نظریاتی جنگیں | آٹھویں قسط

مولانا محمد اسماعیل ریحان صاحب (زید مجدہٗ) کی تالیف ’أصول الغزو الفکري یعنی ’نظریاتی جنگ کے اصول‘، نذرِ قارئین ہے۔ اس وقت مسلمانوں کو اہل باطل کی جانب سے ایک ہمہ گیر اور نہایت تند و تیز فکری و نظریاتی یلغار کا سامنا ہے۔ اس یلغار کے مقابلے کے لیے ’الغزو الفکری‘ کو دینی و عصری درس گاہوں کے نصاب میں شامل کرنا از حد ضروری ہوچکا ہے۔دینی و عصری درس گاہوں میں اس مضمون کو شامل کرنے کے ساتھ ساتھ ’الغزو الفکری‘ یعنی نظریاتی جنگ کے مضمون و عنوان کو معاشرے کے فعال طبقات خصوصاً اہلِ قلم، اسلامی ادیبوں اور شاعروں، اہلِ دانش، صحافیوں، پیشہ ور (پروفیشنل)حضرات نیز معاشرے کہ ہر مؤثر طبقے میں بھی عام کرنا از حد ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے ’اصول الغزو الفکری‘کے عنوان سے اس علم کے اہم مباحث کو مختصر طور پر مولانا موصوف نے پیش کیا ہے۔ مولانا موصوف ہی کے الفاظ میں ’در حقیقت یہ اس موضوع پر تحریر کردہ درجنوں تصانیف کا خلاصہ ہے جس ميں پاک و ہند کے پس منظر کا نسبتاً زیادہ خیال رکھا گیا ہے‘۔ یہ تحریر اصلاً نصابی انداز میں لکھی گئی ہے، لیکن اس کے باوجود خشکی سے پاک ہے اور متوسط درجۂ فہم والے کے لیے بھی سمجھنا آسان ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہم مسلمانوں کو نظریاتی و عسکری محاذوں کو سمجھنے، ان محاذوں کے لیے اعداد و تیاری کرنے اور پھر ہر محاذ پر اہلِ باطل کے خلاف ڈٹنے کی توفیق ملے۔ اللہ پاک مولانا محمد اسماعیل ریحان صاحب کو جزائے خیر سے نوازیں کہ انہوں نے ایسے اہم موضوع کے متعلق قلم اٹھایا، اللہ پاک انہیں اور ہم سب اہلِ ایمان کو حق پر ثبات اور دین کا صحیح فہم عطا فرمائیں، آمین یا ربّ العالمین! (ادارہ)


حصۂ دوممذاہب و نظریات

ہندومت

ہندومت کا قدیم نام ’’برہمیہ‘‘ ہے جو ہندؤوں کے معبود برہمان کی طرف منسوب ہے۔ قدیم ادب میں ’’ہندو‘‘سے مراد کسی خاص مذہب کے پیروکار نہیں بلکہ خاص وطن کے لوگ ہیں۔ اُس دور میں مسلمان ان لوگوں کو ’’ہندو‘‘کہا کرتے تھے جو دریائے سندھ کے مشرق میں آباد تھے۔ چونکہ ہندوستان کی اکثریت اسی برہمیہ مذہب کی پیروکار تھی اس لیے رفتہ رفتہ مذہب کا نام ہی ہندومت پڑ گیا۔

ہندو مذہب

ہندو مذہب کی اصطلاحی تعریف کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ اس کے بنیادی عقائد تک متفقہ اور طے شدہ نہیں ہیں۔ اس کی کوئی الہامی کتاب ہے نہ کوئی پیغمبر یا مؤسس۔ اس کے معتقدات متضاد ہیں، اور ان کے ثبوت کے لیے صرف کچھ افسانوی داستانیں ہی ہیں۔

ہندو ذہن در حقیقت ایک غیر متفکرانہ مزاج رکھتا ہے جس میں وہم اور عدم تحفظ کا احساس غالب ہے۔ وہ محسوسات کو فکر و نظر پر اور توہمات کو محسوس تجربات پر ترجیح دیتا ہے۔ اسی لیے اس میں ہر ایسی شے کو معبود قرار دے دیا جاتا ہے جس سے خوف یا امید وابستہ ہوجائے۔ زمین، آسمان، دریا، پودے، گائے، سانپ، اور بندر تک کی پوجا کی جاتی ہے۔ ہندؤوں کے عقائد بھی کسی ایک جگہ مرتب شکل میں نہیں ملتے۔ جواہر لعل نہرو جیسا آدمی بھی ہندومت کے عقیدے کو مبہم اور غیر مرتب تسلیم کرتا ہے۔ وہ لکھتا ہے:

’’ہندومت ایک مذہب اور عقیدے کی حیثیت سے مبہم و غیر مرتب اور بہت سے پہلو رکھنے والا ہے‌۔‘‘

بھارت کے سابق صدر ڈاکٹر رادھا کرشن لکھتے ہیں:

’’ہندو دھرم میں مختلف خیالات اور دھرموں کا جذب و انجذاب اس درجہ پر پیچ، دقیق اور پر اسرار اور مسلسل رہا ہے کہ اس کے نتیجے میں مخصوص تہذیب ابھری۔ وہ نہ آرین تہذیب ہے نہ دراوڑ تہذیب اور نہ قدیم تہذیب۔‘‘

خدا کا تصور

ہندو دھرم ایک طرف تو وہ توحید کا قائل نظر آتا ہے جیسا کہ تھر وید میں ہے ’’ایشور جو تمام دنیا پر محیط ہے بالیقین سب جگہ حاضر و ناظر ہے۔ وہ ایشور ایک ہی ہے‘‘۔ اسی طرح ’’بجروید‘‘میں اوم کے متعلق لکھا ہے: ‌

’’وہ سب کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ خود کسی سے پیدا نہیں ہوا۔ وہ خود اپنی قدرت سے قائم ہے۔ ان صفات سے موصوف ہستی مطلق، عین العلم اور عین راحت ہے۔‘‘

مگر اس کے ساتھ ساتھ جس قدر شرک ہندو مذہب میں ہے کسی اور مذہب میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ اس شرک کا ہندؤوں کے نظریے ’’ہمہ اوست‘‘سے گہرا تعلق ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ تمام دیوی، دیوتا، اور سارے مظاہرِ قدرت جیسے ہوا، آگ، دریا در اصل ایک ہی عظیم قوت کے مختلف روپ ہیں۔ اس لیے ان اشیا کی عبادت خدا ہی کی عبادت ہے۔ اسی نظریے نے آگے چل کر حلول کا تصور بھی اپنا لیا جس کا مطلب ہے کہ خدا مختلف جسموں اور صورتوں میں داخل ہوکر سامنے آیا کرتا ہے۔

عقائد

ہندومت کے معتقدات کے بنیادی اصول تیں ہیں:

(۱) خدا پر ایمان (۲) ویدوں پر ایمان (۳) آوا گون یعنی عقیدۂ تناسخ پر ایمان۔

خدا پر ایمان رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں ہندؤوں میں دو گروہ ہیں۔ ایک آستک(خدا پرست) اور دوسرا ناستک(خدا کا منکر)۔ گاندھی جی کے بقول ’’خدا پر ایمان نہ رکھتے ہوئے بھی ایک شخص خود کو ہندو کہہ سکتا ہے‘‘۔

(۱) خدا پر ایمان:

ہندؤوں میں ’’معبود‘‘کا تصور محسوس خدا کا ہے، جس چیز کو انسانی حواس نہ پا سکیں وہ اس قابل نہیں کہ اس کی پرستش کی جا سکے۔ اس تصور کے تحت ہندو دیو مالائی ادب میں کم از کم ۴ کروڑ ۳۵ لاکھ ایسی شخصیات اور اشیا ہیں جنہیں ہندو اپنے عقائد کے مطابق دیوی، دیوتا مانتے ہیں۔ یہ دیوتا زمین و آسمان کی تمام قوتوں کے مالک ہیں لیکن بارہا انسان سے شکست بھی کھا جاتے ہیں۔ ہندو لٹریچر میں اس کی متعدد مثالیں ہیں مثلاً رام چند جی کے بھائی لکشمن کہتے ہیں:

’’یہ بالکل محال ہے کہ میرے بھائی کو تمام دیوتا مل کر بھی شکست دے سکیں۔‘‘

ہندؤوں کے بڑے دیوتا تین ہیں۔ برہما، وشنو اور شیو۔ ان تینوں پر ہندو تثلیث قائم ہے، اس نظریے کو ’’تری مورتی‘‘کہا جاتا ہے۔ اس تثلیث میں برہما سب سے اعلیٰ ہے، وہ خالقِ کائنات ہے۔ اس نے دنیا کو عدم سے پیدا کیا مگر کائنات کے پیدا کرنے کے بعد اس کا نظامِ کائنات سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ چونکہ ہندو مادہ پرست ذہنیت کے مالک ہیں وہ برہما کو نہیں پوجتے کیونکہ وہ تو صرف روح ہے۔

وشنو موجودات کی حفاظت اور بقا کا ذمہ دار ہے، اس کی زوجہ لکشمی دولت و ثروت کی علامت ہے۔ وشنو صرف ضرورت کے وقت انسان میں حلول کرجاتا ہے اور جانوروں حتیٰ کہ پودوں کی شکل بھی اختیار کر لیتا ہے۔

شیو، یا شیوا وشنو کی عین ضد ہے، وہ فطرت کی ساری کارروائیوں کا نگران ہے۔ تعمیر و تخریب کی ساری قوتوں کا مالک ہے۔ ہندؤوں کے اکثر سنیاسی، سادھو اور سیاسی رہنما اِسی دیوتا کے پجاری ہیں۔ شیو کے ہر نام کے شروع میں ’اوم‘آتا ہے۔ شیو کا خاص ہتھیار ترشول ہے جس کے نام پر بھارت نے ترشول میزائل بنایا ہے۔

(۲) ویدوں پر ایمان:

ہندؤوں کی مذہبی کتابیں درج ذیل ہیں:

(۱) وید (۲) پُران (۳) اُپشند (۴) مہا بھارت (۵) بھگوت گیتا (۶) رامائن۔

وید چار ہیں: رِگ وید، اتھرواوید، سام وید، یجروید۔ ماہرین کے مطابق وید تین سے چار ہزار سال قبل لکھے گئے۔ یہ آریاؤں کی پرانی زبان سنسکرت میں ہیں۔ پران پہلے ایک تھا۔ اب اٹھارہ ہیں۔ ان میں پران اور اُپ پران زیادہ مشہور ہیں۔ مہا بھارت تاریخ ہند کا سب سے بڑا ماخذ ہے جو رزمیہ نظموں پر مشتمل ہے۔ اس کا موضوع بعض آریہ قبائل کی جنگ ہے، ضمناً کئی قصے کہانیاں بھی موجود ہیں۔ بھگوت گیتا دراصل مہا بھارت ہی کا ایک حصہ ہے جسے غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔ اس میں ان طویل نصیحتوں کا ذکر ہے جو سری کرشن نے ارجن کو کی تھیں۔ رامائن رام چندر نامی ایک شخص کے کارناموں کی داستان ہے، جو ہندؤوں کے دعوے کے مطابق چار ہزار سال قبل گزرا ہے۔ رامائن مغربی بنگال اور بہار کی مذہبی روایات کی آئینہ دار ہے۔

ہندؤوں کی ان مذہبی کتب کی ثقاہت کس حد تک ہے۔ اس بارے میں مشہور ہندو دانشور سوامی دیانند نے لکھا ہے:

’’مہارشیوں کے نام سے من گھڑت غیر ممکن افسانوں سے پُر کتابیں بنائیں، ان کا نام ’پُران‘رکھ کر کتھا بھی سنانے لگے۔‘‘ (‌ص:۴۰۲۔۱۱/۳۹)

’’سب تنتر گرنتھ، پران، اُپ پران بھاشا، رامائن تلسی داس، کمنی منگل وغیرہ اور دیگر سب بھاشا گرنتھ یہ سب طبع زاد اور باطل کتابیں ہیں۔‘‘

پنڈت جواہر لعل نہرو کہتا ہے:

’’رامائن اور مہا بھارت الف لیلوی داستانیں ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔‘‘(جاگو ہندؤو جاگو)

(۳)آوا گَوَن، پورم جنم، تناسخ

ہندؤوں کے نزدیک زندگی لا متناہی ہے ۔ آدمی نے ایک جنم میں اگر اچھے کام کیے تو اگلے جنم میں اچھی صورت میں جنم لے گا اور یہی اس کے لیے سورگ (جنت) ہے اگر برے اعمال کیے تو اگلے جنم میں ایک ذلیل جانور کی شکل میں آئے گا اور یہی اس کے لیے نرگ (دوزخ) ہے۔ اس طرح ہر شخص سات جنم لیتا ہے۔

رسومات، تہوار

ہندومت رسومات اور تہواروں کے بل پر چلتا ہے۔ درجنوں تہوار اور سیکڑوں رسومات ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:

دیوالی‌(لکشمی کا تہوار): یہ ہندؤوں کا سب سے مشہور تہوار ہے، دیوالی کی رات ہر ہندو چراغ جلا کر لکشمی دیوی کی آمد کی امید رکھتا ہے۔ آتش بازی کی جاتی ہے، قمقمے لگائے جاتے ہیں، گائیں بھی سجائی جاتی ہیں کیونکہ جنوبی ہندو گائے کو لکشمی دیوی کا اَوتار سمجھتے ہیں۔

ہولی: اصل میں یہ موسمِ بہار کا تہوار ہے مگر اسے مذہبی رنگ دے دیا جاتا ہے، اس میں ایک دوسرے پر رنگ پھینکے جاتے ہیں۔

بسنت: یہ بھی موسمِ بہار کا تہوار ہے۔ ہندو یہ تہوار ایک گستاخِ رسول کی یاد میں مناتے ہیں جسے لاہور کے مسلمان گورنر نے قتل کروادیا تھا۔

ستی: ہندو بیواؤں کو اپنے شوہر کی چتا (لاش) کے ساتھ جل کر مرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اسے ستی کہتے ہیں۔ اس طرح جل کر مرنے والی عورت ستی دیوی کہلاتی ہے۔ بھارت میں ستی پر پابندی ہے۔

بھینٹ (قربانی): ہندو مذہب کے مطابق دیوی دیوتاؤں کو کاروبارِ دنیا چلانے کے لیے جسمانی طاقت کی ضرورت ہوتی ہے، بھینٹ چڑھانے سے ان کی طاقت بحال ہوتی ہے، نیز ان کی خوشنودی ملتی ہے اور دلی مرادیں بر آتی ہیں۔ بھینٹ جانوروں سے لے کر انسانوں تک کی دی جاتی ہے۔

ہندو مذہب کی تاریخ

ہندو مذہب کم از کم چار ہزار سال قدیم ہے۔ اس کے اصل بانی آریہ تھے جو دو ہزار سال قبل از مسیح وسط ایشیا کے میدانوں میں مویشیوں کے لیے چارے کی کمی کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ یہ قبائل ایران اور افغانستان سے ہوکر ہندوستان میں داخل ہوئے۔ اور یہاں کے مقامی افراد کو جنہیں ’دراوڑ‘ کہا جاتا تھا شکست دے کر یہاں آباد ہوئے۔ دراوڑوں اور آریاؤں میں میل جول بڑھا تو عقائد اور رسموں کا تبادلہ ہوا اور یوں ہندو مذہب وجود میں آیا۔

ذات پات:

ہندو ازم میں ذات پات کے نظام کے بانی برہمن ہیں۔ برہمنوں نے یہ مشہور کر رکھا ہے کہ وہ برہما کے منہ سے پیدا ہوئے ہیں، اور دھرم رکھشا یعنی مذہب کی حفاظت انہیں کا کام ہے۔ انہوں نے خود کو خدا کا نائب اور ہر قسم کے محاسبے سے بالا تر قرار دیا۔ نجات کے لیے اپنی پیروی کو لازم ٹھہرایا اور دیوتاؤں کی بھینٹ کے نام پر مندروں کو اپنے لیے مستقل آمدن کا ذریعہ بنالیا۔

اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے حکومتی ذمہ داریوں کا جھنجھٹ آریہ قبائل کے سرداروں کے سپرد کردیا۔ یہ طبقہ کھشتری کہلانے لگا۔ سیاست اور عسکری امور انہیں کے سپرد ہیں۔ پیداوار اور دنیاوی کاروبار ان مقامی باشندوں کے ذمے رہنے دیا گیا جو پہلے سے کاشتکار، صنعت کار، ہنرمند، تجارت پیشہ یا دولت مند تھے۔ انہیں ’ویش‘کا نام دے دیا گیا۔

خدمت کے کام محکوم اقوام کے غریبوں فقیروں کے سپرد کردیے گئے اور انہیں ’شودر‘ کا نام دے دیا گیا۔ یہ لوگ نسل در نسل نوکر چاکر قسم کے لوگ بن کر رہ گئے جو کسی زیادتی پر احتجاج بھی نہیں کرسکتے۔ یہ تقسیم نسلی تھی یعنی برہمن کی اولاد برہمن اور کھشتری کی اولاد کھشتری ہوگی۔ ویش کی نسل ویش اور شودر کی نسل شودر ہی رہے گی۔

منوشاستر:

منو نامی ایک برہمن نے ’منوشاستر‘لکھ کر ذات پات کے اس نظام کو باقاعدہ ضابطوں میں ڈھال دیا۔ منوشاستر برہمن کے مطابق:

’’جو کچھ اس دنیا میں ہے برہمن کا مال ہے کیونکہ وہ خلقت میں سب سے بڑا ہے، سب چیزیں اسی کی ہیں۔‘‘(بابِ اول)

’’برہمن کو ضرورت ہو تو وہ اپنے بے خطا شودر غلام کا مال جبراً بھی لے سکتا ہے، اس غصب سے اس پر کوئی جرم عائد نہیں ہوتا کیونکہ غلام صاحبِ جائیداد نہیں ہوسکتا اس کی کل املاک اس کے مالک کا مال ہے۔‘‘(بابِ ہشتم)

’’جرم کے عوض دوسری ذات والوں کو موت کی سزا دی جائے گی، اس جرم میں برہمن کا صرف سر مونڈا جائے گا۔‘‘

ہندؤوں کے مذہبی نشانات:

تلک: یہ سفید رنگ کے ذریعے ماتھے پر لگایا جانے والا عمودی نشان ہوتا ہے۔

قشقہ: یہ سرخ رنگ کے ذریعے ماتھے پر لگایا جانے والا افقی نشان ہے۔

تلک اور قشقہ بھگوان سے خاص رابطہ کی علامت ہیں۔ ہندو عورتوں کے ماتھے پر بھی سرخ رنگ کی لکیر کھینچی جاتی ہے، جو اُن کے سہاگن ہونے کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔

ہندو مذہب کے فکری اثرات:

ہندو ازم نے اپنی تمام تر کمزوریوں اور بودے پن کے باوجود کم علم ہندوستانی مسلمانوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ شادی، غمی، میلوں، تہواروں اور وضع قطع میں بھی مسلمان ہندو ازم سے متاثر ہیں۔ تہذیب کے ساتھ ساتھ معتقدات پر بھی ہندو ازم کا اثر پڑا ہے۔ قبر پرستی، غیراللہ سے امدادِ غیبی طلب کرنا، عرس منانا بڑی حد تک ہندو ازم کی مشابہت ظاہر کرتا ہے۔

ہندو میڈیا کی یلغار:

مذکورہ اثرات اُس دور کے تھے جب ہنود نے فکری یلغار کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی تھی۔ مگر دورِ حاضر میں وہ میڈیا کے لاؤ لشکر کے ساتھ مسلمانوں کی تہذیب اور فکر و نظریات پر حملہ آور ہیں۔ نہ صرف پاک و ہند بلکہ عرب اور یورپ کے مسلمان بھی اس مہم سے متاثر ہو رہے ہیں۔ بھارتی میڈیا، بالی ووڈ کی فلمیں اور ٹی وی چینل پاکستان کے اکثر گھروں میں دیکھے جاتے ہیں جن سے اسلامی اقدار کی دھجیاں اڑ رہی ہیں، اور لوگ غیر شعوری طور پر اسلامی عقائد سے منحرف ہو رہے ہیں۔

فتنۂ ارتداد:

میڈیا کی یلغار کے ساتھ متعصب ہندو تنظیمیں بھارت میں مسلمانوں کی جہالت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں ہندو مذہب قبول کرنے کی ترغیب دے رہی ہیں، اس مہم کو عرف عام میں ’شدھی‘کہتے ہیں۔ اس کے کارکن مسلمانوں کو یہ سمجھاتے ہیں کہ تم پہلے ہندو تھے، مسلمان بادشاہوں نے تمہارے آبا و اجداد کو زبردستی مسلمان بنایا تھا مگر اب تم آزاد ہو۔ مسلمان رہو گے تو تمہاری کوئی مدد ہوگی اور نہ جان و مال کی حفاظت، نہ تم کو نوکریاں ملیں گی نہ تعلیم، اس طرح ان گنت مسلمان ہندو بنائے جاچکے ہیں۔1

بدھ مت

بدھ مت کے بانی گوتم بدھ کا اصل نام سدھارتھ تھا، اس کا تعلق چھٹی صدی قبل از مسیح کے دور سے ہے۔ وہ کپیلا کے راجا کا بیٹا اور ولی عہدِ سلطنت تھا، وہ ایک مدت تک غور و فکر مراقبے اور ریاضتوں کے ذریعے نجات کے طریقے کی تلاش میں رہا۔ اور پھر ایک نیا مذہب پیش کیا۔ گوتم بدھ کا پیغام یہ تھا کہ دنیا کی زندگی کوئی چیز نہیں، لہٰذا اس سے دل نہیں لگانا چاہیے، بدھ کی تعلیم میں خدا کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس نے خود بھی کبھی خدائی کا ہرگز دعویٰ نہیں کیا تھا۔ اس نے خود کو صرف ایک اخلاقی رہنما کے طور پر پیش کیا تھا۔

ہندوستان میں بدھ مت کا عروج آٹھ نو صدیوں تک رہا۔ پھر رفتہ رفتہ ہندومت اور بدھ مت اپنے اصولی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے قریب آتے گئے حتیٰ کہ بدھ مت ہندوستان میں ختم ہوگیا۔ بدھ مت کے دو بڑے فرقے ہیں۔ ہنایانا اور مہایانا۔

ہنایانا فرقہ:

اس فرقے نے بدھ مت کے اخلاقی اصولوں کو ایک باقاعدہ مذہب بنانے کی کوشش کی اور اس میں الٰہیات کا اضافہ اس طرح کیا کہ گوتم بدھ ہی کو الوہیت کا درجہ دے دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہندؤوں کو متاثر کرنے کے لیے ان کے بہت سے دیوی دیوتاؤں کو مذہب میں جگہ دے دی مگر سب سے بلند رتبہ گوتم بدھ ہی کو دیا گیا۔ یہ سری لنکا اور برما تک پھیل گیا مگر اپنے اصلی وطن ہندوستان میں برہمنوں کے اثرات قبول کرتے کرتے رفتہ رفتہ بالکل ختم ہوگیا۔

مہایانا بدھ مت:

اس کے پیروکار چین، جاپان، تبت، منگولیا، جاوا اور سماٹرا میں آباد ہیں۔ اس فرقے نے ایک ذات کو کائنات کا خالق مانا اور گوتم بدھ کو اس کا عارضی مظہر قرار دے کر اس کی الوہیت کا عقیدہ برقرار رکھا۔ عام لوگوں کے لیے اخلاقیات پر عمل کافی قرار دیا گیا۔ اس فرقے نے تصاویر اور مجسموں کی ثقافت کو عام کیا۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)


1 آج کل یہی سب ’گھر واپسی‘ کے نام سے ہو رہا ہے اور مسلمان بادشاہوں اور ان مسلمانوں کو جو ہندوستان سے باہر سے آئے تھے ’گُھس بیٹھیے‘ کہا جا رہا ہے۔ (ادارہ)

Exit mobile version