وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا
علی تیونسی کی ارض جہاد کی طرف ہجرت
اس تحریر میں چند ایسے واقعات ہیں جو مجھے کبھی نہیں بھولتے ان میں سے چند تو میرے ساتھ پیش آئے یعنی میں نے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور چند دوسروں سے سنے۔ یہ واقعات کسی خاص موضوع سے تعلق نہیں رکھتے: ان میں مجاہدین کے ایثار، بہادری، تقویٰ وغیرہ کے واقعات ہیں، چند انصار کے مہاجر مجاہدین کے ساتھ محبت کے قصے ہیں اور چند کافروں کے مظالم کی داستانیں بھی۔ بس ملے جلے واقعات ہیں ، اللہ سے دعا ہے کے وہ اس تحریر کو اپنے حضور قبول فرما لے، آمین۔ (ابرار احمد)
ایک تیونسی بھائی جن کا جہادی نام علی تھا ،ان کے ساتھ مجھے کچھ دن گزارنے کا موقع ملا۔ انہوں نے مجھے اپنی ہجرت کا واقعہ سنایا ، جو کچھ اس طرح تھا:
جب افغانستان پر روس نے حملہ کیا تو کچھ عرصہ بعد مجھے جہاد کی دعوت ملی اور میں نے ہجرت کی نیت کے ساتھ تیونس سے سفر کا ارادہ کیا۔ تیونس میں مجھے راستے کی اور رہبر کی ترتیب سمجھا دی گئی تھی۔ میں تیونس سے لیبیا اور وہاں سے مصر پہنچا۔ اب مجھے رہبر سے فون پر رابطہ کر کے اس سے ملنا تھا۔ مصر تک تو سب خیریت تھی مگر شاید اب آزمائش شروع ہونی تھی۔ مقررہ طے شدہ وقت پر میں نے رہبر کو فون کیا مگر فون نہیں مل رہا تھا۔ بہت کوشش کی مگر فون نہ ملتا تھا۔ اگلے دن پھر اس جگہ پہنچ کر فون کیا، مگر پہلے دن کی طرح معاملہ ہوا۔ آج میرا مصر میں تیسرا دن تھا اور میرا رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا۔ اللہ کو شاید یہی منظور تھا۔ میں بہت پریشان تھا کیونکہ میرے پاس پیسے بھی ختم ہو رہے تھے کیونکہ ہوٹل کا کرایہ بہت زیادہ تھا۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آگے جاؤں یا واپس؟ چوتھے دن میں نے پھر کوشش کی مگر فون پھر نہ ملا۔ میں سوچ رہا تھا کے تیونس واپس چلا جاؤں یا ادھر کہیں مزدوری شروع کر دوں؟ آج مجھے وہاں ایک اور فرد دکھائی دیا جو کسی کو فون کر رہا تھا مگر شاید اس کا مطلوبہ نمبر بھی بند تھا وہ ادھراُدھر گھومتا رہا ، بار بار فون بھی کر رہا تھا لیکن اس کو بھی کوئی جواب موصول نہیں ہو رہا تھا۔ وہ میرے قریب آکے بیٹھا میری اس سے گپ شپ ہوئی، وہ اچھا مسلمان لگ رہا تھا ۔ وہ بھی مسافر تھا اور میں بھی۔ اس نے بھی کل فون کرنا تھا اور میں نے بھی ۔ یہ اتفاق تھا ہم نے مشورہ کیا کہ ہوٹل میں اکٹھے رکتے ہیں، آدھا آدھا کرایہ دے دیں گے۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد کھل کر گپ شپ ہوئی۔ مجھے تھوڑا سا اس پر شک تھا مگر گپ شپ کے بعد میرا شک یقین میں بدلتا جا رہا تھا۔ آخر میں نے اسے کہہ ہی دیا کہ ایک بات سچ سچ بتاؤ، کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ تم بھی اسی سے رابطہ کر رہے ہو جسے میں ڈھونڈ رہا ہوں؟ پھر میں نے کہا کہ تم اپنے نمبر کا پہلا حصہ بتاؤ آگے کا نمبر میں بتاتا ہوں۔ کمال تو اس وقت ہوا جب اس نے آدھا نمبر بتایا تو میں نے اسے پورا کر دیا۔ اب تو ہماری خوشی اور حیرت کی انتہا نہ رہی۔ اگلے دن ہم پھر گئے مگر نمبر پھر بھی بند تھا۔ ساتھی تو ایک مل گیا تھا مگر رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے میں بہت پریشان تھا کیونکہ میرے پاس پیسے تقریباً ختم ہو چکے تھے ۔
میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک سفید ریش بزرگ میرے پاس آکے رک گئے۔ سلام دعا کے بعد مجھ سے کہنے لگے کہ کل تم فلاں مسجد چلے جاؤ، وہاں تیسری صف میں ایک آدمی بیٹھا ہو گا اور اس نے اس طرح کے کپڑے پہنے ہوں گے، اس سے جا کے ملو وہ تمہاری مدد کرے گا اور جاتے ہوے انہوں نے کچھ پیسے بھی دیے۔ میں نے ان سے ان کے بارے میں بہت پوچھا مگر انہوں نے کچھ نہ بتایا اور چلے گئے۔ رابطہ تو ویسے بھی نہیں ہو رہا تھا، میں نے سوچا کہ جا کے مسجد میں دیکھ لیتا ہوں۔ میں جب مسجد پہنچا تو بالکل اس طرح کے آدمی کو دیکھا جس کا ان بزرگ نے بتایا تھا۔ میں اس بھائی سے ملا اور اسے اپنے متعلق بتایا، تو وہی رہبر تھا۔ میں نے اس سے تفصیلی گپ شپ کی اور اس نے ہمارے افغانستان جانے کی اچھی ترتیب بنا دی۔ میں افغانستان پہنچ کر اپنے ساتھیوں سے ملا اور وقت گزرتا رہا۔
یہ۱۹۹۸ء کی بات ہے جب امارت اسلامیہ قائم تھی۔ میں ایک دن معسکر الفاروق1 کی مسجد میں ظہر کی نماز پڑھ کر بیٹھا ہوا تھا۔ کچھ لوگ نماز پڑھ کے جا چکے تھے، چند لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ہال کی آخری صف میں تین مجاہد بیٹھے کوئی بات کر رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ میرے پاس وہی بزرگ آئے جو مجھے مصر میں ملے تھے، انہوں نے مجھے سلام کیا اور میرے ساتھ بیٹھ گئے۔ میں ان کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور حیران بھی کہ یہ ادھر…… یہاں کیسے؟! ان بزرگ سے تقریباً پانچ منٹ گپ شپ ہوتی رہی پھر وہ چلے گئے۔ میں ان کے بارے میں سوچتا رہا کہ وہ کیسے دن تھے جب میں مصر میں پھنسا ہوا تھا اور ان بزرگ نے مجھے ترتیب بتائی تھی اور آج میں الحمدللہ ارض جہاد میں ہوں۔ میں اٹھا اور مسجد سے نکلنے لگا تو آخری صف والے مجاہدین سے گپ شپ شروع ہوئی۔ میں نے ان کو بتایا کہ یہ جو ابھی بزرگ گزرے ہیں انہوں نے میری ترتیب بنائی تھی، اس وقت میں بہت پریشان تھا، انہوں نے میری بہت مدد کی تھی۔ وہ تینوں میری بات سن کر بہت حیران ہوئے اورمجھ سے کہا کون سے بزرگ؟ یہاں تو ہم بیٹھے ہیں، ادھر تو کوئی بھی نہیں آیا، نہ ہی ادھر سے گزرا؟! میں نے تعجب سے کہا ’کیا مطلب ؟آپ لوگوں نے نہیں دیکھا میں ان سے ابھی گپ شپ کررہا تھا اور وہ آپ لوگوں کے قریب ہی سے تو گزرے تھے!‘ ۔ مگر انہوں نے کہا ’بھائی ! یہاں کوئی بھی نہیں آیا اور نہ یہاں سے گیا‘۔ یہ سن کر میں بہت حیرت زدہ ہوا کہ آخر وہ بزرگ کون تھے جو ان کو نظر نہیں آئے اور میرے ساتھ گپ شپ کر کے گئے۔ کافی عرصے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرتِ خاص تھی۔
سچ ہے کہ:
وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ (سورۃ العنکبوت: ۶۹)
’’ اور جن لوگوں نے ہماری راہ میں جد و جہدکی ہم سجھا دیں گے ان کو اپنی راہیں اور یقیناً اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ ‘‘
٭٭٭٭٭
1 شیخ اسامہ بن لادنؒ کے زیرِ انتظام معسکر جو قندھار میں قائم تھا اور اس سے سیکڑوں مجاہدین تیار ہو کر نکلے جنہوں نے عرب و عجم کے جہاد کی قیادت سنبھالی۔