اسوۂ ابراہیمی کا ہر ایک نقش رب العالمین کو اس قدر پسند آیا کہ اُسے رہتی دنیا کے لیے بطور نمونہ پیش کیا گیا،تمام مناسک حج ابراہیم علیہ السلام ہی کے نقوش ہیں۔اللہ رب العالمین کی توحید کو تمام باطل ادیان پر غالب کرنے اور اپنے رب کی رضا کو پانے کے لیے ابراہیم علیہ السلام نے گھر چھوڑنے سے لے کر وقت کے طاغوتی حکمران کے ہاتھوں آگ میں جلنے تک اور بیوی بچے کو وادیٔ بے آب و گیاہ میں چھوڑنے سے لے کر تمام آزمائشوں میں سب سے بڑی آزمائش کہ اپنے اسماعیل کو اپنی چھُری تلے رکھ دینے تک ایک ایک قدم کو ایسے سرانجام دیا کہ خود اُن کے مالک نے گواہی دی: وَإِبْرَاہِیْمَ الَّذِیْ وَفَّی’’اور ابراہیم جس نے وفا کی‘‘اور کبھی فرمایا:إِذْ قَالَ لَہُ رَبُّہُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ’’جب اُس کے رب نے اُسے کہا کہ سرتسلیم خم کردو تو اس نے کہا میں نے رب العالمین کے لیے سرتسلیم خم کردیا‘‘۔غرض یہ کہ توحید کے مسئلۂ حاکمیت سے لے کر الولاء والبراء کے عملی مسائل تک ہر معاملے میں ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کو ہمارے لیے بطور تقلید رکھا گیا کہ قَدْ کَانَتْ لَکُمْ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیْ إِبْرَاہِیْمَ وَالَّذِیْنَ مَعَہُ ’’یقیناً تمہارے لیے ابراہیم اور ان کے اہل ایمان ساتھیوں کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے‘‘۔
آج بھی عالمِ کفر اکٹھا ہوکر ایمان والوں کو مٹانا چاہ رہا ہے۔اُسی آگ اور بارود کی بارش اور ڈرون حملوں کی بھرمار سے بھی پیروانِ نمرود ،یہودونصاریٰ اور ان کے حواریوں کا دل ٹھنڈا نہیں ہوتا تو پھر چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو قطار میں کھڑا کرکے ،تمسخر کرتے ہوئے کلمہ پڑھواتے ہیں اور اپنی گولیوں سے اُن کے قرآن کے نور سے منور سینے چھلنی کرڈالتے ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ اہل ایمان کو ایمان کی گواہی دینے سے باز نہیں رکھ سکتا۔وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدوں کو سچ جانتے ہیں اور ان پر اپنا سب کچھ تج دینے کو سعادت جانتے ہیں۔
سعادتوں کے اسی سفر کے راہی آج ہمیں دنیا بھر میں جانب منزل رواں دواں نظر آتے ہیں۔ یہ اصحاب الاخدود کے کردار کو بھی زندہ کررہے ہیں ،اصحاب کہف کی سیرتوں میں بھی ڈھل رہے ہیں،کفارکے قلوب میں تیرِقضا کی ماننداتر کر سنت یوسفی کی ادائیگی اور شعب ابی طالب کی رودادوں کو بھی دہرا رہے ہیں۔اسی لیے اہل صلیب ایک ایک ایمان والے سے خائف ہیں،لرزاں و ترساں ہیں اور اہل ایمان کونارِنمرودمیں جلا کر بھسم کر دینے کے خواہاں ہیں……ڈاکٹر عافیہ صدیقی اورفیصل شہزاد تو محض استعارے ہیں……استقامت و عزیمت کے استعارے……یہودونصاریٰ کی ازلی اسلام دشمنی کے اظہار کے استعارے……اورعروج امت کی نوید دیتے اورجنتوں کے سفر کے راہیوں کو منزلوں کا پتا دیتے استعارے!!! صلیبیوں کی نظر میں امت کاہر صاحب ایمان و یقین اورغیرت مندفردڈاکٹر عافیہ صدیقی اورفیصل شہزاد ہے اور وہ اپنی تمام تر دجالی ٹیکنالوجی اور ابلیسی مکروفریب کے ساتھ اِن اہل ایمان کومٹانے کے درپے ہیں۔
آگ ہے، اولادِ ابراہیم ہے، نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحان مقصود ہے
اس امتحان میں سرخروئی حاصل کرنے والے خوش بخت اللہ کی نصرت کے واضح آثار ملاحظہ کر رہے ہیں۔ مجاہدین تو اللہ کے کلمے کی سربلندی اور کفر کی مکمل مغلوبیت تک اپنے ہتھیار سینوں پر سجائے رکھیں گے اور یُقَاتِلُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُون کے مبارک راستے پر کامل استقامت سے گامزن رہیں گے اوراپنے رب سے کیے ہوئے سودے کو چکاتے رہیں گے……
یہ مجاہدین تمام اہل ایمان کو جنتوں کے اس سفر میں ہمراہی کی دعوت دے رہے ہیں اور انہیں یاد دلا رہے ہیں کہ آج کے دور میں لاالہ الااللہ کا اقرار کرنے والے ہر فرد کو اسوۂ ابراہیمی پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اللہ کی راہ میں اپنی محبوب ترین چیز کو پیش کردو تاکہ جنت کی ابدی زندگی میں وہ تمام نعمتیں جن کا وعدہ اللہ رب العزت نے خود فرمایا ہے ، اُس کے حق دار بن سکو۔گویا بزبان حال یہ منادی جاری ہے کہ اپنا اپنا اسماعیل پیش کرو!!!