افغانستان میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی فتح پر امت مسلمہ کے نام مبارکباد کا پیغام

قاعدة الجهاد - مرکزی قیادت

قاعدة الجهاد – مرکزی قیادت

افغانستان میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی فتح پر امت مسلمہ کے نام مبارکباد کا پیغام


تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنا وعدہ سچا کردکھایا، اپنے بندے کی مدد فرمائی، اور اکیلے ہی لشکروں کو شکست دی، جس نے کابل کے صدارتی محل سے… اسے امریکیوں اور اس کے حواریوں کی غلاظت سے پاک کرنے کے بعد… ہمیں قرآن کی تلاوت سنوائی، وہ اللہ جس نے فرمایا:

﴿اَلَّذِيْنَ اِنْ مّكَّنّٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ ۭ وَلِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ؀﴾

’’وہ لوگ جنہیں ہم زمین میں تمکین عطا فرماتے ہیں، وہ نماز قائم کرتے ہیں، اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اور نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں، اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے لیے ہے۔‘‘

اور درود وسلام ہو سیدنا محمدﷺ پر، اور آپﷺ کی آل اور تمام اصحاب پر! اما بعد،

پس ہم اس اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں جو عظیم ہے، جبار ہے، جس نے کفر کے سردار امریکہ کو ذلیل ورسوا کیا، اسے شکست دی، اس کی کمر توڑ دی، اس کے جھنڈے کو نیچا کردیا، اور تمام دنیا والوں کی آنکھوں کے سامنے ذلیل وخوار حالت میں افغانستان کی مسلم سرزمین سے نکال باہر کیا۔ پس اے امتِ مسلمہ! آپ کو یہ تاریخی فتح مبارک ہو، جسے اللہ تعالیٰ نے افغان مجاہد وصابرقوم کے ہاتھوں رقم فرمایا۔ یہ وہ قوم ہے جس نے حملہ آور سلطنتوں کو شکست دے کر مسلم زمینوں سے بھگایا۔ پس یقیناً یہ سرزمین اسلام کا محفوظ قلعہ ہے، جس نے کتنی ہی دہائیوں کی مسلسل جنگوں میں … نسل در نسل… اپنی جانوں، مالوں، زندگیوں اور اپنے جگر کے ٹکڑوں کی قربانی دی ہے، جبکہ اس طویل زمانے میں کبھی غلامی اور جھک جانے کو قبول نہیں کیا، اور نہ ہی جہاد وشہادت کے راستے کو ترک کیا۔ پس اے ملتِ افغان! آپ کو امتِ مسلمہ کی طرف سے اللہ تعالیٰ بہترین جزا دیں۔ ہم آپ کو صلیبی اتحاد کے مقابلے میں عظیم فتح پر مبارکباد پیش کرتے ہیں، اور امارتِ اسلامیہ میں آپ کے قائدین ، بالخصوص امیر المؤمنین شیخ ہبۃ اللہ اخندزادہ﷿ کو مبارکباد دیتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ مرد وخواتین میں سے آپ کے شہداء پر رحم فرمائے اور انھیں اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، ان میں سے بالخصوص امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد کو جو اپنے کامل ایمان، اللہ پر توکل اور اس کے وعدوں پر یقین کے ساتھ ڈٹ گئے، یہاں تک کہ یہ تاریخی جملہ کہا: ’بے شک ہم سے اللہ نے فتح کا وعدہ کیا ہے، اور بش نے ہم سے شکست کا وعدہ کیا ہے، اب دیکھتے ہیں کہ کس کا وعدہ سچا ہوتا ہے‘۔ اسی طرح عزیمت کی چٹان شہید امیر المؤمنین ملا اختر محمد منصور اور مجاہدین کے بزرگ، شہداء کے والد، جہاد کے شیر شہید مولانا جلال الدین حقانی پر اللہ رحم فرمائے۔

اے امتِ مسلمہ! اس فتح نے آپ کے سامنے ایک مسلمان قوم کی طاقت ثابت کردی جب اس نے اتحاد کا ثبوت دیا، اسلحہ اٹھایا اور اپنے دین، عزت، زمین اور مال کے دفاع کے لیے جہاد کیا۔ اسی طرح اس فتح نے یہ ثابت کردیا کہ جہاد ہی وہ راستہ ہے جس کا انجام اللہ کی نصرت اور زمین میں تمکین پانے کی صورت میں ہوتا ہے، اور یہ بھی ثابت کیا کہ دشمن چاہے اپنی تعداد، وسائل اور اتحادیوں کے اعتبار سے کتنا ہی مضبوط ہو اور ظلم وسرکشی میں کتنا ہی بڑھ جائے، اس قوم کے جہاد کے سامنے نہیں ٹِک سکتا جو اپنے رب کی کتاب کو تھامے، کفار ومنافقین کے خلاف جہاد میں اپنے نبیﷺ اور آپﷺ کے اصحاب کے طریقے کی پیروی کرے اور زمین پر شریعت کو نافذ کرنے والی ہو۔

﴿وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۠ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا ۭ يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَـيْــــًٔـا ۭ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ ؀﴾

’’تم میں سے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور نیک کام کرتے رہے ہیں، ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ضرور انھیں زمین پر حاکم بنادے گا جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا، اور ان کے لیے اس دین کو… جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے… ضرور اقتدار بخشے گا، اور انھیں خوف کے بدلے میں ضرور امن عطا کرے گا۔ (بس) وہ میری عبادت کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور جو لوگ اس کے بعد ناشکری کریں تو ایسے لوگ نافرمان ہیں۔‘‘

پس اے میری محبوب امت! آپ کو چاہیے کہ اس اگلے مرحلے کے لیے تیاری کیجیے جس کی طرف غیور افغان قوم کی اس فتح نے راستہ کھولا ہے۔ یہ فتح آئندہ آنے والی فتوحات کی نوید ہے، اس کی بدولت ان سرکش طواغیت سے مسلمان عوام کی گلوخلاصی کا راستہ کھلے گا جو ان پر مسلط ہیں، اور (اسی طرح) صہیونی غاصبوں سے اسلامی فلسطین کی آزادی کی راہ ہموار ہوگی۔ پھر خاص طور پر افغانستان کی زمین پر امریکہ اور نیٹو کی ذلت نے امریکہ ویورپ کی بالادستی کے دور کا خاتمہ کر دیا ہے اور مسلم خطوں پر عسکری قبضے کی ان کی خواہشات بھی ختم کردی ہیں، نہ صرف یہ بلکہ یورپی عوام اور مشرقی ایشیا کے ممالک کے لیے بھی موقع فراہم کردیا ہے کہ وہ امریکی بالادستی سے باہر نکل آئیں۔

آخر میں ہم اسلام اور اپنی امت سے وفا رکھنے والے ’افغان عوام‘ سے کہتے ہیں کہ وہ امارتِ اسلامیہ کی مبارک قیادت کے گرد جمع ہوجائیں… وہ قیادت جس نے اپنی سچائی اور عوام کے مصالح، ان کے دین، ان کی جان ومال کی رعایت کی اپنی حرص ثابت کردی ہے… اور افغان عوام سے کہتے ہیں کہ وہ امارت کے فیصلوں، معاہدوں اور شرعی سیاست کی پابندی کریں، اور ان کی مخالفت نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: [اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، اور رسول اللہ کی اطاعت کرو، اور اپنے حکام کی (اطاعت) کرو]۔ اسی طرح ہم پوری امتِ مسلمہ سے کہتے ہیں کہ وہ افغان عوام کے ساتھ کھڑے ہوں، اپنے تجربے، صلاحیتوں اور اموال کے ذریعے ان کی مدد کریں اور مختلف میدانوں میں ان سے تعاون کریں، بالخصوص اس حساس مرحلے میں جبکہ کفری اقوام دین پر فخر کرنے والی اس غیور مسلم قوم کے خلاف جمع ہیں۔

اے ہمارے اللہ! جس طرح آپ نے جہاد میں امارتِ اسلامیہ کی مدد ونصرت فرمائی ہے اور ان کے دشمنوں کو رسوا فرمایا ہے، اسی طرح افغانستان میں شریعت کے نفاذ کے معاملے میں ان کی مدد وموافقت فرما، اسلام اور مسلمانوں کے مصالح پورا کرنے میں ان کی مدد فرما، اور اپنے فضل اور اپنے رزق کی بدولت انھیں اپنے ماسوا سے غنی فرما دے۔ اے ہمارے اللہ! جس طرح آپ نے افغانستان کی زمین امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے قبضے سے آزاد فرما دی ہے، اسی طرح فلسطین کو صہیونیوں کے قبضے سے، اسلامی مغرب کو فرانس اور اس کے اتحادیوں کے قبضے سے، اور شام، صومالیہ، یمن، کشمیر اور دیگر مسلم خطوں کو ان کے دشمنوں کے تسلط سے آزاد فرمادے۔ اے ہمارے اللہ! ہر جگہ قید ہمارے مسلمانوں کو رہائی عطا فرما۔ اے ہمارے اللہ! امت کے شہداء پر رحم فرما جنھوں نے اس فتح کو اپنے خون اور اپنی محنت سے سیراب کیا ہے۔ اور اے ہمارے اللہ! امتِ مسلمہ کے مجاہدین کو توفیق عطا فرما کہ وہ شہداء کے راستے پر ڈٹے رہیں… یہاں تک کہ مسلمان عوام شریعتِ اسلامیہ کے سائے تلے زندگی گزارنے کا مزہ چکھ لے، والحمد للہ رب العالمین۔

 

 

محرم الحرام

۱۴۴۳ھ

 

 

اگست

۲۰۲۱ء

 

 

Exit mobile version