قبولیتِ جِہاد کی شرائِط | ۴

پہلی شرط یہ کہ اللہ ہی کی خاطر جہاد کرے، یعنی اخلاصِ نیت کے ساتھ جہاد کرے ۔ دوسری شرط یہ کہ امیر کی اطاعت کرے ، تیسری شرط یہ ہے کہ اپنا بہترین مال جو کچھ اس کے پاس ہے وہ اللہ کے راستے میں خرچ کرے۔ چوتھی شرط یہ ہے کہ اپنے ساتھیوں کے لیے راحت کا باعث بنے اور پانچویں شرط یہ ہے کہ زمین میں فساد سے اجتناب کرے ۔

حدیث کیا کہتی ہے کہ ’جس نے یہ پانچ شرطیں پوری کیں ،اس کا سونا اور جاگنا سب اجر ہے‘۔ اس سے بڑا کوئی مقام ہے کہ یہاں پر ہم جیسے سست لوگوں کے لیے بالخصوص جو ویسے ہی بہت زیادہ سوتے ہیں کہ ان کا سونا اور جاگنا سب اجر ہو جائے صرف ان پانچ شرطوں کو پورا کرنے کی وجہ سے؟! تو ان شاء اللہ جو یہ پانچ شرطیں پوری کر رہا ہے، جو کسی فساد اور کسی خرابی کا ذریعہ نہیں بن رہا، تو اس کا وجود باعثِ رحمت ہے۔ مجاہدین کی صفوں میں اس کا وجود باعث محبت ہے، اس کا وجود مجاہدین کو جوڑنے کا اور مجاہدین کو اللہ سے بھی جوڑنے کا اور مجاہدین کو آپس میں بھی جوڑنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ ایسے بابرکت نفوس کا وجود باعث خیر ہوتاہے تمام جہاد کے لیے اور انہی کے بارے میں حدیث یہ کہتی ہے کہ ان کا سونا اور جاگنا اجر ہے ۔

جبکہ دوسری طرف حدیث کہتی ہے کہ جس نے اس لیے جنگ کی ، جہاد کا لفظ نہیں ’غزا‘ کا لفظ ہے یعنی کہ عملاًقتال بھی جس نے کیا۔ جس نے قتال جیسا عمل بھی فخر کےلیے، ریاکاری کے لیے، لوگوں کے اندر اپنے چرچے کے لیے کیا تو جس نے اس خاطر کیا تو یہ پہلی شرط ہے بربادی کی کہ اخلاص کی جگہ یہ چیزیں لے لیں کہ میں فخر کی بنیاد پر قومیت و عصبیت کی بنیاد پر قومی تعصب کی بنیاد پر یہ کام کروں۔ قومیتاً یا فخراً یہ کام کروں یا میں نے اپنی جماعت کو دوسری جماعت پر یا میں نے اپنی قبیلے کو دوسرے قبیلے پر فضیلت دلوانی ہے تو اس خاطر قتال کرتا ہے۔ تو یہ برباد کرتا ہے اپنے آپ کو جو اس خاطر قتال کرتا ہے ۔ کہ لوگوں کے اندر میرا چرچہ ہو جائے اور یہ اتنی خطرناک چیز ہے کہ نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ آخری وقت جو آخری گولی آپ کی طرف آرہی ہو اس وقت بھی یہ بات آپ کے دل میں داخل ہو گئی ناں کہ دیکھو ساتھی میری شجاعت دیکھ رہے ہیں، ساتھی میری بہادری دیکھ رہے ہیں، میں آگے بڑھ رہا ہوں تو لوگ واپس جا کے میری تعریف کریں گے ہو سکتا ہے وہ آخری لمحے آپ کا سارا بیڑہ غرق کر دے ۔تو اس وقت تک نیت کی حفاظت کرتے رہنا اللہ سے ڈرتے ڈرتے ہر کام میں اترنا اور کوئی ایسی بات نہ دل میں آنے دینا اور نہ اس کو زبان پر کبھی منتقل ہونے دینا کہ جو اللہ کو ناراض کرنے کا یا اپنی نیت کو برباد کرنے کا باعث بنے۔ یہ اتنا سخت امتحان ہے کہ اس کے بعد کوئی مجاہد یہاں مطمئن نہیں ہو سکتا کہ بس یہاں پہنچ گیا تو امتحان ختم ۔امتحان ابھی شروع ہو ہے آگے امتحان ابھی بہت سے باقی ہیں ۔اور ان میں سے شاید بہت مشکل امتحان ہر لمحے اپنی نیت کی تجدید کرتے رہنا ، حفاظت کرتے رہنا، تازہ کرتے رہنا بالخصوص ان مواقع پر جب کوئی اجتماعی اعمال ہوں۔ قتال ایک ایسا موقع ہے ، ہر کارروائی ایک ایسا موقع ہوتی ہے کہ جب اور لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ وہاں نیت اللہ کے لیے خالص رکھنا بہت بڑا کام ہے ۔ذمہ داران کے لیے اپنے اجتماعی کاموں میں نیت اللہ کی طرف خالص رکھنا ، کسی قسم کی بھی ذمہ داری پر کوئی ہو تو جب لوگ اس کو احترام کی نیت سے ذرا دیکھتے ہو ں، جب انگلیاں اس کی طرف اٹھتی ہوں، جب اس کا نام لوگوں کی زبان پر آتا ہو تو یہ اتنا بڑا فتنہ ہے۔ پس اللہ سے مدد مانگے کہ اللہ ان ساری آزمائشوں سے اس ذمہ داری سے اس کو خیریت سے باہر نکال لیں، اس لیے کہ یہ آزمائش بالکل ہلاک کر دینے والی ہے اگر اللہ تعالی کا فضل نہ ہو تو یہ دوسری چیز ہے ۔

اسی طرح اگر فخر ہو ریا ہو یا لوگوں میں چرچے کی خواہش ہو کہ ان میں کسی بھی نیت سے قتال کرے گا تو قتال بھی رد ہو جائے گا ۔ ایک اور چیز یہ ہے کہ جو امیر کی نافرمانی کرے گا تو اس کا بھی قتال اللہ کے ہاں قبول نہیں ہو گا ۔تیسری بات یہ کہ و فسادا فی الارض ، زمین کے اندر فساد پھیلائے گا چاہے وہ ساتھیوں کو تنگ کرکے پھیلائے، چاہے وہ ساتھیوں کی غیبت کر کے پھیلائے، چاہے وہ لوگوں میں اختلاف ڈال کر پھیلائے، کسی بھی ذریعے سے وہ فساد کا باعث بنتا ہے ، لوگوں کو جوڑنے کا نہیں، لوگوں کو قریب لانے کا نہیں، چیزوں کو بگاڑنے کا باعث بنتا ہے۔ تو جس کے اندر یہ صفات ہیں کہ نیت بھی خالص نہیں ہے، امیر کی نافرمانی بھی کرتا ہے اور فساد کا ذریعہ بنتا ہے، نیکی کا بھلائی کا ذریعہ نہیں بنتا مجاہدین کو بحیثیت مجموعی کمزور کرتا ہے اپنے وجود سے یہاں پر اور ان کی ہمت و حوصلوں کو توڑتا ہے اور ان کو آپس میں ایک دوسرے کے خلاف اس کی زبان یا اس کا عمل ایک دوسرے کے خلاف لڑانے کا ذریعہ بنتا ہے تو بھائیوایسی صورت میں حدیث اتنی خطرناک بات کرتی ہے ۔ بات اتنی نہیں حدیث کر رہی کہ وہ جہاد قبول نہیں ہوگا اور وہ خالی ہاتھ چلا جائے گا ۔ حدیث کہہ رہی ہے وہ ہرگز جو کچھ وہ لے ےہ بھی جہاد میں آیا تھا، جتنا نیکیوں کا سرمایہ وہ اتنا لے کر واپس بھی نہیں جائے گا الٹا اپنا نقصان کرے گا یعنی وہ اگر ہزار دس ہزار نیکیاں لے کر جہاد میں آیا تھا تو جو ان صفات کے ساتھ جہاد کرے گا قتال کرے گا وہ اپنی سابقہ نیکیاں بھی گنوادے گا۔ وہ الٹا نقصان کرکے اور گناہ کما کے میدان سے واپس جائے گا ۔

تو اتنا بڑا فرق ہے ان دونوں بندوں میں۔ دونوں میدان جہاد میں کام کر رہے ہیں، دونوں قتال کر رہے ہیں ایک کے اندر یہ صفات اور ایک کے اندر وہ صفات ہیں دونوں صفات کی بنیاد پر ایک کا سونا جاگنا اجر ہے۔ ہوسکتا ہے ایک ہی مرکز میں دونوں بندے رہتے ہوں ساتھ ساتھ اٹھتے بیٹھتے، نماز پڑھتے، جاگتے سوت، کام سب کچھ کرتے ہوں ایک کا سونا جاگنا اللہ کے ہاں اجر لکھا جا رہا ہے ایک کے ساتھ فرشتے موجود ہوں اللہ کی رحمتیں ہوں اور ایک وہ ہو کہ جس کا سب کچھ ضائع ہو کچھ بھی اللہ کے ہاں قبول نہ ہو رہا ہوالٹا وہ گناہ کما رہا ہودوسروں کے لیے بھی نحوست کا اور مجاہدین کے لیے بھی رسوائی کا اور مصیبت کا سبب بنتا ہو۔

تو پیارے بھائیو یہ ایک ایسی حدیث ہے کہ جو اگر انسان تھوڑی دیر بھی اس پر بیٹھ کے غور کرے وہ یقیناً ایک دفعہ ضرور کانپے گا کہ اللہ جانتا ہے کہ آج تک میں نے یہ پانچ شرطیں پوری کی ہیں، اتناعرصہ میدان جہادمیں گزارا ہے کوئی میرا ایک دن بھی ایسا آیا ہےجو اللہ کے میزان میں قبول ہوا کہ نہیں؟ اس کا دنیا کے اندر کوئی جواب نہیں دیا جا سکتا۔ یہ قیامت کے دن ہی سارا کچھ کھلنا ہے۔ وہ ساری پوشیدہ باتیں جن کا یہاں پر کوئی بھی فیصلہ نہیں کر سکتا میں اپنی نیت کے بارے میں کچھ کہہ سکتا ہو ں میں ابھی آپ کو یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ میں اس وقت جو آپ سے گفتگو کر رہا ہو یہ کس نیت سے کر رہا ہوں یہ جو بالخصوص ابھی بات کی ہے یہ کس نیت سے بات کی ہے ؟ اللہ جانتا ہے کہ یہ کہتے ہوئےمیری نیت کیا ہے اللہ تعالیٰ خالص کرلے اس کو اپنے لیے۔ لیکن شیطان اتنی خطرناک چیز ہے، اس طرح رگوں کے اندر دوڑتا ہے ۔ اس کاتو کام اور کیا ہے ؟ کہ شیطان انسان کے برے اعمال کو مزین کرکے دکھاتا ہے اور برے اعمال اس کونیکیاں نظر آنے لگتی ہیں۔ جو سب سے بری چیز ہے اللہ کے نزدیک وہ اس کو اپنی سب سے بڑی خوبی سمجھ رہا ہوتاہے۔ تو یہ اللہ جانتا ہے کہ ہمارا اٹھنا بیٹھنا کس کے لیے ہے۔ اللہ ہی جانتے ہیں کہ ہمارا سونا جاگنا کس کے لیے ہے ۔ہمارا تھکن برداشت کرنا ہمارا سردی میں اپنے آپ کو گھلانا، ہمارا اس سردی کے اندر محاذ کے اوپر بیٹھنا یہ سب کچھ کس کے لیے ہے؟ یہ اللہ جانتا ہے ۔تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہی اپنا معاملہ ہر ایک کو سمجھنا چاہیے کہ میں ساری دنیا کو دھوکہ دے سکتا ہوں، سب کو بے وقوف بنا سکتا ہوں، سب کو راضی کر سکتا ہوں، سب کو خوش کرکے دنیا سے جا سکتا ہوں، سب مجھے شہدا کے القاب سے نواز سکتے ہیں، میرے بارے میں حسن ظن قائم کر سکتے ہیں لیکن معاملہ میرا اللہ کے ساتھ ہے اس میں سے کسی چیز نے کوئی نفع نہیں دینا ہے ۔

وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا، اللہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ہر ایک نے اکیلے آنا ہے۔ تو میرا معاملہ میرے رب کے ساتھ ہونا ہےاللہ کے سامنے جواب دہی ہے، اللہ کے سوا اور کوئی نہیں بچا سکتا، اللہ کے سوا اور کوئی کام نہیں آنے والا۔ تو پیارواتنا سخت معاملہ، جب اتنا سخت امتحان ہے اسی لیے اللہ فرماتے ہیں کہ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ،اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو ! وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ ،نہ تمہیں موت آئے اس حالت میں کہ تم اسلام کے سوا کسی اور چیز پر ہو۔ مرتے دم تک نیتیں اللہ کے لیے خالص رکھنا، توحید پر جمے رہنا، مرتے دم تک ایمان پر قائم رہنا، یہ اتنا بڑا امتحان ہے، اتنا بڑا امتحان ہے کہ اسی لیے رسول اللہ ﷺفرماتے ہیں کہ اگر تمہیں وہ سب کچھ پتہ ہوتا جو مجھے پتہ ہے، آخرت کی سختیاں جو مجھے معلوم ہیں، اگر تمہیں معلوم ہوتیں، اللہ نے جو کچھ مجھ پر منکشف کیا ہے ان میں سے اگر بعض چیزیں تم پر منکشف ہوتی، ں تم نے معراج کا سفر نہیں کیا اس میں سے کچھ بھی نہیں دیکھا جومیں نے دیکھا ہے اگر تمہیں پتہ ہوتا وہ سارا کچھ ، تو تم بہت تھوڑا ہنستے اور بہت زیادہ رویا کرتے، اس لیے کہ اتنا سخت معاملہ آگے درپیش ہے ……وماھو بالھزل ……یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔ سنجیدہ معاملہ ہے یہ ہمیشہ کا خسارہ ہے۔ یہ ہمیشہ کی کامیابی ہے۔ تو اس کو کوئی احمق ہی ہوسکتا ہے جو اس کو گپ شپ میں لے لے، جو ان چیزوں کو، جہاد کو، سنجیدگی سے نہ اختیارکرے جو ان پانچ شرطوں کو اپنے اندر پورا کرنے کی کوشش نہ کرے۔ تو اتنا سخت امتحان دن رات ہمیں درپیش ہے اور اللہ جانتے ہیں کہ کس کا خاتمہ خیر پر ہونا ہے؟ مجھ سمیت اور آپ کے سمیت اور کس کا شر پر ہونا ہے ؟

تو حدیث میں سلف کے بارے میں یہ بات آتی ہے کتابوں کے اندر کہ سب سے زیادہ صحابہؓ بھی ان کے بعد تابعین و تبع تابعین بھی اور جو بھی ان کے بعد جو جو صالحین میں سے رہے ان سب کے اندر جو چیز سب سے نمایاں نظر آتی ہے، وہ اپنے برے خاتمے سے ڈرتے تھے سب سے زیادہ اس چیز سے گھبراتے تھے ۔ اس لیے کہ شیطان کا سب سے سخت وار احادیث کے مطابق اس وقت ہوتا ہے جب انسان کی موت کا وقت آتا ہے۔ کیونکہ اس وقت امام جوزی لکھتے ہیں کہ اس وقت وہ اپنے چیلوں سے کہتا ہےکہ اب اس کو جانے نہ دینا اب اس کو پکڑ کے رکھو اس لیے کہ اگر آج یہ نکل گیا تمہارے ہاتھ سے پھر دوبارہ کبھی تمہارے ہاتھ نہیں آئے گا۔ تو موت کے وقت جب بالکل سب کچھ سامنے عیاں ہو جاتا ہے اس وقت وہ اپنا پورا آخری پر زور حملہ کرتا ہے ۔اور اس وقت وہ ایمان سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے یہ کوئی چھوٹی موٹی چیز نہیں موت آزمائش بھی ایسی ہوتی ہے۔ جب موت سر پر نظر آرہی ہو جب روح قبض کرنے کے لیے فرشتے پہنچ چکے ہوں یا بالکل یہ نظر آرہا ہو کہ میں دشمن کے کسی ایسے نرغے میں پھنسا ہوں کہ بچنے کی کوئی صورت نہیں ۔تو شیطان اس وقت ہر طرح کا وسوسہ دل میں ڈالتا ہےیہاں سے لے کے کہ جہاد میں ٹھیک آئے بھی تھے کہ نہیں یہ جگہ بھی صحیح ہے کہ نہیں صحیح ہے تو اتنا ضروی تھا بھی کہ نہیں؟ کیوں اپنے آپ کو مروالیا؟ پتہ نہیں کیا کیا باتیں ہیں جو دل میں لے کے آتا ہے؟ یہاں سے لے کے وہ اللہ پر سے ایمان اٹھانے کی ہر طرح کی کوشش اور ہر طرح کا وسوسہ دل میں ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس وقت کون کام آسکتا ہے اللہ کے سوا؟ تو اللہ ہی ہے جو اس وقت بچاتا ہے نبیﷺ نے دعائیں خود بھی مانگیں اور ہمیں بھی سکھائیں، کہ اے اللہ میری عمر کا آخری حصہ خیر کا بنادے اور میرا بہترین عمل آخری عمل بنادے کہ اختتام جس کے اوپر میرا ہو اور میرا زندگی کا بہترین دن وہ دن بنادے جس دن تجھ سے میری ملاقات ہونی ہے ۔ تو یہ ہم میں سے ہر ایک کو سوال کرنا چاہیے کہ خاتمہ ہمارا خیر کے ساتھ ہو جائے اس لیے کہ دنیا میں جس حال پر رہیں گے، ساری زندگی دھوکہ بھی دیتے رہے نعوذ باللہ اپنے آپ کو، اہل ایمان کو، دنیا والوں کو تو موت کے وقت وہ چیز عیاں ہو جاتی ہے۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

Exit mobile version