نمازکاشَغَف و شوق اور اُس میں خشوع وخُضوع

نماز ساری عبادتوں میں سب سے زیادہ اہم چیز ہے، قِیامت میں ایمان کے بعد سب سے پہلے نماز ہی کاسوال ہوناہے۔حضورﷺکاارشاد ہے کہ: ’’کُفر اور اِسلام کے درمیان میں نماز ہی آڑ ہے‘‘(ترمذی، ابواب الایمان، باب ماجاء فی ترک الصلاۃ، ۲؍ ۹۰)۔ اِس کے علاوہ اَوربہت سے اِرشادات اِس بارے میں وارد ہیں،جو میرے ایک دوسرے رسالے میں مذکور ہیں۔

(۱)اللہ تعالیٰ کااِرشاد نوافل والے کے حق میں

حق تَعَالیٰ شَانُہٗ ارشاد فرماتے ہیں:’’ جوشخص میرے کسی وَلی سے دشمنی کرتا ہے، میری طرف سے اُس کو لڑائی کااعلان ہے، اور کوئی شخص میرا قُرب اُس چیز کی بنسبت زیادہ حاصل نہیں کرسکتا جو میں نے اُس پرفرض کی ہے، یعنی:سب سے زیادہ قُرب اور نزدیکی مجھ سے فرائض کے اداکرنے سے حاصل ہوتی ہے، اور نوافل کی وجہ سے بندہ مجھ سے قریب ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اُس کو اپنا محبوب بنالیتا ہوں، توپھر میں اُس کاکان بن جاتاہوں جس سے سُنے، اور اُس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھے، اور اُس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ کسی چیز کوپکڑے، اور اُس کاپاؤں بن جاتاہوں جس سے وہ چلے، اگر وہ مجھ سے کچھ مانگتا ہے تو میں اُس کو عطا کرتا ہوں، اورکسی چیز سے پناہ چاہتاہے توپناہ دیتاہوں۔ (بخاری، کتاب الرقاق، باب التواضع، ۲؍۹۶۳)

فائدہ: آنکھ، کان بن جانے کامطلب یہ ہے کہ اُس کادیکھنا، سننا، چلنا، پھرنا؛ سب میری خوشی کے تابع بن جاتا ہے، اور کوئی بات بھی میری خلافِ مرضی نہیں ہوتی۔ کس قدر خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کو فرائض کے بعد نوافل پرکثرت کی توفیق ہو اوریہ دولت نصیب ہوجائے! اللہ تعالیٰ اپنے فَضل سے مجھے اورمیرے دوستوں کوبھی نصیب فرمائے۔

(۲)حضور ﷺکاتمام رات نمازپڑھنا

ایک شخص نے حضرت عائشہ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا سے دریافت کیا کہ: حضورﷺکی کوئی عجیب بات جو آپ نے دیکھی ہو،وہ سنا دیں، حضرت عائشہ رَضِيَ اللہُ عَنْہَانے فرمایا کہ: حضورﷺکی کون سی بات عجیب نہ تھی؟ ہربات عجیب ہی تھی، ایک دن، رات کوتشریف لائے اور میرے پاس لیٹ گئے، پھر فرمانے لگے: ’’لے چھوڑ،میں تو اپنے رب کی عبادت کروں‘‘، یہ فرماکر نماز کے لیے کھڑے ہوگئے اور رونا شروع کیا، یہاں تک کہ آنسو سینۂ مبارک تک بہنے لگے، پھر رکوع فرمایا، اُس میں بھی اِسی طرح روتے رہے، پھرسجدہ کیا، اُس میں بھی اِسی طرح روتے رہے، پھرسجدے سے اُٹھے، اُس میں بھی اِسی طرح روتے رہے، یہاں تک کہ حضرت بلالؓ نے آکر صبح کی نماز کے لیے آواز دی،میں نے عرض کیا: یارسولَ اللہ! آپ اِتنے روئے حالانکہ آپ معصوم ہیں، اگلے پچھلے سب گناہوں کی (اگر بالفرض ہوں بھی تو)مغفرت کاوعدہ اللہ تعالیٰ نے فرما رکھا ہے، آپ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ: ’’پھر میں شکر گُزار نہ بنوں‘‘؟، اِس کے بعد اِرشاد فرمایا کہ: ’’میں ایسا کیوں نہ کرتا، حالانکہ آج مجھ پر یہ آیتیں نازل ہوئیں﴿إِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰواتِ وَالْأَرْضِ…… الخ آلِ عمران کا آخری رکوع۔

یہ متعدِّد روایات میں آیا ہے کہ: حضورِاکرم ﷺ رات کواِس قدرلمبی نماز پڑھا کرتے تھے کہ کھڑے کھڑے پاؤں پروَرَم آگیاتھا، لوگوں نے عرض کیا: یارسولَ اللہ!آپ اِتنی مَشقَّت اُٹھاتے ہیں، حالانکہ آپ بخشے بخشائے ہیں؟ آپ ﷺنے ارشاد فرمایاکہ: میں شکر گُزار بندہ نہ بنوں؟۔ (بخاری، کتاب التہجد، باب قیام النبی ﷺ اللیل، ۱؍۱۵۲۔ درمنثور، ۲؍ ۱۹۵)

(۳)حضور ﷺ کا چار رکعت میں چھ پارے پڑھنا

حضرت عوف ؓکہتے ہیں کہ: میں ایک مرتبہ حضور ﷺکے ہم رِکاب تھا، حضورﷺ نے مسواک فرمائی، وضو فرمایا،اور نمازکی نیت باندھ لی، میں بھی حضورﷺکے ساتھ نماز میں شریک ہوگیا، حضور ﷺنے سورۂ بقرہ ایک رکعت میں پڑھی، اور جو آیت رحمت کی آتی حضورﷺ اُس جگہ دیرتک رحمت کی دعامانگتے رہتے، اور جو آیت عذاب کی آتی اُس جگہ دیرتک عذاب سے پناہ مانگتے رہتے، سورۃ کے ختم پر رکوع کیا،اور اُتنا ہی لمبا رکوع کیا جتنی دیر میں سورۂ بقرہ پڑھی جاتی، اور رکوع میں سُبْحَانَ ذِی الْجَبْرُوْتِ وَالْمَلَکُوْتِ وَالْعَظْمَۃِ پڑھتے جاتے تھے، پھر اُتنا ہی لمبا سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت میں اِسی طرح سورۂ آلِ عمران پڑھی، اور اِسی طرح ایک ایک رکعت میں ایک ایک سورۃ پڑھتے رہے، اِس طرح چار رکعتوں میں سَوا چھ سپارے ہوتے ہیں۔ (ابوداود، کتاب الصلوٰۃ، باب مایقول الرجل فی رکوعہ وسجودہ، ۱؍۱۲۷)

یہ کتنی لمبی نماز ہوئی ہوگی جس میں ہر آیتِ رحمت اور آیتِ عذاب پر دیر تک دعاکامانگنا، اور پھر اُتنا ہی لمبا رکوع اورسجدہ تھا!

حضرت حذیفہؓ بھی اپنا ایک قصہ حضورﷺکے ساتھ نمازپڑھنے کا اِسی طرح نقل کرتے ہیں، اورفرماتے ہیں کہ: چار رکعتوں میں چارسورتیں( سورۂ بقرہ سے لے کرسورۂ مائدہ کے ختم تک) پڑھیں۔

فائدہ: اِن چار سورتوں کے سَواچھ سپارے ہوتے ہیں، جوحضورﷺنے چار رکعتوں میں پڑھے، اور حضورِاکرم ﷺکی عادتِ شریفہ تجویدوترتیل کے ساتھ پڑھنے کی تھی، جیسا کہ اکثر احادیث میں ہے، اِس کے ساتھ ہی ہرآیتِ رحمت اورآیتِ عذاب پر ٹھہرنا اور دعا مانگنا، پھر اُتنا ہی لمبا رکوع سجدہ۔ اِس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ اِس طرح چار رکعت میں کس قدر وقت خرچ ہوا ہوگا!۔ بعض مرتبہ حضورِاقدس ﷺنے ایک رکعت میں سورۂ بقرہ، آل عمران، مائدہ؛ تین سورتیں پڑھیں، جو تقریباً پانچ پارے ہوتے ہیں، یہ جب ہی ہوسکتاہے جب نماز میں چَین اورآنکھوں کی ٹھنڈک نصیب ہوجائے۔ نبیٔ اکرم ﷺ کاپاک ارشاد ہے کہ: ’’میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے‘‘۔ اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنِيْ اِتِّبَاعَہٗ۔

(۴)حضرت ابوبکرصدیق وحضرت ابن زبیروحضرت علی (رضی اللہ عنہم) وغیرہ کی نمازوں کے حالات

مجاہدؒ، حضرت ابوبکرصدیق ؓاورحضرت عبداللہ بن زبیرؓ کاحال نقل کرتے ہیں کہ: جب وہ نماز میں کھڑے ہوتے تھے توایسامعلوم ہوتاتھا کہ ایک لکڑی گَڑی ہوئی ہے۔ یعنی بالکل حرکت نہیں ہوتی تھی (تاریخ الخُلَفاء)۔

علما نے لکھاہے کہ: حضرت ابن زبیرؓ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے نماز سیکھی، اور اُنہوں نے حضورﷺسے۔ یعنی:جس طرح حضورﷺ نمازپڑھتے تھے اِسی طرح حضرت ابوبکرصدیقؓ پڑھتے تھے، اور اِسی طرح حضرت عبداللہ بن زبیرؓ۔ ثابتؓ کہتے ہیں کہ: عبداللہ بن زبیرؓ کی نماز ایسی ہوتی تھی کہ گویالکڑی ایک جگہ گاڑ دی۔ ایک شخص کہتے ہیں کہ: ابنِ زبیرؓ جب سجدہ کرتے تواِس قدر لمبا اوربے حرکت ہوتا تھا کہ چڑیاں آکرکمر پر بیٹھ جاتیں، بعض مرتبہ اِتنا لمبا رکوع کرتے کہ تمام رات صبح تک رکوع ہی میں رہتے، بعض اوقات سجدہ اِتنا ہی لمبا ہوتا کہ پوری رات گزر جاتی۔جب ابن زبیرؓ سے لڑائی ہو رہی تھی توایک گولہ مسجد کی دیوار پر لگا، جس سے دیوار کا ایک ٹکڑا اُڑا اورحضرت ابن زبیرؓ کے حلق اور ڈاڑھی کے درمیان سے گزرا؛ مگر نہ اُن کوکوئی اِنتشار ہوا، نہ رکوع سجدہ مختصر کیا۔ ایک مرتبہ نماز پڑھ رہے تھے، بیٹا (جس کانام ہاشم تھا)پاس سو رہا تھا، چھت میں سے ایک سانپ گرا اور بچے پر لِپٹ گیا، وہ چِلّایا، گھر والے سب دوڑے ہوئے آئے، شور مچ گیا، اُس سانپ کومارا، ابن زبیرؓ اُسی اطمینان سے نماز پڑھتے رہے، سلام پھیر کر فرمانے لگے: ’’کچھ شور کی سی آواز آئی تھی،کیاتھا‘‘؟بیوی نے کہا:اللہ تم پر رحم کرے، بچے کی توجان بھی گئی تھی، تمہیں پتہ ہی نہ چلا؟ فرمانے لگے: ’’تیرا ناس ہو، اگرمیں نماز میں دوسری طرف توجُّہ کرتا تو نماز کہاں باقی رہتی؟‘‘۔ (ہدایہ وغیرہ)۔

حضرت عمرؓ کے اخیر زمانے میں جب اُن کے خنجر ماراگیا جس کی وجہ سے اُن کاانتقال ہوا، تو ہروقت خون بہتا تھا اور اکثر غفلت بھی ہوجاتی تھی؛ لیکن اِس حالت میں بھی جب نماز کے لیے مُتنَبَّہ کیے جاتے، تواِسی حالت میں نماز ادافرماتے، اور اِرشادفرماتے کہ: ’’اسلام میں اُس کاکوئی حصہ نہیں جو نماز چھوڑدے‘‘۔

حضرت عثمان ؓ تمام رات جاگتے، اور ایک رات میں پورا قرآن شریف ختم کرلیتے (منتخب کنزُالعُمَّال)۔

حضرت علیؓ کی عادتِ شریفہ تھی کہ: جب نماز کاوقت آجاتاتوبدن میں کپکپی آجاتی، اور چہرہ زَرد ہوجاتا، کسی نے پوچھا: کیابات ہے؟ فرمایا کہ: اُس اَمانت کاوقت ہے جس کواللہ جَلَّ شَانُہٗ نے آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر اُتارا، تو وہ اُس کے تحمل سے عاجز ہوگئے، اور میں نے اِس کا تحمل کیا ہے۔

خَلَف بن ایوبؓ سے کسی نے پوچھا کہ: تمہیں نماز میں مکھیاں دِق نہیں کرتیں؟ فرمایا کہ: فاسق لوگ حکومت کے کوڑے کھاتے ہیں اور حرکت نہیں کرتے، اور اِس پر فخر کرتے ہیں اور اپنے صبروتحمل پر اَکڑتے ہیں، کہ اِتنے کوڑے مارے، میں ہِلاتک نہیں، میں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوں اور ایک مکھی کی وجہ سے حرکت کرجاؤں!

مُسلِم بن یَسارؒ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تواپنے گھروالوں سے کہتے کہ: تم باتیں کرتے رہو مجھے تمہاری بات کاپتہ ہی نہیں چلے گا۔ایک مرتبہ بَصرہ کی جامع مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے کہ مسجد کاایک حصہ گِرا، لوگ اُس کی وجہ سے دوڑے، وہاں جمع ہوئے، شوروشَغَب ہوا؛ مگراِن کو پتہ ہی نہ چلا۔

حاتِم اَصمؒ سے کسی نے اُن کی نماز کی کیفیت پوچھی، توکہنے لگے کہ: جب نماز کا وقت آتا ہے، تو وُضو کے بعد اُس جگہ پہنچ کرجہاں نماز پڑھوں، تھوڑی دیربیٹھتاہوں کہ بدن کے تمام حصّے میں سکون پیداہوجائے، پھرنماز کے لیے کھڑاہوتاہوں، اِس طرح کہ بیتُ اللہ کواپنی نگاہ کے سامنے سمجھتا ہوں، اور پُل صِراط کوپاؤں کے نیچے، جنت کو دائیں طرف، اورجہنّم کوبائیں طرف، اورموت کے فرشتے کواپنے پیچھے کھڑا ہوا خَیال کرتاہوں، اور سمجھتا ہوں کہ یہ آخری نماز ہے، اِس کے بعدپورے خشوع وخُضوع سے نماز پڑھتا ہوں، اور اِس کے بعد اُمید اور ڈر کے درمیان رہتاہوں کہ: نہ معلوم قبول ہوئی یانہیں؟(اِحیاء العلوم، کتاب اسرار الصلوٰۃ ومہماتہا، ۱؍۲۰۶)

(۵)ایک مُہاجر اورایک انصاری کی چوکیداری اور اَنصاری کانماز میں تیر کھانا

نبیٔ اَکرم ﷺ ایک غزوے سے واپس تشریف لارہے تھے، شب کوایک جگہ قیام فرمایا،اور ارشاد فرمایا کہ: آج شب کو حفاظت اورچوکیدارا کون کرے گا؟ ایک مُہاجِر اور ایک انصاری، حضرت عَمَّار بن یاسِرؓ اورحضرت عَبَّاد بن بِشرؓ نے عرض کیا کہ: ہم دونوں کریں گے۔ حضورﷺ نے ایک پہاڑی(جہاں سے دشمن کے آنے کاراستہ ہوسکتاتھا)بتادی، کہ اِس پردونوں قیام کرو، دونوں حضرات وہاں تشریف لے گئے۔ وہاں جاکرانصاری نے مہاجر سے کہا کہ رات کو دو حصّوں پرمنقسم کرکے ایک حصے میں آپ سو رہیں میں جاگتا رہوں، دوسرے حصے میں آپ جاگیں میں سوتا رہوں، کہ دونوں کے تمام رات جاگنے میں یہ بھی احتمال ہے کہ کسی وقت نیند کا غلبہ ہوجائے اور دونوں کی آنکھ لگ جائے، اگرکوئی خطرہ جاگنے والے کومحسوس ہو تو اپنے ساتھی کو جگالے۔ رات کا پہلاآدھا حصہ انصاری کے جاگنے کاقرار پایا اورمہاجر سوگئے، انصاری نے نماز کی نیت باندھ لی، دشمن کی جانب سے ایک شخص آیا اور دور سے کھڑے ہوئے شخص کودیکھ کر تیر مارا، اور جب کوئی حرکت نہ ہوئی تو دوسرا اور پھر اِسی طرح تیسرا تیر مارا، اور ہر تیر اُن کے بدن میں گھُستا رہا، اور یہ ہاتھ سے اُس کو بدن سے نکال کرپھینکتے رہے، اِس کے بعد اطمینان سے رکوع کیا، سجدہ کیا، نماز پوری کرکے اپنے ساتھی کو جگایا، وہ توایک کی جگہ دو کو دیکھ کر بھاگ گیاکہ نہ معلوم کتنے ہوں؛ مگرساتھی نے جب اُٹھ کردیکھا تو انصاری کے بدن سے تین جگہ سے خون ہی خون بہہ رہا تھا،مُہاجر نے فرمایا: سبحانَ اللہِ! تم نے مجھے شروع ہی میں نہ جگالیا؟ انصاری نے فرمایا کہ:میں نے ایک سورۃ(سورۂ کہف) شروع کر رکھی تھی، میرا دل نہ چاہا کہ اُس کوختم کرنے سے پہلے رکوع کروں، اب بھی مجھے اِس کا اندیشہ ہوا کہ ایسا نہ ہو میں بار بار تیر لگنے سے مرجاؤں، اور حضورﷺ نے جو حفاظت کی خدمت سُپرد کررکھی ہے وہ فوت ہوجائے، اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا تو میں مرجاتا؛ مگر سورۃ ختم کرنے سے پہلے رکوع نہ کرتا۔ (ابوداود، کتاب الطہارۃ، باب الوضوء من الدم، ۱؍۲۶۔ بیہقی، ۱؍۱۴۰)

فائدہ: یہ تھی اُن حضرات کی نماز اور اِس کاشوق، کہ تیر پر تیر کھا جائیں اور خون ہی خون ہوجائے؛ مگرنماز کے لُطف میں فرق نہ پڑے، ایک ہماری نماز ہے کہ اگرمچھربھی کاٹ لے تونماز کا خیال جاتارہے، بھِڑ کا تو پوچھنا ہی کیا!

یہاں ایک فِقہی مسئلہ بھی اِختلافی ہے، کہ خون نکلنے سے ہمارے امام یعنی امامِ اعظمؒ کے نزدیک وُضو ٹوٹ جاتاہے، امام شافعیؒ کے نزدیک نہیں ٹوٹتا،ممکن ہے کہ اُن صحابی کامذہب بھی یہی ہو، یا اُس وقت تک اِس مسئلے کی تحقیق نہ ہوئی ہو،کہ حضورِاکرم ﷺاُس مجلس میں تشریف فرمانہ تھے، یااُس وقت تک یہ حکم ہوا ہی نہ ہو۔

(۶)حضرت ابوطلحہ ؓ کانماز میں خیال آجانے سے باغ وَقف کرنا

حضرت ابوطلحہ ؓ ایک مرتبہ اپنے باغ میں نمازپڑھ رہے تھے، ایک پرندہ اُڑا، اور چوں کہ باغ گنجان تھا؛ اِس لیے اُس کو جلدی سے باہرجانے کاراستہ نہ ملا، کبھی اِس طرف، کبھی اُس طرف اُڑتا رہا، اورنکلنے کاراستہ ڈھونڈتارہا، اِن کی نگاہ اُس پر پڑی، اور اِس منظر کی وجہ سے اُدھرخیال لگ گیا، اور نگاہ اُس پرندے کے ساتھ پھرتی رہی، دَفعۃً نماز کاخَیال آیا تو سَہوہوگیا، کہ کون سی رکعت ہے؟ نہایت قَلَق ہوا، کہ اِس باغ کی وجہ سے یہ مصیبت پیش آئی کہ نماز میں بھول ہوئی، فوراً حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور پورا قصہ عرض کرکے درخواست کی کہ: اِس باغ کی وجہ سے یہ مصیبت پیش آئی؛ اِس لیے میں اِس کواللہ کے راستے میں دیتاہوں،آپ جہاں دل چاہے اُس کو صَرف فرمادیجیے۔

اِسی طرح ایک اَور قصہ حضرت عثمان ؓ کے زمانۂ خلافت میں پیش آیا، کہ ایک انصاری اپنے باغ میں نماز پڑھ رہے تھے، کھجوریں پکنے کازمانہ شَباب پر تھا، اور خوشے کھجوروں کے بوجھ اورکثرت سے جھکے پڑے تھے، نگاہ خوشوں پرپڑی اور کھجوروں سے بھرے ہونے کی وجہ سے بہت ہی اچھے معلوم ہوئے، خیال اُدھرلگ گیا، جس کی وجہ سے یہ بھی یاد نہ رہا کہ کتنی رکعتیں ہوئیں؟ اِس کے رنج اورصدمے کا ایسا غلبہ ہوا کہ اُس کی وجہ سے یہ ٹھان لی کہ: اِس باغ ہی کو اَب نہیں رکھنا جس کی وجہ سے یہ مصیبت پیش آئی، چناں چہ حضرت عثمان ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور آکر عرض کیا کہ: یہ اللہ کے راستے میں خرچ کرناچاہتا ہوں، اِس کو جو چاہے کیجیے، اُنہوں نے اِس باغ کوپچاس ہزار میں فروخت کرکے اِس کی قیمت دِینی کاموں میں خرچ فرمادی۔ (مُؤطااِمام مالک، ص۴۳)

فائدہ: یہ ایمان کی غیرت ہے کہ نماز جیسی اہم چیز میں خیال آجانے سے پچاس ہزار درہم کاباغ ایک دَم صدقہ کردیا۔ہمارے حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے ’’قولِ جمیل‘‘ میں صوفیا کی نسبت کی قسمیں تحریرفرماتے ہوئے اِس کے متعلِّق تحریر فرمایا ہے کہ: ’’یہ نسبت ہے اللہ کی اِطاعت کو ماسِوا پرمُقدَّم رکھنا اور اِس پرغیرت کرنا‘‘،کہ اِن حضرات کو اِس پرغیرت آئی کہ اللہ کی اِطاعت میں کسی دوسری چیزکی طرف توجُّہ کیوں ہوئی؟

(۷)حضرت ابن عباسؓ کانمازکی وجہ سے آنکھ نہ بنوانا

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی آنکھ میں جب پانی اُتر آیا، توآنکھ بنانے والے حاضر خدمت ہوئے، اور عرض کیا کہ: اجازت ہو تو ہم آنکھ بنادیں؛ لیکن پانچ دن تک آپ کواِحتیاط کرنا پڑے گی، کہ سجدہ بجائے زمین کے کسی اونچی لکڑی پر کرنا ہوگا، اُنہوں نے فرمایا: یہ ہرگز نہیں ہوسکتا، وَاللہ! ایک رکعت بھی اِس طرح پڑھنامجھے منظور نہیں، حضورﷺ کاارشاد مجھے معلوم ہے کہ: ’’جو شخص ایک نمازبھی جان کرچھوڑدے، وہ حق تَعَالیٰ شَانُہٗ سے ایسی طرح ملے گا کہ حق سُبْحَانَہٗ وَتَقَدُّسْ ا ُس پر ناراض ہوں گے‘‘۔ (دُرِّمنثور، ۱؍ ۵۲۹)

فائدہ: اگرچہ شرعاًنماز اِس طرح سے مجبوری کی حالت میں پڑھناجائز ہے، اوریہ صورت نماز چھوڑنے کی وعید میں داخل نہیں ہوتی؛ مگرحضرات صحابۂ کرام ؓ کو نماز کے ساتھ جوشَغَف تھا، اورنبیٔ اکرم ﷺکے ارشاد پر عمل کی جس قدر اَہمِّیَّت تھی، اُس کی وجہ سے حضرت ابن عباسؓ نے آنکھ بنوانے کوبھی پسند نہ کیا، کہ اُن حضرات کے نزدیک ایک نمازپر ساری دنیا قربان تھی۔ آج ہم بے حیائی سے جوچاہے اِن مَرمٹنے والوں کی شان میں منہ سے نکال دیں، جب کل اُن کا سامناہوگا اوریہ فِدائی میدانِ حشر کی سَیر کے لُطف اُڑا رہے ہوں گے، جب حقیقت معلوم ہوگی، کہ یہ کیاتھے اورہم نے اِن کے ساتھ کیابرتاؤ کیا؟۔

(۸)صحابہ کانمازکے وقت فوراًدُکانیں بندکرنا

حضرت عبداللہ بن عمرؓ ایک مرتبہ بازار میں تشریف رکھتے تھے، کہ جماعت کاوقت ہوگیا، دیکھا کہ فوراً سب کے سب اپنی اپنی دُکانیں بندکرکے مسجد میں داخل ہوگئے، ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ اِنھیں لوگوں کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿رِجَالٌ لَّاتُلْہِیْہِمْ تِجَارَۃٌ وَّلَا بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ(سورۃ نور:۱۸)۔ ترجمہ پوری آیتِ شریفہ کایہ ہے کہ: اِن مسجدوں میں ایسے لوگ صبح وشام اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں، جن کواللہ کی یادسے اور بِالخُصوص نماز پڑھنے اورزکوۃ دینے سے نہ خریدنا غفلت میں ڈالتا ہے، نہ بیچنا، وہ ایسے دن کی پکڑ سے ڈرتے ہیں جس میں بہت سے دل اور بہت سی آنکھیں اُلٹ جائے گی۔ (ماخوذاز:بیانُ القرآن)۔

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ: وہ لوگ تجارت وغیرہ اپنے اپنے کاروبار میں مشغول ہوتے تھے؛ لیکن جب اذان کی آواز سنتے توسب کچھ چھوڑ کر فوراًمسجد میں چلے جاتے۔ ایک جگہ کہتے ہیں : خداکی قَسم! یہ لوگ تاجرتھے؛ مگراُن کی تجارت اُن کواللہ کے ذکر سے نہیں روکتی تھی۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ایک مرتبہ بازار میں تشریف رکھتے تھے کہ اذان ہوگئی، اُنہوں نے دیکھا کہ: لوگ اپنے اپنے سامان کوچھوڑ کرنماز کی طرف چل دیے، ابن مسعودؓ نے فرمایا: یہی لوگ ہیں جن کو اللہ جَلَّ شَانُہٗ نے ﴿لَاتُلْہِیْہِمْ تِجَارَۃٌ وَّلَا بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِاللّٰہِ سے یاد فرمایا۔

ایک حدیث میں حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ:قیامت کے دن جب حق تَعَالیٰ شَانُہٗ تمام دنیا کو ایک جگہ جمع فرمائیں گے، توارشاد ہوگا: کہاں ہیں وہ لوگ جو خوشی اور رنج دونوں حالتوں میں اللہ کی حَمد کرنے والے تھے؟ توایک مختصر جماعت اُٹھے گی اوربغیرحساب کتاب کے جنت میں داخل ہوجائے گی۔ پھر ارشاد ہوگا: کہاں ہیں وہ لوگ جو راتوں میں اپنی خواب گاہ سے دُور رہتے، اور اپنے رب کو خوف اور رَغبت کے ساتھ یادکرتے تھے؟ توایک دوسری مختصر جماعت اُٹھے گی اوروہ بھی جنت میں بغیرحساب کے داخل ہوجائے گی۔ پھر ارشاد ہوگا: کہاں ہیں وہ لوگ جن کوتجارت یابیچنا اللہ کے ذکر سے نہیں روکتاتھا؟ تو ایک تیسری جماعت مختصرسی کھڑی ہوگی اورجنت میں بغیرحساب کے داخل ہوگی۔ اِس کے بعد بقیہ لوگوں کا حساب شروع ہوجائے گا۔(دُرِّمنثور، ۵؍۹۴)

(۹)حضرت خُبیبؓ کاقتل کے وقت نمازپڑھنا اورزیدؓ وعاصم ؓکاقتل

اُحُدکی لڑائی میں جو کافر مارے گئے تھے، اُن کے عزیزوں میں اِنتقام کاجوش زور پر تھا، سُلافہ نے(جس کے دوبیٹے اِس لڑائی میں مارے گئے تھے) مَنَّت مانی تھی کہ: اگر عاصم کا (جنہوں نے اُس کے بیٹوں کوقتل کیاتھا) سرہاتھ آجائے تواُس کی کھوپڑی میں شراب پیوں گی؛ اِس لیے اُس نے اعلان کیاتھا کہ: جوعاصم کاسر لائے گا اُس کوسو اُونٹ انعام دوں گی، سفیان بن خالد کو اِس لالچ نے آمادہ کیا کہ وہ اُن کا سر لانے کی کوشش کرے، چناں چہ اُس نے ’’عَضَل‘‘ و’’قارَہ‘‘ کے چند آدمیوں کو مدینۂ مُنوَّرہ بھیجا، اُن لوگوں نے اپنے کومسلمان ظاہر کیا، اور حضورِ اقدس ﷺ سے تعلیم وتبلیغ کے لیے اپنے ساتھ چندحضرات کوبھیجنے کی درخواست کی، اورحضرت عاصمؓ صکے بھی ساتھ بھیجنے کی درخواست کی، کہ اُن کاوَعظ پسندیدہ بتلایا، چناں چہ حضورﷺنے دس آدمیوں کو (اوربعض رِوایات میں چھ آدمیوں کو)اُن کے ساتھ کردیا، جن میں سے حضرت عاصم ؓ بھی تھے، راستے میں جاکر اُن لے جانے والوں نے بدعَہدی کی، اور دشمنوں کو مقابلے کے لیے بلایا جو دوسو آدمی تھے، اور اُن میں سے سو آدمی بہت مشہور تیراَنداز تھے، اور بعض روایات میں ہے کہ حضورﷺنے اُن حضرات کومکہ والوں کی خبر لانے کے لیے بھیجاتھا، راستے میں ’’بنولِحیان‘‘ کے دوسو آدمیوں سے مقابلہ ہوا۔ یہ مختصر جماعت (دس آدمیوں کی یاچھ آدمیوں کی)یہ حالت دیکھ کر ایک پہاڑی پر (جس کانام’’ فَدفَد‘‘ تھا) چڑھ گئی، کُفَّار نے کہا کہ: ہم تمہارے خون سے اپنی زمین رنگنا نہیں چاہتے، صرف اہلِ مکہ سے تمہارے بدلے میں کچھ مال لیناچاہتے ہیں، تم ہمارے ساتھ آجاؤ ہم تم کوقتل نہ کریں گے؛ مگراُنہوں نے کہا کہ: ہم کا فر کے عہد میں آنا نہیں چاہتے، اور تَرکَش سے تیر نکال کرمقابلہ کیا، جب تیر ختم ہوگئے تو نیزوں سے مقابلہ کیا، حضرت عاصم ؓ نے ساتھیوں سے جوش میں کہا: ’’ہم سے دھوکہ کیاگیا؛ مگر گھبرانے کی بات نہیں، شہادت کوغنیمت سمجھو، تمہارا محبوب تمہارے ساتھ ہے اورجنت کی حوریں تمہاری مُنتظِرہیں‘‘، یہ کہہ کر جوش سے مُقابلہ کیا، اور جب نیزہ بھی ٹوٹ گیا تو تلوارسے مقابلہ کیا، مُقابِلوں کامجمع کثیر تھا، آخرشہید ہوگئے، اوردعاکی کہ: ’’یااللہ! اپنے رسول ﷺ کوہمارے قصے کی خبر کر دے‘‘، چناں چہ یہ دعاقبول ہوئی، اور اُسی وقت اِس واقعے کاعلم حضورﷺ کوہوگیا۔ اورچوں کہ عاصمؓ یہ بھی سن چکے تھے کہ سُلافہ نے میرے سر کی کھوپڑی میں شراب پینے کی مَنَّت مانی ہے؛ اِس لیے مرتے وقت دعا کی: یااللہ! میرا سر تیرے راستے میں کاٹا جا رہا ہے تُوہی اِس کا مُحافِظ ہے، وہ دعابھی قبول ہوئی، اور شہادت کے بعدجب کافروں نے سرکاٹنے کاارادہ کیاتواللہ تعالیٰ نے شہدکی مکھیوں کا(اوربعض روایات میں بھِڑوں کا)ایک غَول بھیج دیا، جنہوں نے اُن کے بدن کو چاروں طرف سے گھیر لیا، کافروں کو خیال تھا کہ رات کے وقت جب یہ اُڑجائے گی توسرکاٹ لیں گے؛ مگررات کو ایک بارش کی رَو آئی اور اُن کی نعش کوبہاکر لے گئی، اِسی طرح سات آدمی یا تین آدمی شہید ہوگئے۔

غرض تین باقی رہ گئے: حضرت خُبیب اور زیدبن دَثِنہ اورعبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہم ؛ اِن تینوں حضرات سے پھر اُنہوں نے عہدپیمان کیا کہ: تم نیچے آجاؤ، ہم تم سے بدعہدی نہ کریں گے، یہ تینوں حضرات نیچے اُتر آئے، اور نیچے اُترنے پر کُفَّار نے اُن کی کمانوں کی رسیاں اُتار کر اُن کی مشکیں باندھیں، حضرت عبداللہ بن طارق ؓ نے فرمایا کہ: یہ پہلی بدعہدی ہے،میں تمہارے ساتھ ہرگز نہ جاؤں گا، اِن شہید ہونے والوں کا اِقتِدا ہی مجھے پسندہے، اُنہوں نے زبردستی اُن کو کھینچنا چاہا؛ مگریہ نہ ٹَلے، تو اُن لوگوں نے اِن کو بھی شہید کردیا۔صرف دو حضرات اُن کے ساتھ رہے جن کولے جاکر اُن لوگوں نے مکہ والوں کے ہاتھ فروخت کردیا: ایک حضرت زیدبن دَثِنہؓ، جن کوصَفوان بن اُمَیَّہ نے پچاس اونٹ کے بدلے میں خریدا؛ تاکہ اپنے باپ اُمَیہ کے بدلے میں قتل کرے، دوسرے: حضرت خُبیب ؓ، جن کو حُجَیربن اَبی اِہاب نے سو اونٹ کے بدلے میں خریدا؛ تاکہ اپنے باپ کے بدلے میں اُن کو قتل کرے۔ ’’بخاری شریف‘‘ کی روایت ہے کہ: حارِث بن عامِر کی اولاد نے خریدا، کہ اِنہوں نے بدر میں حارث کوقتل کیا تھا۔

صَفوان نے تو اپنے قیدی حضرت زیدؓکو فوراً ہی حرم سے باہر اپنے غلام کے ہاتھ بھیج دیا کہ قتل کردیے جاویں، اِس کاتماشہ دیکھنے کے واسطے اَور بھی بہت سے لوگ جمع ہوئے جن میں ابوسفیان بھی تھے(ابھی ایمان نہ لائے تھے)، اُنہوں نے حضرت زیدؓ سے شہادت کے وقت پوچھا کہ: اے زید! تجھ کو خداکی قسم، سچ کہنا، کیا تجھ کویہ پسند ہے کہ محمد()کی گردن تیرے بدلے میں ماردی جائے اورتجھ کو چھوڑ دیا جائے، کہ اپنے اَہل وعَیال میں خوش وخُرَّم رہے؟ حضرت زیدؓ نے فرمایا کہ: ’’خدا کی قَسم! مجھے یہ بھی گَوارا نہیں کہ حضورِاقدس ﷺ جہاں ہیں وہِیں اُن کے ایک کانٹا بھی چبھے اور ہم اپنے گھر آرام سے رہیں‘‘، یہ جواب سن کر قریش حیران رہ گئے، ابوسفیان نے کہا کہ: محمد () کے ساتھیوں کو جتنی اُن سے محبت دیکھی اُس کی نَظیر کہیں نہیں دیکھی، اِس کے بعدحضرت زیدؓ شہید کر دیے گئے۔

حضرت خُبیب ؓ ایک عرصے تک قید میں رہے، حُجیر کی باندی (جوبعد میں مسلمان ہوگئی)کہتی ہے کہ: جب خُبیبؓ ہم لوگوں کی قیدمیں تھے، توہم نے دیکھا کہ خُبیبؓ ایک دن انگور کا بہت بڑاخوشہ (آدمی کے سر کے برابر)ہاتھ میں لیے ہوئے انگور کھا رہے تھے، اورمکہ میں اُس وقت انگوربالکل نہیں تھا۔ وہی کہتی ہیں کہ:جب اُن کے قتل کاوقت قریب آیا، تواُنہوں نے صفائی کے لیے اُسترا مانگا، وہ دے دیاگیا، اتِّفاق سے ایک کم سِن بچہ اُس وقت خُبیبؓ کے پاس چلاگیا، اُن لوگوں نے دیکھا کہ اُسترا اُن کے ہاتھ میں ہے اوربچہ اُن کے پاس، یہ دیکھ کر گھبرائے، خُبیب ؓ نے فرمایا: کیا تم یہ سمجھتے ہوکہ میں بچے کوقتل کردوں گا؟ ایسانہیں کرسکتا، اِس کے بعد اُن کو حَرم سے باہر لایا گیا، اور سُولی پر لَٹکانے کے وقت آخری خواہش کے طور پرپوچھا گیاکہ: کوئی تمناہو تو بتاؤ، اُنہوں نے فرمایا کہ: ’’مجھے اِتنی مہلت دی جائے کہ دو رکعت نماز پڑھ لوں، کہ دنیاسے جانے کاوقت ہے اور اللہ جَلَّ شَانُہٗ کی ملاقات قریب ہے‘‘، چناں چہ مہلت دی گئی، اُنہوں نے دورکعتیں نہایت اطمینان سے پڑھی، اورپھرفرمایا کہ: ’’اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ تم لوگ یہ سمجھوگے کہ میں موت کے ڈر کی وجہ سے دیر کررہاہوں، تودو رکعت اَورپڑھتا‘‘، اِس کے بعدسُولی پرلَٹکادیے گئے، تو اُنہوں نے دعا کی کہ: یااللہ!کوئی ایساشخص نہیں ہے جو تیرے رسولِ پاک ﷺ تک میراآخری سلام پہنچا دے؟، چناں چہ حضورﷺ کوبذریعۂ وحی اُسی وقت سلام پہنچایا گیا، حضورﷺنے فرمایا: ’’وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ یَاخُبَیْبُ‘‘ اور ساتھیوں کواِطلاع فرمائی کہ: خُبیب ؓکوقریش نے قتل کردیا۔ حضرت خُبیبؓ کو جب سُولی پر چڑھایا گیا، توچالیس کافروں نے نیزے لے کرچاروں طرف سے اُن پرحملہ کیا اور بدن کو چھلنی کر دیا، اُس وقت کسی نے قسم دے کریہ بھی پوچھا کہ: تم یہ پسند کرتے ہوکہ تمہاری جگہ محمد () کو قتل کر دیں اورتم کوچھوڑ دیں؟ اُنہوں نے فرمایا: واللہِ الْعَظِیْمِ! مجھے یہ بھی پسندنہیں کہ میری جان کے فِدیے میں ایک کانٹابھی حضورﷺکے چبھے۔ (فتح الباری، کتاب المغازی، باب غزوۃ الرجیع، ۷؍۴۸۱)

فائدہ: ویسے تواِن قصوں کاہرہرلفظ عبرت ہے؛ لیکن اِس قصے میں دوچیزیں خاص طور سے قابلِ قدر،قابلِ عبرت ہیں، اُن حضرات کی نبیٔ کریم ﷺکے ساتھ محبت وعشق، کہ اپنی جان جائے اور اِس کے بدلے میں اِتنا لفظ کہنابھی گَوارا نہیں کہ حضورﷺ کوکسی قسم کی تکلیف معمولی سی بھی پہنچ جائے؛ اِس لیے کہ حضرت خُبیبؓ سے صرف زبان سے ہی کہلاناچاہتے تھے، اور صرف زبان سے کہناہی تھا؛ورنہ بدلے میں حضورﷺ کوتکلیف پہنچانے پر تو اِن کُفَّار کو بھی قدرت نہ تھی؛بلکہ وہ لوگ خود ہی ہروقت تکلیف پہنچانے کی کوشش میں رہتے تھے، جس میں بدلہ، بے بدلہ سب برابر تھا۔دوسری چیزنماز کی عظمت اوراُس کاشَغَف، کہ ایسے آخری وقت میں عام طور سے بیوی بچوں کو آدمی یادکرتا ہے، صورت دیکھناچاہتا ہے، پَیام وسلام کہتا ہے؛ مگر اِن حضرات کو پَیام وسلام دینا ہے توحضورﷺ کو، اور آخری تمنا ہے تودورکعت نماز کی۔

(۱۰)حضور ﷺکی جنت میں مَعِیَّت کے لیے نماز کی مدد

حضرت رَبیعہؓ کہتے ہیں کہ: میں نبیٔ اَکرم ﷺ کی خدمت میں رات گزارتا تھا، اور تہجُّد کے وقت وُضو کا پانی اور دوسری ضروریات مثلاً:مسواک، مُصلیّٰ وغیرہ رکھتاتھا۔ ایک مرتبہ حضورﷺ نے میری خدمات سے خوش ہوکر فرمایا: مانگ، کیامانگتا ہے؟ اُنہوں نے عرض کیا: یارسولَ اللہ! ’’جنت میں آپ کی رَفاقَت ‘‘، آپ ﷺ نے فرمایا: اَورکچھ؟ میں نے کہا: بس یہی چیز مطلوب ہے، آپ نے فرمایا: ’’اچھا، میری مدد کیجیو سجدوں کی کثرت سے‘‘۔ (ابوداود، کتاب الصلوٰۃ،باب وقت قیام النبی ﷺ، ۱؍۱۸۷)

فائدہ: اِس میں تنبیہ ہے اِس اَمر پر کہ صرف دعا پربھروسہ کرکے نہ بیٹھنا چاہیے؛ بلکہ کچھ طلب اور عمل کی بھی ضرورت ہے، اور اعمال میں سب سے اہم نماز ہے، کہ جتنی اِس کی کثرت ہوگی اُتنے ہی سجدے زیادہ ہوں گے، جو لوگ اِس سہارے پربیٹھے رہتے ہیں کہ فلاں پیر، فلاں بزرگ سے دعاکرائیں گے، سخت غلطی ہے، اللہ جَلَّ شَانُہٗ نے اِس دنیا کو اَسباب کے ساتھ چَلایا ہے، اگرچہ بے اسباب ہرچیزپرقدرت رکھتاہے، اورقدرت کے اِظہار کے واسطے کبھی ایسا کر بھی دیتے ہیں؛ لیکن عام عادت یہی ہے کہ دنیا کے کاروبار اَسباب سے لگا رکھے ہیں۔ حیرت ہے! کہ ہم لوگ دنیا کے کاموں میں توتقدیر پر اور صرف دعا پر بھروسہ کرکے کبھی نہیں بیٹھتے، پچاس طرح کی کوشش کرتے ہیں؛ مگر دِین کے کاموں میں تقدیر اور دعا بیچ میں آتی ہے۔ اِس میں شک نہیں کہ اللہ والوں کی دعا نہایت اہم ہے؛ مگر حضورﷺنے بھی یہ ارشاد فرمایا کہ: ’’سجدوں کی کثرت سے میری مدد کرنا‘‘۔ (تمت بالخیر)

Exit mobile version