سحر ہونے کو ہے | قسط نمبر: 7

تایاجان کے گھر آج پھر گہماگہمی تھی۔ لاؤنج میں بڑی سکرین والااو ایل ای ڈی ٹی وی لگا ہوا تھا، جس پر کوئی فلم چل رہی تھی۔ چھوٹی پارٹی مکمل طور پر اس میں منہمک تھی جبکہ گھر کے بڑے مصعب اور ماریہ کی ڈیٹ فکس کررہے تھے۔ عزیر ماموں بھی سکائپ کے ذریعے شامل تھے۔ سب لوگ اپنے اپنےکاموں میں مشغول تھے کہ اچانک کسی سے غلطی سے چینل بدل گیا اور گھر میں شب کا خبرنامہ اونچی آواز میں گونجنے لگا۔

’’پاکستان میں دہشت گردوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے امریکہ اور بھارت کا مشترکہ آپریشن کرنے کا فیصلہ!‘‘

’’دہشت گردوں سے خطے کے امن کو خطرہ!‘‘

’’لاہور اور سیالکوٹ میں بھارتی فوج کی پیش قدمی!‘‘

سب ٹکٹکی باندھے سانس روکے ٹی وی سکرین پر ابھرنے مناظر دیکھ رہے تھے۔ ہر کوئی اپنا کام چھوڑ کر آگیا تھا۔

اچانک ان کےعین اوپر گھن گرج کی آوازیں سنائی دینے لگیں اور جیٹ طیارے کان پھاڑ دینے والی آواز کے ساتھ ان کے سروں پر سے گزر گئے۔

گھر میں کہرام مچ گیا۔ سب خوف زدہ ہو کر ادھر ادھر بھاگنے لگے۔

’’سب اپنے اپنے گھر جائیں اور تیار رہیں، ہم کسی بھی وقت گھر چھوڑ کر جاسکتے ہیں!‘‘ تایاجان کی بات سن کر سب اپنے اپنے گھر کی طرف دوڑ پڑے۔

اماں گھر پہنچتے ہی وہ ضروری چیزیں پیک کرنے لگیں جو انھوں نے پہلے ہی حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ممکنہ منتقلی کے خدشے کے تحت سوچ رکھی تھیں۔ نور اور ہاجر بھی اپنی اپنی چیزیں رکھنے لگیں۔ مصعب اور سعد اماں کی مدد کروانے لگے۔

رات کے دو بجے فضا پھر سے جیٹ طیاروں کی کان پھاڑ دینے والی آوازوں سے گونج اٹھی۔

نور کو لگا کہ اس کا دل خوف کی بنا پر سینہ پھاڑ کر باہر نکل آئے گا۔ اس کا جسم بری طرح کانپنے لگا تھا۔ باقی سب کی حالت بھی اس سے کچھ مختلف نہ تھی۔

کچھ سمجھ نہ آرہا تھا کہ کیا کریں۔ بس بے اختیار ہی گھر سے سب باہر نکل گئے اور لان کے درختوں کی آڑ میں بیٹھ گئے۔

اچانک جیٹ نے غوطہ لگایا اور ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ ان سب نے اپنے کان بند کرلیے۔ اطراف میں بمباری ہونے لگی۔ نور کانوں میں انگلیاں ڈالے خوف سے لرزتے ہوئے ادھر ادھر گرتے گولے اور پھر رات کے اندھیرے میں آگ کے شعلے اٹھتے دیکھ رہی تھی۔

اچانک ایک دھماکہ ان کے بہت قریب ہوا جس کی دھمک سے زمین لرز گئی، شاید کہیں قریب ہی گولہ گرا تھا۔

’’اماں جی!‘‘ وہ بے ساختہ ہی اماں کے قریب ہوگئی۔ اماں پہلے ہی ہاجر اور سعد کو خود سے لپٹائے بیٹھی تھیں۔ خوف سے اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔

یا اللہ! یہ کیا ہورہا ہے؟‘

مصعب بھی باباجانی کے قریب ہی جھکا ہوا تھا اور زور زور سے کوئی ذکر کررہا تھا۔

’’بیٹا! دعا کرو دعا!‘‘ باباجانی گھبراہٹ کے عالم میں بولے تو مصعب اپنا ذکر اونچی آواز میں کرنے لگا اور باقی سب اس کے ساتھ ساتھ دہرانے لگے۔

’’حسبنا اللہ ونعم الوکیل…… حسبنا اللہ ونعم الوکیل‘‘

موت کے منہ میں تو سب کو اللہ ہی یاد آتا ہے۔

٭٭٭٭٭

’’فاطمہ! کیا حال ہے؟ تم خیریت سے تو ہوناں؟‘‘ نور کافی دیر سے اپنے تمام جاننے والوں اور دوستوں کو فون کرکرکے ان کی خیریت دریافت کررہی تھی۔ دوسری طرف اماں پنڈی میں مقیم نمرہ پھپھو کی خیریت پوچھ رہی تھیں۔

’’اوہ!…… انا للہ……!‘‘ نور کے چہرے کا رنگ اڑ گیا اور وہ فاطمہ کی بات سننے لگی، ’’وہ بھی جی سیون میں رہتی تھیں؟ کب ہے جنازہ؟ تم جاؤ گی؟‘‘

ہاجر اس کے قریب ہی کھڑی تھی۔ نور نے فون بند کیا اور ہاجر کی طرف دیکھنے لگی۔

’’میم سمیہ کے میاں کل کی بمباری میں فوت ہوگئے ہیں۔ دوپہر دوبجے جنازہ ہے! فاطمہ بھی جارہی ہے……‘‘

اچانک فضا میں جیٹ کی آواز پھر گونجی۔ ان سب کے چہروں کے رنگ اڑگئے اور وہ سب باہر کی طرف بھاگے۔ آج میزائل ان کے بہت قریب گررہے تھے۔ مصعب اور سعد گھر پر نہیں تھے، وہ قریبی بازار تک گئے ہوئے تھے۔ نور کا دل بری طرح دھڑکنے لگا۔

’’یااللہ! مصعب اور سعد کو خیر سے لے آ!‘‘ اس کے لب ہلنے لگے۔ گھنٹہ بھر کی بمباری کے بعد کہیں جاکر دھماکے بند ہوئے مگر جیٹ طیارے ابھی تک فضا میں چکر لگارہے تھے۔

گھر کے باہر گاڑی آکر رکی۔ ان سب نے چونک کر دیکھا تو ان کی اپنی ہی گاڑی تھی۔ سعد گیٹ کھول کر بدحواسی سے اندر داخل ہوا۔

’’یااللہ خیر!‘‘ ان سب کے دل بری طرح دھڑکے۔

’’اماں! باباجانی!‘‘ وہ حواس باختہ سا ان کی طرف آیا ’’پچھلی سٹریٹ میں بمباری ہوئی ہے۔ حسین انکل کے گھر۔ ان کا بیٹا بہت زخمی ہے اور…… اور آنٹی فوت ہوگئی ہیں!‘‘

’’انا للہ وانا الیہ راجعون!‘‘ ان سب کے منہ سے نکلا۔ باباجانی فوراً اٹھ گئے۔

’’چلو چلتے ہیں ان کے پاس!‘‘ وہ یہ کہتے ہوئے جس حلیے میں تھے اسی میں سعد کے پیچھے باہر نکل گئے اور گاڑی روانہ ہوگئی۔

موت ان سے کس قدر قریب تھی…… ان سب کو زندگی میں پہلی بار محسوس ہورہا تھا!

٭٭٭٭٭

ابوبکر تیزی سے لیکچر ہال سے باہر نکلا، وہ سوچوں میں اس قدر گم تھا کہ اس کو احساس ہی نہ ہوا اور وہ کسی شخص سے بری طرح ٹکرا گیا۔

’’اوہ! سوری! آئی ڈیڈنٹ سی یو! (میں نے آپ کو دیکھا نہیں تھا)‘‘، اس نے خفت سے سراٹھا کر دیکھتے ہوئے کہا۔ اس کے سامنے اس کا کلاس فیلو میکس کھڑا تھا۔

’’کن سوچوں میں گم تھے؟‘‘ وہ ہنس کر بولا۔ ابوبکر کو اس کے لہجے میں طنز محسوس ہوا، ’’کیا اپنے ملک کے حالات کی وجہ سے پریشان ہو؟‘‘

ابوبکر نے دھیرے سے سرہلادیا۔ جواباً اس نے ہلکا سا قہقہہ لگایا۔

’’پوری دنیا میں تم مسلمانوں نے خوف و ہراس پھیلا رکھا ہے…… اب اپنی باری آئی ہے تو پریشان کیوں ہو‘‘، وہ چڑانے والے انداز میں گویا ہوا۔

’’شٹ اپ! پوری دنیا میں تو تم لوگوں نے ظلم کے طوفان اٹھا رکھے ہیں‘‘، ابوبکر کا خون کھول اٹھا۔ اتنے میں علی بھی ہال سے نکل کر ان کی طرف آگیا۔

’’اچھا! کہاں کہاں؟‘‘ میکس نے انجان بنتے ہوئے پوچھا۔

’’تمام مسلم دنیا میں! افغانستان، عراق، فلسطین، یمن، شام…… ہر جگہ کس نے ظلم کا بازار گرم کررکھا ہے؟ کیا تم نان مسلمز نے نہیں؟‘‘

میکس آئیں بائیں شائیں کرنے لگا۔

’’یو ڈونٹ ڈزرو ٹو لِو نارملی!…… یو آر ٹیررسٹس! (تم لوگ نارمل زندگی گزارنے کے لائق ہی نہیں ہو! تم دہشت گرد ہو!‘‘ بالآخر وہ غصے سے بول کر واپس مڑگیا، ’’تم لوگوں کو دبا کر نہ رکھو تو امریکہ پر بھی قبضہ جما کر بیٹھ جاؤ گے!‘‘ نفرت آمیز لہجے میں کہہ کر وہ تیز تیز قدم بڑھاتا ہوا چلا گیا۔

ابوبکر اور علی منہ پھاڑے اس کو ہال میں موجود سٹوڈنٹس کی بھیڑ میں گم ہوتے دیکھتے رہے۔ آج پہلی بار ان کو ان کافروں کے دلوں میں چھپی مسلمانوں کے لیے حقیقی نفرت کی ایک جھلک نظر آئی تھی۔

وہ دونوں آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے اپنے اپارٹمنٹ کی طرف بڑھ رہے تھے۔ پاکستان کے حالات کی وجہ سے وہ دونوں ہی بہت پریشان تھے۔

اچانک ابوبکر کے اٹھتے قدم رک گئے۔ علی بے دھیانی میں پانچ چھ قدم آگے بڑھ گیا پھر چونک کر مڑا۔

’’کیا ہوا ؟‘‘ اس نے حیرت سے پوچھتے ہوئے اس کی نظروں کے تعاقب میں نگاہیں دوڑائیں۔

وہ اس وقت نیویارک کے ڈاؤن ٹاؤن میں کھڑے اردگرد گزرتے لوگوں کو دیکھ رہے تھے۔ علی ابوبکر کے رکنے کی وجہ جان گیا تھا۔ ڈاؤن ٹاؤن کی رونق دیکھ کر ان کو احساس ہورہا تھا کہ یہ دنیا کتنی خودغرض ہے اور اس کو اتنی فرصت ہی نہیں کہ دنیا میں رونما ہونے والے واقعات سے کوئی اثر لے سکے۔

ایک ہوٹل کے باہر پڑی کرسیوں پر کچھ مسلمان نوجوان بیٹھے موبائل پر کچھ دیکھ کر قہقہے لگارہے تھے۔قریب ہی ایک بک سٹور سے سکارف والی چند لڑکیاں ہنستی مسکراتی باہر آرہی تھیں، ان کے ہاتھوں میں کسی مشہور ناول کی اگلی قسط کی کاپیاں تھیں، جس کا عرصے سے انتظار ہورہا تھا۔ سی ڈیز کی دکان میں کچھ مسلمان نوجوان کسی نئی فلم کی تلاش میں سی ڈی ریکس کھنگال رہے تھے۔ اچانک ان کے قریب سے مسلمان نوجوانوں کا ایک گروپ گزرا۔

’’ایکس کیوز می!‘‘ نجانے ابوبکر کو کیا سوجھی کہ ان کو پکار بیٹھا۔

’’یس؟ اوہ! السلام علیکم!‘‘ اس کا حلیہ دیکھ کر شاید وہ بھی پہچان گئے تھے کہ وہ مسلمان ہے۔

’’آپ لوگوں کو تو پتہ ہی ہوگا کہ ابھی ریسنٹلی (حال ہی میں) ہی پاکستان پر امریکہ نے حملہ کیا ہے، مگر یہاں بسنے والے مسلمانوں کو تو لگتا ہے کہ کوئی احساس ہی نہیں!‘‘

’’اوہ یا! …… ‘‘ وہ ذرا غمگین نظر آئے، ’’وی آر ویری سیڈ !(ہم بہت دکھی ہیں) امریکہ ہر جگہ مسلمانوں پر ظلم کرتا ہے! مے اللہ ہیلپ دیم! (اللہ ان کی مدد کرے!)‘‘، وہ یہ کہہ کر آگے بڑھ گئے۔

ابوبکر کا دل گویا کسی نے مٹھی میں لے لیا۔

کیا اتنا سوچ لینا کافی ہے کہ مجھے دکھ ہے؟ کیا ہماری زندگیاں پھر بھی ویسے ہی گزرتی رہیں گی جیسے پہلے تھیں حالانکہ ایک مسلمان ملک پر حملہ ہوچکا ہے اور وہاں مسلمان بہت بڑی تعداد میں روز مررہے ہیں؟ کیا اس کا غم صرف پاکستانیوں کو ہی ہونا چاہیے؟ کیا باقی دنیا پر کوئی ذمہ داری نہیں؟‘

وہ یہ بات چیخ چیخ کر ہر مسلمان سے کہنا چاہتا تھا مگر بےبس تھا۔ وہ دونوں پھر خاموشی سے قدم اٹھانے لگے۔

٭٭٭٭٭

پاکستان پر حملہ ہوئے ایک ہفتہ ہوچکا تھا۔ بمباریاں مسلسل جاری تھیں۔ احمد صاحب اور ان کے بھائی موقع کے انتظار میں تھے کہ کب وہ یہاں سے نکلیں۔ بھارتی فوج لاہور میں پیش قدمی کررہی تھی۔ فوج اس کو آگے بڑھنے سے روکنے میں ناکام ہورہی تھی۔ کچھ دینی جماعتیں، عام لوگ، فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوگئے تھے جس کی وجہ سے بھارت وقتی طور پر رک گیا۔ مگر دوہفتے گزرنے نہ پائے اور فوج نے ہتھیار ڈال دیے بلکہ دہشت گردوں کو پکڑنے میں پہلے سے بڑھ کر امریکہ کی مدد کرنے لگی جس کی وجہ سے امریکہ اور بھارت کی بمباریوں میں یک دم اضافہ ہوگیا اور روزانہ کی بنیاد پر شرح اموات میں بھی اور ملک میں ہرطرف شدید افراتفری پھیل گئی۔ فوج تو پہلے ہی امریکی انٹیلی جنس کے ساتھ شراکت کا ثبوت دیتی رہتی تھی مگر عوام کا خیال تھا کہ شاید اب تو وہ ان کے خلاف اٹھ کھڑی ہوگی۔ مگر فوج کے بڑے بڑے جرنیل تو دوہفتے گزرنے سے پہلے ہی اپنی فیملیوں سمیت ملک سے باہر بھاگ چکے تھے۔ جو ہلکی پھلکی مزاحمت تھی وہ یا تو دینی تنظیموں اور یا پھر علما اور مدارس کے طلبا کی جانب سے تھی۔مگر فوج کی بےوفائی نے سب کو ہی ہلا کررکھ دیا تھا اور حالات کی سختی کی وجہ سے یہ معمولی عوامی مزاحمت بھی دم توڑ گئی تھی۔ حکومت تو حالانکہ امریکہ کی من پسند تھی مگر اس کو بھی ختم کردیا گیا اور مکمل طور پر امریکہ کی وفادار ایک نئی حکومت تشکیل دی گئی۔

٭٭٭٭٭

باباجانی موت کو اتنا قریب دیکھ کر بہت بدل گئے تھے۔ وہ نماز پڑھنے لگے تھے اور نور کے پردے کے معاملے میں بھی کافی نرم پڑگئے تھے۔

اماں امینہ خالہ کے لیے بہت پریشان تھیں۔ نور اور اس کے بہن بھائی یہ بات جانتے تھے مگر باباجانی کے سامنے اس بات کا اظہار کرنا کسی کے بس میں نہ تھا۔ پریشانی یوں بھی زیادہ تھی کہ ان کی خیر خیریت کہیں سے بھی معلوم نہ ہوئی تھی۔

ابوبکر اور علی واپس آنے کے لیے شدید بےچین تھے مگر امریکہ سے پاکستان کی فلائٹس بند ہوجانے کی وہ سے وہ کچھ نہ کرپارہے تھے۔

ظلم اور موت کا رقص ہرسو جاری تھا۔ روزانہ ہی خوفناک خبریں آتیں۔ جیلیں مسلمانوں سے بھری جارہی تھیں، عورتیں اٹھائی جارہی تھیں۔

ہرسو اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔

٭٭٭٭٭

’’نور! جلدی بتاؤ اور کیا لینا ہے؟‘‘ مصعب بےچینی سے نور کے فارغ ہونے کا انتظار کررہا تھا۔ وہ دونوں گیس سلنڈر بھروانے کے لیے آئے تھے کیونکہ پائپ لائنز پھٹ جانے کی وجہ سے گھروں کو گیس کی سپلائی بند ہوچکی تھی۔ بازاروں میں سمگل شدہ گیس دستیاب تھی، اسی سے گزارا چل رہا تھا۔

’’اماں نے کہا تھا کہ ایمرجنسی لائٹ لینی ہے جو سیل سے چلتی ہو!‘‘

’’ٹھیک ہے، جو لینا ہے جلدی کرو! یہ جیٹ بہت زیادہ چکر لگا رہے ہیں۔ ان کے ارادے نیک نہیں لگتے!‘‘ اس نے فضا میں اڑتے انڈین جہاز کی طرف دیکھا۔

دونوں نے دکان میں قدم رکھا ہی تھا کہ اچانک کان پھاڑ دینے والا ایک دھماکہ سنائی دیا اور دکان میں داخل ہوتے نور اور مصعب دھماکے کی شدت سے اچھل کر پیچھے کو گرے۔

کچھ دیر تو دونوں کو سمجھ ہی نہ آئی کہ کیا ہوا، مگر جیسے ہی ان کے حواس کو حقیقت کا ادراک ہوا تو بہت بھیانک منظر ان کا منتظر تھا۔

وہ تین منزلہ عمارت جس کے گراسری سٹور میں وہ داخل ہورہے تھے، ملبے کا ڈھیر بن چکی تھی اور ہر طرف گرد اڑ رہی تھی۔ خوش قسمتی سے ان دونوں کو دھماکے کی شدت نے باہر کی جانب دھکیل دیا تھا اور یوں وہ اس بار موت کے منہ میں جانے سے بچ گئے تھے۔ وہ دونوں بے یقینی سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔

ملبے میں سے اٹھنے والی چیخوں نے ان کو مزید دہشت زدہ کردیا اور مصعب اٹھ کر اندھا دھند ملبے کی طرف بھاگا۔ بمباری ابھی تک جاری تھی۔ اچانک ایک اور میزائل بازار کے وسط میں پھٹا اور ہر طرف انسانی جسموں کے چیتھڑے بکھر گئے۔ نور گھسٹ گھسٹ کر ایک کونے میں دبک گئی اور آنسوؤں بھری نگاہوں سے اس جانب دیکھنے لگی جہاں مصعب گیا تھا اور جہاں ابھی ابھی میزائل آکر گرا تھا۔ وہاں صرف دھول ہی دھول اور انسانی چیخیں تھیں۔ اس کو کچھ سجھائی نہ دے رہا تھا، بس آنکھوں سے آنسو بہے چلے جارہے تھے۔

اتنے میں فضا ایمبولینس اور ریسکیو والی گاڑیوں کے سائرنوں سے گونج اٹھی۔ اس کی جان میں جان آئی۔ مدد آگئی تھی!

بہت سے لوگ بمباری کی جگہ کی طرف دوڑے چلے جارہے تھے۔ بازار میں موجود لوگ بھی بے بسی سے ہاتھوں ہی سے ملبہ ہٹانے لگے۔ کچھ لوگ قریب سے مزدوروں سے کدالیں لے آئے۔ اچانک نور کی نظر مصعب پر پڑی جو ملبے میں سے ایک زخمی بچے کو نکال کر ایمبولینس کی طرف بھاگ رہا تھا۔ نور کے منہ سے بےاختیار ایک سسکی نکل گئی۔ اس کی اپنی ٹانگ سے بھی خون بہہ رہا تھا۔ کچھ لوگ دیگر زخمیوں کو لے کر دوڑ رہے تھے۔ ایک شخص ملبے کے ڈھیر کے پاس کھڑا چیخ رہا تھا۔ وہ ملبہ اس دکان کا تھا جس میں اس شخص کے بیوی بچے کھڑے تھے۔

’’نور! تم سعد کو فون کرو کہ آکر تمہیں لے جائے!…… میں یہاں مدد کروارہا ہوں…… اس سے کہو کہ اپنی گاڑی لے آئے!‘‘ مصعب لنگڑاتا ہوا نور کی طرف آتے ہوئے بولا۔ نور نے فوراً آگے بڑھ کر اس کی ٹانگ کو دیکھنا چاہا۔

’’پہلے اپنی ٹانگ دیکھو!‘‘

وہ وہیں زمین پر جھکا اپنی پینٹ کے پائنچے چڑھانے لگا۔ زخم معمولی سا ہی تھا، ذرا سا گوشت ہی اڑا تھا مگر پھر بھی کافی تکلیف دہ تھا۔

’’مصعب تم ہسپتال جاؤ، میں سعد کو بلاتی ہوں‘‘، نور فون ہاتھ میں لے کر نمبر ڈائل کرنے لگی۔

٭٭٭٭٭

مصعب کے زخم معمولی سے تھے اس لیے بنیادی مرہم پٹی کے بعد وہ نور اور سعد کے ہمراہ گھر واپس آگیا۔

گھر میں قدم رکھتے ہی باباجانی کی پریشان آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی۔

’’صفیہ! تم فکر نہ کرو، بس میں کل ہی کوئی اور روٹ (راستہ) تلاش کرتا ہوں اور لاہور آجاتا ہوں…… تم بس بلا ضرورت گھر سے مت نکلنا! اچھا خداحافظ‘‘، باباجانی نے فون کان سے ہٹایا اور ان کی طرف دیکھا، پھر ان تینوں کی سوالیہ نگاہیں دیکھ کر خود ہی وضاحت کرنے لگے، ’’وہ …… صفیہ تھی…… آج اس کے کالج پر بھارتی فوجیوں نے ہلّا بول دیا تھا اور بہت سی طالبات کو اٹھا کر لے گئے…… شکر ہے اللہ نے صفیہ کو بچا لیا…… کل صبح صبح میں اور بھائی جان اس کو لینے جارہے ہیں!‘‘ ان تینوں کو جھرجھری سی آگئی۔

٭٭٭٭٭

ٹرن ٹرن!‘ فون کی گھنٹی کوئی تیسری دفعہ بجی تھی۔ تمام گھر والے کھانے کی میز پر خاموشی سے کھانا کھا رہے تھے۔

’’سعد! دیکھو کس کا فون ہے!‘‘ باباجانی نے پانی کا گلاس میز پر رکھتے ہوئے کہا، ’’دیکھ کیوں نہیں رہے؟‘‘

سعد جلدی سے اٹھا اور ریسیور کان سے لگایا۔ سب کی نظریں اس کے چہرے پر جم گئیں۔

’’باباجانی! آپ کا فون ہے!‘‘ وہ ریسیور چھوڑ کر بولا۔

’’ہیلو!……‘‘ باباجانی ریسیور کان سے لگائے دوسری طرف کی بات سننے لگے۔ اچانک ان کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور ان کے ہاتھ لرزنے لگے۔ ان کے چہرے کے بدلتے زاویے دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ کوئی سنگین معاملہ پیش آگیا ہے۔ آخر دو منٹ بعد انھوں نے فون رکھا اور سب کی طرف متوجہ ہوئے۔

’’کل رات لاہور میں بمباری ہوئی ہے……‘‘ باباجانی یہ کہہ کر گہرے گہرے سانس لینے لگے ’’صفیہ شہید ہوگئی ہے……!‘‘

’’کیا؟؟؟‘‘ سب دنگ رہ گئے۔ باباجانی کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

نور نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا مگر آواز حلق میں پھنس کر رہ گئی۔ ہاجر اماں سےلپٹ کر دھاڑیں مار کر رونے لگی۔

’’میں اور بھائی جان لاہور جارہے ہیں!‘‘

’’نہیں احمد ایسا نہ کریں، ان حالات میں آپ کہیں نہ جائیں!‘‘ اماں نے تڑپ کر التجا کی مگر باباجانی کچھ سننے پر تیار نہ تھے۔ انھوں نے جلدی سے کوٹ پہنا اور تیزی سے باہر نکل گئے۔ اماں ان کو پیچھے سے آوازیں ہی دیتی رہ گئیں۔

٭٭٭٭٭

گھر نسوانی چیخوں سے گونج رہا تھا۔ اماں اور تائی جان ایک دوسرے کے گلے لگ کر دھاڑیں مار کر رورہی تھیں۔ مصعب اور احمر اپنی اپنی ماؤں کو سنبھالنے کی ناکام کوشش کررہے تھے۔ عائشہ چچی اور ان کی دونوں بچیاں نور، ہاجر اور ماہم کو سنبھالے ہوئے تھیں۔

’’ہائے میرا سہاگ لٹ گیا!‘‘ تائی جان کی لرزہ خیز چیخ سنائی دی اور وہ غش کھا کر احمر کے بازوؤں میں جھول گئیں۔ سب ان کو ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگے۔

’’ہائے احمد! آپ کیوں مجھے چھوڑ گئے؟ مصعب! تمہارے بابا ہمیں کیوں چھوڑ گئے؟‘‘ اماں مصعب کو اپنے سینے سے لگا کر رونے لگیں۔ مصعب جو کافی دیر سے ضبط کیے ہوئے تھا، اماں کے سینے سے لگتے ہی اس کے ضبط کے بندھن بھی ٹوٹ گئے اور وہ بھی سسکنے لگا۔

سعد اور سیف بمشکل اپنے آپ کو سنبھالے موحد چچا اور بسام بھائی کے ساتھ تجہیز و تدفین کے کاموں میں لگے تھے۔

جنازہ اٹھا اور گھر میں دوبارہ آہ و فغاں شروع ہوگئی۔

’’مومنہ! کیوں؟ آخر کیوں ہوا یہ؟‘‘ نور اپنا چہرہ چھپائے مچل رہی تھی۔

’’نور! نور! پیاری بہنا! ایسے نہ کہو!‘‘ مومنہ نے آنسو بہاتے ہوئے اسے کو اپنے ساتھ لگالیا۔

مرد حضرات جنازے سے فارغ ہوکر واپس آگئے۔ سعد اور مصعب بھی آگئے۔ نور کو صبح سے اپنے بھائیوں سے ملنے کا موقع نہ ملا تھا۔

’’سعد! تم کہاں تھے؟ نظر ہی نہیں آئے؟‘‘ سعد پر نظر پڑتے ہی نور کا دل پھر بھر آیا۔ وہ بھی ہمدردی پاکر اس کے نزدیک آگیا اور اس کی آنکھوں میں بھی آنسو تیرنے لگے۔

’’سعد! فکر نہ کرو، باباجانی اب بہت……‘‘ اس نے محبت سے اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے مگر باوجود کوشش کے مزید نہ بول سکی۔ آنسوؤں کا گولہ اس کے حلق میں اٹک گیا۔

’’آپا! ‘‘ سعد کے لب ہلے مگر آواز نہ نکل سکی، پھر وہ بھی اپنی مردانگی بھلا کر نور کے گلے لگ کر بچوں کی طرح رونے لگا۔ ’’آپا!‘‘، وہ بس روئے جارہا تھا۔

’’نور! سعد! اماں بلارہی ہیں…… ان کا دل بےچین ہورہا ہے!‘‘ ہاجر کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی۔ نور اور سعد نے اپنے اپنے آنسو پونچھے اور اس کی طرف دیکھے لگے۔

’’ہاجر! کاش باباجانی کی جگہ میں ہی چلی جاتی!‘‘ نور اس کی طرف بڑھ گئی۔ ہاجر نے بےساختہ اس کے منہ پر ہاتھ رکھا کر اس کو خاموش کروادیا۔

’’ایسے مت کہو!‘‘ وہ دھیرے سے بولی۔ اس کی آنکھیں سرخ ہورہی تھی، ’’نور! شاید ہمارا مکافاتِ عمل شروع ہوگیا ہے!‘‘ وہ یہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گئی۔ نور اور سعد بھی اپنی اپنی سوچوں میں گم اس کے پیچھے ہولیے۔

٭٭٭٭٭

چیخ و پکار کی آوازوں سے نور کی آنکھ اچانک کھلی اور وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی اور ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ اچانک پھر سے چیخوں کی آوازیں سنائی دیں۔ اب اس کو آواز کی سمت کا اندازہ ہوا۔ آوازیں اس کی کھڑکی سے آرہی تھیں جو باہر کی طرف کھلتی تھی۔ سورج ابھی ابھی طلوع ہوا تھا۔ نجانے باہر کیا افتاد آن پڑی تھی۔ کسی بمباری کی آواز بھی تو نہ آئی تھی۔

نور بستر سے اتر کر کھڑکی کی طرف بڑھی اور سرباہرنکال کر دیکھا، مگر پچھتائی۔ نیچے کا منظر روح فرسا تھا۔ نور بے ساختہ ڈر کر کھڑکی کےپیچھے ہوگئی مبادا امریکی و بھارتی فوجی اسے دیکھ نہ لیں۔ دھیرے دھیرے سانس بحال کرکے وہ اندھا دھند نیچے کی طرف بھاگی۔ سارے گھر والے پہلے ہی بدحواس تھے۔ اماں پورے گھر کی کنڈیاں لگارہی تھیں۔ نور کھڑکی سے باہر جھانکنے لگی۔ منظر بالکل واضح تھا۔

گلی میں ایک امریکی ہموی (بکتر بند گاڑی) کھڑی تھی اور امریکی فوجی اس کے محلے کے چند افراد کے سر پر کن ٹوپ چڑھائے انھیں گاڑی کی طرف لے جارہے تھے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ قریب ہی پاکستانی فوج کی گاڑی بھی کھڑی تھی۔ اچانک باہر سے ایک بھیانک چیخ گونجی۔ سب گھر والے کھڑکی کی طرف لپکے اور بےساختہ ہی سب کی چیخ نکل گئی۔

’’اماں! صالحہ! اماں جی! صالحہ کو لے گئے…… وہ امریکی لے گئے! صالحہ کو لے گئے!‘‘ نور اپنی چیخیں روکنے کے لیے انگلیاں دانتوں تلے دبائے رورہی تھی۔ اتنے میں باہر سے گولیوں کی تڑتڑاہٹ کی آواز سنائی دی۔ امریکی فوجی چند مزید لڑکیوں کو بالوں سے پکڑے گاڑی کی جانب گھسیٹ رہے تھے اور جو کوئی مزاحمت کرتا اسے گولی ماردیتے۔

اچانک امریکی ان کے گھر کی جانب بڑھنے لگے مگر نجانے کیا سوچ کر رک گئے اور اپنی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوگئے۔

’’یااللہ! ‘‘ اماں جو کافی دیر سے خوف زدہ تھیں، نے آخر ایک گہری سانس لی اور رونے لگیں۔ گھر میں دو جوان بیٹیوں کے ہوتے ہوئے وہ کیونکر پریشان نہ ہوتیں!

٭٭٭٭٭

رات کافی گزر چکی تھی مگر نور کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ اس نے اپنے قریب ہی بستر میں دبکی ہاجر کو دیکھا۔ اسے اپنی سوئی ہوئی بہن پر بہت پیار آیا۔ باباجانی کی وفات کے بعد سے وہ دونوں بہنیں اماں کے کمرے میں انھی کے ساتھ سوتی تھیں۔ بلکہ اماں کی تسلی کی خاطر مصعب اور سعد بھی رات گئے تک اماں کے پاس ہی بیٹھے رہتے تھے۔ اس نے اماں کی جانب دیکھا، وہ دواؤں کے زیر اثر سورہی تھیں، ان کی طبیعت مستقل خراب رہنے لگی تھی۔

اس کی نگاہوں میں پھر سے صالحہ کا چہرہ گھوم گیا۔ وہ ان کے پڑوس میں رہتی تھی اور ہاجر کی ہم عمر تھی۔ اسے اس کے چہرے پر چھائی دہشت اور اس کی خوف زدہ چیخیں بھلائے نہ بھولتی تھیں۔ جیسے ہی وہ آنکھیں بند کرتی صالحہ کی تصویر اس کی آنکھوں کے سامنے آجاتی اور اس کے ساتھ ہونے والے متوقع سلوک کا سوچ کر ہی اس کا دل حلق میں آجاتا۔ یہی سب سوچتے سوچتے اس کے ذہن میں عافیہ صدیقی کا خیال آیا۔ وہ تڑپ کر اٹھ بیٹھی۔ عافیہ کے بارے میں پڑھی اور سنی ہوئی تما م باتیں اس کے ذہن میں تازہ ہوگئیں۔ اسے یاد تھا کہ مومنہ نے کس قدر روتے ہوئے اسے عافیہ صدیقی کی داستان سنائی تھی اور اسے بتایا تھا کہ امریکہ نے انھیں چھیاسی سال قید کی سزا سنائی ہے مگر اس وقت اس کے دل پر اس بات کا کچھ اتنا اثر نہ ہوا تھا۔ آج اگر امریکی فوجی اس کے گھر میں بھی گھس آتے تو کیا وہ بھی……عافیہ! صالحہ! نور! ہاجر!………اور پھر اس سے آگے اس سے کچھ نہ سوچا گیا اور وہ اپنی سسکیوں کو دبانے کے لیے منہ پر ہاتھ رکھے رونے لگی۔

٭٭٭٭٭

ابوبکر بے چینی سے کمرے میں ادھر ادھر گھوم رہا تھا۔ آنسو بار بار اس کی آنکھوں میں بھر آتے تھے۔ ملک کے حالات نے اس کو اندر تک جھنجھوڑ ڈالا تھا۔ وہ پچھلے دو تین ہفتوں سے پاکستان جانے کی کوشش کررہا تھا مگر امریکہ سے پاکستان جانے والے تمام فضائی راستے بند تھے۔

وہ اپنی جلتی ہوئی آنکھوں کو مسلتے بالکونی میں آگیا۔ اس کا اپارٹمنٹ ایسی جگہ پر تھا جہاں سے اسے نیویارک کا سنٹرل پارک اور اس کے عقب میں مین ہیٹن کی آسمان کو چھوتی عمارتیں نظر آتی تھیں۔ عام طور پر اس کو یہ منظر بہت خوب صورت لگتا تھا مگر آج نیویارک کا جگمگاتا شہر اس کو تاریک لگ رہا تھا اور یہاں کی خوب صورت شفاف سڑکیں اسے غلیظ اور ان پر چلتے گوری چمڑی والے باشندے اسے بے حد کالے اور منحوس نظر آرہے تھے۔ اسے ان کے چہروں سے اپنی امت کا خون ٹپکتا دکھائی دے رہا تھا۔

اف! علی ابھی تک نہیں آیا!‘ وہ دل ہی دل میں سوچتا پھر بالکونی میں ٹہلنے لگا۔ آخر اس سے مزید صبر نہ ہوسکا اور اس نے علی کو فون کردیا۔

’’علی! کہاں ہو؟‘‘

’’میں تو ابھی شاپ میں ہی ہوں!‘‘

’’فوراً واپس آجاؤ میرا دل گھبرارہا ہے!‘‘ اس نے یہ کہہ کر فون بند کردیا اور دل کو پرسکون کرنے کے لیے قرآن کھول کر تلاوت کرنے لگا۔

علی تین منٹ میں ہی ہانپتا کانپتا پہنچ گیا۔ ابوبکر اس کو دیکھ کر مسکرا دیا۔

’’بڑی سپیڈ ماری!‘‘ وہ ہنس کر بولا مگر اس کے لہجے میں بشاشت نہ تھی۔

’’سیدھی طرح بتاؤ کیا بات ہے!‘‘ علی اس کی ہنسی سے متاثر ہوئے بغیر بالکل سپاٹ لہجے میں بولا۔ ابوبکر کا چہرہ دیکھنے کے بعد اس کی چھٹی حس اسے کسی انہونی کی خبر دے رہی تھی۔

’’بتاتا ہوں، بتاتا ہوں، تم بیٹھو تو سہی!‘‘ ابوبکر اس کی ٹینشن محسوس کرتے ہوئے ماحول ہلکا کرنے کی خاطر بولا۔

’’نہیں! پہلے تم بتاؤ مسئلہ کیا ہے!‘‘، وہ بےچینی سے بولا۔

ابوبکر نے جان لیا کہ وہ اب پوری بات سنے بغیر سکون سے نہیں بیٹھے گا لہٰذا اس نے تمہید باندھی۔

’’علی! اگر کوئی ہمیں امانتاً کوئی چیز دے اور پھر اپنی امانت واپس لے لے تو ہمیں کیا رویہ اپنانا چاہیے؟‘‘ ابوبکر دھیرے دھیرے اس سے نظریں ملائے بغیر بولا۔

علی کو لگا کہ اس کی سانسیں رکنے لگی ہیں، مگر بظاہر سکون سے وہ بولا ’’ظاہر ہے کہ امانت واپس کردینی چاہیے!‘‘

’’اور اگر وہ چیز ہمیں بہت عزیز ہوجائے؟‘‘ اچانک اس نے نظریں اٹھائیں اور علی کی آنکھوں میں جھانکا۔اس کا چہرہ کسی انجانے خدشے کے ماتحت دھواں دھواں ہورہا تھا۔

’’ابوبکر پلیز! سیدھی طرح بتاؤ!‘‘، وہ ملتجی ہوا۔

’’علی! تمہاری پوری فیملی…… تمہاری پوری فیملی شہید ہوگئی ہے!‘‘ ابوبکر کی آواز رندھ گئی اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ علی دہشت اور بےیقینی سے آنکھیں پھاڑے اس کو دیکھے گیا۔

’’کیا کوئی بھی نہیں بچا؟‘‘ اس کی آواز کسی گہرے کنویں سے آتی محسوس ہوئی۔ ’’کیا اسماء بھی؟‘‘

’’نہیں! حالات کی وجہ سے اسماء بھی میکے ہی آئی ہوئی تھی اور…… اور معاویہ بھی اسی روز اسے لینے کے لیے آیا تھا!‘‘

’’یعنی معاویہ بھی……؟‘‘ علی جملہ مکمل نہ کرسکا۔ ابوبکر نے دھیرے سے سرہلادیا۔

’’ابوبکر پلیز! کچھ کرو! جلدی پاکستان چلو! جلدی مجھے یہاں سے نکالو ورنہ میں…… ورنہ میں کچھ کردوں گا!‘‘ چند ثانیے کی خاموشی کی بعد علی بری طرح مچل کر بولا۔

’’میں امریکہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا! ابوبکر! کچھ کرو میں اب مزید یہاں نہیں رہ سکتا! مجھے یہاں سے لے چلو پلیز!‘‘

وہ ابوبکر کو دونوں کندھوں سے تھام کر جھنجھوڑنے لگا۔

’’علی! صبر سے کام لو! اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہیں!‘‘

مگر علی بالکل بےقابو ہوچکا تھا۔ آخر وہ اپنا چہرہ چھپا کر بلک بلک کر رونے لگا۔

’’اچھا دیکھو کچھ کوشش کرتے ہیں، شاید بحری راستہ کھلا ہو یا ایران کی طرف سے کوشش کرتے ہیں ان شاء اللہ!‘‘ ابوبکر نے اسے حوصلہ دلاتے ہوئے اس پر ایک نظر ڈالی اور اٹھ کھڑا ہوا۔ علی اب بھی اپنا چہرہ چھپائے بے آواز رورہا تھا، اس کا جسم بری طرح کانپ رہا تھا۔ وہ دکھ سے اس کی حالت دیکھ کر کمرے سے نکل گیا۔

٭٭٭٭٭

’’مصعب! ماما کو تو اب سانس لینے میں بھی دقّت ہورہی ہے…… کچھ کرو! ہسپتال لے چلو!‘‘ ، نور کچن کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔ مصعب جو الماری سے کچھ نکال رہا تھا گھبرا کر اس کی طرف مڑا۔

’’کیا ہوا؟‘‘

’’جلدی آؤ! اماں کی سانس اکھڑ رہی ہے!‘‘ نور گھبراہٹ کے عالم میں بولی۔ مصعب اندھا دھند اماں کے کمرے کی طرف بھاگا۔ ہاجر اور سعد اماں کو انہیلر دینے کی کوشش کررہے تھے مگر اماں مسلسل کھانسے چلی جارہی تھیں۔ بخار کی شدت سے پہلے ہی ان کا چہرہ سرخ ہورہا تھا۔

مصعب ان کے کمرے کی طرف بھاگا۔ اماں بمشکل سانس لے پارہی تھیں۔ اس نے انھیں سہارا دے کر اٹھایا، دوسری جانب سے سعد نے سہارا دیا اور دونوں انھیں لے کر باہر کی جانب بڑھ گئے۔

’’نور! سعد! ہاجر! میں موحد چچا کے ساتھ ہسپتال جاتا ہوں، تم لوگ گھر پر ہی رہو، اگر ضرورت پڑی تو بلالوں گا!‘‘، مصعب گاڑی میں بیٹھتے ہوئے بولا۔ ’’اور ہاں نور! کچھ کھانا بنا دینا اور سعد کے ہاتھ بھیج دینا…… شاید اماں کو ایڈمٹ کرنا پڑے!‘‘

اس نے تیزی سے گاڑی نکالی اور اس کے پیچھے سعد نے گیٹ بند کردیا ۔ وہ تینوں پریشانی میں گھرے اندر کی جانب بڑھے۔

آدھے گھنٹے بعد ہی مصعب کا فون آگیا تھا کہ اماں کو نمونیہ کا زبردست اٹیک ہوگیا ہے۔ اماں کی رپورٹس تو کچھ حوصلہ افزا نہ تھیں مگر پھر بھی ڈاکٹروں نے امید ظاہر کی تھی کہ وہ ٹھیک ہوجائیں گی۔

(جاری ہے ، ان شاء اللہ)

Exit mobile version