لڑیں ہند کے مشرکوں سے بہم!

امرِیکہ پسپا ہو چکا ہے۔ تاریخ کو ابھی یہ فیصلہ کرنا ہے کہ امریکی ’گورباچوف‘ کون کہلائے گا، شاید بعض مؤرخ اس صلیبی جنگ کا آغاز کرنے والے بش کو ہی ’گورباچوف‘ کہیں1امریکی سی آئی اے کے ’بن لادن یونٹ‘ کے سابق سربراہ ’مائیکل ایف. شوئیر‘ نے الجزیرہ ٹی وی کی نائن الیون پر تشکیل دی گئی ایک دستاویزی فلم ’Decade 9/11‘ میں کہا تھا کہ ’’بنیادی طور پر (نائن الیون کی صورت میں )ہوا یہ تھا کہ اسامہ بن لادن نے کہا ’(ذلت و شکست کی کھائی میں)چھلانگ لگاؤ!‘ اور مسٹر بش اور مسٹر چینی نے بس اتنا پوچھا ’کتنی اونچی (گہری)چھلانگ لگائیں؟‘۔‘‘، ورنہ اوبامہ یا ٹرمپ کا مقابلہ تو ’کانٹے دار ‘ہے ہی اور بائیڈن کے لیے اللّٰہ کے نئے لشکری ’کورونا وائرس‘ اور کورونا وائرس کا بھی نو دریافت شدہ جرثومہ ہی کافی ہے جو پچھلی قسم سے کہیں زیادہ تیزرفتاری سے پھیل رہا ہے۔ صلیبیوں یا صلیب بردار صلیبی قائدین کی تاریخ ہے کہ اگر وہ خود مسلمانوں سے میدانِ جنگ میں ہار جاتے ہیں تو وہ اپنی جنگ کسی اور صلیبی لشکر یا کسی اور ’مسلم دشمن‘ قوت کے سپرد کر دیتے ہیں، پھر اپنی سازشوں ، فکری و عسکری جنگی کمک اور مال کے ذریعے ان مسلم دشمن قوتوں کی یا تو سرپرستی کرتے ہیں یا مدد۔

اہلِ فکر و نظر واقف ہیں کہ دنیا کے جدید نظام یا نیو ورلڈ آرڈر میں پالیسیاں اور حکمتِ عملیاں چہروں کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتیں۔ یہ پالیسیاں اور حکمتِ عملیاں ’صلیب و صہیون‘ کے ’بڑوں‘ نے ایک بار طے کر دی ہیں، ان ’بڑوں‘ کا ہاتھ درپردہ ہے جبکہ دنیا شطرنج کی بساط کو ہی ’اصل‘ جان کر بادشاہ و ملکہ اور سپہ سالار و مذہبی قائدین کو نظام چلانے والا سمجھ رہی ہے2یہودیوں کے تشکیل کردہ’The Protocols of the Elders of Zion‘ کو ہم کوئی ’الہامی‘ چیز قرار نہیں دے رہے کہ نظامِ عالَم ان کے مطابق چل رہا ہے، بلکہ یہ ایک منصوبہ ہے جو ظاہراً مجموعی طور پر کامیاب ہو رہا ہے اور ’کارسازِ اصلی‘ وحدہٗ لا شریک کی مشیت یہی ہے کہ حزب الشیطان والے اپنے منصوبوں کے مطابق اپنے کاموں کی انجام دہی کرتے رہیں، کہ ’ نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ لوگ خرچ تو کریں گے، مگر پھر یہ سب کچھ ان کے لیے حسرت کا سبب بن جائے گا، اور آخر کار یہ مغلوب ہوجائیں گے‘۔۔ آج ملکوں کی معیشت، عسکریت اور سیاست کنٹرول کرنے والے اصل ہاتھوں کو ہمارے یہاں ’اسٹیبلشمنٹ‘ اور امریکہ وغیرہ میں ’ڈِیپ سٹیٹ‘ کہتے ہیں۔ یہ ڈِیپ سٹیٹ کے ہرکارے اور جدید نظام کی صورت میں ایک نیا ’الٰہ‘ تراشنے والے، اپنے ’خدا‘ کے باطل ہونے کو خوب جانتے ہیں اور انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ انہوں نے ہار جانا ہے، عظیم مثال ابلیسِ لعین کی غزوۂ بدر سے یہ کہہ کر فرار ہے کہ ’ إِنِّي بَرِيءٌ مِّنكُمْ إِنِّي أَرَى مَا لاَ تَرَوْنَ 3سورۃ الانفال: ۴۸‘ یعنی ’ میرا تمہارا ساتھ نہیں ہے، میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم لوگ نہیں دیکھتے‘۔

نظامِ دجّالی کا عصرِ حاضر میں سب سے بڑا محافظ اور اس نظام کو چلانے والا ’امریکہ‘ ایک جان توڑ، انیس سالہ جنگ کے بعد زخموں اور تھکاوٹ سے چُور ہو چکا ہے اور عصرِ حاضر کی ’اسلامی ریاست ‘، ’اِمارتِ اسلامیہ افغانستان‘ کو تسلیم کر کے مشرقِ عالَم کے اس حصے جسے برِّ صغیر و خراسان کہا جاتا ہے، سے فرار ہو رہا ہے۔ خراسان و برِّ صغیر کا جغرافیہ تو آپس میں ملا ہوا ہی ہے، اس کی تاریخ بھی ما قبلِ اسلام سے بعد از اسلام اور آج تک جڑی ہوئی ہے اور دینِ اسلام نے جغرافیہ، تاریخ اور قوم و وطن سے بھی بڑی نسبت یعنی ’دینِ اسلام‘ ہی کے ذریعے ان کو ’بنیانٌ مرصوص‘ کی مانند جوڑ رکھا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے خطّۂ برِّ صغیر و خراسان، امتِ مسلمہ کا سب سے بڑا حصہ ہے، مسلمانانِ عالَم کی نصف آبادی یہیں صدیوں سے آباد ہے۔ یہ خطہ اسلام کی عظمت کا نشان رہا ہے، یہاں سے علم و فن ، دعوت و جہاد اور تبلیغ و تزکیے سے متعلق بڑی بڑی شخصیات اور عظیم تحریکیں برآمد ہوتی رہی ہیں۔ امپیریل ازم کی صورت برطانیہ (اور دیگر یورپی ریاستیں بھی جو اس خطے میں برطانیہ کے مقابل اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکیں) یہاں آیا اور (ہند و عرب ، افریقہ، اور امریکہ و آسٹریلیا پر محیط)’برطانیۂ عظمیٰ‘ سے ایک دو جزیروں پر مبنی ’سلطنتِ متحدہ‘ (یونائیٹڈ کنِگ ڈم) بن کر لندن لوٹا۔ اشتراکیت کے نام پر ’سوویت روس‘ یہیں کُودا اور اس کی لاش کو ماسکو پہنچایا گیا۔ سرمایہ دارانہ نظام کی قوت اور چہرہ ’امریکہ‘ اپنے چہل حواریوں سمیت یہیں کمزوری کا شکار ہوا، اور مسخ ہو کر بھاگ رہا ہے، اسی جنگ کے نتیجے میں آج ’نیٹو‘ کے وجود پر سوالیہ نشان اٹھائے جا رہے ہیں!

یہ پہلا مرحلہ تھا، اس میں اسلام و اہلِ اسلام غالب ہوئے اور یہ فتح و غلبہ ملتِ اسلامیہ کے لیے بہت بڑی کامیابی ہے۔

لیکن! کفرِ اعظم نے، نظامِ دجّالی نے، ابھی دم نہیں توڑا، بلکہ وہ آج بھی نہایت مضبوط و قوی حیثیت میں موجود ہے اور اس نظام کو چلانے والوں نے مقامی قوتوں کو اس نظام کو برقرار رکھنے یا اہلِ اسلام سے جنگ جاری رکھنے کے لیے ذمہ داری سونپی ہے۔ پندرہویں صدی ہجری اور اکیسویں صدی عیسوی میں جاری کفر و اسلام کی جنگ اب اگلے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ افریقہ کے مغرب میں یعنی الجزائر تا مالی، فرانس اس جنگ کا سرغنہ ہے۔ شمال مشرقی افریقہ کے حکمران اور مقتدر قوتیں اسرائیل کے در پر سر بسجود ہیں اور قاہرہ و خرطوم کے معاملات تِل ابیب سے چل رہے ہیں۔ مشرقی افریقہ میں جنگ کی ذمہ داری امریکی’افریکام‘ کی زیرِ نگرانی ’افریقی یونین‘ کے پاس ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی صورت بدیسی ’عرب یہودی‘، امریکہ و اسرائیل کے سامنے رکوع و سجود کی حالت میں موجود ہیں اور انہوں نے اسلام کی سرکوبی کے لیے ’التحالف الإسلامي العسكري لمحاربة الإرهاب‘ نامی ایک اتحاد تشکیل دے رکھا ہے جس کی ڈوریں براہِ راست پنٹاگان (Pentagon) سے ہلائی جاتی ہیں اور اسلامی نام کے اس صلیبی اتحاد کا سپہ سالار جنرل(ر) راحیل شریف ہے، حرمین شریفین سے چند میل کے فاصلے پر یہودی و عیسائی فوجی اپنی عسکری بیسیں بسائے ہوئے ہیں۔ فلسطین پر یہودِ نا مسعود براہِ راست قابض ہیں۔ ارضِ شام پر قدیم و جدید فکر کے صلیبی اور ان کے اتحادی اپنی سیاسی بساط بچھائے ہوئے ہیں۔

برِّ صغیر میں کفر کی خدمت گار اور اسلام و اہلِ اسلام کی قدیم دشمن قوت ’بھارت‘ موجود ہے ۔ تقسیمِ ہند کے وقت، عالمی قوتوں نے بہت سے اختیارات اور بہت سی مستقبل کی تخریب کے لیے ’ہند و ؤں‘ کا انتخاب کیا تھا اور ان ہندوؤں کی اسلام اور اہلِ اسلام سے دشمنی محض اس ’انتخاب‘ کے سبب نہیں بلکہ وہ خود کو ایک قدیم تہذیب اور مسلمانوں کو اس کا غارت گر جان کر اہلِ اسلام کے دشمن ہیں4اور ہم اہلِ اسلام اس تہذیب کے غارت گر ہیں بھی، بحمد اللّٰہ! اور اس خطے میں ہر قسم کی بالادستی کے خواہاں ہیں ۔ مذہبِ ’ہندوتوا‘ میں ہر انسان یا ہر ذی روح اپنی ’فطرت‘ پر پیدا ہوا ہے اور اس’ فطرت ‘ میں مقامی ادیان ’ہندومت ‘، ’جین مت‘، ’بدھ مت‘ اور فوائد سمیٹنے کے لیے ’سکھ مت‘ کو شامل کرتے ہیں جبکہ اسلام کو ’اجنبی، بےگانہ، غیر اور غاصب و شدت پسند‘ مذہب اور اسلامیانِ برِّ صغیر کو ’ گُھس بیٹھیے ‘قرار دیتے ہیں۔5فی الحال ’گُھس بیٹھیے‘ کہہ کر صرف بھارت میں بستے اہلِ ایمان کو مطعون کیا جا رہا ہے، لیکن ’قدیم بھارتی روایات‘ کے مطابق : ’’یہ برِّ عظیم (برِّ صغیر) سمندر (بحرِ ہند) سے لے کر ہمالیہ تک بھارت ہے اور یہاں کے باسی بھارت کی اولاد ہیں۔‘‘ (بحوالہ عارف محمد خان، گورنر ریاستِ کیرالا، In Search of India’s Soul – Al Jazeera)۔ اس قدیم روایت کی تعبیر و تشریح بھارت میں بستےبعض مسلمان جو چاہیں کریں لیکن، ہندوتوا، آر ایس ایس، بی جے پی اور مودی کے مطابق یہی تعبیر و تشریح ہے کہ بھارت کا مذہب ’ہندو مت‘ ہے اور اس کے مطابق آج کا پاکستان و بنگلہ دیش بھی بھارت ہی ہے۔ اسی لیے نسلاً بھارتی ؍ ہندوستانی مسلمانوں (جو یا تو خود یا ان کے آباواجداد ہندو، بدھ یا جین مت کے پیروکار تھے)کے لیے گھر واپسی کی مہم وجود رکھتی ہے اور یہاں کے اکثر مسلمانوں کی نسلوں کو ’گُھس بیٹھیے‘ کہا جا رہا ہے۔ فی المستقبل پورے برِّ صغیر کے مسلمانوں کو ’گُھس بیٹھیے‘ کہا جائے گا اور شدت پسند ہندو تو آج بھی یہ نعرہ پورے برِّ صغیر کے لیے بلند کر رہے ہیں! بھارت کے مستقبل کا چہرہ ’ہندوتوا‘ ہی ہے چاہے مرکز میں ’بھارتیا جنتا پارٹی‘ کا اقتدار برقرار رہے یا نہ رہے۔ بھارت کو چلانے والی ذہنیت ’مودی‘ ہی رہے گی چاہے کرسی پر کوئی بھی براجمان ہو۔ ’ہندوتوا‘ فکر و نظریہ، اسلام اور اہلِ اسلام کا خالی خولی مخالف نہیں ہے بلکہ یہ ایک زمانے سے ہندوستان میں فکری و عسکری تیاری میں مگن تھا، کچھ کچھ وار بھی ماضی میں کرتا رہا اور آج مقتدر و حاکم بھی ہے۔

بابری مسجد کی شہادت، احمدآباد و گجرات میں قتلِ عام ، مظفر نگر کے فسادات ، لَوْ جہاد، گاؤ کُشی کے بدلے مسلم کُشی، گھر واپسی، آسام و بنگال میں این آر سی، پورے ہندوستان میں این آر سی اور سی اے بی، دِلّی فسادات ، مسلم وائرس (کورونا وائرس) اور سب سے بڑھ کر کشمیر میں دفعہ ۳۷۰ کا خاتمہ اور قریباً ایک کروڑ مسلم آبادی پر لاک ڈاؤن اور کرفیو کا نفاذ، یہ سب ہندوتوا کے چند مظاہر ہیں۔

نریندر مودی جس زمانے میں گجرات کا وزیرِ اعلیٰ تھا تو اس زمانے میں اس کا کسی کے ساتھ ٹی وی پر ایک مباحثہ ہے6یہ مباحثہ یوٹیوب پر ڈھونڈا اور دیکھا جا سکتا ہے۔۔ مباحثے میں مودی کا مقابل اسلام کے ’امن پسند‘ ہونے کی بات کرتا ہے7اسلام امن کا دین ہے لیکن امن اللّٰہ کی اطاعت و فرماں برداری کے ساتھ منسلک ہے۔ تو مودی جواباً کہتا ہے:

’’اسلام دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے:دار الاسلام اور دار الحرب۔ جہاں اسلام حاکم و غالب ہو تو وہ دار الاسلام اور اس کے علاوہ دنیا دار الحرب ہے، حرب یعنی جنگ (اس لیے اسلام امن کا مذہب نہیں دہشت گردی کا مذہب ہے)!‘‘8مودی کی اس تعریف سے کسی درجے میں اتفاق بھی کیا جا سکتا ہے۔ اسلام تو غالب ہونے کے لیے آیا ہے۔ جہاں اسلام غالب ہوتا ہے اسے دار الاسلام کہتے ہیں اور جہاں اسلام کے غلبے کے لیے جہاد و قتال کے میدان گرم کیے جاتے ہیں تو اسے دار الحرب ہی کہا جاتا ہے اور برِّ صغیر کو تو قائدِ اسلامیانِ برِّ صغیر مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ نے اسلام کے یہاں مغلوب ہو جانے اور انگریزی و ہندو نظام کے غالب آ جانے کے سبب ہی اپنے شہرۂ آفاق فتوے میں دو صدیاں قبل دار الحرب قرار دیا تھا۔ مودی کا یہ بیان ہم اہلِ ایمان کے لیے خود دین کی دعوت اور دین کی تعبیرِ اصلی لیے ہوئے ہے کہ مودی بھی جانتا ہے کہ اسلام غالب ہونے کے لیے آیا ہے اور جس خطے میں اسلام غالب نہ ہو تو وہاں میادینِ جنگ گرم کر کے وہاں کے باسیوں کو حکومتِ اسلامیہ کے ماتحت کیا جاتا ہے۔

پورے ہندوستان میں آج یہی ’مودی‘ فکر ہے جو غالب ہے، یہی ہندوتوا ہے جو ہندوستان کے مسلمانوں کو جبراً ہندو بنانے کے راستے پر گامزن ہے، جو نہ مانے تو اس کو تلواروں اور خنجروں سے کاٹ دینے کے درپے ہے۔ ہمارے خطے میں جنگ کی ٹھیکیداری اسی ہندوتوا کے علم بردار بھارت کے پاس ہے ، اسے امریکہ کی آشیر باد بھی حاصل ہے، کھربوں ڈالروں کے دفاعی و معاشی معاہدے بھی اسی کا ایک جزو ہیں۔

محمد بن قاسم، محمود غزنوی، شہاب الدین محمد غوری، اورنگ زیب عالم گیر، سراج الدولہ، ٹیپو سلطان، سید احمد شہید، شاہ اسماعیل شہید، سید تیتومیر، حاجی شریعت اللہ، قاسم نانوتوی، رشید احمد گنگوہی، حافظ ضامن شہید، شیخ الہند محمود حسن (﷭)، یہ سب اسی جہادِ ہند و سندھ کے نام ہیں جس جہادِ ہند کی تکمیل آخر الزمان میں اس شان سے ہونا ہے جس شان سے مخبرِ صادق، نبیٔ مہربان (علیہ ألف صلاۃ و سلام) نے فتح و ظفر، جنت کے حصول اور جہنم سے آزادی کی بشارتیں دی ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کا فرمان ہے:

’’میرے جگری دوست رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مجھ سے بیان کیا اور فرمایا:’ اس امت میں سِندھ و ہند کی طرف (لشکروں کی)روانگی ہوگی‘، اگر مجھے ایسی کسی مہم میں شرکت کا موقع ملا اور میں (اس میں شریک ہو کر) شہید ہو گیا تو ٹھیک، اگر (غازی بن کر)واپس لوٹ آیا تو میں ایک آزاد ابوہریرہ ہوں گا جسے اللّٰہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ سے آزاد کر دیا ہوگا۔‘‘9مسندِ احمد

آئیے فکر و اعلام، سوچ و نظریے، زبان و قلم اور تلوار و کلاشن کوف سے اسلام کے دفاع کی خاطر، بابری مسجد کی تقدیس کی خاطر، کشمیری بہنوں کے آنچل کی حفاظت کی خاطر، ہندوستان میں کٹتے مسلمانوں کی حفاظت کی خاطر، اسلام آباد تا سری نگر، سری نگر تا دِلّی اور دِلّی تا ڈھاکہ اور ڈھاکہ تا رنگون، پورے برِّ صغیر کو پھر سے اسلام کا گہوارہ بنانے کی خاطر، غزوۂ ہند کے لشکروں میں شامل ہوتے ہیں۔ ’نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر‘ نفاذِ شریعتِ محمدی (علیٰ صاحبہا ألف صلاۃ وسلام) کی خاطر لشکرِ عیسیٰ ؑ و مہدیؓ کا حصہ بنتے ہیں۔

لڑیں ہِند کے مشرکوں سے بہم
چھڑائیں جہنم سے گردن کو ہم
کریں جنگ تہذیبِ دجّال سے
ملیں جا کے عیسیٰؑ کے لشکر سے ہم

أللھم انصر من نصر دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم واجعلنا منھم واخذل من خذل دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولا تجعلنا منھم، آمین یا ربّ العالمین!

٭٭٭٭٭


Exit mobile version