خیالات کا ماہنامچہ | فروری تا اپریل ۲۰۲۱ء

ذہن میں گزرنے والے چند خیالات:فروری تا اپریل ۲۰۲۱ء

اللہ پاک کا جس قدر شکر ادا کیاجائے کم ہے کہ اس نے ہمیں اپنا بندہ بنایا اور اپنے بندوں میں بہترین بندے کا امتی بنایا، صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ پاک اپنے بہترین بندےؐ کے طریقے پر ہمیں تا دمِ حیات چلائے رکھیں اور حسنِ خاتمہ، صورتِ شہادت ، اپنی راہ میں عطا فرمائیں، آمین!

ولا نخاف إلا اللہ!


چند ہفتے قبل عباد الشیطان کے سرغنہ امریکہ کی کچھ ٹیکنالوجی کے مشاہدے کے سبب راقم کے دل پر خوف سا طاری ہوا۔ پھر اس خوف کو ربِّ رحمان نے خود ہی دل میں ایمان و سکینت ڈال کر رفع کر دیا۔

دل میں خیال ابھرا کہ امریکہ یا آج کا یہ نظامِ کفری کیسا طاقت ور ہے؟ اس کے پاس کیسی کیسی ٹیکنالوجی اور وسائل ہیں؟ سیٹلائٹیں اور ڈرون طیارے جو ہر گھڑی تاکتے رہتے ہیں۔ جی پی ایس (GPS)اور آر ایف آئی ڈیاں (RFIDs) جو ہر وقت آپ کی لوکیشن جانتی ہیں، ایسی ڈیوائسیں جو سینٹی میٹر کے حساب سے آپ کی حرکت محفوظ کرتی ہیں۔ بگنگ ڈیوائسیں (bugging devices) جو آپ کو آپ کی خواب گاہ میں بھی سنتی ہیں۔ پھر بظاہر زندگی بخشتے لندن کے پارک لین کے اپارٹمنٹس، نیو یارک کی مین ہیٹن سٹریٹ اور نیو یارک کی سکائی لائن، پیرس و وَینس کے محلے اور ٹوکیو کی رونقیں۔ موت بانٹتے ڈیزی کٹر بم اور ٹام ہاک وہیل فائر میزائل۔

دِل ڈر سا گیا۔

پھر کسی نے دل میں کہا ’یہ امریکہ ہے، خدا نہیں ہے۔ خدا کو تمہاری لوکیشن جاننے کے لیے جی پی ایس نہیں درکار، وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ۔ اس کو دیکھنے کے لیے کیمرے نہیں چاہییں اور سننے کے لیے بگنگ ڈیوائسیں نہیں درکار، وَهُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ۔ وہ اس دنیا کی چمکتی دمکتی زندگی کو دھوکے کا گھر، مکڑی کا جالا کہتا ہے اور اگلے جہاں کو ثابت بتاتا ہے ’ وَمَا هَذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ؀۔ اسے موت دینے کے لیے میزائلوں کی حاجت نہیں ہے۔ امریکہ اگر خدا ہوتا تو یہ سب کام براہِ راست کرتا، اسباب کا تابع ہونا تو خود علامتِ حقارت و ذلت ہے، مخلوق ہونے کی دلیل ہے‘۔

ہاتف کی یہ بات سن کر دل تھم گیا، شاید آنسو خوف سے بہہ رہے تھے لیکن ان کا منبع یکایک بدل گیا، فَلاَ تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ!

ہمارا صبر تجھے خاک میں ملا دے گا!


ہم امتِ توحید ہیں۔ قرآن کے حامل۔ سنت کے وارث۔ حق کی راہوں میں کٹ کٹ کے گرنا اور گر گر کے اٹھنا ہماری تاریخ ہے۔ ہم امتِ جہاد ہیں۔ ہم امتِ صبر و مصابرت ہیں۔ ہم امتِ رباط ہیں۔ ہم نے بڑے بڑے طاغوتوں اور فرعونوں کو خاک چٹائی ہے۔ ہمارا صبرِ پیہم دشمن کے لیے ذلت، شکست اور رسوائی ہے۔

چند روز قبل امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ افغانستان سے معاہدے کے مطابق نہیں نکلے گا۔ امریکہ کے اس اعلان کے پیچھے جو بھی ’خفیہ‘ ارادہ ہے وہ اسے خود بخوبی جانتا ہے۔اس ارادے کے ساتھ امریکہ اور اس کے حواریوں کو یہ بھی بخوبی یاد رکھنا چاہیے کہ امریکہ کا ہر ارادہ ناکام ہو گا اور یہ طاغوت پچھلے طاغوتوں سے زیادہ ذلیل و رسوا ہو گا۔

ہمارا صبر تجھے خاک میں ملا دے گا
ہمارے صبر کا تجھ کو اثر نہیں معلوم!

قبرستانوں کے لیے اراضی افغانستان، یمن اور صومالیہ میں درکار ہے: امریکی ٹینڈر نوٹس


اہلِ صلیب؛ امریکہ تا فرانس و برطانیہ و جرمنی یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ ’معاہدۂ دوحہ‘ کسی کمزوری کا نہیں بلکہ ’قوت‘ کا نتیجہ تھا۔ لیکن چونکہ انہوں نے افغانستان میں ایک سال ’امن‘ سے گزارا ہے تو یہ شاید غلط فہمی کا شکار ہو گئے ہیں۔ امریکہ کے افغانستان سے مقررہ وقت پر نہ نکلنے کے اعلان کے بعد میری بات افغانستان میں مقیم اپنے دوست گل محمد سے ہوئی تو وہ بتانے لگا کہ اس اعلان کو سننے کے بعد مجاہدین خوشی کے مارے ایک دوسرے سے گلے ملنے لگے کہ اگر امریکہ نہ گیا تو انہیں طاغوتِ عصر امریکہ کے خلاف جہاد سے اجرِ جزیل اور شہادتیں حاصل کرنے کا موقع مزید ملا رہے گا۔ یہ خوشی محض اس لیے نہیں ہے کہ اہلِ ایمان کسی معاہدے کی خلاف ورزی چاہتے ہیں جس کے وہ شرعاً پابند ہیں، بلکہ اس لیے کہ یہ مجاہدین موت کو زندگی سے زیادہ عزیز جانتے ہیں اور موت صرف اپنی ہی نہیں اہلِ کفر کی بھی خاص کر ان بد عہدوں اور وعدہ خلافوں کی جنہوں نے امارت اسلامیہ کے رسمی اعلان کے مطابق پچھلے تیرہ ماہ میں معاہدے کی ’بارہ سو (۱۲۰۰)‘ خلاف ورزیاں کی ہیں۔

ٹنوں بارود سے بھری گاڑیوں ، ہمویوں اور بائیس ویلر (22 wheeler)ٹرکوں میں بیٹھ کر یہ مجاہد اہلِ کفر سے ان کی عزیز ترین متاع ’زندگی‘ چھیننے کے شوق میں اور اپنی عزیز ترین خواہش ’موت‘ کے حصول میں خوشیاں منا رہے ہیں۔ امریکہ یاد رکھے کہ یہ اسلام کی عظمت کا زمانہ ہے۔ امریکہ اگر اپنی پوری فوج کا قبرستان افغانستان میں بنوانا چاہتا ہے تو بڑے شوق سے افغانستان میں ٹھہرے، اس کی خواہش ملا محمد عمر مجاہد کے وارث بخوشی پوری کر دیں گے!

جو بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ ’ہم افغانستان میں ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں بلکہ ایک واضح مقصد لے کر آئے تھے، ہم پر حملہ کیا گیا تھا اور ہم اس کا انتقام لینے اور القاعدہ کو ختم کرنے کے لیے آئے تھے، لیکن آج القاعدہ یمن اور صومالیہ میں زیادہ مضبوط ہو چکی ہے‘ ۔ القاعدہ کے یمن و صومالیہ میں مضبوطی کے اس ’اقبال‘ کے بعد جو جو حضرات بائیڈن کے مزاج کو جانتے ہیں وہ خود ہی اس خبر میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں کہ ’جو بائیڈن یہ کہنے کے بعد روپڑے‘۔

امریکہ کو اپنا قبرستان صرف افغانستان میں بنوانا قبول نہیں یمن اور صومالیہ میں بھی ہزار ہزار مربع کلومیٹر کے قبرستان درکار ہیں: آپ اسے ٹینڈر نوٹس بھی سمجھ سکتے ہیں ۔

ساتھ ہی کہا کہ ’امریکہ کابل میں ایک مؤثر سفارت خانہ بھی رکھنا چاہتا ہے‘۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ امریکی سفارت خانوں کا کیا کام ہوتا ہے۔ خیر اس ’مؤثر‘ سفارت خانے کی ’تاثیر‘ کا اندازہ مجھے اپنے دوست گل محمد کی جانب سے ملنے والی خبر سے بھی ہوا کہ امریکہ نے ماہِ اپریل کے آخری دو عشروں میں دس (۱۰) ملین ڈالر کی لاگت کے سکیورٹی کیمرے کابل شہر میں نصب کروائے ہیں اور جن سیکڑوں ترجمانوں کو معاہدۂ دوحہ کے بعد چھٹی دے دی گئی تھی انہیں ایک بار پھر کابل میں دوبارہ جمع کر لیا ہے (ان ترجمانوں کا کام امریکی چھاپوں میں مقامی زبان بولنے والے افراد کے ساتھ امریکی فوجیوں کی انگریزی کا مقامی زبان اور مقامی زبان کا انگریزی زبان میں ترجمہ کرنا ہوتا ہے)۔

افواجِ پاکستان کی توہین کے خلاف قانون


پاکستان میں جہاں بھی ریاست، آئین، قانون، پارلیمان وغیرہ وغیرہ کی ’تقدیس‘ کی بات آئے تو عام مشاہدہ ہے کہ ان کی ’تقدیس‘ کسی ’بھنگی‘ سے زیادہ نہیں ہے۔ اگر یہاں کچھ مقدس ہے تو وہ ایک گائے ہے جس کے چمڑے کے نگار ’کیموفلاج‘ صورت ہیں۔ اس گائے کو گائے کہنے سے بہتر جنگلی سانڈ کہنا زیادہ موزوں ہے گائے تو پھر بھی دودھ دیتی ہے، نفع رسانیٔ کثیر خلقت اس سے جاری ہے۔

یہ سانڈ بھی کمال ہے۔ کھال اس کی ہاتھی بلکہ گینڈے سے بھی موٹی ہے ۔ چر چر کر ایسا فربہ ہے کہ ایک یونٹ دوسری جگہ move کرے تو کانوائے کے کانوائے حرکت میں لائے جائیں۔ اس سانڈ کے یونٹوں کے سامنے ’چیف سانڈ‘ تقریر کرتا ہے (کیانی کیانی کہتے تھے اسے) تو کہتا ہے کہ آپ کے میس میں فی کس یومیہ چائے کی پتی کی مقدار دس گرام سے بڑھا کر بارہ گرام کر دی گئی ہے اور آدھا پاؤ دودھ یومیہ مزید ملے گا کہ جوان زیادہ چائے پی سکیں ، گوشت فی کس آدھا پاؤ زیادہ ملے گا، ہر ایک کو یومیہ تین روٹیاں زیادہ ملیں گی، تو یہ سن کر ہر ’جوان‘ نعرے مار مار کر نہال ہو جاتا ہے1۔ گیرژن، ڈیفنس ، نیول اینکرج، فضائیہ اور عسکری، پتہ نہیں کتنی چراگاہیں اور کھرلیاں موجود ہیں لیکن ہَوَس ہے کہ مٹنے کو ہی نہیں آ رہی۔ کوئی شے ایسی نہیں جس سے یہ سانڈ اپنی کشائش کے لیے سہولتیں اور راحتیں ’کَش‘ نہ کرتا ہو۔

لیکن حساسیت کا عالم ایسا ہے کہ کوئی ’اوئے‘ کہہ دے تو ’اوئی‘ ’اوئی‘ کی آوازیں آنے لگتی ہیں۔ عملاً ہے بھی ایسا ہی کہ بس اب کوئی ’اوئے‘ کہے تو نیا قانون جو ابھی اوائلِ اپریل (۲۰۲۱ء)میں منظور کیا گیا ہے اس کو دو سال قید اور دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنانے کے لیے بنا دیا گیا ہے۔

ظالم جس قدر ظلم میں بڑھتا ہے اسی قدر اس کی ’حساسیت‘ بڑھ جاتی ہے۔ یہ سب آئین میں ترمیمیں، یہ نئی نئی قانون سازیاں اس بڑھتے ظلم و طغیان کو سہارا دینے کے لیے ہیں اور کارگاہِ ہستی میں ہر شے کی مقدار مقرر ہے۔ ہر شے کو خالقِ ہستی نے زمان و مکان اور ابتدا و انتہا کی قید میں پابند کیا ہے۔ اسی طرح ظلم کی ابتدا بھی ہوتی ہے اور انتہا بھی۔ ابتدا میں یا بے شک بعد میں کوئی نہ روکے یا یہ نہ رکے تو طبعی ’انتہا‘ تو بہر کیف طے ہے ہی۔ فرعون و نمرود کے بارے میں بعض کا خیال ہے کہ ’اساطیر الاولین‘ 2ہیں۔ لیکن بعض ابھی ’حاضر سروس‘ طاغوت گزرے ہیں۔ جنرل احتشام ضمیر سے ’عافیہ صدیقی‘ کو اغوا کرنے کا بدلہ ’کوئی‘ نہیں لے سکا تو گالف کھیل کر جب گھر آیا تو ’سوئی گیس‘ نے ’اوئی‘ کرنے کا موقع بھی نہ دیا اور وہ صرف قمقمہ روشن کرتے ہی ’بھسم‘ ہو گیا۔ نیک محمد شہیدؒ سے معاہدے میں دھوکہ بازی کرنے والا جنرل صفدر (اگر بہ مرگِ سگاں مر نہیں گیا تو) یورپ کے ہسپتالوں میں دماغی کینسر کا علاج کروا رہا ہے۔ مشرف کی ایک ویڈیو ہے، کمانڈو ’ما شاء اللہ‘ ایسا قوی ہے کہ منہ میں سگار دبا رکھا ہے، سیدھے ہاتھ سے ایک سپاہی سے ’میکاروف‘ پستول لیتا ہے، ہاتھ بلند کرتا ہے اور گولی چلاتا ہے، لیکن ہاتھ پر اعشاریہ ایک فیصد بھی لرزا نہیں آتا، آنکھیں تو ایس ایس جی کمانڈو کی فائر کرتے جھپکتی ہی نہیں۔ لیکن دوسری ویڈیو ہے کہ دل کی بیماری پیدا ہوئی ، ایک رگ اوپر نیچے ہو گئی تو ’اوئی‘ ’اوئی‘ کر رہا ہے۔ ظلم کی حد ہوتی ہے، ظلم کی میعاد ہوتی ہے۔ لکھنے اور پڑھنے والے شاید قوی نہ ہوں گے، لیکن کارگاہِ ہستی کا خالق بہت قوی ہے اور وہ لکھنے اور پڑھنے والوں کا ’ولی‘ ہے اور اس خالق نے کچھ طریقے جاری کر رکھے ہیں اور کبھی کبھی تو خالقِ ہستی یک دم بھی رسی کھینچ لیتا ہے۔

ایک مجاہد ساتھی جنہوں نے آئی ایس آئی کی جیل کاٹی، ایک دن سنانے لگے کہ وہ جس کوٹھڑی میں بند تھے وہاں کا ایک پختہ عمر کا حوالدار سنتری بڑا ظالم تھا ۔کہنے لگے کہ ایک دن میں نے کوئی ضرورت کی چیز مانگی تو اس نے نہ دی، میں نے اپنی جھولی دونوں ہاتھوں سے تھامی اور اٹھائی اور ساتھ ہی کہا کہ میں تیرے لیے بد دعا کروں گا۔ وہ سن کر چلا گیا۔ اگلے دن نہ آیا، ایک، دو، تین، چوتھے روز آیا تو آتے ہی پاؤں پڑ گیا۔ کہنے لگا مجھے معاف کر دو تم نے میرے لیے بد دعا کی تھی۔ میں نے کہا میں نے تو نہیں کی۔ کہنے لگا اس دن کی تھی ناں جھولی اٹھا کر۔ میں نے کہا وہ تو میں نے ایسے ہی جھولی اٹھائی تھی، بد دعا کرنا مجھے یاد ہی نہیں رہا۔ کہنے لگا شادی کو کئی سال ہو گئے، اولاد نہ تھی، ابھی چند دن پہلے بچہ ہوا تھا، جس دن تم نے جھولی اٹھائی مر گیا۔

نئے نئے قانون نہ بناؤ، قانونِ خدا دیکھو!

ظالم حوالدارسنتریوں سے حوالدار کرنیلوں اور لیفٹیننٹ جرنیلوں تک سب ہی جا کر اپنے قید خانوں میں پڑے ’ولیوں‘ کی ’لسٹیں‘ دیکھیں۔ پھر اپنی اولادیں شمار کریں اور اپنی جانیں بھی۔ پھر جھولیاں گنیں، رب کے یہاں ان جھولیوں کی بڑی قدر ہے، وہاں دیر ہے اندھیر نہیں!

انصاف وہ جو امریکہ (کا) من بھائے؟!


تقریباً نو ماہ قبل سندھ ہائی کورٹ نے برطانیہ میں پیدا ہونے والے پاکستانی نژاد، ایچی سَن کالج اور لندن سکول آف اکنامکس میں زیرِ تعلیم رہنے والے ’احمد عمر شیخ‘ کی ’ڈینئل پرل کیس‘ میں رہائی کا فیصلہ سنایا تھا۔ سب سے پہلے تو سندھ حکومت یعنی پیپلز پارٹی نے اس پر شور مچایا اور ’قانونی‘ چارہ جوئی کی اور اس مقدمے میں فریق بنی لیکن عدالت ’اپنے‘ اصولوں کے مطابق فیصلے پر قائم رہی۔ شنوائی وغیرہ ہوئی اور فیصلہ احمد عمر شیخ کے حق میں ہی آتا رہا۔

ہوتے ہوتے یہ کیس سپریم کورٹ آف پاکستان میں پہنچا اور جنوری ۲۰۲۱ء کے آخری عشرے میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی سندھ ہائی کورٹ ہی کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ’احمد عمر شیخ‘ کی رہائی ہی کا فیصلہ دیا۔ جس روز فیصلہ صادر ہوا اسی روز امریکہ نے بیان دیا کہ ’ڈینئل پرل کیس کے مرکزی مجرم احمد عمر شیخ کی رہائی کے فیصلے پر ہمیں تشویش ہے اور (اگر پاکستان چاہے تو)ہم یہ کیس امریکہ میں بھی چلا سکتے ہیں‘۔ نیز پاکستان کے اربابِ حکومت و عدالت سے کہا کہ ’ آئین و قانون میں موجود تمام راستے دیکھے جائیں اور احمد عمر شیخ کے خلاف کارروائی کی جائے‘(جو کچھ ایف اے ٹی ایف کے کہنے پر ہو رہا ہے تو اس اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آئین و قانون پہلے سے اس کے بارے میں کچھ نہیں ہے تو فوراً بناؤ)۔

اس ’امریکی‘ معیارِ ’انصاف‘ پر چند نقاط ملاحظہ فرمائیے:

ذرا غور کیجیے کہ عدالتی نظام بھی مغربی ’ ورلڈ آرڈر‘ والا، جج بھی ظاہر و باطن میں انگریز و مغرب کے غلام (جن کے ظاہری سر اور سینے میں چھپے دل پر انگریزی وِگیں چڑھی ہوئی ہیں)، روایات و امثال و تعبیرات جن کے مطابق احمد عمر شیخ کے حق میں فیصلہ ہوا انگریزی، بقول امریکی و پاکستانی انتظامیہ و عدلیہ احمد عمر شیخ نے ایک آدمی کے قتل یا اغوا میں شمولیت کی، ریمنڈ ڈیوس نے ثابت شدہ ایک نہیں دو بندے قتل کیے اور بیسیوں لوگ اس کے عینی گواہ۔ لیکن ریمنڈ ڈیوس کے حق میں پاکستان کی اعلیٰ والا نہیں مجسٹریٹ و سیشن جج لیول کی عدالت ’بریت‘ (یا مُک مُکا کہہ لیں)کا فیصلہ دے[اور اس کو شرعی قانون کے مطابق (دیت کا)فیصلہ قرار دے]تو وہ ’قانونی تقاضے‘ پورے کرنے والی اور یہ فیصلہ ’انصاف‘ کی تجسیم۔ اور اعلیٰ عدالتیں قریباً دو دہائیاں جیلیں کاٹنے والے احمد عمر شیخ کو بری کریں تو اس میں نہ ’قانونی تقاضوں‘ کی تکمیل اور نہ ہی یہ ’انصاف‘؟!

مزید امریکی وزیرِ خارجہ ٹونی بلنکن اور سٹیٹ ڈپارٹمنٹ و امریکی کانگریس نے حکومتِ پاکستان کو مختلف مراسلوں کے ذریعے انصاف حاصل کرنے کی مزید کوششوں کا کہا جن پر حکومتِ پاکستان (یعنی سندھ حکومت کے بعد وفاق) نے بھی اس مقدمے میں احمد عمر شیخ کے خلاف فریق بننے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اعتبار سے ایک اور کیس کو دیکھیے:

یا یہ سمجھا جائے کہ انصاف وہ جو امریکہ (کا)من بھائے!

عورت مارچ کے مقابلے میں حیا مارچ


جن ’سادوں‘ کا خیال یہ ہے کہ ’حیا مارچ‘ سے ’عورت مارچ‘ کنٹرول میں آ جائے گا وہ نہایت نادان ہیں۔ اگر ایک طرف کتے بھونک رہے ہوں اور آپ محض دوسری طرف کوئی اور اچھی بات نہیں بلکہ اعلی ترین بات یعنی ’ تکبیر و تہلیل‘ بلند کرنا شروع کر دیں تو اس سے کتے خود بخود غائب نہیں ہو جائیں گے اور کتوں کی بک بک شیریں کلمات میں نہیں بدل جائے گی؟!

مکہ فتح ہو چکا تھا لیکن شارعِ بر حق صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے تشریف نہیں لے کر گئے کہ اب تک خانہ کعبہ کے گرد عریاں طواف ہوتا تھا، تالیاں پیٹی اور سیٹیاں بجائی جاتی تھیں اور مشرک حج کرتے تھے۔ اس سال آپ نے حضرتِ صدیق رضی اللہ عنہ کو امیرِ حج بنایا اور حضرتِ علی کرم اللہ وجہہ کے ذریعے منادی کروائی کہ اس سال کے بعد اس سب خرافات پر پابندی ہے اور مشرکوں کے حج پر بھی پابندی ہے۔

یہ نہیں کیا گیا کہ ’احرام‘ میں مستور لوگوں کی کثرت سے ننگے لوگوں کو اقلیت میں بدل کر ’غالب‘ ہوا جائے اور ’لبیک اللہم لبیک‘ کی صدائے اعلیٰ و ارفع سے تالیوں اور سیٹیوں کے شورِ لغو کو مغلوب کر دیا جائے (جو ظاہری اعتبار سے ممکن تھا کہ ایسے ننگ دھڑنگ لوگوں کی تعداد اس حج میں ساتر و شریف لوگوں کے مقابل آٹے میں نمک کے برابر بھی نہ تھی)۔ بلکہ ’قوتِ نہی عن المنکر‘ سے منادی کروائی اور اس کے بعد اگلے سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ورنہ ساری کائنات کا ایمان ایک طرف اور حضور افضل المخلوقات صلی اللہ علیہ وسلم کا ایمان ایک طرف بلکہ پھر بھی اعلیٰ اور بدرجہا بھاری اور اس ایمان کے سامنے تو ہر شے مغلوب ہے، لیکن آپ خود نہ گئے (اور اس سال حضرتِ صدیقؓ کو اس لیے بھیجا کہ حج تو بہر کیف فرض تھا)۔

چلیں اگر ’حیا مارچ‘ فائدہ دے بھی تو کم از کم یہ تو کیجیے کہ اس ’فساد‘ کی خبر لیں اور اس کو بند کروائیں۔ دین کے قطعی احکام میں ’گرے‘ کچھ نہیں ہوتا یا بلیک ہوتا ہے یا وائٹ۔ ایک مرحوم اللہ والے سے جو جوانی میں (پچاس ساٹھ سال قبل) سٹوڈنٹ پالیٹکس کرتے تھے، سے چند سال قبل ’رائٹ اور لیفٹ‘ کی سیاست کا پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’اب تو ’’رائٹ اور رانگ‘‘ کا زمانہ ہے!‘۔

دین غالب ہونے آیا ہے، کفر کے مساوی چلنے کے لیے نہیں! مَنوں دودھ میں ایک قطرہ پیشاب کا ملا دیں تو سب ہی ناپاک قرار پاتا ہے!

امریکہ کا بیڑا غرق ہو رہا ہے


ہر شے کی کچھ علامتیں ہوتی ہیں، کچھ بڑی اور کچھ چھوٹی۔ امریکہ کا بیڑا غرق ہو رہا ہے اور اس امر کی بہت سی علامتیں ظاہر ہو رہی ہیں۔

جو بائیڈن جب سے اس بیڑے کا نا خدا بنا ہے تو اس کے ساتھ بعض شامتیں مزید شامل ہو گئی ہیں۔ اہلِ اسلام کے یہاں تو عورتوں کی ’حکمرانی‘ کا سوال ہی نہیں ہے، جب شہنشاہِ ایران کے مرنے پر اہلِ ایران نے غالباً اس کی بیٹی کو اپنا حکمران بنایا اور حضور سرورِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا ’وہ قوم ہر گز فلاح نہیں پائے گی جو اپنے معاملات کی ذمہ داری کسی عورت کے سپرد کر دے!‘ (صحیح بخاری)۔

ایک تو امریکی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ ایک عورت ’نائب صدر ‘بن گئی ہے، پھر بائیڈن کابینہ میں ’وزیرِ خزانہ‘ بھی ایک عورت کو لگا دیا گیا ہے اور بجٹ دفتر کا سربراہ بھی ایک عورت کو۔ یہی اقدامات کم نہ تھے کہ صدارت سنبھالنے کے چوتھے پانچویں روز ہی بائیڈن نے حکم جاری کیا کہ ’امریکی فوج میں ’’ہیجڑوں3‘‘ کی شمولیت پر عائد پابندی ختم کی جاتی ہے‘4۔

ٹرمپ ہو یا بائیڈن…… وَن اینڈ دی سیم تھنگ!


یہودی مفادات کا تحفظ ہمیشہ امریکہ میں ہوتا رہے گا۔اقتدار منافق ڈیموکریٹس کے پاس ہو یا ڈنکے کی چوٹ پر ہر کام کرنے والے ریپلبکنز کے پاس۔ انگریزوں کی ناجائز اولاد ’اسرائیل‘ کے لیے اگر وائٹ ہاؤس میں پہلے ’جیرڈ کشنر‘ تھا تو اب پوری وزارتِ خارجہ ٹونی بلنکن کے پاس ہے جو کہ ایک یہودی ہے!

آنگ سان سُوچی


استعمار کے پروردہ ایک فوجی، میجر جنرل ’آنگ سان‘ کی بیٹی ’سُوچی‘۔ جمہوریت کی نام لیوا و دعویدار، مسلمانوں کی قاتل، بڈھی ڈائن، ’آنگ سان سُوچی‘۔ چند ہفتے قبل آنگ سان سوچی کی جمہوری حکومت کو برما کی فوج نے بر طرف کر دیا اور سوچی کو نظر بند۔

فیئر اینڈ لَوْلی سے گلو اینڈ لَوْلی تک


معیار ، اخلاق و کردار اور حسنِ سیرت ہی ہے۔ حسنِ صورت ایک تو عارضی ہے اور اصل بات پیمانۂ دنیوی میں بھی یہ ہے کہ حسن و حسن پرستی چند دن میں زوال پذیر ہو جاتی ہے۔ حسن و عشق کو دیکھنے اور برتنے کی جا دنیا نہیں، جنت ہے۔

حامدہ‘ جب تک چراغِ خانہ تھی، اہلِ خانہ و صاحبِ خانہ سب ہی شاکر بھی تھے اور خوش بھی اور سب سے بڑھ کر ’حامدہ‘ خوش حال تھی۔ جب سرمایہ دارانہ نظام ’حامدہ‘ کو گھر سے نکال کر لایا اور اس کو شمعِ انجمن بنایا تو ساتھ ہی اس کو بتایا کہ اس منڈی میں حسن بکتا ہے۔اس نظام میں حُسن ملاحتِ نقوش کا نام ٹھہرا تو پلاسٹک سرجری آئی، حسن ملاحتِ لون کا نام ہوا تو سیکڑوں کاسمیٹکس میں ایک اور ’فیئر اینڈ لولی‘، ’ ہندوستان یونی لیور ‘ نے متعارف کروائی کہ ہمارے خطے کا غالب رنگ گورا نہیں گندمی و سانولا ہے اور چونکہ فکر و تحریکِ حسنِ بازار مغرب سے آئی تو معیارِ رنگ ہمارے یہاں ’سفیدی‘ ٹھہرا۔

مغربی حسن کا بھی اس نظام نے استحصال کیا اور وہاں رنگِ ’گندمی‘ و سانولے پن کی تلاش میں tanning‘ ہوتی ہے۔

سرمایہ دارانہ جمہوریت میں، آزادیٔ نسواں کے فلسفوں میں، ’فیمن ازم‘ نے بھی زور مارا۔ گھروں کو توڑنے کے لیے بقولِ شخصے ’مرد مار قسم کی عورتیں‘ نکلیں۔ اب فکر میں غلبہ صرف ’مردوں‘ کو درکار ’مال‘ کا نہیں رہا، عورتیں گاڑی کا مساوی پہیہ ہیں۔ سو وہ تو مردوں ہی کی طرح کہیں کالی ہیں، کہیں گوری اور کہیں گندم گوں۔ فیمن ازم نے ’گوری اور خوبصورت‘
(Fair & Lovely) کا رد کیا اور سرمایہ دارانہ نظام نے فوراً اپنا brand بدلا، اب درکار مال ’چمکتی اور خوبصورت‘ (Glow & Lovely) ہو گیا ہے۔

کل کلاں اگر گٹر میں نہانا معیار ٹھہرا تو جس طرح چین میں ’تازہ ہوا کے کنستر‘ (Fresh Air Cans) ملتے ہیں اسی طرح گٹر کا ’آبِ حیات‘ بھی بِکنے لگے گا، امریکہ میں Grass Juice یعنی گھاس کا رس اور Grass Shake یعنی گھاس کا ملک شیک تو اب بھی بکتا ہے اور بہت مہنگے داموں۔

اضافۂ حسن اور اچھا دکھنا انسانی فطرت ہے، لیکن گوروں کو کالا بننے کی تحریض اور کالوں کو گورا بنانے کی مہم استحصال ہےاور کسی قسم کا بھی استحصال ایک بری چیز ہے۔گھر کی زینت گھر میں جچتی اور اچھی لگتی ہے، دِل کیسا ہی قیمتی اور اہم کیوں نہ ہو کوئی بھی اس کو سینوں کی تہوں سے نکلوا کر ماتھے پر لگوانا نہیں چاہے گا۔

میں غلام ابن غلام ہوں


سعودی عرب نے ۲۹ اپریل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ امن کا خواہاں ہے۔ غلاموں کا نہ اپنا کوئی مسلک ہوتا ہے نہ طریق، نہ ہی ان کی کوئی رائے ہوتی ہے اور نہ ہی موقف۔ غلام کا کام تو بس آقا کی اقتدا میں ہر وہ فعل کرنا اور طوطے کی طرح ہر وہ قول دہرانا ہوتا ہے جس کا ظہور آقا سے ہو۔

سعودی عرب نے چھ سات سال لمبی جنگ ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف لڑی اور کروڑوں ڈالر کا اتحاد تشکیل دیا۔ یمن میں حوثیوں کی پشت پناہی جہاں ایران نے کی تو قاسم سلیمانی دوسری سائیڈ نے مار دیا (دراصل امریکی مفاد ہی سعودی مفاد تھا اور ہے)۔ حوثیوں نے میزائلوں اور بارود سے لیس ڈرون طیارے جہاں سعودی تیل کی ریفائنریوں پر گرا کر سعودی عرب کا نصف تیل کچھ دن کے لیے بند کر دیا جس سے تیل کی عالمی منڈی میں طوفان آ گیا تو اس سے قبل سعودی عرب نے تمام ایرانی اتحادیوں کا ناطقہ بند کرنے کی کوشش کی۔

سعودی عرب کا اصل آقا تھا اور ہے ’امریکہ بہادر ‘ اور امریکہ میں ’متشدد ایران مخالف ‘ٹرمپ رخصت ہوا اور ’منافق ‘جو بائیڈن متمکن۔ اوبامہ دور کے معاہدوں کو پھر سے جاری کرنے کی بات ہوئی اور مصالحت نما شروع ہوئی۔ ایسے میں غلام ابن غلام ابن غلام یعنی محمد بن سلمان بن عبد العزیز کی حکومت نے بیان دیا کہ ایران کے ساتھ امن کے خواہاں ہیں۔

بوجھیے یہ کس کا بیان ہے


اقتدار میں آیا تو بدترین معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ بدترین سیاسی بحران الگ تھا۔ صدی کی بدترین وبا کا مقابلہ کرنا پڑا۔ دوسری طرف اتنی کم مدت میں جس طرح معیشت نے میرے دور میں ترقی کی ہے ماضی میں اس کی کوئی مثال موجود نہیں۔ ‘

بوجھو تو جانیں، ہم تم کو مانیں؛ یہ کس کا بیان ہے؟ یہ بیان ہے امریکی صدر جو بائیڈن کا۔ آپ کیا سمجھے عمران خان کا ہے؟

٭٭٭٭٭


1 مجھے کیانی کی یہ ویڈیو القاعدہ برِّ صغیر کے اعلام (میڈیا)سے وابستہ ایک ساتھی نے دکھائی جو فوج میں موجود بعض مجاہدین نے بھیجی ہے۔

2 اساطیر الاولین: پچھلے لوگوں کے قصے کہانیاں۔

3 خدانخواستہ اللہ کی تخلیق کا مذاق اڑانا مقصود نہیں ہے۔ جو بائیڈن نے اپنے حکم نامے میں Transgender‘ کی اصطلاح استعمال کی جو ہمارے معاشرے میں ’کھسر*‘ کہلاتے ہیں اور یہ پیشہ ور و بد کردار لوگ ہوتے ہیں۔

4 ہم بھی خوامخواہ اس پر حیران ہو رہے ہیں حالانکہ پاکستان میں ’الماس بوبی‘ عرف ’جنرل کیانی‘ اور ’راحیل شریف‘( جس کو بچپن سے ہی ’بوبی‘ کہتے تھے )، ’آرمی چیف‘ رہ چکے ہیں۔

Exit mobile version