جماعت قاعدة الجِهاد بّرِصغِير
۱۲؍ محرم الحرام۱۴۴۳ ھ بمطابق۱۹؍ اگست۲۰۲۱ء
ارضِ افغانستان پر امارتِ اسلامیہ کی فتح پر مبارکباد کا پیغام
الحمد للہ الذي لا إلہ إلا ھو، أنجز وعدہ ونصر عبدہ وعبادہ، وھزم الأحزاب وحدہ، الحمد للہ الذي بنعمتہ تتم الصالحات۔
والصلوۃ والسلام علی نبینا المصطفیٰ ورسولنا المجتبیٰ، أسوتنا وقدوتنا في البذل والتضحیۃ والنصر والتمکین، وعلی آلہ وصحبہ ومن تبعہ وسلك طریقہ وسنتہ بإحسان إلی یوم الدین، وبعد
حالیہ دنوں میں افغانستان کی زمین پر… بالخصوص پایہ تخت کابل پر… امارتِ اسلامیہ کے مجاہدین کی فتح کے مناظر نے پوری دنیا کے مسلمانوں کے سینوں کو ٹھنڈا کردیا اور ظالم وجابر کفار اور ان کے آلہ کاروں کے دلوں کو رعب ودبدبہ اور ہزیمت کے احساسات سے بھر دیا۔ ہم اس مبارک فتح پر امیر المؤمنین شیخ الحدیث والقرآن شیخ ھبۃ اللہ اخندزادہ [مد اللہ ظلہ]، آپ کے نائبِ سیاسی محترم ملا عبد الغنی برادر [مد ظلہ]، اور نائبین محترم خلیفہ سراج الدین حقانی [مد ظلہ] اور محترم مولوی محمد یعقوب [مد ظلہ] اور امارتِ اسلامیہ کے تمام قائدین اور مجاہدین کو اپنی جماعت کی جانب سے اور برصغیر کے اہلِ ایمان کی جانب سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
یقیناً یہ ایسا خوشی کا موقع اور فرحت کا لمحہ ہے جو غمزدہ افغان قوم کے لیے ڈھارس کی امید اور بیس سالوں کی جارحیت کے بعد امن وسکون کی نوید ہے۔ یہ وہ مبارک موقع ہے جس کے لیے غموں کی ماری مسلمان امت ایک صدی سے منتظر تھی کہ جب ان کے مرکز خلافتِ عثمانیہ کا سقوط ہوا تھا، اور اس کی ایک جھلک انھوں نے ڈھائی دہائی پیشتر امیر المؤمنین ملا محمد عمر رحمہ اللہ کے مبارک ہاتھ پر دیکھی تھی۔
افغانستان کے غیور مسلمان یقیناً مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اپنی دینی غیرت اور ملی حمیت کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ثابت کر دکھایا کہ افغانستان کی زمین کسی بھی غاصب اور جارح قوت کے لیے جائے قرار نہیں، بلکہ یہ اسلام کی زمین ہے اور اسلامیوں کے لیے ہی جائے قرار ہے۔ انھوں نے اپنی تاریخ کو دہرایا اور دکھا دیا کہ جس طرح انھوں نے اس سے قبل برطانوی سامراج اور روسی جارحیت کا مقابلہ کیا اور انھیں شکست دے کر نکال باہر کیا، اسی طرح امریکہ اور نیٹو کے حملہ آوروں اور اشغال گروں کو بھی بیس سالہ جہاد وقتال کے ذریعے شکست دی اور ہزیمت سے دوچار کیا۔ یقیناً پوری افغان ملت مبارکباد کی مستحق ہے کہ شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جس میں کوئی شہید، کوئی اسیر یا کوئی معذور نہ گزرا ہو۔ فجزاھم اللہ عنا وعن المسلمین خیرا في الدارین!
افغانستان میں امارتِ اسلامیہ کی فتح میں تمام مسلمانوں کے لیے یہ پیغام ہے کہ حملہ آور ظالم اور جارح قوتوں سے مقابلے اور دفاع کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ راہِ جہاد کو اختیار کیا جائے اور قتال کے میدانوں میں نکلا جائے، ان کا مقابلہ عالمی طاقتوں کی طرف سے بچھائی ہوئی جمہوریت کی بساط پر قدم رکھ کر نہیں کیا جاسکتا۔ اس فتح میں تمام مسلمانوں کے لیے یہ پیغام ہے کہ عالمی طاقتوں کی جارحیت کا مقابلہ ہر قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہ کرنے اور ان قربانیوں کے دیتے ہوئے استقامت سے ڈٹ جانے میں ہے۔ اس فتح میں تمام مسلمانوں کے لیے نصیحت ہے کہ حالات جیسے بھی دگرگوں ہو ں، اپنی دینی اقدار کے تحفظ اور قومی غیرت کے دفاع سے پیچھے ہٹنا کسی مسلمان قوم کا شیوہ نہیں ہوتا۔ اس فتح میں مسلمانوں کے لیے سبق ہے کہ کسی بھی خطے کے مسلمان صرف اسی وقت دین دشمن غاصب اور جارح قوت کا مقابلہ کرسکتے ہیں جب وہ بحیثیتِ قوم اس مقابلے کے لیے تیار نہ ہوجائیں اور پوری قوم… مجاہدین اور عوام… متحد اور یکجان ویک قالب نہ ہوجائے۔ اس فتح میں اسلامی تحریکوں کے لیے بھی درس ہے کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ سفارت اور ڈپلومیسی میں اس وقت تک کامیابی نہیں مل سکتی جب تک کہ جنگ کے ذریعے ان طاقتوں پر اپنی قوت ثابت نہ کر دی جائے۔
اس مبارک خوشی میں دنیا بھر کے مسلمان… بالخصوص دنیا کے مختلف خطوں میں دشمنانِ دین سے برسرِ پیکار مجاہدین… امارتِ اسلامیہ کے مجاہدین اور افغان مسلمان ملت کے ساتھ شریک ہیں۔
ہم دعا کرتے ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے امارتِ اسلامیہ کو دنیا کی سپر پاور امریکہ اور اس کے حواری نیٹو ممالک کے ساتھ جنگ میں فتح ونصرت سے سرفراز فرمایا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ تمکین کے مراحل میں بھی امارتِ اسلامیہ کو شریعت کی مکمل پاسداری اور اپنی مظلوم عوام کے مصالح کے تحفظ کی توفیق عطا فرمائیں اور اعداد واستعداد کے دنیوی پیمانوں پر قدرت واستطاعت میں ترقی عطا فرمائیں، اور اس سے بھی بڑھ کر آئندہ آنے والے سالوں میں امتِ مسلمہ کے تمام مظلوم مسلمانوں کے لیے ڈھال بنائیں اور امتِ مسلمہ کے لیے مرکز بنادیں، آمین۔
وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین، وصلی اللہ تعالیٰ علی نبینا الأمین، آمین۔