حسد و تکبر اور ان کا علاج

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ ، اَمَّا بَعْدُ

حسد کیا ہے؟

کسی کے عیش و آرام کو دیکھ کر دل کو صدمہ، رنج اور جلن ہونا اور اُس کے آرام و عیش کی نعمت کے ختم ہوجانے کو پسند کرنا حسد کہلاتا ہے، جو حرام ہے۔

رسولِ مقبول صلی اﷲ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ حسد نیکیوں کو اِس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔

البتہ ایسے شخص پر حسد جائز ہے جو خداتعالیٰ کی نعمتوں کو نافرمانی میں خرچ کررہا ہو، اُس کے مال کے زوال کی تمنا کرنا گناہ نہیں کیوں کہ یہاں دراصل اِس معصیت کے بند ہونے کی تمنا ہے۔ حسد دراصل فیصلۂ الٰہی سے ناگواری کا نام ہے کہ ہائے اُس کو خدائے تعالیٰ کیوں یہ نعمتیں دے رہے ہیں اور اُس کی نعمتوں کی تباہی سے دل خوش ہو،اور اگر کسی کی نعمت دیکھ کر یہ تمنا کرے کہ ہم کو بھی حق تعالیٰ اپنی رحمت سے عطا فرمادیں تو اِس میں حرج نہیں، اِس کو غبطہ کہتے ہیں۔ حسد سے دینی نقصان یہ ہے کہ سب نیکیاں ضائع ہوجائیں گی اور دُنیا کا نقصان یہ ہے کہ حاسد کا دل ہر وقت رنج و غم میں جلتا رہتا ہے۔

حسد کا علاج

حضرت حکیم الامّت مولانا تھانوی رحمۃاﷲ علیہ سے ایک شخص نے حسد کی بیماری کا علاج دریافت کیا، آپ نے تحریر فرمایا کہ تین ہفتے یہ عمل کرکے پھر اطلاع کرو۔1

  1. جس پر حسد ہو اُ س کے لیے ہر روز دُعا کا معمول بنالینا۔

  2. اپنی مجالس میں اُس کی تعریف کرنا۔

  3. گاہ گاہ ہدیہ اور تحفہ بھیجنا۔

  4. ناشتہ یا کھانے کی گاہ بگاہ دعوت کرنا۔

  5. جب سفر کرنا ہو تو اُن سے ملاقات کرکے جانا اور واپسی پر کوئی تحفہ اُ ن کے لیے بھی لانا۔

(اس شخص نے)تین ہفتے کے بعد لکھا کہ حضرت! میری بیماری حسد کی آدھی ختم ہوگئی۔ تحریر فرمایا کہ تین ہفتہ پھر یہی نسخہ استعمال کریں۔ تین ہفتے کے بعد لکھا کہ حضرت! اب تو بجائے نفرت اور جلن کے اُن کی محبت معلوم ہونے لگی ہے ۔ یہ دوا تلخ تو ہوتی ہے لیکن حلق سے اُتارنے کے بعد کیسا دل کو چین عطا ہوا! ورنہ تمام زندگی حسد کی آگ سے تباہ رہتی اور سکون و چین، سب چھن جاتا اور آخرت الگ تباہ ہوتی۔

حسد کی اصلاح کے بارے میں حضرت مولانا محمد احمد صاحب پرتاب گڑھی کے دو شعر ملاحظہ ہوں:

حسد کی آگ میں کیوں جل رہے ہو
کفِ افسوس تم کیوں مل رہے ہو
خدا کے فیصلے سے کیوں ہو ناراض
جہنم کی طرف کیوں چل رہے ہو

تکبر کیا ہے؟

حق تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ تکبر کرنے والے کا ٹھکانہ بہت بُرا ہے۔ کبریائی خاص میری چادر ہے پس جو شخص اس میں شریک ہونا چاہے گا اُسے قتل کردوں گا۔

رسولِ مقبول صلی اﷲ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جس کے قلب میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنّت میں نہ جائے گا۔

تکبر کس کو کہتے ہیں؟ حدیث پاک میں تکبر غَمْطُ النَّاسِ اور بَطَرُ الْحَقِّ کا نام ہے۔ یعنی لوگوں کو حقیر سمجھنا اور حق بات کو قبول کرنے سے اعراض اور انکار کرنا۔

تکبر کرنے والا تواضع سے محروم رہتا ہے اور حسد و غصّے سے نجات نہیں پاتا، ریا کاری کا ترک اور نرمی کا برتاؤ اُس کو دشوار ہوتا ہے، اپنی عظمت اور بڑائی کے نشے میں مست رہتا ہے۔

حدیثِ پاک میں ہے کہ جب بندہ رضائے حق کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے (جیسا کہ مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰہ کے اندر حرف لام سے ظاہر ہے ) تو یہ شخص اپنے دل میں خود کو کمتر اور حقیر سمجھتا ہے اور مخلوق کی نظر میں اِس کو اﷲ تعالیٰ بلندی اور عزت عطا فرماتے ہیں۔ اِسی طرح جو اپنے کو بڑا سمجھتا ہے تو وہ اپنی نظر میں تو بڑا ہوتا ہے لیکن لوگوں کی نظر میں ذلیل کردیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ سؤر اور کتّے سے بھی زیادہ ذلیل ہوتا ہے۔

تکبر کا علاج

اپنے گناہوں کو سوچا کرے اور اﷲ تعالیٰ کی پکڑ اور محاسبے کا دھیان رکھے۔ جب اپنی فکر میں پڑے گا دوسروں کی تحقیر، تنقید اور تبصرے سے بچے گا۔ جیسے کوڑھی کسی زکام کے مریض کو حقیر نہیں سمجھتا اِسی طرح اپنی روحانی اور قلبی بیماری کو شدید سمجھےاور اپنے خاتمے کے خوف سے لرزاں اور ترساں رہے ۔ میرے مرشد رحمۃ اﷲ علیہ اِس بیماری کی اصلاح کے لیے ایک حکایت بیان فرمایا کرتے تھے۔

حکایت

ایک لڑکی کی شادی کے موقع پر اُس کو خوب اچھے لباس اور زیور سے سجایا گیا۔ محلّے کی سہیلیوں نے تعریف شروع کی کہ بہن! تم تو بڑی اچھی معلوم ہوتی ہو۔ اُس نے رو کر کہا کہ ابھی تم لوگ بے کار تعریف کرتی ہو۔ جب میرا شوہر مجھے دیکھ کر پسند کرلے اور اپنی خوشی کا اظہار کردے تب وہ خوشی اصلی خوشی ہوگی۔ معلوم نہیں اُس کی نگاہ میں میری صورت کیسی معلوم ہوگی۔ تمہاری نگاہوں کے فیصلے ہمارے لیے بے کار ہیں۔

پھر حضرت مرشد رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے تھے کہ اِس طرح بندے کو مخلوق کی تعریف سے یا اپنی رائے سے خود کو اچھا اور بڑا نہ سمجھنا چاہیے۔ کیوں کہ میدانِ محشر میں حق تعالیٰ کی نظر سے ہمارے لیے کیا فیصلے ہوں گے، اُس کی خبر ہم کو ابھی کچھ نہیں پھر کس منہ سے موت سے قبل اور حُسنِ خاتمہ سے قبل اپنے کو اچھا سمجھنے کا حق ہوگا؟!

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں:

ایماں چوں سلامت بہ لب گور بریما
حسنت بریں چستی و چالاکی ما

جب اسلام کو ہم قبر میں سلامتی سے لے جائیں گے پھر اپنی چستی اور ہشیاری پر خوشی منائیں گے۔ یہی و جہ ہے کہ تمام اولیائے کرام مرنے سے قبل کبھی ناز کی بات نہیں کرتے اور حُسنِ خاتمہ کی دُعا کرتے رہتے ہیں اور دوسروں سے بھی درخواست دُعا کرتے رہتے ہیں۔ یہ بے وقوف لوگوں کا کام ہے جو اپنے مالک کے فیصلے کا انتظار کیے بغیر اپنے ہی فیصلے سے یا مخلوق کی تعریف سے اپنے لیے بڑائی اور اچھائی کا فیصلہ کر بیٹھتے ہیں۔

یہ حکیم الامت حضرت تھانوی رحمۃ اﷲ علیہ کا ملفوظ ہے جس کو احقر نے اِس شعر میں عرض کیا ہے :

نا مناسب ہے اے دلِ ناداں
اِک جذامی ہنسے زکامی پر

عجب اور کبر کا فرق

اپنے کو اچھا سمجھنا اور کسی کو حقیر نہ سمجھنا عُجب کہلاتا ہے اور اپنے کو اچھا سمجھنےکے ساتھ دوسروں کو کمتر سمجھنا تکبر کہلاتا ہے اور دونوں حرام ہیں۔ جب بندہ اپنی نظر میں حقیر ہوتا ہے تو حق تعالیٰ کی نظر میں عزت والا ہوتا ہے اور جب اپنی نظر میں اچھا اور بڑا ہوتا ہے تو حق تعالیٰ کی نظر میں حقیر اور ذلیل ہوتا ہے۔ معاصی سے نفرت واجب ہے لیکن عاصی سے نفرت حرام ہے۔ اِسی طرح کسی کافر کو بھی نگاہِ حقارت سے نہ دیکھے کیوں کہ ممکن ہے کہ اُس کا خاتمہ ایمان پر مقدر ہوچکا ہو۔ البتہ اُس کے کفر سے نفرت واجب ہے۔

ہیچ کافر را بخواری منگرید
کہ مسلماں بود نش باشد اُمید

(رومی)

حضرت حکیم الامّت تھانوی رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا کہ میں اپنے کو تمام مسلمانوں سے فی الحال اورکافروں اور جانوروں سےفی المآل کمتر سمجھتا ہوں یعنی موجودہ حالت میں ہر مسلمان مجھ سے اچھا ہے اور خاتمے کے اعتبار سے کہ نہ معلوم کیا ہو اپنے کو کفار سے بھی کمتر سمجھتا ہوں۔

حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اﷲ علیہ کا قول ہے کہ مؤمنِ کامل نہ ہوگا جب تک کہ اپنے کو بہائم اور کفار سے بھی کمتر نہ جانے گا۔

جب حق تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ چاہے تو بڑے سے بڑے گناہ کو بدونِ سزا معاف فرمادے اور چاہے تو چھوٹے گناہ پر گرفت کرکے عذاب میں پکڑے تو پھر کس منہ سے آدمی اپنے کو بڑا سمجھے اور کیسے کسی مسلمان کو خواہ وہ کتنا ہی گناہ گار ہو حقیر سمجھے! حضرت سعدی شیرازی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں :

ازیں بر ملائک شرف داشتند
کہ خود را بہ از سگ نہ پنداشتند

اﷲ والے اِس سبب سے فرشتوں پر شرف و عزت میں بازی لے جاتے ہیں کہ خود کو کتے سے بھی بہتر نہیں سمجھتے۔

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ولایت و قرب کو حق تعالیٰ نے بندوں میں مخفی رکھا ہے لہٰذا کسی بندے کوخواہ کیسا ہی گناہ گار ہو حقیر نہ جانو کیا خبر کہ شاید یہی بندہ علمِ الٰہی میں ولی ہو اور اس کی ولایت کسی وقت بھی توبۂ صادقہ اور اتباعِ سُنت کی صورت میں ظاہر ہوجاوے۔ جیسا کہ تاریخ شاہد ہے کہ بعض بندے زندگی بھر رند و بادہ نوش، مست و خراب بادہ اور فسق و فجور میں مبتلا رہتے ہیں اور اچانک اُن میں تبدیلی آجاتی ہے اور توبہ کرکے پاک و صاف ہوجاتے ہیں جیسے کوئی شاہزادہ حسین جس کے منہ پر کالک لگی ہو اور اچانک صابن سے نہا دھو کر چاند کی طرح روشن چہرے والا ہوجاوے۔

جوش میں آئے جو دریا رحم کا
گبرِ صد سالہ ہو فخرِ اولیا

حضرت صدیقِ اکبر رضی اﷲعنہ فرماتے ہیں: انسان اپنے وجود میں دو مرتبہ کس قدر گندے راستے سے گزرتا ہے، ایک مرتبہ باپ کی پیشاب کی نالی سے نطفے کی شکل میں ماں کے شکم میں گیا اور دوسری مرتبہ ماں کے رحم سے ناپاک راہ سے وجود میں آیا پھر تکبر کیسے زیبا ہوگا!

بڑے بڑے متکبر بادشاہوں کا موت قبر میں کیا حال کرتی ہے اور کس طرح لاکھوں کیڑوں کی غذا بناتی ہے۔

جس طرح امتحان کا نتیجہ سُننے سےقبل اپنے کو بڑا اور کامیاب سمجھنے والا طالبِ علم بے وقوف ہے اِسی طرح میدانِ محشر میں اپنا فیصلہ سُننے سے قبل دُنیا میں اپنے کو کسی سے افضل سمجھنا اور بڑا سمجھنا حماقت ہے۔حضرت علّامہ سید سلیمان صاحب کا خوب شعر ہے

ہم ایسے رہے یا کہ ویسے رہے
وہاں دیکھنا ہے کہ کیسے رہے

ایک شخص کا گھوڑا شریر اور عیب دار تھا، کسی دلال سے کہا کہ فروخت کر دے۔ اُس نے بازار میں خوب تعریف کی۔ اُس بے وقوف نے اس تعریف کوصحیح سمجھ کر کہا: اب نہ فروخت کروں گا، میرا گھوڑا مجھے دے دو۔ اُس دلال نے کہا: زندگی بھر کا اپنا تجربہ میری جھوٹی تعریف سے جو محض بیچنے کے لیے ہے بھول گئے۔ یہی حال ہمارا ہے کہ ہر وقت اپنے نفس کی شرارت اور خباثت اور گناہوں کے تقاضوں کو جانتے ہوئے جہاں کسی نے ذرا تعریف کردی کہ حضرت! آپ ایسے ہیں بس حضرتی کا نشہ چڑھ گیا اور اپنے نفس کو بھول گئے۔ اﷲ والے ایسے وقت اور شرمندہ ہوجاتے ہیں اور حق تعالیٰ کی بارگاہ میں اُس کی ستّاری کا شکر ادا کرتے ہیں۔

حضرت حاجی صاحب مہاجرمکی رحمۃ اﷲ علیہ کا ارشاد ہے کہ جو لوگ مجھ سے محبت اور عقیدت رکھتے ہیں یہ سب حق تعالیٰ کی ستّاری ہے ورنہ اگر وہ ہمارے اَترے پترے کھول دیں تو سب معتقدین راہِ فرار اختیار کریں۔ پس مخلوق کا حُسنِ ظن بھی حق تعالیٰ کا انعام ہے اور اپنے کو کمتر اور حقیرسمجھنا درجۂ یقین میں ایک بیّن حقیقت کو تسلیم کرنا ہے اور عبدیتِ کاملہ کے لوازم سے ہے۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ ربّ العالمین!

(ماخوذ از: روح کی بیماریاں اور ان کا علاج)

٭٭٭٭٭


1 نوٹ:یہ مضمون احقر نے حضرت مرشدنا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے سُنا ہے۔

Exit mobile version