نہ جب تک کٹ مروں میں خواجۂ بطحاؐ کی حرمت پر!

فرانس میں ہونے والے حالیہ واقعات کی بابت ایک پکار

مسلمانانِ عالَم!سنو! سنو! تمہارے دروازے پر دستک ہو رہی ہے۔دیکھو! دیکھو! شاید رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا کوئی قاصد تمہارے دروازے پر کھڑا ہے۔ یہ قاصد کوئی پیغام نہیں لایا۔ یہ ایلچی تو یہ دیکھنے آیا ہے کہ ہم اور تم ابھی زندہ ہیں یا مر چکے ہیں؟!

مسلمانو!محمد کو اپنا نبی اور رسول کہنے والو! (صلی اللّٰہ علیہ وسلم)

چند دن پہلے، فرانس میں کچھ سگانِ صلیب تمہاری مسجدوں میں گھس گئے۔ انہوں نے تمہارے نبی کے منبر کی توہین کی اور دیواروں پر لکھا کہ ’یہ صلیبی جنگ کا آغاز ہے‘۔ ان پلیدوں نے لکھا کہ ’چارلی ہیبڈو ہمارا فخر ہے اور چارلی ہیبڈو ہمارے ابطال میں سے ایک بطل کا نام ہے‘۔

مسلمانو! یہ قاصدِ رسولؐ، شاید اسی لیے آیا ہے۔مسلمانو!بس اب دو اور دو چار روٹیاں جمع کرنے کا وقت گزر گیا ہے۔ اب فیصلے کی گھڑی ہے۔ یا تو اپنے نبی کا انتقام لو یا اس نبی کا نام لینا چھوڑ دو۔

مسلمانو!ہم ’لا الٰہ الا اللّٰہ‘ پڑھنے اور ’محمد رسول اللّٰہ‘ کے عشق کا دم بھرنے والے مستحق ہیں کہ مر جائیں۔ ہم مر جائیں اپنے نبی کی حرمت کے دفاع میں یا مر جائیں اس غم سے کہ ہم اتنے بے غیرت ہو گئے، اتنے ذلیل ہو گئے کہ اپنے نبی کا دفاع بھی نہیں کر سکتے!

اللّٰہ کی قسم! یہ مبالغہ آرائی نہیں، یہ محض جذباتی باتیں نہیں۔ آنکھوں کا حق ہے کہ یہ بہہ بہہ کر سفید ہو جائیں، دلوں اور کلیجوں کا حق ہے کہ مارے غم کے یہ پھٹ جائیں۔ مسلمانو! اپنے نبی کے دفاع میں اٹھو، اپنے نبی کے منبر کے دفاع میں اٹھو۔

غور سے دستکِ قاصدِ رسولؐ سنو، قیامت کے روز اگر شافعؐ کے ہاتھوں جامِ کوثر چاہیے تو آج سر پر کفن باندھ لو، پھر جو ہاتھ آئے اسی کلاشن کوف، خنجر، چھری، ڈنڈے اور کچھ نہیں تو اسی ہاتھ کی انگلیوں کو جمع کر کے کوئی مکا بنا لو، پھر اس ہاتھ کو کفر کے سر پر مارو۔ کفر کا سر کچلا گیا تو فبہا، ورنہ اپنے ہاتھ نبی کے دفاع میں شل کروا لو۔

یہ بازی عشق کی بازی ہے، جو چاہو لگا دو ڈر کیسا
گر جیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں!

قیامت کے دن کہیں ایسا نہ ہو کہ شافعؐ کی محبت جوش میں ہم اور تم پیاس کے ماروں کو جامِ کوثر پلانا چاہے لیکن فرشتے یہ کہہ کر روک دیں کہ آپ کا دفاع تو درکنار، آپ کی گستاخیوں کے غم میں ان کی تو نیند بھی متاثر نہ ہوتی تھی اور آقاؐ، رخِ انور پھیر لیں تو اس روز کیا کرو گے۔ جس سے شافع نے رخ پھیر لیا اس کا ٹھکانہ خود ہی سوچو کہاں قرار پائے گا؟

مسلمانانِ عالَم!سنو! سنو! تمہارے دروازے پر دستک ہو رہی ہے۔ دیکھو! دیکھو! شاید رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا کوئی قاصد تمہارے دروازے پر کھڑا ہے۔یہ قاصد کوئی پیغام نہیں لایا۔ یہ ایلچی تو یہ دیکھنے آیا ہے کہ ہم اور تم ابھی زندہ ہیں یا مر چکے ہیں؟!

٭٭٭٭٭

Exit mobile version