بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على حبيبنا و رسولنا محمد وآله وصحبه أجمعين.
الله أكبر، الله أكبر ،لاإله إلا هو، أنجز وعده ،و نصرعباده وهزم الأحزاب وحده, أما بعد
اللہ ہے اور اللہ کے سوا کوئی نہیں! لاالہ الا اللہ واللہ اکبر!اللہ نے اپنا وعدہ پورا کردیا، اپنے بندوں طالبان کی،امارت اسلامی کے مجاہدین اور مجاہدافغان قوم کی نصرت فرمائی اور بلاشبہ اس رب کریم نے پوری امت کو ہی ایک عظیم الشان فتح مبین سے نوازا … وہ جوزمین پر خدائی کا دعویٰ کرکےنکلا تھا، جس نے اعلان کیا تھا کہ یہاں اسی کی بادشاہی چلے گی ، اسی کی تہذیب اور اس کا نظام غالب ہو گا،اورجس نے کہاتھا کہ مجاہدین ِطالبان کو زمین سے فنا کرکے لوٹے گا، اُس ابرہہ کے لشکر کا تکبر اللہ نے اپنے ضعیف بندوں کےہاتھوں خاک میں ملا دیا اورخالق کائنات ، رب السموات والارض نے ایک دفعہ پھر دکھا دیا کہ لاالہ الا اللہ ولا حول و لا قوۃ اِلا باللہ !… ا میر المومنین ملا محمد عمر رحمہ اللہ کی قبر کو اللہ نور سے بھر دے ، آپ نے فرمایا تھاکہ بش ہمیں شکست دینے اور فنا کرنے کا جبکہ اللہ ہماری فتح و نصرت کا وعدہ کررہاہے ، دنیا دیکھے گی کہ کس کا وعدہ سچا ہے ۔ سبحان اللہ ! اللہ نے اپنے اس بندے کا ایک حرف حرف سچا کر دکھایا اور دنیا نے دیکھ لیا کہ اللہ کا وعدہ سچا تھا ، سچا ہے اورہمیشہ سچا رہے گا۔ اللہ رب العزت کا فرمان ہے : ﴿قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا﴾’’ تمہارے لیے (آیت ہے، اللہ کی واضح ) نشانی ہے دوگروہوں میں کہ جب وہ آپس میں لڑے ‘‘﴿فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾’’ایک گروہ اللہ کے راستے میں لڑ رہا تھا‘‘ ﴿وَأُخْرَى كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُمْ مِثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ﴾’’اور دوسرا کافر تھا جو اپنے آپ کو ظاہری آنکھ سے (اہل ایمان سے قوت و تعداد میں) زیادہ دیکھتا تھا ‘‘؛ مگر کون جیتا؟ جو قوی تھا، کثرت میں تھا کیا وہ غالب ہوا؟ نہیں، نصرت اور فتح کا انحصار قلت و کثرت پر نہیں ہے، ﴿وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ﴾، نصرت صرف اللہ کی طرف سے ہے، اسی کے ہاتھ میں ہے ، اس لیے آگے فرمایا ﴿ وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَنْ يَشَاءُ ﴾ ’’اور اللہ جس کی چاہے نصرت کرتاہے ‘‘ ﴿إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لِأُولِي الْأَبْصَارِ﴾’’بیشک اس میں عبرت ہے ‘‘ سب کے لیے ؟ نہیں!’’اُن کے لیے جن کے دل کی آنکھیں بینا ہوں ‘‘۔سورۃ آل عمران کی یہ آیت غزوہ بدر کے متعلق نازل ہوئی ہے، مگر سبحان اللہ! اللہ کا کلام زندہ کلام ہے، یہ ہر دورمیں زندہ دلوں میں ایمان پیدا کرتاہے اور اہل ایمان کو قوت وہمت بخشتا ہے، ایسا لگ رہاہے کہ جیسے یہ آیت آج امارت اسلامی ہی کی اس عظیم الشان فتح پر تبصرہ کرتی ہے۔ امریکہ، اس کے اتحاد اورامارت اسلامی کے مجاہدین کے درمیان کیا تقابل تھا؟ ایک دنیا کا سپر پاور تھا ، اکیلے نہیں بلکہ پچاس ممالک کی انتہائی اعلیٰ افواج بھی ساتھ تھیں ،اس کے پاس وہ ٹیکنالوجی تھی کہ جو پوری انسانی تاریخ میں کسی کو نہیں ملی ،یہ ٹیکنالوجی ہی تھی کہ جس کے باعث اس نے خدائی کا دعوی کیا تھا جبکہ دوسری طرف اہل ایمان طالبان تھے، انتہائی قلیل اور مکمل طور پر بے سروساماں ۔ ٹوٹے پھوٹے چھوٹے ہتھیار اور ہاتھ کےبنائے ہوئے بارودکے سوا کچھ بھی ان کے پاس نہیں تھا۔ پھر اس قوی ترین طاقت نے اس ضعیف گروہ کے خلاف انتہائی بے دردی اور بے رحمی کے ساتھ یہ جنگ لڑی، لڑی بھی اپنی تاریخ کی طویل ترین اور مہنگی ترین جنگ ۔ مگرانجام میں کیا ہوا ؟نتیجہ کیا نکلا؟سپر پاور پٹ گیا، ہار گیا، دنیا بھرکی نظروں میں رسوا ہو گیا ۔اس کی ٹیکنالوجی کا بت ٹوٹ گیااور سپر پاور ہونے کا وہ رعب اور دبدبہ سب خاک میں مل گیا۔ اس نے اپنا نظام قائم رکھنے کے لیے یہاں تین لاکھ کی مقامی فوج بنائی ،اسے اعلیٰ سے اعلیٰ ٹریننگ دلوائی، بہترین اورانتہائی قیمتی وسائل اس پر خر چ کیے ، پر یہ فوج بھی اللہ کے شیروں کے سامنے نہیں ڈٹ سکی اور بالآخر تمام تر ہتھیاراور سارا سازوسامان مجاہدین کے قدموں میں رکھ کر تسلیم ہوگئی، تحلیل ہوکرمٹ گئی اور مکمل طور پر ختم ہوگئی۔ جس اسلامی امارت کو فنا کرنے کے لیے امریکہ نے اپنی یہ تاریخی جنگ لڑی ، اس کے مجاہدین امریکیوں کی نظروں کے سامنے تکبیر کے نعروں اور توحید کے جھنڈوں کے ساتھ پایۂ تخت کابل پر قابض ہوئے ، صدارتی محل کو پاؤں تلے روندا اور سورۃ النصر کی تلاوت کرکے فتح کا اعلان کردیا ﴿قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا﴾،اس میں اللہ کی نشانی ہے اور ﴿إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لِأُولِي الْأَبْصَارِ ﴾ چشمِ دل رکھنے والوں کے لیے ہی اس میں عبرت ہے۔ وہ سارے ہتھیار، طیارے ، جدید عسکری گاڑیاں اور انتہائی قیمتی وسائیل جوجہاد کا راستہ روکنے کے لیے یہاں لائے گئے تھے وہ سب کا سب مجاہدین فی سبیل اللہ کو اللہ نے دے دیا اور یوں جن وسائل نے کفریہ نظام کو تقویت دینی تھی آج کے بعد وہ اسلامی نظام اور اسلام کی خدمت میں ان شاء اللہ استعمال ہو ں گے۔﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ﴾’’جوکافرہیں وہ اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکنے کے لئے اپنے اموال خرچ کرتے ہیں ‘‘ ﴿فَسَيُنْفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ﴾’’تو یہ خرچ کریں گے پھر (اسی مال پر) انہیں افسوس ہوگا پھر آخر کار مغلوب ہوں گے ‘‘۔دنیا حیران ہے، پورا عالمِ کفر سکتے میں ہے، انہیں سمجھ ہی نہیں آرہا کہ یہ کیا ہوا اور کیسے ہوا ۔ کوئی حقیقت پسند آدمی اس کی مادی توجیہ نہیں کرسکتا ، اس کی ایسی کوئی توجیہ ہو ہی نہیں سکتی ہے ! بلکہ ایک بے دین آدمی بھی ، جس کی نظر مادی دنیا سے کبھی اوپر نہیں اٹھی ہو ، اگر اس کے دل پر تعصب اور تکبر کا زنگ نہیں چڑھا ہواور وہ صاف دل اور کھلی آنکھوں کے ساتھ اس کا جائزہ لے ، تو ہر قدم پر اسے غیبی قوت نظر آئے گی اور اس جنگ کا ہر پہلو اور ہر واقعہ اس کو اللہ کی ذات عظیم کے ساتھ روشناس کرائے گا ، اس لیے کہ تاریخ کا یہ انتہائی اہم باب ’’آيَة مِنْ آيَاتِ الله‘‘ ،اللہ کی عظیم نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔
میرے عزیز مسلمان بھائیو!
یہ عظیم الشان واقعہ ہماری انفرادی زندگی میں بھی ہماری رہنمائی کرتاہے اور ہماری اجتماعی اور تحریکی زندگی میں بھی یہ ہمیں بہت کچھ سمجھا تا ہے ۔اس عظیم فتح کے اسباب پر ہم اگر غور کریں گے تو بحیثیت فرد بھی یہ ہمیں اللہ کے ساتھ جوڑیں گے اور بطورِ تحریک بھی ا ُس راستے پر یہ ہمیں چڑھائیں گے کہ جوامت مسلمہ کی عزت و آزادی اور ہدایت اورنصرت کا راستہ ہے ۔ اس پُر نور سفر کا سب سے اول قدم اللہ پر ایمان ہے ، اللہ سبحانہ ٗ و تعالی کے وعدوں پر یقین ہے ۔ محض زبان کی نوک پر نہیں ،بلکہ دل کے اندر تک یہ مصمم یقین کہ خیر و شر کسی مخلوق کے ہاتھ میں نہیں ہے ،زندگی اور موت ، کامیابی اور ناکامی، اور عزت اور ذلت کا اختیار صرف اور صرف خالق کائنات اللہ رب العزت کے ہاتھ میں ہے ۔حالات ظاہراً جتنے بھی خطرناک اور خوفناک ہو ں، ان سے نہ ڈرنا چاہیے اور نہ ہی ان سے مایوس ہونا چاہئے بلکہ یہ حالات جس رب ذوالجلال کے ہاتھوں میں ہیں ، اس کی طرف متوجہ ہونا اصل ہے، اُسی سے ہی امیدیں رکھنا اور اُس کے سوا پوری دنیا سے ناامید ہوجانا ہی اس عظیم واقعے کاسبق ہے ۔ ساتھ یہ حقیقت بھی دل و ذہن میں بسانا کہ اسباب کا کبھی اسیر نہیں بننا ،اس کی غلامی کبھی قبول نہیں کرنا بلکہ رب الاسباب کابندہ اور غلام رہنا، اسی کی ناراضگی سے ڈرتے رہنا اور اسی کو راضی کرنے کی سعی کرنا …اللہ پر یہ ایمان اور اللہ کے وعدوں پر یہ یقین اس راستے کااولین پڑاؤ ہے ۔ یہ وہ زادِ راہ تھا کہ جس نے امارت اسلامی کے کمزور اور انتہائی قلیل لشکر کو فولاد سے بھی زیادہ قوی کردیا اور یوں انہوں نے ’زمینی حقائق ‘ نامی حصارکے اندر اپنے آپ کو محصور نہیں کیا ، بلکہ اللہ کے امر پر اس حصار کو توڑنے کا عزم صمیم کیا ۔ پوری دنیا ڈرا رہی تھی ، کوئی دباؤ ڈال کر اور کوئی خیر خواہ بن کر مصلحت کی پٹیاں پڑھا کر ،کہ اس طوفان کے مقابل کھڑا ہونا عقلمندی نہیں ہے ۔سر نیچے کرلو،جھک جاؤ، مصلحت سے کام لو! مگر ’حاضر و موجود ‘ سے بیزار یہ مومنین اللہ پرایمان رکھتے تھے ، وہ اللہ ذوالجلال جو انہیں مخاطب تھا کہ﴿ إِنْ يَنْصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ﴾’’اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تمہیں مغلوب نہیں کرسکتا‘‘﴿ وَإِنْ يَخْذُلْكُمْ﴾’’اور اگر یہ اللہ تمہیں چھوڑدے ‘‘﴿ فَمَنْ ذَا الَّذِي يَنْصُرُكُمْ مِنْ بَعْدِهِ﴾’’تو کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے‘‘﴿ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ﴾’’اور مومنین تو بس اللہ ہی پر توکل کرتے ہیں ‘‘دنیا کچھ اور دکھا اورسمجھا رہی تھی ، جبکہ اللہ انہیں بتا رہاتھاکہ دشمن کے برابر طاقت و قوت جمع کرنا تمہارے اختیار میں نہیں ہے مگر ایمان کے تقاضے تو تم پورا کر سکتے ہو ، اور یہ اگر تم نے کیا تو پھر غم نہیں کرنا! پریشان مت ہو نا ،تم ہی غالب ہوں گے ۔ ﴿وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ ﴾’’اور کمزوری مت دکھاؤ، غمزدہ مت ہو ، تم ہی غالب ہو گے اگر تم مومن ہو‘‘۔ لہٰذا اس کامیابی کا دوسرا اہم سبب یہ ہے کہ انہوں نے ایمان کے بعد اس کا تقاضہ بھی پورا کیا ، اللہ کی پکار پرلبیک کہا اور حصول منزل کے نام پر کسی ایسے راستے پر قدم نہیں رکھا کہ جو اللہ کی ناراضگی کا باعث تھا ۔جن کو اپنانا ضروری تھا، انہیں دشمن نہیں بنایا ، ان کے جان ومال اور عزت و آبرو کی حفاظت انہوں نے اپنا اہم مقصدرکھا اور جو دین وملت پرحملہ آور تھے ، ان کے ساتھ کسی قسم کی مداہنت نہیں کی۔ جمہوریت کی بساط بھی ان کے سامنے بچھائی گئی،اس جال اور پھندے کو بڑامزین کردیا گیا اور انہیں دعوت دی گئی کہ آؤ اسی سے تمہیں منزل ملے گی ،اسلام نافذ کرنا ہے تو اس کا راستہ بھی یہی جمہوریت ہے۔ مگر ان مومنین کے دلوں میں نور تھا ، انہیں اس راستے کی حقیقت واضح ہوچکی تھی ،وہ سمجھتے تھے کہ یہ راستہ راستہ نہیں ، بلکہ یہ تباہی و ناکامی کی خطرناک کھائی ہے ، فرعون عصر کا یہ دجل و فریب ہے ،لہذا انہوں نے صرف اُس راستے پر ہی اپنا سفر جاری رکھا جس پر چلنے والوں سے اللہ نے نصرت و تائید کا وعدہ کیا ہے، انہیں اللہ حکم دے رہا تھا کہ ﴿ فَقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ ’’اللہ کے راستے میں لڑو‘‘کوئی اور لڑے نہ لڑے ، کوئی تمہارا ساتھ دے یا نہ دے، تم لڑو ﴿لَا تُكَلَّفُ إِلَّا نَفْسَكَ﴾’’تم سے تمہارے عمل کا پوچھاجائے گا‘‘﴿ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ﴾’’اور مومنین کو بھی تحریض ِقتال دو ‘‘ انہیں بھی دعوت ِ جہاد دو﴿عَسَى اللَّهُ أَنْ يَكُفَّ بَأْسَ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ ’’قریب ہے کہ اللہ کافروں کا زور توڑ دے‘‘ ﴿وَاللَّهُ أَشَدُّ بَأْسًا وَأَشَدُّ تَنْكِيلًا﴾’’اور اللہ سخت جنگ والا اور سخت انتقام لینے والا ہے‘‘۔ دعوت وجہاد کا یہ راستہ ظاہراً مشکل اور طویل تھا، مگر اہل ایمان کی نگاہیں احکامِ شریعت کی طرف تھیں، وہ جانتے تھے کہ یہی رخ بہ منزل اور عظمتوں کی طرف جانے والا راستہ ہے اور تاریخ نے یہ ثابت کیا کہ جب یہ اہل ایمان اس راستے سے نہیں ہٹے، انہوں نے اللہ کے ساتھ جب اپنا وعدہ پورا کیا تو اللہ نے بھی اپنا وعدہ پورا کر دکھایا، دشمن کا زور ٹوٹ گیا، اس کا حوصلہ جواب دے گیا اور غلبہ اسلام کی منزل سامنے کھڑی نظر آئی۔
ایک اہم پہلو یہ بھی ملاحظہ ہو کہ ایسا نہیں تھا کہ آج اس راستے پر قدم رکھا گیا اوربس اگلے دن منزل مل گئی ۔ نہیں ! اس کٹھن اور مسلسل سفر میں سالہا سال لگ گئے اور ایسے بے شمار لمحات بھی اس میں آئے کہ جن کی طوالت اور سنگینی کئی کئی عشروں پر بھی بھاری تھی ۔ہلا مارنے والی آزمائشیں، قربانیوں کی ایک منفرد اور انتہائی طویل تاریخ، اور اہم یہ کہ یہ ساری قربانیاں کسی فوری اور دنیاوی نتیجے کو سامنے رکھ کر نہیں دی گئیں، ہر ایک شاہد ہے کہ فتح بھی یہاں ثانوی امر رہا اور اولین مقصد یہاں اللہ کی خوشنودی کا حصول تھا۔ یہاں کوئی ایک مجاہد بھی ایسا نظر نہیں آیا کہ جو فتح کے لیے لڑ رہاہو۔ فتح مقصد ضرور تھا مگر اولین ہدف بس اپنے حصےکافرض نبھاناتھا، اللہ کے اوامر کی تعمیل مدنظر تھی، جبکہ نتائج کا معاملہ مکمل طور پر اللہ کے سپرد تھا۔ ’’إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ‘‘1 میں شہادت، یعنی جنتوں کا حصول اور رضائے الہیٰ کی یہ چاہت ہی غالب رہی جبکہ دشمن پر غلبے کی چاہت ــجس کو اللہ نے بھی ’’وَأُخْرَى تُحِبُّونَهَا‘‘ ’’اور وہ ’دوسری چیز ‘جو تمہیں پسند ہے ‘‘ فرمایا ہےــ ان کے یہاں بھی دوسرے درجہ پر ہی تھی،یہ اللہ کے سپرد تھا اور اس کے لیے کسی قسم کی عجلت سے کام نہیں لیا گیا۔نتائج کا بظاہر نظر نہ آنا اور قربانیاں دیتے رہنا، منزل کے آثار دور دور تک نظر نہ آنے کے باوجود بھی رخ بہ منزل سفر جاری رکھنا اور تھک کرمایوس نہ ہونا بحیثیت فرد اور قوم یہ کوئی کم آزمائش نہیں تھی، مگر افراد واقوام دونوں کے معاملے میں اللہ کے ہاں اسی آزمائش میں سرخرو ہونا مطلوب ہوتا ہے ﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجَاهِدِينَ مِنْكُمْ وَالصَّابِرِينَ وَنَبْلُوَ أَخْبَارَكُمْ﴾2 امام شافعی رحمہ اللہ سے کسی نے تمکین اور ابتلاء کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: آزمائش و ابتلاء کے بغیر بھی کبھی کسی کو تمکین ملی ہے؟ ابتلاء پر صبر کیے بغیر اہل ایمان کو تمکین کبھی نہیں ملاکرتی ۔لہٰذا فتح نظر نہ آنے کے باوجود بھی صبر و ثبات کے ساتھ راہ ِ جہاد پر آگے بڑھنا ، اپنے حصے کا فرض نبھانا ، دنیاوی نتائج سے بے نیاز ہوکر بس اللہ کے ساتھ صدق و وفا پر قائم رہنا اللہ کو مطلوب تھا اور امارت اسلامی کے مجاہدین اور یہ افغانی قوم جب اس پیمانہ پر پوری اتری ، جب اس نے ﴿…فَمَا وَهَنُوا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَكَانُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ ﴾3کے مطابق اپناآپ ڈھال دیا اور توبہ و استغفار اور اللہ کے سامنے عاجزی اختیار کر کے آگے بڑھتی گئی تو پھر کہیں جاکر اللہ نے﴿ فَآتَاهُمُ اللَّهُ ثَوَابَ الدُّنْيَا﴾ 4دنیاوی فتح سے بھی نوازا اور اچانک اپنی رحمتوں اور نوازشوں کی ایسی بارشیں برسائیں کہ سب حیران رہ گئے، پردہ یکایک اٹھ گیا، وہ منزل جودور تھی اچانک سامنے نظر آئی اور ایسی شان کے ساتھ پہنچ گئی کہ ہر مجاہد کو اس میں شک نہیں رہا کہ ایسی عظیم الشان اور منظم فتح اللہ کی خصوصی نصرت کے بغیر ناممکن تھی ۔یہ خالصتاً اللہ سبحانہ ٗ و تعالیٰ کا انعام ہے ۔ ہر ایک کو لگا کہ جیسے آسمانوں سے آج خاص فرشتے اترے ہوں اور پورا نظام انہوں نے یکایک اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہو، جہاں اور جس طرف بھی مجاہدین رُخ کریں، وہاں رکاوٹیں اٹھتی چلی جائیں، اورکیا دشمن اورکیا ان کا سازو سامان سب مجاہدین کے قدموں میں آگریں۔ جس طرح غزوہ بدر میں قیدیوں کو گرفتار کرتے وقت جسمانی لحاظ سے ایک کمزور اور نحیف صحابی بہت قوی اور پہلوان قیدیوں کو ہانکے چلے جا رہےتھے ، یہاں بھی ہر جگہ ایسے مناظر دیکھے گئے کہ سینکڑوں ہزاروں فوجی اپنے سامنے کھڑے چند طالبان کے قدموں میں اپنے ہتھیار رکھ رہے ہیں اور وہ چند طالبان اپنی بندوقیں کندھوں پر لٹکائے ہاتھ کی چھڑی سے انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکے جار ہے ہیں۔ قندھار کے صرف ایک میدان میں بارہ ہزار فوجی محض ساڑھے پانچ سو طالبان کے سامنے سرنڈر ہوئے ۔ یہ ہتھیار رکھنے والے کچھ کم مجرم نہیں تھے ، یہ انتہائی جاہل بھی تھے اور ضدی اور وحشی بھی؛ شاہ سے بڑھ کر شاہ کے وفادار، ایسے ایسے مظالم انہوں نے ڈھائے ہیں کہ جنہیں سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ مگرآج اللہ نے ان کے دلوں میں یکایک کچھ ایسا خوف ڈالا کہ کچھ تو جنگ میں کام آئے اور باقی سب کے سب مجاہدین کے آگے سرجھکاکربیٹھ گئے ۔کسی کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ حکومت کا اتنا بڑا نظام ہوا نکلے غبارے کی طرح یکایک پھس ہوجائے گا ۔ یکم محرم الحرام کو صوبہ نیمروز سے یہ سلسلہ شروع ہوا اورپھر فراہ ، ہرات ، غزنی اور قندھار سے ہوتے ہوئے اگلےچند دنوں میں کم و بیش سارے صوبے سقوط کرگئے ۔ ہر جگہ ایک طرح کی کہانی ہے ، مجاہدین نے محاصرہ کیا،تھوڑی دیر جنگ کی ، سامنے سے کچھ مزاحمت ہوئی اور پھر بھاگنے اور تسلیم ہونے والے فوجیوں کی لائن لگ گئی۔ ایک ہفتہ کے اندر اندر پورے افغانستان میں حالت یہ ہوئی کہ عالی شان حکومتی عمارتیں تو کھڑی ہیں ، وسیع و عریض چھاؤنیوں میں جدید ہتھیار، فوجی گاڑیاں، طیارے ، ہیلی کاپٹر اور دیگر عسکری سازو سامان بھی بے تحاشہ ہے مگر ان سب میں کہیں کوئی ایک حکومتی فرد نہیں ،ایک فوجی نہیں اور سب کچھ پر مجاہدین ِطالبان کا قبضہ ہے ۔امریکی چینل پر کسی صحافی نے کہا کہ تصور میں بھی نہیں تھا کہ جس فوج کو امریکہ اور پورے مغرب نے مل کر بیس سالہ محنت سے کھڑا کیا ، وہ ریت کی دیوار ثابت ہوگی اور طالبان کے سامنے یہ مضبوط قلعے کاغذی کھلونے بن کر بیکار ہوجائیں گے۔ إن فی ذلك لعبرۃ لأولی الأبصار !
یہ خالصتاً اللہ کی نصرت ہے اور مکرر عرض کروں کہ یاد رکھنے کاسبق یہ ہے کہ یہ انعام اللہ پرغیر متزلزل ایمان اور اتباع ِ شریعت کے ساتھ راہ ِ جہاد کی آزمائشوں پر طویل اور ایک غیر مشروط صبر کے بعد ہی ملاہے۔ بیس سال قبل جب امریکہ نے حملہ کیا اور امارت اسلامی کا سقوط ہوا، شہر پر شہر بہت کم دنوں میں امریکی اتحاد کے ہاتھوں میں گئے تو امیر المومنین ملا عمر رحمہ اللہ کے ساتھ بی بی سی کے ایک صحافی نے مخابرے پر انٹرویو کیا تھا ۔ امیرلمومنین نے کہا کہ’’ جس طرح آج کی تبدیلی دنیا نے دیکھ لی، اس طرح میری بات سن لیں، میں زندہ ہوں گا یا نہیں، مگر یاد رکھنا ایسی ایک تبدیلی دنیا ایک دفعہ پھر دیکھے گی، ایک دفعہ پھر سب شہروں پر مجاہدین قبضہ کریں گے اور امریکہ اور اس کے یہ حواری سب رسوا ہو کر نکلیں گے ‘‘۔ صحافی نے پوچھا کہ آپ کسی ہتھیار کی دھمکی دے رہے ہیں یا آپ کی کچھ اور مراد ہے ؟ جواب میں امیر المومنین نے فرمایا’’ یہ ہتھیار کاکام نہیں ، ہم الٰہی نصرت کے منتظر ہیں اور خاص اللہ پر ہمارا بھروسہ ہے ۔ ہم سے غلطیاں ہوئی ہوں گی، لہٰذا اس سقوط میں ہمارے لیے خیر ہی ہے ،اس میں ہمارے گناہوں کا کفارہ ہوگا، ہم اللہ سے مغفرت کے طلب گار ہیں، مگر ہم اپنا جہاد جاری رکھیں گے اور ہمیں یقین ہے کہ ایک نہ ایک دن اللہ کی نصرت اترے گی اور ایک دفعہ پھر یہ منظر تبدیل ہوگا ‘‘ ۔ سبحان اللہ! ابھی جب کابل پر مجاہدین کا قبضہ ہوا اور صدارتی محل میں اشرف غنی کی کرسی پر بیٹھ کر ایک طالب بھائی نے سورۃ النصر تلاوت کی تو اس کلپ کے ساتھ ہی آخر میں کسی نے امیر المومنین کی آواز میں ان کا یہ قول بھی لگا دیاہے اور میں نے دیکھا کہ اس ایمان افروز قول کو آج جس نے بھی سنا اس کا دل کانپ گیا اور آنکھوں میں اس کے آنسو بھر آئے۔
اس فتح کے کئی ایسے پہلو بھی ہیں کہ جنہیں دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے ، امارت اسلامی کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ رب کریم نے اس امت پر اس دور میں اتنا بڑا کرم کیا۔ یہ دور کہ جس میں دین و ریاست کی جدائی حقیقت سمجھائی جاتی ہے،معاشرتی طور پر ہرسُو لادینیت کا غلبہ ہونے لگاہے اور حالت یہ ہوگئی ہے کہ خود دینی تحریکات تک کا بھی ایک بڑاحصہ اپنی جدوجہد میں غلبہ اسلام کو اپنا نصب العین بتانے میں شرماتا ہے اور نظام باطل میں بس دینداروں کے لیے’ گنجائش ‘ کی تلاش ہی انہوں نے اپنی جدوجہد کا مقصد بنایا ہوا ہے ،ایسے میں افغانستان میں یہ کامیابی خود ان دینی تحریکوں میں بھی انشاء اللہ جان ڈالے گی ، ان کے مفاہیم ، اصطلاحات ، اہداف اور انداز میں تبدیلی آئے گی جبکہ دنیا بھر میں سیکولرازم کے داعیوں کے لیے بھی بلاشبہ ایک دعوت ِفکر ہوگی ، اس لیے کہ انہیں اب سر کی آنکھوں سے نظر آگیا کہ جس نور کے بجھانے کے وہ خواب دیکھتے تھے وہ میڈیا اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی الحمدللہ پوری دنیا کو منور کرنے لگا ہے۔ اس طرح اس فتح کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ایک وہ داعش کی شب تھی، وہ اندھیری رات کہ جس کا ہر پہلو ظلم، تکبر اور وحشت پر مبنی تھا اور دل کٹتا تھا کہ یا اللہ دین اسلام سےلوگوں کو متنفر کرنے کے لیے کوئی ایک بھی کسر ان ظالموں نہیں چھوڑی ہے اور ایک آج کا یہ اُجالا ہے کہ جس نے دنیا کو بتادیا کہ اُس رات کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔آج اہل ایمان کے اعلیٰ اخلاق کا اظہار ہے اور ایسے وقت اس کا مظاہرہ ہے کہ جب یہ مجاہدین فاتحین ہیں ۔ یہ غالب اور قوت کے ساتھ ہیں مگر کوئی کبر نہیں ہے، کوئی بداخلاقی نہیں ہے، تواضع اور عاجزی ہے ۔خالق کے سامنے گڑگڑانا اور سجدے ہیں، جبکہ مخلوق، تسلیم شدہ دشمن اور عام عوام ،بلاتفریق پوری قوم کے ساتھ انتہائی اچھا سلوک ہے ۔ سچ ہے کہ اخلاق کا صحیح پتہ تب ہی چلتاہے جب قوت واختیار ہاتھ میں ہو ۔ طاقت موجود ہو اور اس کے باوجود بھی اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے تو یہ عمل اسلام کی ایک چلتی پھرتی دعوت ثابت ہوتاہے اور جو بھی اسے دیکھتاہے اس کے دل میں اسلام اور جہاد کی عظمت بیٹھ جاتی ہے۔
شہر ِکابل میں مجاہدین فاتح بن کر داخل ہوتے ہیں، وہ کابل کہ جس کے اندر وہ دشمن قیادت موجود ہے کہ جس نے ان فاتحین کے خلاف درندگی اور بداخلاقی کی سب حدود پار کی ہیں، مگراس کے باوجود اعلان ہوتا ہے کہ سب کے لیے عام معافی ہے، کسی کو کچھ نہیں کہا جائے گا،عسکرفوجی اور سیاسی قیادت کوئی ایک بھی نہ بھاگے ، کوئی ہم سے نہ ڈرے ، کسی کو ہم کچھ بھی نہیں کہیں گے۔ سبحان اللہ! بیس سال کی سخت جنگ کے بعد یہ فتح ملتی ہے اور اس پوری فتح میں کوئی ایک قتل نہیں ہوتا ، کسی ایک انسان کے ساتھ بھی زیادتی نہیں ہوتی، بلکہ بدترین دشمنوں کے ساتھ بھی احسان کیا جاتاہے۔یہ واقعہ فتح مکہ کا وہ مبارک منظر یاد دلاتاہے کہ جہاں بدترین دشمنوں پر بھی قابو پانے کے بعد آپ ﷺ نےاعلان کیا کہ جاؤ تم سب معاف ہو۔ ہرات میں مجاہدین داخل ہوتے ہیں تواسماعیل خان جبکہ قندھار کی فتح کے وقت نورآغا شیرزئی بھی معافی مانگنے رابطہ کرتاہے ، یہ دونوں وہ وارلارڈ تھے کہ جن کی پوری زندگی امریکی حمایت اور طالبان کے خلاف جنگ میں گزری ہے مگر ان کے جرائم بھی معاف کیے جاتے ہیں ،انہیں سینے سے لگایاجاتاہے اور سبحان اللہ اعلان ہوتاہے کہ تسلیم ہونے والوں میں سے جو بھی بڑا ہے، اس کے ساتھ اس کے مرتبہ کے مطابق اچھا سلوک ہو ۔
جب کابل پر مجاہدین کا قبضہ ہو جاتا ہے تو امارت کے ترجمان سے ایک صحافی پوچھتاہے کہ ’اشرف غنی چلا گیا، مگر کابل میں اب عبداللہ عبداللہ ، حامد کرزئی اور حکمت یار صاحب نے سہ رکنی کمیٹی بنائی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ کابل کے عوام کی طرف سے اب وہ ہی طالبان کے ساتھ معاملہ کریں گے، کیا آپ ان کے ساتھ بات کریں گے؟‘ سوچیے جن تین افراد کے نام لیے گئے، ان میں دو مشہور ِزمانہ مجرمین ہیں، ظالموں کے سردار ہیں اور تیسرا وہ فرد ہے کہ جسں نے کبھی ایک دن بھی طالبان کو قبول نہیں کیا، مگر اس سب کے باوجود ترجمان صاحب کہتے ہیں ’’ہم ظلم وفساد ختم کرنا چاہتے ہیں، سب افغانیوں کو اس میں کردار ادا کرنا چاہیے، ان تین حضرات کی کوششیں بھی قابل تعریف ہیں، ہم ان کے ساتھ بیٹھیں گے اور ان کے اقدامات کا شکریہ بھی ادا کرتے ہیں‘‘ ۔
غزنی کے صوبائی دارالحکومت پر مجاہدین نے گھیرا تنگ کیا، جنگ جاری تھی اور مجاہدین شہید ہو رہے تھے؛ دوسری طرف سے جنگ کی قیادت غزنی کا حکومتی والی (گورنر ) کررہا تھا، ایسے میں جب فوج تسلیم ہونا شروع ہوئی تو اس حکومتی والی نے بھی رابطہ کیا کہ ہتھیار رکھتا ہوں لیکن مجھے نکلنے اور کابل تک جانے کا محفوظ راستہ دیا جائے، مطالبہ فوراً قبول کیاگیا، عہد کا پاس رکھا گیا اور پھر سب نے یہ منظر دیکھا کہ والی صاحب اور اس کے ساتھیوں کی حفاظت کے لیے خود مجاہدین آگے آتے ہیں، طالبان کی حفاظت میں یہ قافلہ غزنی سے نکلتاہے اور کابل کے دروازے تک پہنچانے کے بعد ہی یہ مجاہدین واپس ہوجاتے ہیں۔
جب مجاہدین قندھار شہر فتح کر لیتے ہیں تو مارے خوشی کے بعض بھائی ہوائی فائرنگ شرو ع کرتے ہیں ۔اس پر قندھار کےوالی حاجی وفا صاحب، اللہ ان کی حفاظت فرمائے، سخت ناراض ہوجاتے ہیں اور مجاہدین کے نام فورا ایک امر صادر کرتے ہیں ، والی صاحب انتہائی دکھ کے ساتھ روہانسی آواز میں مخاطب ہوتے ہیں کہ ’’یہ فائرنگ کس نے کی ؟ جس نے کی اُس سے بندوق لی جائے۔ کس بات پر فائرنگ کرتے ہو؟ کس پر تم نے رعب بٹھانا ہے؟ کس کے آگے اپنی قوت دکھانی ہے؟ اللہ کا خوف کریں! اللہ کے سامنے سجدہ کریں، روئیں اللہ کے سامنے، اس کے سامنے آہ و زاری کریں کہ اس نے اتنا بڑا رحم ہم پر کیا، اس قوم پررحم کیا۔ خوشی کس بات کی ہے؟ اور یہ خوشی کا کس طرح کا اظہار ہے ؟ خوشی تو تب ہوگی جب ہم اپنے آپ پر اور اپنی عوام پر اللہ کی شریعت، اسلامی عدل نافذ کریں۔ اب کس بات کی خوشی ہے؟! تواضع اختیار کرو، تکبر سے بچو! یہ فتح ہماری تمہاری طاقت سے نہیں ملی ہے، یہ اللہ نے دی ہے اور یہ وقت خوشیاں منانے کا نہیں، قوت وکبر دکھانے کانہیں، بلکہ یہ خالق اور اس کی مخلوق کے سامنے عاجزی اختیارکرنے کا ہے‘‘۔
قندھار کا حکومتی والی شیرزادہ اپنی ہٹ دھرمی اور طالبان کے خلاف دشمنی میں مشہور تھا،فتح کے بعد والی صاحب حفظہ اللہ سے ایک صحافی پوچھتے ہیں کہ ’’کیا یہ سچ ہے کہ شیرزادہ بھی تسلیم ہوا ہے ؟‘‘ یعنی صحافی نے کسی احترام کے اور سابقہ لاحقہ لگائے بغیرحکومتی والی کا پوچھا۔ والی صاحب نے جواب دیا کہ ’’ہاں شیرزادہ صاحب بھی الحمد للہ تسلیم ہوئے ہیں ، اپنے گھر میں ہیں اور ہم نےانہیں یقین دلایا ہے کہ بالکل عزت اورامن کے ساتھ رہیں۔ ہماری طرف سے انشاء اللہ کوئی تکلیف آپ کو نہیں ملے گی‘‘۔
قندھار میں طالبان نے داخل ہوتے ہی وہاں کی ٹریفک پولیس کو واپس بلوایا اور انہیں ڈیوٹی پر رہنے کی درخواست کی ۔ ایک صحافی نے اگلے دن ٹریفک پولیس سے انٹرویو کیا اور پوچھا کہ طالبان خود بھی ٹریفک اصولوں کی پابندی کرتے ہیں یانہیں؟ سپاہی نے کہا ’’کل طالبان کی چندگاڑیاں غلط روڈ پر آئیں، میں چوک میں کھڑا تھا، میں نے انہیں واپس ہونے کا اشارہ دیا، سب طالبان واپس گئے اور دور کا چکر کاٹ کر پھر صحیح روڈ پر آئے‘‘۔ سبحان اللہ ! یہ فاتحین ہیں جو ٹریفک سپاہی تک کے اشارے کو بھی نہیں توڑتے!! کہاں سے انہوں نے یہ اخلاق سیکھے ؟ یہ تواضع ، یہ حکمت اور یہ دل سوزی کیسے ان میں آگئی ؟﴿ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ﴾ یہ اللہ کا فضل ہے کہ جس کو وہ چاہے دے ، مگر ساتھ ہی اس کا ایک سبب بھی ہے اور وہ سبب ہے شرعی راستے پر جدوجہد اور اس میں آنے والے مصائب پر صبرو استقامت ! یہ راستہ خود ایک تربیت گاہ ہے۔ دعوت وجہاد میں جن سختیوں کی بھٹی سے گزر ہوتاہے، اگر اس میں اخلاص اور شریعت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے تو یہ وہ تربیت گاہ ہوتی ہے کہ جو امت کا بوجھ اٹھانے کی پھر قوت و صلاحیت پیدا کرتی ہے ۔
یہاں خوشی ہر مجاہد اور ہر افغانی کے انگ انگ سے ظاہرتو ہے ہی مگر بہت سوں کی آنکھیں اس خوشی کے بیچ بھی بھیگی رہیں اور وہ ہرتھوڑی دیر بعد دوسروں سے آنکھیں چرا کر آنسو پونچتے رہے ۔ایک بھائی بھیگی آنکھوں اور مسکراتے ہونٹوں کے ساتھ بولے کہ فتح کی خوشی بہت ہے مگر اس منزل تک پہنچتے پہنچتے کن کن راہوں سے گزر ہوا اور کن کن گھاٹیوں کواس قوم نے عبور کیا، اسکاسوچ کر حالت عجیب ہوجاتی ہے …محبوبین کی ایک بڑی تعداد اس میں جدا ہوئی ، بہت سے بچے یتیم ، مائیں بے آسرا اور بے شمار بہنوں کے سہاگ اجڑے۔ امت کے بہترین ہیرے دینے پڑے توتب جاکر یہ دن دیکھ رہے ہیں …غم اور خوشی کی یہ ملی جلی کیفیت سب کی ہے مگر واقعہ یہ ہے کہ جدائی کا یہ غم محبوبین کے دور جانے پر نہیں بلکہ خود پیچھے رہ جانے پر زیادہ ہے،شہادتوں کے موسم میں بھی اگر شہادت سے محرومی دیکھنی پڑے تو غم توہونا چاہیے۔ جہاں تک آزمائشوں کی بات ہے تو سچ یہ ہے کہ فتح کی یہ قدر ، اس پر یہ اس درجہ خوشی ہے ہی اس وجہ سے کہ یہ انعام بہت قربانیوں ، بہت دکھوں اور بہت سارے دردوں کے بعد ملا ہے۔ دل کے ٹکڑے قربان کرنے بعد ہی جب یہ منزل ملی ہے تو اس کی حفاظت کی فکر بھی دوسری ہر قیمتی چیز سے زیادہ ہے اور یہ غم ، یہ فکر اور یہ درد ہی ہے جس نے اس قوم کو الحمدللہ قافلہ بنایا اور آج پوری امت مسلمہ کو یہ راستہ ومنزل دکھا رہی ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے شہداء کو یاد رکھا جائے ، دعا میں بھی کہ امارت اسلامی کی ہر خیر اور ہر برکت دیکھ کر ان کے لیے دعا کی جائے ، اپنا عزم اور اخلاص بڑھانے کے لیے بھی اور خود یہ احساس زندہ رکھنے کے لیے بھی کہ ہم نے بھی یہاں نہیں ٹھہرنا، سفر جاری رکھنا ہے اور اُدھر اُن کے پاس جانا ہے!
فتح کابل کے بعد پاکستان کی دینی جماعتوں کی طرف سے امارت اسلامی کو مبارکباد کے پیغامات ملے ۔ دنیا بھرکی جہادی جماعتوں اور دینی وعلمی شخصیات کی طرف سے بھی امارت کو مبارک بادیں موصول ہوئیں۔ اس طرح فلسطین میں حماس کے محترم اسماعیل ھنیہ صاحب ، اگلے دن امیر المومنین کے نائب ملابرادردامت برکاتہٗ کو مبارک باد دینے دوحہ میں ان کی اقامت گاہ پہنچے اور اکھٹے بیٹھنے اور مبارک باد دینے کی تصاویر بھی وائرل ہوئیں۔ یہ سب دیکھ کر اللہ کا بہت شکر ادا کیا، سب کے لیے دل سے دعائیں نکلیں ۔ یہ آثار ہیں اس بات کے کہ آسمانوں میں جیسے فیصلہ ہو چکا ہے اور امت مسلمہ کی امامت اب کسی کے سپر د ہونے لگی ہے، انتہائی شکر کا مقام ہے کہ امت مسلمہ کے اہل دین اب امارت اسلامی کی طرف دیکھنے لگے ہیں ۔ امید ہے کہ اب وہ اس کو محبت و عقیدت بھی دیں گے، مدد وتعاون بھی اس کے ساتھ کریں گے اور خود اپنی تحریک وجدوجہد میں دعوت وجہاد پر مبنی اس کے مبارک اسوہ سے انشاء اللہ سبق بھی لیں گے۔اس طرح ضروری ہے کہ امت کا درد رکھنے والے اہلِ ایمان اس عظیم الشان فتح کو موضوع سخن بنائیں ،ہر ہر مسجد کے منبر و محراب سے اس پر بولا جائے اور ہر مجلس اور ہر محفل میں بھی اس کوزیربحث لایاجائے ۔ یہ اپنی نوعیت کا انتہائی عظیم واقعہ ہے ، پچھلے کئی سو سال میں اس کی نظیر نہیں ملتی ہے ، اس لیے اس موضوع کو چھوڑا نہ جائے بلکہ اس کو زندہ رکھاجائے اور اس سے دروس وعبر لیے جائیں ۔ امارت اسلامی کے مقصد، طریق کار، اس کی تاریخ، اس تحریک کے اندر اخلاص و جذبہ اور قربانی اور ایثار، شریعت کی اتباع اور اس جدوجہد میں صبر وثبات کی داستانیں ، اس سب کچھ پر اگر صحیح طرح بولاگیا ،لکھاگیا اور جو پیغام اس سے اٹھ رہاہے اس کو عام کیا گیاتو یہ واقعہ دنیابھرکی دینی تحریکات کے لیے انشاء اللہ ایک سنگ میل ثابت ہوگا اور اس کو دیکھ کرامت میں اٹھنے کی ہمت اور صحیح سمت میں فکر و عمل کی تڑپ پیدا ہو گی اور ایسا ہوگا تو کشمیر سے فلسطین تک کی مظلوم اقوام پر ظلم کی جو رات ہے، اس کے ختم ہونے کا وقت قریب تر ہوگا جبکہ خود ہمارے ممالک میں غلبہ اسلام و اقامت دین کا سفر بھی انشاء اللہ تیز تر ہوگا ۔
دین دشمن طبقات اور عالمی طاقتیں ابھی سے امارت اسلامی کے خلاف سازشوں کے جال بُن رہی ہیں اور جھوٹا پروپیگنڈا تو شروع بھی ہوچکا ہے۔ ایسے میں انفرادی اور اجتماعی طورپرہرمحاذ پر ان سازشوں کا مقابلہ ضروری ہے ۔ ہر مسلمان کے لیے امارت اسلامی کا دفاع لازم ہے۔ پھر آج ان افواہوں ، سازشوں اور رکاوٹوں کے بیچ اسلامی حکومت کا قیام، اس کو کامیاب کرنا اور اسے تقویت دیکر پوری امت مسلمہ کے لیے نمونہ عمل بنانا یہ بہت بڑا اور انتہائی مشکل کام ہےاور یہ کوئی ایک جماعت اور ایک گروہ کماحقہٗ نہیں کرسکتا، اس میں پوری امت کے سب اہل خیر کی صلاحیتیں اور عقل صرف ہوں توتب ہی ہوگا۔ لہٰذااس کارِعظیم میں امارت اسلامی کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے ۔ مخیر حضرات کو بھی چاہیے کہ وہ افغانستان میں اپنا سرمایہ لگائیں ،روپیہ اِنویسٹ کریں اور یہاں حکومت کی ضروریات پوری کرنے اور عوام کو روزگار دلانے میں بھرپور حصہ ڈالیں ۔ ماہرین فن اور ہنرمند افراد کے لیے بھی میدان خالی ہے ، انہیں خدمت کے لیے آگے آنا چاہیے۔ ہمیں یہ حقیقت مدنظر رکھنی چاہیے کہ مسلمان کی اپنے گھر سے جتنی محبت ہوتی ہے، اس سے کہیں زیادہ اسلام کے گھر سے محبت ضروری ہے ، لہٰذا جتنا قلبی لگاؤ ہمارا اپنے گھر اور اپنے پیدائشی وطن کے ساتھ ہے ،عقلی اور قلبی طورپر ضروری ہے کہ اُس گھر کے ساتھ، اس کے برابر یا اس سے کہیں زیادہ محبت ہو کہ جو ابھی اسلام کا گھر’دارلاسلام ‘ بننے جارہاہے۔ اس لیے کہ اِس گھر کی تقویت اللہ کے دین کی تقویت پرانشاء اللہ منتج ہوگی۔
آخر میں یہ بھی عرض کروں کہ کچھ ہاتھ میں نہ ہو تو دعا جیسا مؤثر ہتھیار تو ہر ایک کے پاس ہے۔ اس ہتھیار سے امارت اسلامی کی مدد ہو۔ زندہ افراد فتنوں سے محفوظ نہیں ہوتے ہیں ، امارت کے ذمہ داران اور جنود پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہے، ان معصوم چہروں پر موجود بوجھ کا احساس اگر ہمیں ہوجائے تو ان کے ساتھ ہمدردی کرنے دوڑیں گے، ابھی تک ان کے ذریعے اللہ نے اس دین اور امت کی نصرت کی ، آگے بھی ان کے لیے دعا کریں کہ اللہ انہیں دنیا کے فتنوں سے محفوظ رکھے ،نفس و شیطان سے اللہ ان کی حفاظت فرمائے اور کافروں کے شر اور منافقین کی سازشوں سے بھی ان کو بچائے ، راہ ہدایت پر رکھے ، اپنی مددو نصرت سے انہیں نوازے اور اللہ رب العزت ان سے پوری دنیا کو خیر و برکت عطا کرے، آمین ثم آمین۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین
٭٭٭٭٭
1 ’’دو بھلائیو ں میں سے ایک ‘‘
2 ’’اور تمہیں ضرور آزمائیں گے یہاں تک کہ معلوم کرلیں کہ تم میں سے کون جہاد کرنے والا اور صبر کرنے والا ہے اور آزمائیں گے تمہارے احوال(دعوے)‘‘سورۃ محمد آیت ۳۱
3 ’’… جو راہ خدا میں پہنچنے والے مصائب کے سبب ہمت نہیں ہارے ، اور نہ کمزور پڑ گئے اور نہ ہی دشمن کے سامنے دب گئے اور اللہ (راہ حق پر )صبر کرنے والوں کے ساتھ محبت کرتا ہے ‘‘ سورۃ آل عمران آیت ۱۴۶
4 ’’تو اللہ نے انہیں دنیامیں بدلہ دیا‘‘ایضاً