مصنوعی روشنیوں کی چکا چوند سے معمور ’’عروس البلاد‘‘ کراچی میں زندگی کا معتدبہ حصہ گزرا، سورج کا تو پتہ تھا کہ مشرق سے نکلتا ہےاور مغرب میں ڈوبتا ہے، لیکن چاند دیکھنے کی نوبت رمضان اور عید کے موقع پر ہی آتی تھی اور ابتدائی چاند کا ظہور چونکہ مغربی افق پر ہوتاہے اور نسبتاً جلد غروب ہوجاتا ہے، سو بیشتر شہری ’چوزوں‘ کی طرح ہمارا ’ماہرانہ‘ تجزیہ اور اینکرانہ (اینکر پرسنز جیسی) رائے یہ تھی کہ چاند مغرب سے نکلتا ہے۔ لیکن بحمداللہ چونکہ ایک دینی مدرسے میں زیرِ تعلیم تھے، لہٰذا درسِ نظامی کے چھٹے سال میں ’فہم الفلکیات‘ کے چند صفحے سرسری پڑھ لینے سے یہ غلط فہمی دور ہوگئی۔ (سرسری اس لیے کہ تعلیمی سال کے آخری مہینے میں کتاب شروع کرنے کی نوبت آئی)۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ عصری (مغربی) اداروں میں زیرِ تربیت ہماری نوجوان نسل کو علمائے اہل ِسنت کی جوتیاں سیدھی کرنے کی توفیق دے تاکہ دین کی بابت ان کی غلط فہمیاں اور الجھنیں دور ہوں۔
خیر! مغرب سے چاند نکلنے کی ’’فواد چودھریانہ‘‘ غلط فہمی تو دور ہوگئی، البتہ ایک الجھن باقی رہ گئی کہ چاند مہینے کے شروع میں نامکمل اور ادھورا ہوتا ہے۔ پھر چودہ کو مکمل ہوکر گھٹناشروع ہوجاتا ہے، لہٰذا ہم شدید ’فوجی‘ الجھن کا شکار تھےکہ کیسے پتا چلے گا کہ یہ سات تاریخ کا چاند ہے یا اکیس کا ، کیونکہ شروع میں بڑھتے بڑھتے سات تاریخ کو چاند کا جو حجم ہوتا ہے، آخر میں گھٹتے گھٹتے اکیس کو کم و بیش وہی حجم ہوجاتا ہے، ’فہم الفلکیات‘ چونکہ چند صفحات کے علاوہ سرسری پڑھی تھی اس لیے یہ الجھن دور نہیں ہوئی، پھر اللہ رب العزت نے ارضِ غیرت و ہجرت، جہادو استشہادآنے کی توفیق دی، تویہاں شہروں کے مصنوعی و مشینی ماحول کے بجائے فطری ماحول میسر آیا، چونکہ شہروں سے تازہ تازہ وارد ہوئے تھے، اس لیے کھلی فضا میں دور جاکر1 کسی آڑ میں قضائے حاجت کی عادت نہیں تھی اور یہاں اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا، لہٰذا پنی آسانی کےلیے یہ حل نکالاکہ ہر وقت جُگالی کرنے ، چرنے چگنے کی شہری عادت کو خیرباد کہا تاکہ کم سے کم باہر جانے کی نوبت آئے، اس ہمہ وقت جگالی کے علاوہ شہروں میں تین وقت ڈٹ کر کھانے کا بھی رواج ہے، اگرچہ محاورہ ’دو وقت کی روٹی‘ ہے، سو ہم نے اس کایہ ’حامد میرانہ تجزیہ‘ کررکھا تھا کہ جس طرح ایڈیٹر کا کالم نگار کی رائے سے اتفاق ضروری نہیں ہوتا ، اسی طرح محاورے کی حقیقت سے مطابقت ضروری نہیں ، اس تجزیے پر ایک دلیل ہم نے یہ بھی قائم کر رکھی تھی کہ ’’یہ منہ اور مسور کی دال ‘‘ کا محاورہ حقیقت کے بالکل الٹ ہے، اس کو یوں ہونا چاہیے ’یہ منہ اور مٹن کڑاہی‘ بھلا مسور کی دال کھانے کو بھی کوئی ’منہ‘ چاہیے ، اس کو کھانے کے بعد تو خلا ل کی بھی ضرورت نہیں پڑتی، ہمیں تو اس محاورے سے ’بنی اسرائیلی‘ مزاج کی بو آتی ہے، وَفُومِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَا (سورۃ البقرہ: ۶۱)’(اے موسیٰ!ہماری خاطر اپنے رب سے فرمائش کیجیے کہ ہمیں زمین کی پیداوار دے……)اس کی گندم اور اس کی دالیں اور اس کی پیاز‘۔
غیر متعلقہ بات طویل ہوگئی لیکن کیا کیجیےکہ جب اینکرز اور افغان امور کے ’ماہرین‘ کا تصور آتا ہےتو اپنے بچپن کے بچگانہ تصورات کی یاد تازہ ہوجاتی ہے، چاند والی بات تو آپ کو بتادی، اب کچھ اور بتاتے ہیں، روحِ اقبال مرحوم سے معذرت کے ساتھ
اس راز کو اک مردِ’مغل‘ کررہا ہے فاش
ہر چند کے دانا اسے کھولا نہیں کرتے
بیس برس کا سن تھا، امنگوں بھری جوانی تھی، اُبلتا خون اور دھڑکتا دل تھا،جب ہم القاعدہ میں شامل ہوئے۔ اس سے پہلے شرارتوں بھرا معصوم بچپن بھی ہم نے گزارا تھا۔2
بچپن ميں برصغير كی روايت كے مطابق’نوارانی قاعدہ‘ پڑھنے مدرسہ جایا کرتے تھے3۔ یاد ہے اور اچھی طرح یاد ہے کہ پہلی تختی ’مفردات‘، دوسری ’مرکبات‘ اور تیسری ’حروفِ مقطعات‘ کے بعد جب چوتھی تختی ’حرکات‘ شروع ہوئی تو قاری صاحب نے پڑھایا ’ہمزہ زبر اَ‘، لیکن ہم چونکہ لکیر کے فقیر تھے اور یہ سیدھی لکیر ’۱‘ جسے قاری صاحب ہمزہ کہہ رہے تھے بالکل اُس لکیر جیسی تھی جسے ہم نے پہلی تختی میں الف پڑھا تھا اور جسے ہمزہ پڑھایا تھا اس کی شکل لکیر جیسی ’ا‘ نہیں تھی بلکہ عین کے سر (ء) جیسی تھی، سو ہم مصر رہے کہ یہ ہمزہ زبر اَ نہیں بلکہ الف زبر اَ ہے۔ بچے تھے، ناسمجھ تھے، سو پتہ نہ تھا اور سمجھانے سے بھی سمجھ نہ آتا کہ الف وہی ہوتا ہے جو ساکن بغیر جھٹکے کے ہو، جس پر کوئی حرکت زبر، زیر ، پیش یا جھٹکا (جزم) ہو اسے الف نہیں ہمزہ کہتے ہیں۔ قاری صاحب چونکہ سمجھدار تھے، اس لیے انہو ں نے فضول مغز ماری نہیں کی اور کھڑا کردیا، پیر دکھے تو عقل ٹھکانے آئی کہ مجھے تو روٹی بھی امی کھلاتی ہیں، روٹی کھانی نہیں آتی اور چلاہوں قاری صاحب کو سکھانے۔ اللہ تعالیٰ استادِ محترم کو جزائے خیر دیں اور اُن دینی سکالرز کو ان سے سیکھنے کی توفیق دیں جو سکہ بند سیکولرز کے ساتھ ایسا تعامل کرتے ہیں جو شبہات ميں مبتلا نوجوانوں کا حق ہے، نہ کہ الحاد کے داعیان کفر کے زرخرید سیکولروں کا۔ ان کا علاج وہی ہے جو شکیل اوج، انیقہ ناز (پاکستان) اور واشق الرحمٰن بابو،شفیع الاسلام (بنگلہ دیش) کا کیا گیا۔ اس سلسلے میں نمونۂ عمل حضرت عمرؓ ہیں جنہوں نے قرآنی متشا بہات کی بابت کثرت سے سوال کرکےفتنہ پھیلانے والے ’صبیغ بن عسل ‘ نامی شخص کے سر پر کوڑے لگوائے، یہاں تک کے اس نے کہا کہ میرے دماغ میں جو خناس تھا وہ ختم ہوگیا۔ بسااوقات علما کی جانب سے ان کے ساتھ برتی جانے والی نرمی عامۃ المسلمین کے لیے فتنے کا باعث بن جاتی ہے۔ منکرینِ حدیث کے جواب میں حضرت مولانا سرفراز خان صفدر صاحبؒ نے جب کتابِ لاجواب ’صرف ایک اسلام‘ تالیف کی تو اس پر متعدد علما نے تقاریظ لکھیں، مجھے یاد پڑتا ہے کہ حضرت علامہ شمس الحق افغانیؒ نے اپنی تقریظ میں کتاب کو سراہنے کے بعد یہ لکھا کہ ’’کتا ب کا لب و لہجہ نرم ہے، جس کے یہ کمینے (منکرین حدیث) مستحق نہیں‘‘۔
جملۂ معترضہ طویل ہوگیا، عرض کررہا تھا کہ سات اوراکیس کے چاند کی بابت ’فوجیانہ الجھن‘ ہنوز باقی تھی، ارضِ جہاد آنا ہوا تو الجھن ساتھ تھی، یہاں بھائیوں نے بتایا کہ ابتدائی چاند (ہلال) کی نو کیں جنوب کی طرف ہوتی ہیں اور یہ بڑھتا ہے اور جب گھٹنے لگتا ہے تو اس کی نوکیں شمال کی طرف ہوتی ہیں جیسے پاکستان کے جھنڈے میں بنے چاند تارے میں چاند کی نوکیں دائیں طرف ہیں، اور بھائیوں نے اس سے یہ نیک فال بھی نکالی کہ پاکستان پر چھائے نظامِ کفر کی رات کا زوال پذیر چاند بھی جلدی ختم ہوگا اور شریعت کا اجالا نمودار ہوگا۔
شب گریزاں ہوگی آخر جلوۂ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے
نیک فال لینا سنت ہے، مسندِ احمد میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحب الفأَل الحسن ويكره الطيرة۔ رسول اللہﷺ نیک فال کو پسند فرماتے تھے اور بدشگونی کو ناپسند۔
نیز مجاہدین کی جنگی اور امنیاتی حکمتِ عملی کا چاندنی راتوں اور تاریک راتوں سے گہرا تعلق ہے اس لیے ہم پر یہ ’انکشاف ‘ بھی ہوا کہ مہینے کو پہلے نصف کا چاند سورج غروب ہونے سے پہلے نکل آیا ہے اور آخری نصف میں بتدریج تاخیر سے نکلتا رہتا ہے، اور اکیس تاریخ تک یہ تاخیر اندازاً نصف شب پر محیط ہوتی ہے، سو الجھن ’فوجی‘ ٹائپ ہو یا سِول (civil) دور ہوجاتی ہے،لیکن ضروری ہے کہ دینِ فطرت کو ہم فطرت پر رہ کر سمجھنے کی کوشش کریں، بغاوتِ فطرت (مخالفتِ دین) پر مبنی نظاموں کے اندر رہ کر دین کے تقاضوں کو پورا کرنا ہمارا منتہائے نظر نہیں ہونا چاہیے، دین کی بقا کی سعی ضرور کرنی ہے، اگر نظام گرانے کی قوت نہیں تو بھی دین کو بچانا ضروری ہے، یہ نہیں کہ نظام نہیں گراسکتے تو مدرسے بھی نہ بنائیں، حاشا و کلا! کوئی صحیح الدماغ مسلمان ایسی بات نہیں کرسکتا، مدارس تو اسلام کے قلعے ہیں، اگر دین کا مفہوم ہی مسخ ہوگیا تو اقتدار ملنے کا بھی کیافائدہ! لیکن صرف دفاع پر اکتفا نہیں کرنا، اگر طاغوت کے خلاف اقدام کی فکر نہ کی تو یہ طاغوت بتدریج ہمیں پسپائی پر مجبور کرکےتصورِ دین کو مسخ کرے گا، پھر ہوگا یہ کہ دفاع بھی نہ رہے گا، بلکہ دفاع کا نام رہ جائے گا، اور یہ کوئی ہماری طالبِ علمانہ رائے نہیں، دارالعلوم دیوبند کے اولین طالب علم شیخ الہند رحمہ اللہ دارالعلوم دیوبند کا مقصدِ تاسیس بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’مدرسہ میرے سامنے قائم ہوا، جہاں تک میں جانتا ہوں ۱۸۵۷ء کے ہنگامے کی ناکامی کے بعد یہ ارادہ کیا گیا کہ کوئی ایسا مرکز قائم کیا جائے ، جس کے زیرِ اثر لوگوں کو تیار کیا جائے تاکہ ۱۸۵۷ء کی ناکامی کی تلافی کی جاسکے!‘‘
یعنی محض دفاع ہی مقصود نہ تھا ، بلکہ اقدام کی تیاری بھی پیشِ نظر تھی۔
اور شیخ الہند رحمہ اللہ کے جانشین شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی اپنے ایک مکتوب میں کچھ یوں لکھتے ہیں کہ ’جمہوری طریقہ ایک وقتی تدبیر تو ہوسکتی ہے ، لیکن اٹل ترجیح اور منتہائے نظر نہیں‘۔
سرزمینِ ہجرت میں آکر ہم شہری لوگ (امتِ مسلمہ کے حقیقی اہلِ حل و عقد: اکابر علما، دینی رہنما، اسلام پسند مفکرین، اساتذہ و طلبہ کی معتدبہ تعداد شہری ہے) فطرت سے قریب ہوتے ہیں تو دینِ فطرت کے اسرار و رموز بھی کھلنا شروع ہوتے ہیں، گو اس کا عمومی وعدہ تو سبھی اسلام کی خاطر کوشاں افراد کے لیے ہے۔ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (سورۃ العنکبوت : ۶۹)، ’اور جن لوگوں نے ہماری خاطر کوشش کی ہے ، ہم انہیں ضرور بالضرور اپنے راستوں پر پہنچائیں گے‘۔
لیکن ظاہر ہے کہ جس کی کوشش جس قدر سنت سے ہم آہنگ ہوگی اتنا ہی اس پر دین کا فہم کھلے گا۔
چاند والا نکتہ تو بہت طویل ہوگیا، لیکن پھر بھی فرضیتِ جہاد کے نکتے پر آنے سے پہلے ایک حکمِ شرعی کے سرزمینِ ہجرت کے ساتھ ربط کو بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ وہی اس مضمون کا اصل محرک بنا۔
۱۴۴۱ھ کا ماہِ رمضان خراسان کے ایک تقریباً بے آباد علاقے میں گزارنے کا اتفاق ہوا، گھر کی ایک جانب اندازاً ایک کلو میٹر کی مسافت پر ایک مقامی انصار کا گھر تھا اور دوسری جانب تقریباً اس سے کچھ زیادہ فاصلے پر مہاجر بھائیوں کا مرکز تھا، مئی کا گرم مہینہ تھا، لہٰذا ساڑھے بارہ ، ایک بجے باہر چشمے پر جاکر ٹھنڈے پانی سے غسل کا معمول تھا، بعض دفعہ تاخیرہوجاتی تھی، ڈیڑھ دو بج جاتے تھے تو پھر باہر نہانا مشکل ہوجاتا تھا، ٹھنڈ لگتی تھی، لہٰذا تاخیر کی صورت میں یا تو گھر پر ہی نہالیتا تھا یا اس دن غسل کا ناغہ کرلیتا تھا۔انہی دنوں بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ بھئی یہ تو ایک الجھن حل ہوگئی۔ البتہ یہ الجھن ایک ’طالب علمانہ‘ الجھن تھی۔ تفصیل کچھ یوں ہے: صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ و عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’اذا اشتدالحر فابر دواعن الصلٰوۃ فان شدة الحر من فيح جهنم.‘‘
’’جب گرمی تیز ہو تو (ظہر) کی نماز کو(ذرا) تاخیر سے ٹھنڈےوقت میں پڑھو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بنا پر ہوتی ہے۔‘‘ (کتاب مواقیت الصلوٰۃ، باب الابراد بالظہر فی شدۃ الحر)
اس کی تشریح میں اساتذہ نے یہی بتایا تھا کہ جب نصف النہار (استواء) کا مکروہ وقت ختم ہوجاتا ہے اور سورج ڈھل جاتاہے تو کچھ وقت گزرنے کےبعد گرمی کی شدت میں نمایاں کمی آجاتی ہے، تب گرمی کے موسم میں نمازِ ظہر کا افضل وقت ہے، یہ دورانیہ مختلف اوقات میں پون گھنٹے سے سوا گھنٹے تک کا ہوتا ہے۔ لہٰذا پاکستان میں احناف کی مساجد میں بالعموم اس پر عمل ہوتا ہے، لیکن ہمیں الجھن یہ تھی کہ ہمارے یہاں تو گرمی تین بجے تک اپنے جوبن پر ہوتی ہے، تو کیا ہم تین بجے تک تاخیر کریں، لیکن اس پر تو عمل ہوتے نہیں دیکھا، شاید مفتی زرولی خان صاحب رحمہ اللہ کے یہاں جامعہ احسن العلوم میں اڑھائی بجے نما زتھی، گو کہ یقینی بات یہ بھی نہیں، لیکن عمومی رواج تو بہر حال نہیں، اس اشکال کا طالب علمانہ حل ہم نے یہ نکالا کہ عرب و عجم (ہند) کے موسم کے فرق کی وجہ سے یہ اشکال پیش آرہا ہے، لیکن اس حل پر ایک قوی اشکال تھا کہ عرب کا موسم تو زیادہ گرم ہے، اگر وہاں پون گھنٹے سوا گھنٹے بعدشدت کم ہوجاتی ہے تو یہاں بطریقِ اولیٰ کم ہونی چاہیے، خیر! یہ ذہنی جمناسٹک ہمارے دماغ میں ہی رہی، کسی سے ذکر نہیں ، اور شایدیاداشتوں میں کہیں تحریر بھی نہیں کیا، اب تک ذکر نہ کرنے کی وجہ کچھ طبعی جھجک تھی کہ مذاق نہ اُڑے اور ایک وجہ مناقشے کی علمی روایت کا فقدان تھا، حالانکہ شیخ سعدی اپنی سدا بہار ’گلستان‘ فرماتے ہیں ’ مال بغیر تجارت، ملک بغیر سیاست اور علم بغیر مناقشے کے بیکار ہے‘۔
خیر ! اب جاکر کھلا کہ شہروں میں آبادی گنجان ہوتی ہے، گھر سے گھر ملا ہوتا ہے، کچرے کے ڈھیر ہوتے ہیں، موجیں مارتے گندے نالے ہوتے ہیں (جن کی طغیانی دریائےراوی سے زیادہ ہوتی ہے) گاڑیوں اور کارخانوں کی چمنیوں سے اٹھتادھواں اور کیمیائی فضلہ سب مل کر حرارت اور آلودگی میں اضافہ کرتے ہیں، جس سے گرمی کی حدت کا دورانیہ غیر فطری طور پر بڑھ جاتا ہے۔
یہ بالکل ایسا ہے کہ اللہ رب العزت قرآن میں فرماتے ہیں وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاء الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ (سورۃ الملک:۵)، ’بے شک ہم نے قریبی آسمان کو چراغوں (ستاروں) سے مزین کیا ہے‘۔ لیکن آلودگی سے بھرپور فضا کے حامل اور مصنوعی روشنیوں سے معمور شہروں میں اس زینت کا ادراک ناممکن ہے،کسی دور دراز کے مضافاتی علاقے میں چلے جائیں، اگر دلِ فطرت شناس رکھتے ہیں تو پکار اُٹھیں گے
؏خدا نے زینت بخشی ہے افلا ک کو روشن تاروں سے
معروف حدیث ہے کہ ’ جب تم مرغے کی آواز سنو (اور بعض روایات میں’ رات کے وقت ‘ کا اضافہ ہے) تو اللہ سے اس کا فضل مانگو، اس لیے اُس مرغ نے فرشتے کو دیکھا ہوتا ہے‘۔
حضرت مولانا فضل محمد یوسُف زئی حفظہ اللہ نے اس کی تشریح میں فرمایا کہ انسان جیسے خود فطرت سے ہٹ گیا ہے، اس نے پالتو جانوروں کو بھی فطرت سے ہٹا دیا ہے، فارمی مرغے کی اذان کا کوئی وقت و سبب متعین نہیں۔
شایداقبال نے نظام تعلیم کے تیزابی فارم کے تیارشدہ ایسے ہی فارمی انسانوں کے بارے میں کہا
؏یہ ناداں گرگئے سجدے میں، جب وقتِ قیام آیا
آمدم برسرِ مطلب!جہاد کی فرضیت کے اثبات کےلیے شرعی دلائل کے بیان اور ان کی عملی (واقعاتی مشاہداتی) تطبیق کے بعد اصولاً مزید کسی دلیل کی حاجت باقی نہیں رہتی (کیونکہ انسان فرد، خاندان، معاشرہ اور ریاست ہر سطح پر احکام شرع کا مکلف ہے اور اسلام نام ہے تسلیم و رضا کا، دو ٹوک فیصلہ آجانے کےبعدکسی چوں چرا ں کی گنجائش باقی نہیں رہتی، پھر ’عقل کو لبِ بام محوِ تماشا کرکے آتشِ نمرود میں بھی کودنا ہوتا ہے‘ اور اسمٰعیل علیہ السلام جیسے دُلارےفرزند کے حلقوم پر چھری بھی رکھنی ہوتی ہے)۔ اٹل حکمِ الٰہی جان لینے کے بعد بھی عمل کی خاطر فرد کو کسی عقلی، سائنسی یا منطقی دلیل و سہارے کی ضرورت باقی رہے تو پھر اس میں ااور اُس نام نہاد اسلامی (درحقیقت سیکولر) ریاست میں کوئی فرق نہیں جو احکامِ شرع پر عمل (ان کو آئین و قانون بنانے) کے لیے دو تہائی نمائندوں کی رضا مندی کی شرط لگاتی ہے4۔وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْراً أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ (سورة الاحزاب: ۳۶)، اور جب اللہ اور اس کا رسول کسی با ت کا حتمی فیصلہ کردیں تو نہ کسی مومن مرد کے لیے یہ گنجائش ہےاور نہ کسی مومن عورت کے لیے کہ ان کو ’اپنے معاملے‘ کا کوئی اختیار باقی رہے ۔
سو نفسِ فرضیت پر تو مزید روشنی ڈالنے کی ضرورت نہیں، سادہ ترجمے کے ساتھ انفال و توبہ اور احزاب و ممتحنہ پڑھ لینا کافی ہے، البتہ عملی تطبیق میں اشکالات و شبہات پیش آتے ہیں، ان کا ازالہ اور دفعیہ بہر حال ضروری ہے ۔
ایک قدیم و جدید اشکال عدمِ استطاعت کا ہے ، حضرت شیخ محمد تھانویؒ کو بھی یہی اشکال پیش آیا اور حضرت نانوتوی ؒ نے اس کا جواب دیا کہ کیا ہم اصحابِ بدر سے بھی زیادہ بے سروسامان ہیں؟
فرد اور اجتماعیت ہر دو سطح پر شبہ پیدا ہوتا ہے، فرد یہ سمجھتا ہے کہ جہاد میری استطاعت سے باہر ہے یا یہ کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے پاس اتنی قوت نہیں۔
ہمارے ایک مرابط و مہاجر ہندی بھائی بتاتے ہیں کہ قبل از ہجرت ہند میں جب دعوتِ جہاد میں مصروف تھے تو اپنے انگریزی کے استاد سے بطورِ ترغیب کہا ’میرا افغانستان جانے کا ارادہ ہے‘۔انہوں نے میرے بازو ٹٹول کر کہا کہ ان ڈھیلے عضلات (loose muscles) کے ساتھ تم افغانستان جاکر جہاد نہیں کرسکتے۔
اور وہ ہندی بھائی آج آٹھ سال ہونے کوہیں رباط و جہاد میں مصروف ہیں اور تن سازی (body building) کے اداروں مین ’تن پروری‘ کرنے والا نوجوان بس آئینے میں خود کو دیکھ کر خوش ہوتا، اتراتا رہتا ہے، اپنے ’six pack abs‘ پر نازاں ہے اور چھ براعظموں میں لاوارث اسلام سے غافل ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون!
کمزور جسم ہو یا ارادہ و ایمان ؛جہاد ہی سے اسےقوت ملتی ہے، جسم، ارادے اور ایمان کو مضبوط کرنے تک جو جہاد کو موقوف رکھے ،اس کی مثال یوں ہے کہ کوئی کہے:’میں پانی تو پیوں گا مگر پیاس بجھانے کے بعد‘ بھلا پیاس بجھانے کا طریقہ پانی پینے کے سوا اور ہے کیا؟ لہٰذا یہ کمزور جسم و ضعیف ایمان کی دلیل محض تلبیس ِابلیس ہے۔ کسی نے لطیفہ گھڑا کہ ’’سورج کے فوائد تو بہت زیادہ ہیں لیکن اسے رات کو طلوع ہونا چاہیے، کیونکہ دن میں ویسے ہی بہت روشنی ہوتی ہے‘‘۔
ایک اور مجاہد بھائی نے بتایا کہ ہم نے ایک محترم کو جہاد کی دعوت دی، عمر یہی کوئی چالیس کے اریب قریب تھی، البتہ صحت اچھی تھی، سب سننے کے بعد فرمانے لگے کہ بھائی! آپ کی بات درست ہے، جہاد فرض ہے،’’ لیکن میں انیس کلو کی کلاشنکوف اٹھا کرپہاڑ پر نہیں چڑھ سکتا‘‘وہ بھائی کہتے ہیں میں نے انہیں بتایا کہ ’’کلاشنکوف چار پانچ کلو وزن کی حامل ہوتی ہے، یہ انیس کلو آپ کی غلط فہمی ہے ‘‘ ، تب وہ شرمندہ بھی ہوئے اور مطمئن بھی کہ میں بھی جہاد کرسکتا ہوں۔
جہاد کو یار لوگوں نےایسا ہَوا بنایا ہوا ہے کہ بس ٹارزن اور ہرکولیس ٹائپ بندہ ہی جہاد کرسکتا ہے یا پھر کم از کم بھی کلازوٹ کی وطنی افواج والے کوائف (وزن، قد ،صحت)تو پورے ہونے ہی چاہییں۔
ارضِ جہا د میں مشاہدہ اس کے برعکس ہے، یہاں متعددایسے بھائی ہیں جو کسی نہ کسی جسمانی نقص و کمزوری کے حامل ہیں، مثلاً کمزور نگاہ ایک عام بات ہے۔کئی بھائیوں کوعینک لگی ہے، خود راقم الحروف منفی چھ نمبر کی عینک لگاتا ہے۔ کئی بھائی پیروں سے معذور ہیں، بعض پیدائشی اور بعض جہاد میں آکر ، کسی کا ہاتھ خراب ہے تو کسی کی آنکھیں راہِ خدا میں قربان، لیکن پھر بھی ہجرت و جہاد کی راہوں پر استقامت سے گامزن ہیں۔ ثبتهم الله وايانا على الحق!
ان کی صبحیں سدا باسعادت رہیں
ان کی شامیں رہینِ عبادت رہیں
واللہ الذي لااله الا هو لفاظی اور جوشِ خطابت نہیں، بلکہ آنکھوں دیکھا مشاہدہ ہے کہ جہاد میں ایسے بھائی بھی دیکھے ہیں کہ جنہیں نرم بستر کے باوجود(عادت نہ ہونے کی وجہ سے) زمین پر نیند نہیں آتی تھی، رات کے اندھیرے سے خوف آتا تھا، لیکن ایمان کی پکار کے آگے کوئی عذر اور عادت آڑے نہ آئی، ہجرت کی اور مذکورہ بالا پریشانیاں ،مسائل بھی رفتہ رفتہ دور ہوگئے۔
سو یہ کم مائیگی اور کمزوری کا احساس ہجرت میں رکاوٹ نہ بننے پائے، البتہ ہجرت و جہاد میں آکر یہ احساس باقی رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ انکساروتواضع پیدا ہو۔
یقیناً جہا د میں مشکلات پیش آتی ہیں، لیکن ان مشکلات سے دوبدو ہونے کے لیےصرف اللہ کی نصرت درکار ہے، نہ کوئی صلاحیت کام آتی ہے نہ قوت ومہارت، اور اللہ انہیں کی نصرت کرتا ہے جو اس کے دین کی نصرت کریں، وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ (سورۃ الحج: ۴۰)۔
سو جہاد کریں اور اس یقین کے ساتھ کریں کہ اللہ آپ سے مشکلات کو دور کریں گے، شیطانی تخویفات سے خائف نہ ہوں، إِنَّمَا ذَلِكُمُ الشَّيْطَانُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءهُ (سورة آل عمران: ۱۷۵)، ’ درحقیقت یہ تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے ‘۔
یہ تو فرد کا معاملہ رہا، شبہ اتنی وضاحت سے دور ہوجاتا ہے، پھر بھی الجھن باقی رہے، تو اپنے دل کو ٹٹولیں اور اس سے فتویٰ مانگیں، حضرت وابصہ بن معبد اسدیؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ ’تم نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کرنے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا:جی ہاں، آپﷺ نے اپنے دست مبارک کی انگلیاں ملا کر(مٹھی بنا کر) میرے سینے پر ہلکی سی ضرب لگائی (جو کہ بے تکلفی اورتوجہ طلبی کی علامت تھی) اور تین بار ارشاد فرمایا: اے وابصہ!اپنے نفس و دل سے فتویٰ پوچھ ، پھر فرمایا: نیکی وہ ہے جس پر نفس ودل مطمئن ہوں اور گناہ وہ ہے جو نفس کو کھٹکے اور دل کو اس میں تردد ہو، گو تو لوگوں کو اور لوگ تجھے (اس کے جواز کا) فتویٰ دیں‘۔ (سنن دارمی، کتاب البیوع، باب دع مایریبك الى مالا يريبك)
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اجتماعی طور پر مسلمانوں میں قوت نہیں، تو روس کے بعد امریکہ کے بھی شکست کھانے کے بعد تو یہ بات اچھا خاصا لطیفہ معلوم ہوتی ہے، بھلا جس امت کے بے سروسامان لوگوں کا ایک چھوٹا ساگروہ (امارت اسلامیہ افغانستان) پورے عالم کفر (امریکہ بمع نیٹو اور نان نیٹو اتحادی) کو ناکوں چنے چبواسکتا ہے، اس امت پر ضعف و بے بسی کی تہمت کیونکر لگائی جاسکتی ہے! ایسا پراپیگنڈا کرنے والے لوگ یا تو دشمن کے آلۂ کار ہیں جو(ہالی ووڈ کی نمائندگی و نقالی میں ) مسلمانوں پر امریکی قوت کا جھوٹارعب جمانا چاہتے ہیں، یا پھر خود نفسیاتی طور پر شکست خوردہ و ہزیمت زدہ ہیں، پہلے روس کی شکست کے پیچھے امریکی امدادو اسلحے کا ڈھنڈورا پیٹا، اب امریکی شکست کے پیچھے کوئی اور طاقت انہیں نظر آنے لگے گی، حالانکہ اللہ گواہ ہے کہ مجاہدین کے پاس سوائے اللہ کی نصرت اور اپنی مدد آپ کے تحت فراہم کردہ ٹوٹے پھوٹے وسائل کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔
یہ قدامت پسندی کی معراج ہیں
ولولے ان کے سینوں میں جو آج ہیں
ان کی ٹھوکر میں افرنگ کے تاج ہیں
میری امت کی یہ نوجواں لاج ہیں
یہ اٹل اور فطری حقیقت اس مشینی دور میں بھی باقی ہے، جنگیں اسلحےسے نہیں ، عزم و ارادے سے لڑی جاتی ہیں، جب حوصلہ نہ ہو تو اسلحہ کام نہیں آتا، مسلمانوں کے ہمراہ تو خیر اللہ کی مدد ہوتی ہے ، لیکن جب نہتے کافر بھی اسلحہ بردار (حوصلے سے دست بردار) کفار سے لڑنے کا ارادہ کرلیں تو جیت حوصلہ مندوں کی ہی ہوتی ہے، کیا ویت نام میں امریکی شکست اور ملعون خمینی کے ہاتھوں شاہِ ایران کا تختہ الٹا جانا لوحِ تاریخ پر ثبت نہیں ؟
سو اس میں عبرتیں ہیں ان اصحاب کے لیے جو ہر قائم و موجود نظام کو تقدیر کا جبر قرار دے کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں۔
مجاہدین نے کوئی نیند سے اُٹھ کر امریکہ کے خلاف جہاد کا اعلان نہیں کیا، بلکہ اللہ کے وعدوں پر یقین کے بعد روس کو شکست دینے کا تجربہ اور اس سےحاصل شدہ اسباق بھی ان کے لیے مشعل راہ تھے۔
شہیدِ امت شیخ اسامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’سوویت اتحاد کی شکست مجاہدین کے لیے اچھوتا تجربہ ثابت ہوئی، اس تاریخ ساز واقعے نے ہمارے سامنے سوچنے کے نئے زاویے کھولے، ہمارے ذہنی افق کو وسعت بخشی اور ہمارا یہ یقین مزید راسخ کردیا کہ بظاہربہت قوی نظر آنے والی یہ وسیع و عریض کافر سلطنتیں نہایت بودی اور بے اصل ہیں، اور اگر ہم اللہ پر توکل کرتے ہوئے، اسی کے سہارے کو ساتھ لیے، شرعی احکامات کے مطابق ان عالمی طاقتوں کے خلاف جہاد کریں تو ان شاءاللہ انہیں نہایت سہولت سے جڑوں سے اکھاڑ پھینکیں گے اور سرسری نگاہ میں ناممکن نظر آنے والا یہ کام بھی آرام سے ممکن ہوجائے گا، سوویت اتحاد کی شکست نے ہمیں امتِ مسلمہ کی مجموعی صورتحال پر ٹھنڈے دل سےغوروفکر کرنے کا موقع دیا اور ہم سوچنے اور منصوبہ بندی کرنے لگےکہ کیسے اپنی محبوب امت کو ظلم و جبر کے شکنجے سے نجات دلائی جائے، پس روس کے خلاف جہاد کے تجربے نے ہمارے لیے پورے عالمِ اسلام میں تبدیلی لانے کی کنجی کا کام دیا۔ ‘‘
میں نے بذاتِ خود اس کا مشاہدہ کیا کہ افغان مجاہدین کے پاس افرادی قوت اور مادی وسائل دونوں کی ہی شدید قلت ہے اور انہیں جنگ کے لیے درکار بنیادی ضروریات بھی میسر نہیں۔
امت مسلمہ کے حالات پر غوروفکر کرنے کے بعد ہم جس نتیجے تک پہنچے اسے اختصار سے دو نقاط میں بیان کیا جاسکتا ہے۔
ایک یہ کہ عالمِ اسلام کی موجودہ ناگفتہ بہ صورتحال کو اس وقت تک نہیں بدلا جاسکتا، نہ ہی فلسطین کو یہودی قبضے سے اس وقت تک آزادکرایا جاسکتا ہے جب تک مسلم خطوں میں امریکی مداخلت کا خاتمہ نہ کردیا جائے، کیونکہ عالمِ اسلام آزاد نہیں بلکہ جدید عالمی نظام کے شکنجے میں بری طرح جکڑا ہوا ہے، اور اس نظام کی سربراہی یہود کا سب سے بڑا پشت پناہ امریکہ کررہا ہے۔
پھر یہ کہ چونکہ امریکہ روس سے یکسر مختلف دشمن ہے، اس لیے اسے روایتی طرزِ جنگ سے شکست دینا ممکن نہیں، اس کے خلاف غیر روایتی اور غیر متوازی (Asymmetric) طریقۂ جنگ اختیار کرنا ہوگا۔(وہ شیر پھر ہوشیار ہوگا، ادارہ حطین، شمارہ ۸، شعبان ۱۴۳۳ھ)
چونکہ امریکہ سات سمندر پار بیٹھا ہے اور اسکی سرزمین میں گھس کر اس پر حملے کرنے سہل نہیں، اس لیے امریکہ کی قوت توڑنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے کھینچ کر کسی مسلم خطے میں اتارا جائے، یوں اسے ایک طویل جنگ میں پھنسا کر اس کی کمر توڑی جاسکتی ہے ۔ ( نوے کی دہائی کے آخر میں صحافی عبدالباری عطوان کو شیخ اسامہ رحمہ اللہ کا دیاگیا انٹرویو)
شہیدِ اسلام حضرت شاہ اسماعیل دہلوی رحمہ اللہ کے ایک قیمتی مکتوب پر اپنی تحریر کا اختتام کرتا ہوں :
’’بندہ ضعیف محمد اسماعیل کی طرف سے میر شاہ علی سلمہ اللہ کے نام
آپ کا وہ گرامی نامہ پہنچا جس میں چند مخلصین اور بعض منافقین کے ایک مباحثے کا تذکرہ ہے، منافقین سے جو آپ جہادباللسان کررہے ہیں اور راہ ایمان کی طرف طالبین کو جو آپ دعوت دے رہے ہیں، اس پر اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
آپ نے تحریر فرمایا کہ (مخلصین ومنافقین کے)اس سوال وجواب کی تنقیح و وضاحت کرکے آپ کو بھجوادوں، تو اس طرح کے مسائل کی تحریروتقریر بھی جہاد کی ایک قسم ہے لیکن ضعیف۔جو شخص مجاہدین کا حال دیکھے اسے یقین ہوجائے کہ قیل و قال اور بحث مباحثے کا مسلک ’خواہ حق ہویا باطل‘دوسرا ہے اور ان لوگوں کا مسلک دوسرا،پہلا مسلک علما کا ہے اور دوسرا مجاہدین کا۔
آپ نے یہ جو ذکرکیا کہ اہل قوت کے مقابلے کیلیے انہی جیسی قوت چاہیے تو یہ بات ہمیں تسلیم نہیں ، قوی دشمن کے مقابلے میں مقدور بھر قوت جمع کرلینا کافی ہے ، خواہ وہ دشمن کی قوت سے کم ہو، اللہ نے قرآن میں دشمن کے مقابلے میں مقدور بھر قوت جمع کرنے کا حکم دیا ہے (وَأَعِدُّواْ لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ (سورۃ الانفال۶۰)، یہ حکم نہیں دیا کہ ان کے برابر تیاری کرو۔
قوموں اور سلطنتوں کے انقلاب میں اللہ کی یہ سنت جاری ہے کہ معمولی لوگوں میں سے کوئی کمزور فرد مثلاً نادرشاہ وغیرہ سراٹھاتا ہے اور بتدریج اپنے گروہ کو مضبوط کرتا جاتا ہے ،یہاں تک بڑی بڑی سلطنتوں پر قابض ہوجاتا ہے، کس قدر بے انصافی ہے کہ جو شخص اقتدار کا بھوکا ہوتا ہے اس کے حق میں فتح کا گمان کرلیا جاتاہے !اور اسی گمان و امید پر اس کا ساتھ دیا جاتا ہے، لیکن جو شخص اللہ کی رضا اور دین کی مدد کے جذبے سے کھڑا ہو تا ہے اس کے لیے فتح کا حصول ناممکن سمجھا جاتا ہے،طرح طرح کے اعتراضات کیے جاتے ہیں، کوئی ساتھ نہیں دیتا اور عام مسلمانوں کو بھی ساتھ دینے سے روکا جاتا ہے، أَلاَ لَعْنَةُ اللّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجاً(سورة ہود: ۱۸–۱۹)
کیا شوکت اس طرح حاصل ہوتی ہے کہ کوئی شخص ماں کے پیٹ سے فوج اور سامانِ جنگ کے ساتھ پیدا ہو یا جب جہاد کا ارادہ کرتا ہے تو غیب سےافواج اور سامان جنگ مہیا ہوجاتا ہے !؟ایسا نہ کبھی ہوا ہے نہ ہوسکتا ہے ۔اس کا طریقہ یہی ہے کہ جس طرح امام کا مقرر کرنا تمام مسلمانوں کا فرض ہے اسی طرح امام کو قوت فراہم کرنا بھی سب پر فرض ہے ،سب کا فرض ہے کہ اس کے گرد جمع ہوجائیں اور اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اسباب جنگ لاکر اس کے سامنے پیش کردیں۔پس جو شخص بھی یہ کہے کہ جہاد کے لیے امام کی قوت شرط ہے اور یہ قوت ہمیں حاصل نہیں تو اس پر لازم ہے کہ پہلے خود آئے اور بقدر استطاعت سامان جنگ ساتھ لائے، اور لازم ہے کہ ہر شخص خواہ تنہا ، کمزور ، قلیل الاستطاعت ہو ، امام کے حکم پر گھر سے نکل آئے اور جس قدر سامان میسر آسکے ، اس کے ہمراہ مسلمانوں کی جماعت میں پہنچ جائے تاکہ جہاد قائم ہوجانے کی صورت پیدا ہو،نہ یہ کہ اپنے کو ’اللہ کے بندوں‘ کے زمرے سے نکال کر ’ڈرپوک ‘بندوں میں شامل کرے اور دینِ متین کے اس رکنِ رکین کو ہاتھ سے جانے دے،سرکش دولتمندوں کی کاسہ لیسی اور ناقصات العقل عورتوں کی کنگھی چوٹی میں مصروف رہے، سبحان اللہ!اسلام کا حق یہی ہے کہ اسکے رکنِ اعظم (جہاد)کی جڑ کھود کر پھینک دی جائے اور اس شخص کو جس کے سینے میں ناتوانی کے باوجوداسلامی حمیت جوش ماررہی ہے ، طعن وتشنیع کا ہدف بنالیا جائے؟یہ لوگ نصاریٰ ویہود و مجوس وہنود کی طرح ہیں کہ ملتِ محمدیہ کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں ، ’’محمدیت‘‘ کا تقاضا تو یہ تھا کہ اگر کوئی شخص مذاق میں بھی جہاد کانام لےلےتو مسلمانوں کے دل سنتے ہی پھول کی طرح کھل جائیں اور سنبل کی طرح لہلہانے لگیں اور اگر دوردراز کے مقامات سے بھی جہاد کا آوازہ اہلِ غیرت کے کانوں تک پہنچ جائے تودیوانہ وار دشت وکوہسار میں دوڑنے اور شہباز کی طرح اڑنے لگیں، نہ یہ کہ جہاد کامسئلہ اس عظمت کے باوجود ’کتاب الحیض والنفاس‘کی تعلیم وتعلم کے درجے سے بھی کم سمجھا جائے۔
مناسب ہے کہ ان ہواجس ِنفسانی اور وساوسِ شیطانی کو دل سے دور کریں اور ایمانی غیرت اور اسلامی حمیت کو جوش میں لائیں اور مردانہ وار مجاہدین کے لشکر میں شامل ہوجائیں اور زمانے کے نشیب وفراز پر صبر کریں اور دوردراز کے خیالات کو چھوڑ دیں اور دنیاوی تعلقات کو جو اس مشغولیت سے مانع ہوں، خیرباد کہیں۔
حدیث شریف میں آیا ہے کہ’جواپنے دل کو وادیوں میں ڈال دے(دنیاوی دھندوں میں الجھادے)اور ڈانواں ڈول رکھے تواللہ کو پروا نہیں ہوتی کہ کس وادی میں وہ مرتا ہے ، اور جو اللہ پر بھروسہ کرے، اللہ ان تمام راہوں کا انتظام فرماتا ہے ‘۔‘‘
(مجموعہ خطوطِ قلمی، تاریخِ دعوت وعزیمت ، ج۶ ،ح ۱،ص ۵۴۸ تا ۵۵۶)بتصرف
٭٭٭٭٭
1 قضائے حاجت کے لیے دور جانا سنت ہے ، سننِ ابی داودکی سب سے پہلی حدیث یہ ہے ’’کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا ذھب المذھب ابعد‘‘، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تو دور جاتے۔
2 کشمیر سے آبائی تعلق ہونے کے باوجود ایسا نہیں تھا کہ بچپن سے ہی مارنے کاٹنے کی ذہنیت بنی ہو، جہادِ کشمیر سے جذباتی لگاؤ اور وابستگی ضرورتھی، البتہ تصور جہاد اسکول و مدرسے کی سزاؤں جیسا تھا۔ اتنا پتا تھا کہ اس میں مرنا مارنا ہوتا ہے، لیکن خود موت کا تصور واضح نہیں تھا، سانحۂ لال مسجد اور سوات آپریشن کے بعد خوابِ غفلت سے بیدار ہوئے (اور صرف ہم ہی نہيں بلكہ نوجوانان امت كی ايك بڑی تعداد بيدار ہوئی اور جونہيں ہوئے وه بهی ان شاءالله ضرور بيدار ہوں گے، خوف ان كے بيدار نہ ہونے كا نہيں ، بلكہ شوق وتمنا يہ ہے كہ ہم انكی بيداری كاسبب بن جائيں، (وماذالك علی اللہ بعزیز) ورنہ اقبال تو بہت پہلے کہہ چکے ہیں:
؏مسلماں کو مسلماں کردیا طوفانِ مغرب نے۔
کفار کے مظالم، شانِ رسالت میں ان کی دریدہ دہنی اور مقابل میں حکمرانوں کی بے غیرتی‘ نوجوانوں کو کھڑا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ تو پتہ چلا کہ ملایا سے مراکش اور شیشان سے صومالیہ واریٹیریا تک پورا عالمِ اسلام ہی کشمیر کی تصویر ہے؛ جلتا ، سلگتا، لٹتا اجڑتا، لاشوں سے پٹا، خون سے اٹا، پامال و نڈھال۔
؏تن ہمہ داغ داغ شد، پنبہ کجا کجا نہم
دورِ خلافتِ عمری کے معروف مرثیہ گو شاعر متمم بن نویرہ کو لوگوں نے کہا کہ مرتے تو سبھی کے بھائی بیٹے ہیں، لیکن یہ کیا کہ تمہارا بھائی مالک مارا گیا اور تم اس کا مرثیہ کہتے اکتاتے نہیں، اس پر متمم نے اشعار میں جواب دیا:
لقد لامنى عندالقبور على البكاء
رفیقى لتذراف الدموع السوافك
ہر قبر پر آنسو بہانے پر ، مجھے میرے دوست نے ملامت کیا رونے رُلانے پر
فقلت له ان الشجايبعث الشجا
فدعنى فهذا اكله قبر مالك
میں نے کہا نئے غم سے پرانا غم ہوتا ہے تازہ، مجھے اپنے حال چھوڑ دے، مجھے تو ہر قبر ہے مالک کا مقبرہ!
سو جب اپنا كشمير بھی کُل عالمِ اسلام ٹھہرا تو ہم بھی اللہ کی توفیق سے امت کے جہادی تسلسل کے نئے سنگِ میل’القاعدہ‘ میں شامل ہوگئے۔ وماكنا لنهتدي لولا ان هدانا الله!
3 نورانی قاعدہ اور القاعدہ میں باہمی ربط یہ ہے کہ ہر نورانی قاعدہ پر قرآن پڑھنے والاگو باضابطہ القاعدہ میں شامل نہ ہو، لیکن ہوتا القاعدہ ہی کے نظریے پر گامزن ہے، وطنِ عزیز کے طول و عرض میں پھیلی امریکہ دشمنی اور گو امریکہ گو کے نعرے شیخ اسامہ کے نظریے کی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں، سو جیسے اقبال مرحوم کے مطابق ’افغان کی غیرت دینی کا علاج ملا کو ان کے کوہ دمن سے نکالنا تھا‘، اسی طرح القاعدہ (یا عالمی جہاد کا نظریہ کہہ لیجیے) کا توڑ یہی ہے کہ’نورانی قاعدے‘ اور قرآنی تعلیمات پر پابندی عائد کردی جائے، سو جب تک ’نورانی قاعدے‘ اور قرآن کی بہاریں باقی ہیں(اور ان شاء اللہ تا ابد رہیں گی) تحریکِ جہاد کو نہ کسی’بیانیے‘ سے خوف ہے، نہ کسی ’پیغام‘ کا خطر
نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
اور
فانوس بن کے جس کی حفاظت ہَوا کرے
وہ شمع کیا بجھے! جسے روشن خدا کرے
4 حضرت حکیم الامت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں’اصل مدار ثبوتِ احکامِ شرعیہ کا نصوصِ شرعیہ ہیں ،جن کے بعد کسی مصلحت و حکمت کے معلوم ہونے کا انتظار کرنابالیقین حضرت سبحانہ وتعالیٰ کے ساتھ بغاوت ہے‘۔(احکامِ اسلام عقل کی نظر میں)