میں نے جب سر جی کو دیکھا کہ ہالی ووڈ پہاڑی کے ساتھ کھڑے ہیں اور تصویر کھینچ کر اپلوڈ کی ہے تو وہ دن یاد آیا جب ان کو پہلی دفعہ دیکھا تھا۔ ان سے پہلی ملاقات یونٹ کی مسجد میں نماز فجر سے پہلے ہوئی تھی۔ یونٹ میں واقع مسجد کے پیش امام اور مؤذن کی رہائش کے علاوہ یونٹ کے تمام چھوٹے بڑے افسروں اور سپاہیوں کی رہائش کا بندوبست یونٹ کے اندر ہی تھا۔ صرف ان دو بے چاروں کو باہر سے اور وہ بھی کافی دور سے آنا پڑتا تھا ، فوج کے قانون میں مؤذن و امام کے لیے سہولیات کا خانہ جو موجود نہیں۔ اور کیوں ہو؟ جو قوانین انگریز نے بنائے ہوں اور آج تک بغیر تبدیلی کے چل رہے ہوں ان میں مؤذن اور امام کی ضرورت کب ہے؟ اس لیے فجر کی اذان دینے اور نماز پڑھانے کی ذمہ داری چند مقیم اہلکاروں نے لے لی تھی۔
اس دن میں نے فجر کی اذان دینا چاہی۔ مسجد میں جیسے ہی داخل ہوا تو ایک جوان کو دعا میں مصروف دیکھ کر حیرانگی ہوئی۔ عموماً فجر کی اذان سے پہلے مسجد میں کوئی نہیں آتا تھا۔
نماز اور ناشتے سے فراغت کے بعد اسمبلی کے لیے پریڈ گراؤنڈ میں گیا تو دیکھا کہ صبح عبادت میں مصروف، بظاہر سنت سے مطابقت رکھنے والا جوان نئی آنے والی لانگ کورس کلاس کی صف میں کھڑا ہے۔ مجھے خوشی ہوئی کہ چلو نئی آنے والی کلاس میں اتنا دین دار آفیسر بھی موجود ہے۔ عموماً فوج میں دیندار لوگ کم ہی ملتے ہیں یا فوجیوں کے لیے کام کے عرصے میں دیندار ہونا مشکل فعل ہے۔ یہ بات اس لیے حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ اکثر فوجی ریٹائیرمنٹ کے بعد ہی دین کی طرف (کچھ نہ کچھ) مائل ہوتے ہیں۔
وقت گزرنے کے بعد سر جی سے اچھا تعلق بنا۔ گو کہ سر جی مجھ سے چار پانچ (batch) سینئر تھے، لیکن ان سے تعلق ایسا تھا جس میں سینئر اور جونیئر کی کوئی تفریق نہیں تھی اور ایسا تعلق بننا بھی چاہیے تھا کیونکہ تھے تو ہم ایک ہی صف کے نمازی۔ پھر جب فوج میں سٹار لیول رافضی افسر کا ایک ٹروپس لیول کے رافضی سپاہی سے رافضیت کی بنیاد پر تعلق پایا جاتا ہو تو دو مساوی رینک کے اہلکار جو ایک ہی صف میں نماز پڑھتے ہوں، ان میں اچھا (فوجی رسم و رواج سے ہٹ کر )تعلق کیوں نہ ہو؟ پھر فوج میں مختلف طبقات کے درمیان جو امتیازی سلوک روا رکھا جاتاہے اور بڑے اہلکار کا چھوٹے سے جو وہاں کے رسم و رواج کے مطابق رویہ ہوتا ہے، وہ کون سا اچھا یا مہذب رویہ ہے؟ سب جانتے ہیں کہ فوج میں جونیئر رینک اہلکار کی کیا حیثیت ہوتی ہے۔
اچھا وقت جلدی گزرجاتا ہے۔ سر جی کے ساتھ یہ وقت بھی جلدی گزر گیا۔ اس پورے عرصے میں ، مَیں نے سرجی کو بہت اچھا پایا۔ عموماً فوجی روٹین میں باجماعت نماز کے لیے بلکہ کبھی کبھار فرض نماز کے لیے وقت نکالنا بھی مشکل ہوجاتا ہے لیکن میں نے سر جی کو ہمیشہ وقت پر نماز پڑھنے والا پایا۔ روزانہ کے دینی معمولات بھی پابندی کے ساتھ بجالاتے تھے۔ ہم جب یونٹ سے جارہے تھے تو ان سے جدائی کا دکھ تھا۔ خیر رابطہ برقرار رہا۔ کچھ عرصے بعد پتہ چلا کہ سر جی نے اپنا لانگ کورس مکمل کر لیا ہے اور (batch) میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ اصول کے مطابق پہلی پوزیشن لینے والا افسر مزید تعلیم کے لیے امریکہ جاتا ہے۔ سرجی کی پہلی پوزیشن آنے پر خوشی ہوئی لیکن امریکہ جا کے تعلیم و تربیت حاصل کریں گے، یہ بات اچھی نہیں لگی۔ کیونکہ امریکہ و یورپ سے تعلیم حاصل کرنے والے چند افسروں کے ساتھ پہلے ہی تعامل (interaction)رہ چکا تھا، ایسے افسر بس نام کے پاکستانی ہوا کرتے ہیں اور پاکستانی نام کے ہوتے ہیں تو مسلمان کیسے ہوں گے، خود ہی سوچ لیں! پھر سرجی دین دار آدمی تھے، ڈر تھا کہ یہ بھی بدل نہ جائیں۔ اوپر سے امریکہ سے نفرت بھی تھی اور نفرت میں اضافہ اس لیے بھی ہوا تھا کہ ایک سال پہلے ہی ان امریکیوں نے ہمارے شیخ اسامہ بن لادن کو شہید کیا تھا۔ جو لوگ مارنے کے قابل ہیں، ان سے بندہ تربیت حاصل کرے یہ میرے خیال میں ظلم ہے!
سر جی چونکہ سینئر تھے، اس لیے تعلق کے باوجود دل کا حال بتا نہ سکا۔ پھر جب ہر طرف فوج میں داڑھی والوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو تو کسی کے لیے ایسے نظریات اس فوج میں جو امریکہ کی فرنٹ لائن اتحادی اور کمبائنڈ ٹاسک فورس کی اہم رکن ہو، اس میں کھلے عام بیان کرنا کتنا مشکل ہے۔ ہاں دل میں ایک آرزو تھی کہ سر جی یا تو جائیں نہ یا اگر جاتے بھی ہیں تو امریکہ کے اس فوجی یونٹ میں جہاں وہ باقی امریکی فوجیوں کے ساتھ زیرِ تعلیم ہوں کوئی ایسی جہادی کارروائی کریں کہ جس سے امتِ مسلمہ کے، شیخ اسامہ کے محبین کے سینے ٹھنڈے ہوں۔ خواہش تھی کہ سر جی امریکہ کو شیخ اسامہ کی نظر سے دیکھیں ، ایک غیرت مند مسلمان کی نظر سے دیکھیں جس کے دل میں امت کے ان مظلوموں کے دکھ کا مداوا کرنے کا احساس ہو جن پر ہر روز مشرق سے مغرب تک امریکی خود ظلم کرتے ہیں یا ان پر مسلط ظالموں کی پشت پناہی کرتے ہیں، نا کہ سر جی بھی ان افسروں کی طرح ہوجائیں جو امریکہ جا کر دیسی امریکی بن جاتے ہیں۔
؏ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے!
سرجی امریکہ گئے۔ سر جی کے ساتھ فیس بک پر رابطہ تھا۔ یہاں ان کو کبھی تصویر کھینچواتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ غالباً تصویر کھینچوانے کو گناہ سمجھتے تھے۔ لیکن چند دنوں بعد ان کے فیس بک پروفائل پر ان کی تصویریں اپلوڈ ہونا شروع ہو گئیں۔ کبھی لاس اینجلس میں ہالی ووڈ پہاڑی پر کھڑے تصویر کھینچوا رہے ہیں تو کبھی ڈزنی لینڈ کی سیر کرتے ہوئے۔ سر جی کی اس حالت پر دکھ ہوا اور پھر ان کو دیکھنے یا ان سے رابطہ کرنے کا موقع نہ مل سکا، کیونکہ ہمارے دل میں اب شیخ اسامہ کی محبت جو آگئی تھی۔ فوج کی یہ حالت ہم سے برداشت نہ ہوتی تھی اس لیے ہم ان صحرا نشینوں کی طرف آنے پر مجبور ہوئے جن کے خلاف لڑنے کے لیے سر جی یا سرجی کی طرح مختلف اسلامی و غیر اسلامی ممالک کے اہلکاروں کو تربیت دی جاتی ہے۔
شیخ اسامہ کی شہادت کو دس سال ہوچکے ہیں۔ لیکن شیخ نے جو فکر مسلمانوں کو دی ، جس دعوت کا انہوں نے پرچار کیا، وہ آج بھی زندہ ہے بلکہ پہلے سے زیادہ مقبول ہے اور آج ان کی دعوت پر لبیک کہنے والوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اس معرکے میں خالصتاً امریکی صف میں کھڑے تھے۔
حرمین کی سرزمین کا غیرت مند جوان محمد سعید شمرانی ہو جس نے امریکی نیول بیس کو اپنے معرکۂ ایمان کا میدان بنایا یا خود فلسطینی نژاد امریکی شہری نضال حسن ہو جس نے امریکی فوج میں رہتے ہوئے اپنی بندوق کا رخ امریکیوں کی طرف کیا، ان سب نے امریکہ کو شیخ اسامہ کی نظر سے دیکھا، انہوں نے امریکہ کو ایک غیرت مند مسلمان کی نظر سے دیکھا۔ آج اس خواہش کا اظہار کرنا چاہتا ہوں جو سرجی سے نہ کرسکا اور وہ یہ کہ امریکہ کو قرآن کی نظر سے،مسلمان مجاہد کی نظر سے ، شیخ اسامہ کی نظر سے دیکھا جائے۔ جیسا کہ ہمارے بھائی شہید شمرانی نے دیکھا۔
شہید شمرانی سعودی ائیر فورس کے ایک جوان افسر تھے۔ بظاہر محفوظ دکھنے والے ، میرے نبی ﷺ کے اس جزیرے کو اگر عسکری نگاہ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے امریکی ظالموں نے اس جزیرے کو اپنی مکمل گرفت میں لیا ہوا ہے۔ جزیرے کے چاروں طرف سمندر میں امریکی بحری بیڑے (Air Craft Carriers) ، ایٹمی آبدوزیں اور جنگی جہاز (Frigates) کسی بھی اور ملک سے زیادہ بلکہ خود سعودی عرب کی اپنی بحریہ کی تعداد سے زیادہ پایا جانا کتنی تشویش کی بات ہے۔ وہ بحر ِ احمر جس میں خلافت کے وقتوں میں یورپی جہازوں کا داخلہ ممنوع تھا، جہاں کے ساحل سے مکہ مکرمہ چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے وہاں امریکیوں کا اتنی کثیر تعداد میں ہونا آج پوری امت مسلمہ کے لیے ایک فکر و غم کی بات ہونی چاہیے۔یہی فکر شمرانی کے ذہن میں تھی اور یہی غم شمرانی کے سینے میں ٹِیس بن کر اٹھ رہا تھا۔
پھر جزیرے کے ارد گرد بحرین و قطر اور جبوتی میں امریکی بیسوں کا وجود ہو یا خود جزیرے کے اندر دمام کی امریکی بیس۔ اب بھی اس میں کوئی شک کی بات ہے کہ ہمارا کعبہ صلیبیوں کے گھیرے میں ہے؟ اور کون صلیبی ؟ جنہوں نے ہمارے قبلۂ اول کو پوری بدمعاشی کے ساتھ یہودیوں کے حوالے کیا اور آج ان کا دار الحکومت تک بنادیا۔ وہ امریکی کہ جس کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ امریکہ کا امت ِ مسلمہ کا قتل عام کرنا دیکھیں، عراق، شام ، افغانستان میں براہِ راست ، کشمیر میں ہندوؤں کی پشت پناہی، فلسطین میں یہود کی پشت پناہی ، مسلمان ممالک کے دین دشمن حکمرانوں کی پشت پناہی اور پھر دینی شعائر کی بے حرمتی کرنے والوں کی پشت پناہی اور ہمارے مسلمان بہن بھائیوں کا قید کرنا، کیا جرائم کی یہ فہرست ابھی بھی اس قابل نہیں کہ ایک مسلمان ملک سے بھرتی ہونے والا ، اپنے آپ کو مسلمان کہنے والا کوئی فوجی اس کو نظر انداز کر کے ان امریکیوں کی تربیت لے کر ان کا شریک ِ کار بن جائے؟ پھر مجاہد شمرانی یہ بات کیسے نظر انداز کر سکتا تھا؟
آج بھی اسلام کا دعویٰ کرنے والے کتنے فوجی و سویلین اہلکار ان امریکی اداروں میں تربیت حاصل کر رہے ہیں جن اداروں میں کفار کو مسلمانوں کے خلاف اس عظیم معرکے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ ایک مسلمان اس بات کو کیسے برداشت کر سکتا ہے کہ اسی کے امریکی Batchmate جو اس کے ساتھ ایک ہی بیس میں ٹریننگ اس لیے حاصل کر رہے ہیں کہ کل مسلمانوں کے افغانستان کے کسی گاؤں پر بمباری کر کے مسلمانوں کی پوری بستی کو ملیامیٹ کریں، مسلمانوں کے کسی شہر کو بغداد کی طرح ، کسی فلوجہ کی طرح اپنی اندھی بمباری کا نشانہ بنائیں، مسلمانوں کی مسجد اقصیٰ یہودیوں کے قبضے میں دیں، مسلمانون کی کسی بہن کو پکڑکر چھیاسی سال قید کی سزا سنائیں اور تو اور شعائر اسلام کی توہین کرنے والوں کو حفاظت فراہم کریں؟ آپ کیسے برداشت کرسکتے ہیں؟
یقین کیجیے ہر وہ اہلکار جو امریکہ میں کسی بھی فوجی مہم پر گیا ہوا ہے وہ سب سے زیادہ اس بات کے لائق ہے کہ ان امریکیوں کے ساتھ وہ کرے جو اللہ کو مطلوب ہے۔ امریکیوں کے خلاف فریضۂ جہاد سب سے زیادہ اسے پکارتا ہے لیکن بات صرف ایمان کی ہے۔ اگر ایمان ہے تو آپ بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ ہاں آپ وہ کرسکتے ہیں جو شہید شمرانی نے کیا۔ آپ مظلوم امت ِ مسلمہ کے سینے ٹھنڈے کرسکتے ہیں۔ یہ امریکی ظالم فوجی، ان کے اعلیٰ افسران وغیرہ آپ کے نزدیک گھومتے پھرتے ہیں۔ شرابیں پی کر اکثر نشے میں ہوتے ہیں۔ ان کو مار کر، مظلوم امت کے سینے ٹھنڈے کرکے شہید شمرانی کی طرح جنت میں اپنا گھر بنائیں۔ کیونکہ صادق و مصدوق نبی آخر الزمان ﷺ کے فرمانِ مبارک کا مفہوم ہے کہ جس نے کسی کافر کو مارا وہ اس کے ساتھ (جہنم میں) اکٹھا نہیں کیا جائے گا!
٭٭٭٭٭