ذوقِ تن آسانی

امن،سکھ،چین،سکون، آرام……یہ کتنے خوش کن الفاظ ہیں ! ہم میں سے ہر کوئی ان الفاظ کو بولنا چاہتا ہے،لکھنا چاہتا ہے، سننا چاہتا ہے اور ان کے معنی کو اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہے، لیکن ان کے متضاد……بے امنی، دکھ،بےچینی،بے سکونی اور بے آرامی جیسے الفاظ اتنے ہی اداس کر دینے والے ہیں۔ حقیقتاً ہم میں سے کوئی بھی شخص یہ الفاظ(کم ازکم اپنے لیے)بالکل بھی استعمال نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی ان کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کا خواہاں ہوتا ہے۔

دراصل انسان کی فطرت میں ہی آرام طلبی ہے۔ ہر کسی کا گول، ٹارگٹ اور کامیاب نتیجہ حاصل کرنا آرام و سکون ہی ہوتا ہے۔ مثلاً ایک طالب علم محنت کرتا ہے تاکہ وہ بہترین کارکردگی دکھا سکے، معاشرے میں ڈاکٹر، انجنیئر یا کسی بھی اچھے شعبے سے وابستہ ہوکر ایک آرام دہ کرسی پر بیٹھ سکے۔ ایک مزدور کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ بہت کام کرکے اپنی دِہاڑی لے اور رات کا کھانا کھاسکے، بیوی بچوں کو خوش دیکھ سکے جس سے اس کی طبیعت کو سکون مل سکے۔ اور اگر میں یہ کہوں کہ ایک مسلمان بھی تقویٰ و پرہیزگاری کا اہتمام جنت کے ابدی آرام و سکون کی خاطر کرتا ہے تو شاید یہ غلط نہ ہوگا۔

دنیا میں ہر انسان آرام و سکون حاصل کرنے کی تگ و دو میں ہوتا ہے لیکن اس کو حاصل کرنے کے لیے راستے میں جو تنگی یا تکلیف ہوتی ہے اس کو دیکھنے کی خواہش نہیں رکھتا۔ البتہ، نظامِ قدرت یہی ہے کہ ہر چیز کو اپنی ضد یا متضاد کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ دکھ اور تکلیف دنیا کے پہلے انسان آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک کے ہر انسان کی زندگی میں موجود رہے ہیں۔ اللہ کی محبوب ترین ہستی جناب رسالت مآب محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی دکھ اور تکلیف شامل رہے ہیں۔ دنیا کا کوئی بھی ایسا غم نہیں ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں دیکھا…… پھر آپ کے ساتھیوں کا بھی یہی حال تھا، ہر چیز میں بہترین ہونے کے باوجود بھی ان لوگوں کو تنگی اور سختیوں کا سامنا رہا۔ اگر ہم اپنے دکھ درد کا موازنہ ان کی تکالیف سے کریں تو ہمارا درد ایک ذرّے کے برابر بھی نہ لگے گا۔

آج ہم جب اس پرفتن دور میں آنکھ اٹھا کر دیکھتے ہیں تو یہاں بھی اہل حق کو دکھوں اور تکلیفوں کا سامنا کرتے دیکھتے ہیں۔ اور اگر ہم خود اس راستے کی طرف چلنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہر قدم پر صعوبتوں کے منوں ٹنوں بھاری پتھر ان پر گرتے دکھائی دیتے ہیں، ان پتھروں میں کہیں شیطانی فتنے ہیں، کہیں خوف ہے اور کہیں خواہشات ہیں۔

اب ان پتھروں کے ساتھ کیا سلوک کرنا ہے؟ یہ ہماری اپنی قوت ارادی، یقین محکم اور اللہ رب العزت سے محبت پر منحصر ہے۔ اگر تو ہم ان ساری چیزوں میں صاحبِ استقامت ہیں تو یہ بھاری پتھر ہم سے ٹکرا کر پاش پاش ہوجائیں گے اور ہمارے راستے سے ہٹتے چلے جائیں گے، عین ممکن ہے کہ ان پتھروں میں پوشیدہ کچھ قیمتی سنگ ریزے بھی ہمارے ہاتھ لگ جائیں۔ لیکن اگر ہماری قوت ارادی بہت نچلے درجے پر ہے، ہمارے یقین کا پارہ حالات کی سختی اور نرمی کے مطابق کم یا زیادہ ہو جاتا ہے اور ہماری اللہ سے محبت کچے اور کمزور رنگوں کی مثل کھارے پانی میں گھل جاتی ہے تو پھر ان پتھروں سے ٹکرایا نہیں جا سکتا۔ ہم ان پتھروں کو کبھی بھی اپنے راستے سے ہٹانے کی ہمت نہیں کر پائیں گے، البتہ یہ پتھر ہمارے سینکڑوں ٹکڑے کر کے ہمیں زمانے کی بےرحم ہواؤں کے حوالے کر دینے کے مجاز ضرور ہوجائیں گے۔

یہ راستے قطعاً آسان نہیں ہیں، لیکن ان سے گزرنے اور آخر میں آرام و سکون اور فلاح و کامیابی پانے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے صبر و استقامت سے چلتے رہنے کا فیصلہ کیا ہے، جنہوں نے اللہ سے محبت کے دعوؤں کی آبیاری اپنے خون پسینے سے کرنے کی ٹھانی ہے، جن کو لوگوں کے کہنے سننے کی فکر نہیں کھاتی، یہی لوگ مضبوط ہوتے ہیں اور انہی لوگوں کے رعب اور دبدبے سے کافر تھر تھراتے ہیں۔

علامہ اقبال نے ’جواب شکوہ‘ میں ایک نہایت عمدہ شعر کہا ہے، جس کو پڑھ کر محسوس ہوتا کہ اقبال نے یہ شعر کئی سال پہلے بیٹھ کر آج ہی کے مسلمانوں کے لیے لکھا تھا

ہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہے
تم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہے

سبحان اللہ! ذوق تن آسانی کے نشے میں مدہوش ہوجانا ایک مسلمان کے لیے جائز نہیں ۔ یہ روش نہ تو ہمارے اسلاف نے اختیار کی اور نہ ہی ہمیں اس کی ترغیب دی، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو دنیا کو مومن کے لیے قید خانہ قرار دیا، تعجب ہے ہم اسی قیدخانہ میں تن آسانی اور آسائش جیسے شوق پالتے ہیں؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارے تمام بڑوں نے اسلام کی سربلندی کے لیے محنت و جانفشانی سے کام کیا اور تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جہاں کہیں مسلمان عیش و عشرت میں پڑے مسلمان پستی اور ذلت کی گہری کھائیوں میں جاگرے۔ آج ہماری امت ذلیل و خوار ہورہی ہے اور اس حالت کے ذمہ دار من حیث الامت ہم سب لوگ ہیں جنہوں نے جہاد کو ترک کر دیا ہے جن کے بازاروں میں بددیانتی اور ناپ تول کی کمی سرعام ہوتی ہے، جنہوں نے مصلّے بیچنے کے کاروبار تو خوب چمکائے ہیں لیکن جن کے تلوار بنانے کے کارخانوں کو قفل لگ گئے ہیں، جنہوں نے اپنے دلوں میں مسلمانیت کی بجائے وطنیت کی آتش بھڑکائی ہے۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہماری حالت زار پر رحم کرے اور ہمیں اپنے دین پر قائم رکھے اور ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا ہونے سے بچائے، آمین یا رب العالمین۔

٭٭٭٭٭

Exit mobile version