شبیر احمد مالک شہید﷬

شریعت یا شہادت کے منہج پر اپنی زندگی فدا کرنے والے مجاہد، شبیر احمد مالک المعروف ابو عبیدہ کے ساتھ بِتائے شب و روز، ابو عبیدہ شہید کا تعلق جنوبی کشمیر کے علاقہ ترال سے تھا اور آپ کے آبائی گاؤں کا نام ’ناگ بل‘ ہے ۔ آپ جون ٢٠١٩ء میں ایک طویل معرکہ کے بعد شہید ہوگئے۔


رات ہوچکی تھی۔ اندھیرے میں کچھ ہی سفر طے کرنے کے بعد ساتھیوں نے مشورہ کیا کہ آج رات جنگل میں ہی گزارتے ہیں، صبح ان شاءاللہ باقی سفر طے کریں گے۔ چونکہ جنگل میں سردی زیادہ ہوتی ہے اس لیے کوئی بھی ساتھی آرام سے نہ سوسکا۔ صبح ہوتے ہی ہم نے آگ جلائی، جسم کچھ گرم ہوئے تو اٹھے اور باقی ماندہ سفر طے کرنا شروع کیا ۔ راستہ پرخطر تھا مگر اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور ہم سب ساتھی حفاظت کے ساتھ اپنی منزل پر پہنچ گئے جہاں ہمارے استقبال کے لیے ابو عبیدہ بھائی کھڑے تھے۔

جوں ہی ابو عبیدہ بھائی نے ہمیں دیکھا وہ خوشی سے آگے بڑھے اور بڑی محبت سے ہم سب کو ایک ایک کرکے گلے لگایا۔ آپس میں تعارف ہوا۔ہم بہت تھک گئے تھے اور ہمارے چہروں سے پسینہ ٹپک رہا تھا، پیاس بھی بہت لگی تھی۔ ابو عبیدہ بھائی نے جب ہماری یہ حالت دیکھی تو وہ فوراً دوڑے اور پانی لے کر آئے۔ سب ساتھی پانی پی کر سیراب ہوگئے تو ابو عبیدہ بھائی نے کہا کہ کچھ دیر آپ لوگ آرام کرلیں اس کے بعد پھر بیٹھتے ہیں۔

تھوڑی دیر آرام کے بعد ہم اس جگہ سے نکل گئے کیونکہ وہاں لوگوں کی آمد و رفت کی وجہ سے ہم زیادہ دیر نہ رک سکتے تھے۔ دوسری جگہ پہنچے اور وہاں دن گزارنے کا فیصلہ کیا۔ اس جگہ دھوپ بہت تھی اور سائے کے لیے کوئی پیڑ بھی نہیں تھا۔ ابو عبیدہ بھائی نے کہا تھا کہ ہمیں رات کو سفر کرنا ہے اور بہت دور بھی جانا ہے اس لیے ہم مغرب کی نماز ادا کرتے ہی نکل گئے۔

سفر کے دوران ہمیں ایک سڑک بھی پار کرنی تھی۔ ابو عبیدہ بھائی نے بتایا کہ یہاں ایمبش پوائنٹ (دشمن کی کمین گاہ)ہے اس لیے پہلے میں پار کرتا ہوں، پھر تیزی سے آپ لوگ بھی آجائیے گا۔ اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور ہم سب نے سڑک پار کی اور پھر آہستہ آہستہ چلنے لگے تاکہ کوئی ہمارے چلنے کی آواز نہ سن سکے۔ اس مرحلے سے پار ہونے کے بعد آگے تھکا دینے والا پہاڑی سفر تھا۔ اللہ تعالیٰ کےکرم سے ہم رات میں ہی اپنی جگہ پر صحیح سلامت پہنچ گئے۔ جب میں ہائیڈ ( کمین گاہ)کے اندر داخل ہوا تو مجھے بڑا عجیب لگا کہ یہ کیا چیز ہے، کبھی ایسی جگہ دیکھی جو نہیں تھی، مگر الحمدللہ اس میں جو سکون تھا وہ گھر میں بستر پر بھی نہیں ہوا کرتا تھا۔ عشاء کا وقت تھا۔ ہم نے نماز کی تیاری کی اور ابو عبیدہ بھائی نے نماز پڑھائی۔ چونکہ میں نووارد تھا لہٰذا نمازکے بعد ابو عبیدہ بھائی نے مجھے سمجھایا کہ کیسے چلنا ہوتا ہے، امیر کی اطاعت، معمولات کیا کیا ہوتے ہیں، کب کیا کرنا ہے، کون کون سی دعائیں یاد کرنی ہیں اور دیگر نصیحتیں وغیرہ کیں۔

ابو عبیدہ بھائی اکثر دعوت کے کام میں مشغول رہا کرتے تھے اور ساتھیوں کی فکری تربیت میں ان کا زیادہ تر وقت صرف ہوتا تھا، اللہ تعالیٰ انہیں اس کا بہترین بدلہ عطا فرمائے۔ جب کوئی ساتھی کاروانِ شریعت یا شہادت میں شمولیت اختیار کرنا چاہتا تو وہ اسے سمجھاتے کہ ہمارا مقصد کیا ہے؟ ہم کیوں لڑتے ہیں؟ وغیرہ۔وہ اکثر سب مجاہد ساتھیوں سے کہتے کہ زیادہ سے زیادہ ہائیڈوں کا استعمال کرو مگر جنگلوں میں، کیونکہ جہاد کی اصل زندگی انہی جنگلوں میں ہے۔وہ بڑے مخلص ساتھی تھے، ان کے ہوتے ہوئے کوئی دوسرا ساتھی کام کرے، یہ کبھی نہیں ہوپاتا تھا، چاہے کھانا پکانا ہو یا پانی لانا یا باقی امور۔ ابو عبیدہ بھائی ساتھیوں کا بہت زیادہ خیال رکھتے اور ساتھیوں سے کہتے کہ جو بھی ضرورت ہو بلا جھجک بتا دیا کریں۔ ایک مرتبہ ابو عبیدہ بھائی نے مجھے اور برہان بھائی کو پانی لانے کے لیے بھیجا۔ ایک تو جنگل ،دوسرا دھند بھی بہت تھی، ہمیں گئے کچھ وقت ہی گزرا تھا کہ ابو عبیدہ بھائی پریشان ہو گئے کہ شاید ساتھی راستہ بھٹک گئے ہیں۔ فوراً دیگر ساتھیوں کو لے کر ہمیں ڈھونڈنے نکلے۔ ہم جب پانی لےکر واپس اپنی جگہ آرہے تھے تو ابو عبیدہ بھائی کوڈ میں ہمیں آوازیں دے رہے تھے۔ ہم گھبرا گئے کہ شاید کچھ مسئلہ ہوگیا ہے۔مگر جب ان کے پاس پہنچے تو پتا چلا کہ وہ ہمیں ہی ڈھونڈ رہے تھے۔

چونکہ میں جہاد میں نیا نیا آیا تھا لہٰذا ابو عبیدہ بھائی لمحہ لمحہ میری رہنمائی کرتے۔ ایک مرتبہ ہم ایک انصار (مددگار)کے گھر گئے، رمضان کا مہینہ تھا تو کھانے اور نماز سے فراغت کے بعد ابو عبیدہ بھائی مجھے سمجھانے لگے کہ گھر والوں کے ساتھ کیسے بات کرنی ہے، قضائے حاجت کے لیے کیسے جانا ہے اور کن کن چیزوں سے اجتناب کرنا ہے، تاکہ نہ مجھے تکلیف اٹھانی پڑے اور نہ ہی گھر والوں کو۔

جب میں ابو عبیدہ بھائی سے جدا ہورہا تھا تو ہم دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر دونوں ہی ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے ۔انھوں نے اس آخری وقت میں نصیحت کی کہ سفر میں ہوشیار رہنا، اپنا خیال رکھنا، منزل پرپہنچ کر مجھے خبر پہنچانا اور اپنی عبادت کو کسی بھی حالت میں نہیں چھوڑنا اور میرے لیے سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت مانگنا اور اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا کرنا کہ وہ ہم سے زیادہ سے زیادہ دین کا کام لے اور پھر کچھ پیسے ہدیہ کے طور پر پیش کیے اور کہا کہ یہ سفر میں آپ کے کام آئیں گے، اور پھر میں ان سے معانقہ کرکے روانہ ہوگیا۔ یہ میری ان سے آخری ملاقات تھی۔ اس کے بعد میں فیلڈ (عملی میدان)میں معاویہ بھائی کے ساتھ شامل ہوگیا۔

ایک روز میں چاشت کے وقت وضو کرنے گیا ، جب وضو کرکے واپس آیا تو معاویہ بھائی نے بتایا کہ ابو عبیدہ بھائی محاصرے میں آگئے ہیں۔ یہ خبر سن کر میں نے دو رکعت نماز ادا کی اور دعا کرنے لگا کہ اے میرے رب! تیرا بندہ تیرے دین کے لیے نکلا ہے، اس کی مدد فرما۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ پیارے رب نے اپنے بندے ابو عبیدہ کے لیے یہی دن اپنی ملاقات کے لیے مقرر کیا تھا۔ وہ دشمنوں کے ساتھ طویل معرکے کے بعد جام شہادت نوش فرما گئے۔اللہ تعالیٰ ان کی شہادت قبول فرمائے۔

شہادت کی خبر سن کر بہت دکھ ہوا۔ اللہ تعالیٰ کا یہی قانون ہے اور بندے کو اللہ رب العزت کے ہر فیصلے کے سامنے سر جھکانا ہی زیبا ہے۔ یہ وہ ساتھی ہیں جنھوں نے اپنے خون سے منہجِ شریعت یا شہادت کو زندہ رکھا، جنھوں نے مصائب کے بڑھتے ہوئے سیل کے آگے اپنے آپ کو چٹانوں اور پہاڑوں کی طرح کھڑا کیا، جنھوں نے اپنا سب کچھ اس آزاد جہاد کے کاروان کو آگے بڑھانے کے لیے پیش کیا چاہے وہ جان ہو، یا مال۔ یہ آزاد جہاد کی تحریک انھی عظیم مجاہدین کے خون کی بنیاد پر کھڑی ہے۔ اللہ ایسے عظیم لوگوں کے خون کو کبھی ضائع نہیں کرتے، نہ آج تک روئے زمین نے کبھی ایسا دیکھا ہے کہ کسی اللہ والے کا خون رنگ نہ لایاہو۔ اللہ ہم سب سے اپنے دین کی بھرپور خدمت لے لے اور ہم سب کو بھی مقبول شہادت سے سرفراز فرمائے، آمین۔

٭٭٭٭٭

Exit mobile version