میں اٹھا لوں ۔ وہ سوچتا ہے کہ یہ تھوڑے دن کی مشقت ہے، اس کے بعد پھر آرام کر لیں گے۔

اسی طرح رمضان المبارک نیکیاں کمانے کا سیزن ہے۔ جو لوگ اپنے گناہ معاف کروانا چاہتے ہیں، اللہ رب العزت کا قرب حاصل کرنا چاہتے ہیں، اللہ جل شانہ کی معیت کے حصول کے لیے بے قرار رہنے والے ہیں، ان کے لیے یہ مہینہ ایک سیزن کی مانند ہے۔ انہیں چاہیے کہ جب وہ روزہ رکھیں تو ان کا روزہ محض کھانے پینے سے رکنے تک محدود نہ ہو بلکہ روزہ دار کی آنکھیں بھی روزہ دار ہوں، زبان بھی روزہ دار ہو، کان بھی روزہ دار ہوں، شرم گاہ بھی روزہ دار ہو، دل و دماغ بھی روزہ دار ہوں۔ جب اس طرح ہم سر تا پا روزہ دار بن جائیں گے تو افطار کے وقت جب دامن پھیلائیں گے، تب اللہ رب العزت ہماری دعائیں قبول فرمائیں گے۔

جنت کی آرائش

رمضان المبارک کا مہینہ عجیب برکات کے نزول کا مہینہ ہے۔ یوں لگتا ہے کہ برکات کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ حدیث پاک میں آتا ہے کہ رمضان المبارک کے آنے سے پہلے جنت کو خوشبوؤں کی دھونی دی جاتی ہے، اسے ایمان والوں کے لیے سجایا جاتا ہے اور پہلی رمضان کو اللہ رب العزت جنت کے دروازے کھول دیتے ہیں، فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ آج کے دن جنت کے دروازے ایمان والوں کے لیے کھول دیے جائیں۔ گویا ایمان والوں کے لیے جنت اس طرح سجائی جاتی ہے جیسے دلہا کی خاطر دلہن سجاتے ہیں۔

اجر و ثواب میں اضافہ

رمضان المبارک میں روزہ دار کی عبادت کے اجر کو بڑھا دیا جاتا ہے۔ اگر نفل کام کرے گا تو فرض کے برابر اجر دیا جائے گا اور اگر ایک فرض پورا کرے گا تو ستر فرضوں کے برابر اس کو اجر عطا کیا جائے گا۔

تین عشروں کی فضیلت

یہ برکات کا مہینہ ہے۔ اللہ جل شانہ کی رحمت و مغفرت کا مہینہ ہے۔ حدیث پاک میں فرمایا گیا اولھا رحمۃ، اس کے پہلے دس دن رحمت ہیں، اوسطھا مغفرۃ، درمیان کے دس دن مغفرت کے ہیں، و اٰخرھا عتق من النار، اور آخر کے دس دن آگ سے آزادی کے ہیں۔

اللہ کی رحمت بہانے ڈھونڈتی ہے

مدینہ طیبہ کے قریب ایک قبیلہ بنی کلب نامی رہتا تھا جو بھیڑ بکریاں پالنے میں بڑا مشہور تھا۔ اس قبیلے کے ایک ایک گھر میں کئی کئی سو بھیڑ بکریاں ہوتی تھیں۔ حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس قبیلے کا نام لے کر کہا کہ رمضان المبارک کی ایک رات میں اللہ جل شانہ اس قبیلے کی بھیڑوں اور بکریوں کے بالوں کی تعداد کے برابر جہنمیوں کو جہنم سے بری فرما دیتے ہیں ، اللہ اکبر! یوں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ جل شانہ کی رحمت اپنے بندوں کے گناہوں کو بخشنے کے لیے اس وقت بہانے ڈھونڈ رہی ہوتی ہے۔

رحمت حق بہا نہ می جوید
رحمت حق بہانہ می جوید

’’بہا‘‘ فارسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ’’قیمت‘‘ ہے، پنجابی میں ہم اسے ’’بھا‘‘ کہہ دیتے ہیں اور اردو میں ’’بھاؤ‘‘ کہتے ہیں کہ فلاں چیز کا بھاؤ کیا ہے۔ فارسی میں یہ لفظ ’’بہا‘‘ ہے ، بیش بہا، یعنی بیش قیمت۔ فرمایا:

’’رحمت حق ’بہا‘ نہ می جوید،یعنی اللہ کی رحمت قیمت نہیں مانگتی،
رحمت حق بہانہ می جوید، بلکہ رحمت حق تو بہانہ مانگتی ہے۔‘‘

عبادت میں رکاوٹ

خالق ارض و سماء رمضان المبارک کے مہینے میں اپنے بندوں کے لیے مغفرتوں کے دروازے کھول دیتے ہیں۔ بڑے بڑے شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے، پھر بھی اگر انسان عبادت نہ کرے تو رکاوٹ کون سی چیز بنی؟ انسان کا اپنا نفس، اپنے نفس کو سمجھائیں کہ بہت عرصہ غفلت میں گزار بیٹھے اب اس مہینے کچھ کمائی کر لو۔

جنت کی سیل (Sale)

بازاروں میں مختلف چیزوں پر سیل لگانے کا رواج عام ہے اور عام دستور یہ ہے کہ بیش قیمت اشیاء بھی سیل میں کم قیمت میں مل جاتی ہیں۔ قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ جل شانہ رمضان المبارک میں جنت کی سیل لگا دیتے ہیں؛ فرماتے ہیں ﴿وَاللّٰهُ يَدْعُوْٓا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ﴾ ، اللہ تعالیٰ تمہیں سلامتی کے گھر کی طرف بلاتے ہیں، پس ہم کیوں نہ اس سیل سے فائدہ اٹھائیں ؟ اللھم انا نسئلک الجنۃ ونعوذبک من النار۔

سنہری موقع

رمضان المبارک ایمان والوں کے لیے بہار کا مہینہ ہوتا ہے۔ جس طرح بہار کے موسم میں ہر طرف خوشبو ہوا کرتی ہے، درخت ہرے بھرے ہوتے ہیں، پھول کھلے ہوتے ہیں، فضا مہک رہی ہوتی ہے، ہر طرف خوشبوئیں اور سبزہ ہوتا ہے کہ بہار ہے ہی اسی کا نام۔ اسی طرح رمضان المبارک اللہ جل شانہ کی رحمت کا مہینہ ہے۔ اس کی صبح میں رحمت، اس کی شام میں رحمت، اس کے تہجد کے اوقات میں رحمت، جو انسان اپنے گناہ بخشوانا چاہے اور اللہ رب العزت کو راضی کرنا چاہے اس کے لیے یہ سنہری موقع ہے۔

سلف صالحین کے واقعات

سلف صالحین اس مہینے کی برکات سے کیسے فیض یاب ہوتے تھے، اس کی چند مثالیں عرض کی جاتی ہیں تاکہ ہمیں بھی اندازہ ہو جائے کہ ہمارے اسلاف یہ مہینہ کیسے گزارتے تھے۔

امام اعظم ابو حنیفہؒ کا معمول

امام اعظم ابو حنیفہؒ کے حالات زندگی میں لکھا ہے کہ آپ رمضان المبارک میں تریسٹھ (۶۳) مرتبہ قرآن پاک کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ ایک قرآن پاک دن میں پڑھتے اور ایک رات میں اور تین قرآن پاک تراویح میں سنا کرتے تھے۔ اللہ اکبر!

حضرت رائے پوریؒ کا معمول

حضرت رائے پوریؒ کے معمولات میں لکھا ہے کہ جب ۲۹ شعبان کا چاند ہوتا تھا تو اپنے مریدین و متوسلین کو جمع فرما لیتے اور سب کو مل لیتے اور فرماتے کہ بھئی! اگر زندگی رہی تو اب رمضان المبارک کے بعد ملاقات ہو گی اور اپنے ایک خادم کو بلاتے اور اسے ایک بوری دیتے اور فرماتے کہ رمضان المبارک میں جتنے خطوط آئیں وہ سب اس بوری میں ڈال دینا۔ زندگی رہی تو رمضان المبارک کے بعد ان کو کھول کر پڑھیں گے۔ رمضان المبارک میں ڈاک نہیں دیکھا کرتے تھے۔ فرماتے تھے کہ یہ مہینہ بس میں نے اپنے لیے مخصوص کر لیا ہے۔ اگر زندگی رہی تو اس کے بعد پھر دوستوں سے ملاقات ہو گی۔ آپ کے یہاں پورا رمضان المبارک اعتکاف کی حالت میں گزارنے کا معمول تھا۔ ۲۹ شعبان کے دن جو شخص آپ کی مسجد میں بستر لے جاتا اس کو مسجد میں بستر لگانے کی جگہ نہیں ملا کرتی تھی۔ دور دراز سے لوگ رمضان المبارک کا مہینہ وہاں گزارنے کے لیے آیا کرتے تھے اور پورا رمضان المبارک عبادت اور یاد الہی میں گزار دیا کرتے تھے۔

حضرت مولانا محمد زکریاؒ کا معمول

شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا اپنے بارے میں فرماتے تھے:

’’میں اکابرین ہی کے نقش قدم پر رمضان المبارک یکسوئی کے ساتھ عبادت میں گزارا کرتا تھا۔ میرا معمول تھا کہ میں سارا دن قرآن پاک کی تلاوت میں لگا رہتا۔ کچھ وقت نوافل وغیرہ میں گزرتا۔ میرا ایک دوست جو کسی دوسرے محلے میں رہتا تھا، وہ رمضان المبارک میں ملنے آیا۔ اسے میرے معمولات کا اندازہ نہیں تھا ، اس نے سلام کیا اور میں سلام کا جواب دے کر اپنے کمرے میں آ کر تلاوت کرنے لگا۔ وہ بھی میرے پیچھے کمرے میں آگیا۔ وہ انتظار میں بیٹھا رہا اور میں تلاوت کرتا رہا حتی کہ عصر کا وقت ہو گیا۔ عصر کی اذان ہوئی تو میں نماز کے لیے کھڑا ہو گیا۔ ہم دونوں نے نماز پڑھی اور نماز پڑھ کر میں پھر اپنی جگہ آ کر بیٹھ گیا اور تلاوت شروع کر دی۔ وہ پھر کمرے میں آیا اور دیکھا کہ میں پھر تلاوت کر رہا ہوں تو تھوڑی دیر انتظار کے بعد کہنے لگا کہ بھئی رمضان المبارک تو ہمارے پاس بھی آوے مگر یوں بخار کی طرح نہیں آوے۔‘‘

اللہ اکبر!

حضرت شیخ الہندؒ کا معمول

حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن ﷫ کی نماز تروایح اس وقت ختم ہوتی تھی جب سحری کا وقت ہو جاتا، چنانچہ تراویح ختم کرتے ہی سحری کھاتے اور ساتھ ہی فجر کی نماز کے لیے تیار ہو جاتے تھے، ساری رات عبادت میں گزار دیتے۔ ایک مرتبہ کئی دن مسلسل مجاہدے میں گزر گئے تو گھر کی مستورات نے محسوس کیا کہ حضرت کی طبیعت میں نقاہت اور کمزوری ہے، ایسا نہ ہو کہ طبیعت زیادہ خراب ہو جائے، تو انہوں نے منت سماجت کی کہ حضرت! آپ درمیان میں ایک رات وقفہ کر لیں، طبیعت کو کچھ آرام مل جائے گا، پھر دس پندرہ دن آسانی رہے گی۔ لیکن حضرت فرمانے لگے کہ معلوم نہیں کہ آئندہ رمضان کون دیکھے گا اور کون نہیں۔ گھر کی مستورات نے کسی بچے کے ذریعے قاری صاحب کو پیغام بھجوایا کہ آپ کسی رات بہانہ کر دیں کہ میں تھکا ہوا ہوں، آرام کرنے کو جی چاہتا ہے۔ (حضرت کی یہ عادت شریفہ تھی کہ دوسروں کے عذر بڑی جلدی قبول کر لیا کرتے تھے۔) قاری صاحب نے ہامی بھر لی۔ جب تراویح پڑھانے آئے تو کہنے لگے کہ حضرت! آج میری طبیعت بہت تھکی ہوئی ہے، اس لیے آج میں زیادہ تلاوت نہیں کر سکوں گا۔ حضرت نے فرمایا، ہاں بہت اچھا! آپ بالکل تھوڑی سی تلاوت کریں۔ قاری صاحب نے ایک دو پارے سنا کر اپنی تراویح مکمل کر دی تو حضرت نے فرمایا کہ قاری صاحب! آپ تھکے ہوئے ہیں، اب گھر نہ جائیے بلکہ یہیں میرے بستر پر سو جائیں۔ قاری صاحب کو مجبوراً تعمیل کرنا پڑی۔ حضرت کے بستر پر لیٹ گئے تو حضرت نے آرام کی تاکید کر کے بتی بجھا دی اور کواڑ بند کر دیے۔ قاری صاحب فرماتے ہیں کہ جب کچھ دیر بعد میری آنکھ کھلی تو دیکھا کہ کوئی شخص میرے پاؤں دبا رہا ہے۔ میں حیران ہو کر اٹھ بیٹھا اور یہ دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ میرے پیر و مرشد حضرت شیخ الہند ﷫ اندھیرے میں بیٹھے میرے پاؤں دبا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ حضرت! یہ آپ نے کیا کیا؟ فرمانے لگے کہ آپ نے خود ہی تو کہا تھا کہ میں تھکا ہوا ہوں، تو میں نے سوچا کہ چلو میں آپ کے پاؤں دبا دیتا ہوں تاکہ آپ کو کچھ آرام مل جائے۔ قاری صاحب یہ سن کر کہنے لگے کہ حضرت! اگر آپ نے رات جاگ کر ہی گزارنی ہے تو چلیں میں قرآن سناتا ہوں اور آپ سنیں، یوں رات بسر ہو جائے گی۔ چنانچہ قاری صاحب پھر مصلے پر آ گئے اور انہوں نے قرآن پڑھنا اور حضرت نے سننا شروع کر دیا۔ اللہ اکبر!

اللہ کو راضی کرنے کا طریقہ

سلف صالحین اللہ جل شانہ کو راضی کرنے کے لیے یوں عبادت کیا کرتے تھے گویا کوئی کسی روٹھے ہوئے کو مناتا ہے۔ سبحان اللہ ! روٹھے ہوئے رب کو مناتے تھے۔ اگر کوئی غلام بھاگ جائے اور پھر پکڑا جائے تو وہ اپنے مالک کے سامنے جب پیش ہوتا ہے تو کیا کرتا ہے؟ وہ اپنے مالک کے سامنے ہاتھ جوڑ دیتا ہے ، اس کے پاؤں پکڑ لیتا ہے اور کہتا ہے کہ اے میرے مالک! آپ درگزر کر دیں، آئندہ میں احتیاط کروں گا۔

میرے دوستو! رمضان المبارک میں ہم اللہ رب العزت کے سامنے اسی طرح اپنے ہاتھ جوڑ دیں، سر بسجود ہو جائیں اور عرض کریں کہ اے اللہ! ہم نادم ہیں، شرمندہ ہیں، جو کوتاہیاں اب تک کر بیٹھے ہیں ان کو تو معاف کر دے، آئندہ زندگی ہم تقوی اور پرہیز گاری کے ساتھ گزارنے کی کوشش کریں گے۔

آرام و سکون

اہل دل حضرات اس مہینے میں آرام کو خیرباد کہہ دیا کرتے تھے۔ ہم بھی رمضان المبارک میں آرام کو خیرباد کہہ دیں۔ ہم سوچیں کہ سال کے گیارہ مہینے اگر ہم اپنی مرضی سے سوتے جاگتے ہیں تو ایک مہینہ ایسا بھی ہو جس میں ہم بہت کم سوئیں۔ اچھی بات ہے کہ اگر آنکھیں نیند کو ترستی رہیں، اچھی بات ہے کہ جسم کو تھکایا جائے تاکہ کل قیامت کو کم از کم اللہ تعالیٰ کے حضور یہ عرض کر سکیں کہ یا اللہ! زندگی کا ایک ماہ تو ایسا گزارا تھا کہ کثرت عبادت سے آنکھیں نیند کو اور جسم آرام کو ترستا تھا۔

ہماری تن آسانی

ہمارے لیے ایک قرآن پاک تراویح میں سننا مشکل ہوتا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جی فلاں مسجد میں تراویح پڑھیں گے کہ وہاں محض تیس منٹ میں تراویح مکمل ہو جاتی ہے، فلاں جگہ پچیس منٹ میں ہو جاتی ہے۔ تو یہ ہماری تن آسانی کا حال ہے کہ مسجد بھی ہم وہ تلاش کرتے ہیں کہ جہاں سے جلد سے جلد فارغ ہو سکیں۔

مستورات کا قرآن سے لگاؤ

حضرت شیخ الہند ﷫کے یہاں مستورات بھی تراویح میں قرآن پاک سنا کرتی تھیں۔ آپ کے صاحب زادے قرآن پاک سناتے تھے اور پردے کے پیچھے گھر کی مستورات اور بعض دوسری عورتیں جماعت میں شریک ہو جایا کرتی تھیں۔ ایک دن حضرت صاحب زادے بیمار ہو گئے تو حضرت نے کسی اور قاری صاحب کو بھیج دیا جنہوں نے تراویح میں چار پارے پڑھے۔ جب سحری کے وقت حضرت گھر تشریف لے گئے تو گھر کی خواتین نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حضرت! آج آپ نے کن قاری صاحب کو بھیج دیا تھا؟ انہوں نے تو بس ہماری تراویح خراب کر دی۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ خواتین تو رمضان المبارک میں تراویح کی نماز میں سات قرآن پاک سنا کرتی تھیں جبکہ قاری صاحب نے فقط چار پارے سنائے۔ ناصرف سلف صالحین بلکہ مستورات صالحات بھی رمضان المبارک میں یوں مجاہدہ کیا کرتی ہیں، پس یہ کمائی کا مہینہ ہے ، اپنے جسم کو تھکانے کا مہینہ ہے۔

مشقت کا مہینہ

میرے دوستو! بقیہ سال تہجد میں جاگنا ہم جیسے کمزور لوگوں کے لیے مشکل ہوتا ہے، چلو رمضان المبارک میں تو سحری کے لیے جاگتے ہی ہیں تو اسی وقت میں چند نفل بھی ادا کر لیا کریں اور دن کے اوقات میں قرآ ن کی تلاوت کیا کریں۔ ایک ماہ غیبت چھوڑ دیں، لا یعنی چھوڑ دیں، دوستوں سے ایک ایک دو دو گھنٹے کی ملاقاتیں چھوڑ دیں، ہم سب سے اجنبی بن کر اللہ کے ہو رہیں اور اس ماہ مبارک میں فقط اپنی ذات کے لیے کمائی کرنے والے بن جائیں۔

حضرت جبرئیل﷤ کی بد دعا

حدیث پاک میں آتا ہے کہ حضرت جبرئیل ﷤ نے دعا کی اور فرمایا کہ اے اللہ کے نبی! ہلاک ہو جائے وہ شخص جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اپنی مغفرت نہ کروائی۔ میرے آقا نے اس پر آمین کی مہر لگا دی۔ اول تو ایک مقرب فرشتے کی بد دعا ہی کافی تھی اس پر آپ ﷺ کی آمین نے بھی اس پر مہر لگا کر اس تاکید میں اضافہ کر دیا کہ جو آدمی رمضان کا مہینہ پائے اور مغفرت نہ کروائے ، اس کے ہلاک ہونے میں کوئی شک نہیں ہو سکتا۔

نجات کی صورت

میرے دوستو! جانتے تو ہم سب ہیں کہ ہمارے گناہ زیادہ ہیں اور کوششیں کم، البتہ دامن پھیلانے کی ضرورت ہے کہ ہم رمضان المبارک کو اللہ تعالیٰ کی رحمت مانگتے ہوئے گزاریں۔ کسی دنیا دار کا دروازہ بھی کوئی مسلسل ایک ماہ کھٹکھٹاتا رہے تو وہ بھی آخر دروازہ کھول ہی دیتا ہے، ہم تو اللہ رب العالمین کے در کے فقیر ہیں، اسی کے در رحمت پر دستک دیے چلے جائیں، جب ہم پورے خلوص کے ساتھ اپنے گناہوں کی معافی مانگیں گے تو یقیناً اس کی رحمت جوش میں آئے گی اور ہمارے لیے مغفرت کا پیغام لائے گی۔ ہماری نجات کا دارومدار تو محبوب حقیقی کی ایک نگاہ پر موقوف ہے۔ اللہ رب العزت ہمیں اپنی رحمت سے خصوصی حصہ نصیب فرما دے، (آمین)۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

٭٭٭٭٭

Exit mobile version