عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زِیر و بم
عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زِیر و بم
عشق سے مٹّی کی تصویروں میں سوزِ وم بہ دم
آدمی کے ریشے ریشے میں سما جاتا ہے عشق
شاخِ گُل میں جس طرح بادِ سحَرگاہی کا نَم
اپنے رازق کو نہ پہچانے تو محتاجِ ملوک
اور پہچانے تو ہیں تیرے گدا دارا و جم
دل کی آزادی شہنشاہی، شِکَم سامانِ موت
فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے، دل یا شکم!
اے مسلماں! اپنے دل سے پُوچھ، مُلّا سے نہ پوچھ
ہوگیا اللہ کے بندوں سے کیوں خالی حرم
عشق کی سزاوار ایک ہی ذات ہے اور پھر یہی ذات جس سے اذنِ عشق دے تو اس سے عشق جائز ہے، ورنہ ناجائز و حرام۔ عشق کیا ہے؟ عشق ایمان کا نام ہے۔ آتشِ نمرود میں بے خطر کودوا دینے والا عشق، دراصل قوتِ ایمان کا مترادف ہے۔ جس ذی روح میں یہ قوتِ عشق ہو، اس کی نوائے ’حیّ علی الفلاح‘ اور ’حیّ علی الصلاۃ‘ وہ پیامِ زندگی ہے جو بندۂ مومن کے سر کو معشوقِ بر حق کے سامنے جھکنے کا ذوق و شوق عطا کرتی ہے۔ اسی عاشقِ حقیقی کی زبان سے پھر بانگِ ’حیّ علی الجہاد‘ بھی بلند ہوتی ہے اور اس اذانِ جہادی میں زندگی کا وہ لافانی پیغام ہے جو پھر سر کو ہر باطل کے سامنے تانے رکھنے اور معشوقِ برحق و محبوبِ حقیقی کے سامنے کٹا دینے کا حوصلہ اور جذب و مستی عطا کرتا ہے۔ انسان میں اگر یہ عشق کی روح، یہ ایمان کی جان نہ ہو، تو یہ کیا ہے،سوائے مٹی کے ایک پتلے کے؟!
عشق جب کسی مٹی کی مورت میں داخل ہوتا ہے تو اس کے سامنے عرفان الٰہی کے راستے کھل جاتے ہیں۔ ریشہ ریشہ اللہ کی توحید کا کچھ ایسا قولی و عملی اظہار بن جاتا ہے کہ جسے ’فنا فی اللہ‘سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس کا سراپا ’’إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ‘‘(بلا شبہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا، صرف اور صرف اللہ ربّ العالمین کے لیے ہے)کا اظہار و اعلان ہوتا ہے۔
اگر یہ انسان اپنے رزق رسانِ اصلی کو نہ پہچانے تو یہ خاک و گِل کی مورت دنیا کے بادشاہ تو بہت بڑی بات ہے، علاقے کے نمبردار اور تھانیدار و پٹواری کو خدا جان مان کر اپنے لیے زندگی طلب کرتی رہتی ہے۔ اسی ’ بے یقینی‘ کے سبب وطن میں جیسا تیسا اسلام اور جیسی تیسی ’حریتِ دینی‘ اور جو ظاہری آزادئ نماز و صیام ہے، اسی کو کُل جان لیا جاتا ہے۔ اسی سبب سے بھارت ماتا کے ’کلمہ گو‘ سپاہی کشمیری کلمہ گوؤں کا قتل کرتے ہیں اور نعرۂ تکبیر لگا کر سپاہی لال مسجد کو لال کر دیتے ہیں۔ ان کی ’بے یقینی‘ نے انہیں بتایا ہے کہ رازق پردھان منتری اور آرمی چیف ہیں، یہ ناراض ہو گئے تو بچے بلکیں گے اور نیند حرام ہو جائے گی، بلکہ اب تو قیامِ دین بھی اداروں کے استحکام پر منحصر ہے۔ لیکن جو اپنے رزاق کو پہچانے،جو لَا مَانِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ (نہیں کوئی روکنے والا اس امر سے جس کا ارادہ اللہ کر لے) اور وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ (اور نہیں کوئی عطا کرنے والا وہ چیز جس کو روکنے کا ارادہ اللہ کر لے) اور وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ (اور کسی صاحبِ حیثیت کو اس کی حیثیت اللہ کے ہاں فائدہ نہیں دے سکتی) کا ورد ہر نماز کے بعد اور ہر نیت و فعل سے پہلے کرتا ہو تو عظیم و پُر شِکوہ سلطنتِ فارس کا ’دارا‘ اور احوالِ عالم کو اپنے جام میں دیکھ لینے والا ’جمشید‘ اس کے در پر خیرات طلب کرتے نظر آتے ہیں۔
جس کے دل نے اللہ کی غلامی کا طوق پہن کر ہر ما سوا کی غلامی سے آزادی حاصل کر لی ہو، وہی ’مردِ آزاد‘ ہے۔ لیکن جس نے محض پیٹ بھرنے کو ہر امر سے پہلے جانا، تو اس نے ما سوا اللہ کے ہر غلامی کو قبول کر لیا اور یہ کائنات کا بد ترین غلام ہے، اِس کی زندگی، موت کا دوسرا نام ہے اور اس کی موت کو تو کوئی جانتا ہی نہیں کہ کہاں اور کیسے ہوئی؟! پس اے خاکی پتلے! فیصلہ کر کہ تو دل کو ترجیح دے کر زندہ شہنشاہ بننا چاہتا ہے یا محض پیٹ بھر کر غلامِ غلاماں؟
آج کتنے ہی لوگ حیران و سرگردان ہیں کہ کیوں مسلمان ذلت و پستی کا شکار ہیں؟! کیوں آج حرم والے نظام سے دنیا خالی ہو گئی ہے۔ طواف و حج تو جاری ہے لیکن وہ حرمین کے عابد جنہوں نے اقصیٰ ہی نہیں بلکہ آج حرمِ مکی سے چند کلو میٹر دور بیٹھے یہودیوں اور عیسائیوں اور صلیبیوں اور صہیونیوں سے اپنے مقدسات اور اپنی اراضیاں پاک کروانا تھیں، کہاں گئے؟ راتوں کے وہ راہب، جنہوں نے سوزِ دعوت و اصلاح سے آباد خانقاہوں سے نکل کر رسمِ شبیری ؓادا کرتے ہوئے، عالمگیرؒ کی تلوار تھام کر عالمگیر کے دادا بابر کی ایودھیا والی مسجد کی از سر نو تعمیر کرنا تھی، کہاں گئے؟ اے مسلمان! اس سوال کا جواب اپنے دل سے پوچھ۔ اپنے دل سے اس ویرانئ کعبہ اور ویرانئ دنیا از نظام کعبہ کے بارے میں پوچھ۔ اگر تُو نے دل کو شکم پر ترجیح دے رکھی ہے تو تیرے دل کا جواب و فتویٰ یہی ہو گا کہ مسلمانوں کے دلوں پر حُب الدُنیا وَکَراھِیۃُ المَوت (دنیا سے محبت اور موت سے نفرت)اور وطنیت و جمہوریت کے نظاموں کا زنگ چڑھ گیا اور تلواریں اگر زنگ آلود نہیں بھی ہوئیں، بلکہ کہنے کو اگر صیقل ہیں، تو بھی دل میں وہ عشق ہی نہیں جو بازوؤں کو تلوار و کلاشن کوف اٹھانے کی قوت عطا کرے!پس اے مردِ مومن……
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمدؐ سے اجالا کر دے!
صلی اللہ علیہ وسلم
٭٭٭٭٭