رسول ِ محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں: فتحِ کابل کی خوش خبری

اپنے رسولِ محبوب ﷺ کی خدمت میں

از طرف خاکِ پائے رسول

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

میرے سچے نبی جی! میرے سچے شفیع جی!

عجیب و غریب کیفیت ہے۔ ایک طرف اپنے اعمال کی سیاہی ہے اور دوسری طرف آپ کو عطا کردہ آپ کے اور ہمارے اللہ کے نور کی ضیا۔ ایک طرف میرے گناہ ہیں اور دوسری طرف آپ کی ’امتی امتی‘ کی صدا میں میرے لیے مغفرت۔ ایک طرف آپ کے اربوں غلاموں میں نا قابلِ ذکر یہ عاصی غلام، دوسری طرف ماں جیسی پہچان جو ہر بیٹے کو جانتی ہے اور کروڑوں میں پہچان جاتی ہے، جس کی محبت ربّ کے بعد بے کراں، بے حد، بے حساب۔

نبی جی!

ماں کو ایک بات کی خبر ہوتی ہے، پھر بھی اس کا ہر ہر بچہ اس کو آ کر وہی خبر دیتا ہے اور ماں ہر بچے سے خبر سن کر یونہی ہو جاتی ہے گویا اسی سے سنی ہے۔

مجھے میرے ابّا سے بھی زیادہ محبوب، مثلِ ابّا جی! میرے نبی جی!

میں بھی قاصد بن کے آیا ہوں۔ نبی جی! آپ نے جس احنف بن قیسؒ کے لیے فرمایا تھا ’’ اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِلْاَحْنَفِ ‘‘، پہلی صدی ہجری میں اسی احنف نے جس ہرات و بلخ کے بیتِ ابیض کے کسریٰ کے ساتھی کافروں کو روندا تھا، اسی احنف کے روحانی بیٹوں نے آج کے بیتِ ابیض امریکہ کے کافروں کو پندرہویں صدی ہجری میں روند دیا ہے۔ احنف کے بیٹے عبد اللہ نے شہرِ کابل میں آپ کے یارِ غار صدیقِ اکبرؓ کے بیٹے قاسم کے ساتھ جامِ شہادت نوش کیا تھا اور دونوں آج بھی کابل کے بالا حصار قلعے کی بغل میں مزارِ شہدائے صالحین میں مدفون ہیں۔ یا رسول اللہ! آپ کا خادم و غلام اور میرا دوست گل محمد کابلی، مزارِ شہدائے صالحین گیا تھا۔ مجاور نے گل محمد کو دیکھ کر احسان کا معاملہ کیا اور عبد اللہؒ و قاسمؒ کے مزار کا دروازہ کھول دیا۔ وہاں آپ کے ستّر مزید صحابیؓ اور ان کے تابعیؒ جو سب پہلی صدی ہجری میں آپ کے دین کا پیغام لے کر کابل پہنچے اور پہلے پہلے معرکوں میں وہیں شہادت پا کر دفن ہوئے، سبھی کی قبریں ساتھ ساتھ ہیں۔گل محمد کابلی نے آپ کے محبوب اور ہمارے محبوب، آپ کے صدیقؓ کے بیٹے اور بنو تمیم کے احنف کے بیٹے کے سرہانے بیٹھ کر انہیں فتحِ کابل کا مژدہ سنایا۔

یا رسول اللہ! آپ کے دشمنوں نے مجھے اور گل محمد کوآپ کی زیارت سے روک رکھا ہے۔ ورنہ اللہ تو جانتا ہی ہے اور وہی اللہ اپنی شان کے مطابق یہ پیغام آپ تک پہنچا رہا ہے کہ ہم آپ کے مدینے میں پیادہ پا آتے، آپ کے روضے پر برہنہ پا آتے۔ روضے کی جالی کو پکڑ کر، آپ کو رو رو کر یہ خبر سناتے کہ یا رسول اللہ! کابل فتح ہو گیا! نبی جی! آپ کی دی بشارت ’’ثم تکون خلافۃ علیٰ منہاج النبوۃ‘‘ کی منزل کی پہلی سیڑھی سر ہو گئی!

یا رسول اللہ! مجھے یقین ہے کہ میں نہ سہی تو میری اولاد ضرور آپ کے روضے کی جالی سے سینہ چمٹا کر آپ کو آپ کے وطن ’جزیرۃ العرب‘ کی فتح کی خوش خبری سنانے آئے گی، بعون اللہ!

نبی جی! ہم تو فرطِ محبت میں آپ کے دیوانے ہیں۔ دیوانوں کو تو ہر محبوب دیوانگی کا عذر دے کر، ان کی بے ادبی بخش دیتا ہے۔

نبی جی! آخری خط لکھا تھا تو دنیا آپ کی کالی پگڑی پہننے والوں کی دعوت کی صورت معاہدۂ دوحہ سے لرز رہی تھی اور آپ کے عاشق ماسکو و بیجنگ و تہران کے قالین روند رہے تھے۔ جن کی آنکھوں کو جلوۂ دانشِ فرنگ خیرہ نہ کر سکا تھا، جن کی آنکھوں کا سرمہ آپ کے مدینے کی خاک ہے۔ نبی جی! آج خط لکھنے بیٹھا ہوں تو یہی عاشقِ صادق کابل کے شاہی محل میں داخل ہو چکے ہیں۔

نبی جی! بچے آپ کی انگلی تھام کر آپ کو کسی گلی، کسی سڑک پر لے چلتے تھے، آپ جن سے زیادہ مصروف کوئی نہ تھا، اپنی کمالِ رحمت سے ان بچوں کے ساتھ چل پڑتے تھے۔ عورتیں آپ کو راہ میں روک کر باتیں پوچھتیں تو آپ کھڑے سنتے رہتے، پھر جواب دیتے ۔ بے آسرا لوگوں کا سودا سلف لاتے، گٹھریاں بوریاں ڈھوتے۔ بس اسی خیال سے سوچا کہ میں بھی ایک ادنیٰ غلام ہوں، بچہ ہوں، بے سہارا و بے آسرا ہوں، آپ کو کچھ واقعات سنا دیتا ہوں۔ گل محمد کابلی کا بھی سلام قبول کیجیے، اسی نے مجھے یہ آنکھوں دیکھے اور کچھ براہِ راست سنے قصے سنائے ہیں۔

نبی جی! پورا افغانستان فتح ہو چکا تھا۔ کابل کے دروازوں تک آپ کے مجاہدین پندرہ اگست کی نمازِ ظہر کے وقت پہنچ چکے تھے کہ امرائے مجاہدین کا حکم آیا کہ کابل میں داخل نہیں ہونا، جو داخل ہو چکے ہیں وہ واپس آ جائیں، کابل کے نواح میں ارغندی اور سروبی پر خط بنا لیں۔ آپ کے اطاعت گزاروں نے اطاعت کی اور واپس لوٹے اور خط بنا لیا۔ عصر کے وقت اطلاع ملی کہ کابل میں لوٹ مار کا بازار گرم ہو گیا ہے۔ جہاد جو دنیا میں عدل کے قیام کے لیے اللہ نے فرض کیا اور آپ نے جس کو اپنی سنتِ مستقلہ بنایا، اس کو ادا کرنے والوں کو پکارا گیا۔ امر ہوا کابل میں داخل ہو جاؤ۔ یہ مجاہدین کالی سفید پگڑیاں باندھے، اپنی واسکٹوں کی ا گلی بائیں جیب میں آپ پر اترے مصحف کا جیبی نسخہ لیے، ایک ہاتھ میں آپ کا سفید پرچم تھامے اور دوسرے میں آپ کے ورثے میں امت کو ملنے والے اسلحے کو اٹھائے شہرِ کابل میں داخل ہوئے۔

یا رسول اللہ! جب میں نے فتح کے انداز و طریق کا سنا تو آپ کے بیٹے اور خلیفۂ راشد مہدیؓ کی فتحِ قسطنطنیہ کا آپ کی زبان سے ہوا بیان ذہن میں آ گیا۔ آپ نے جس طرح فرمایا کہ قسطنطنیہ یوں فتح ہو گا اس کی عملی تصویر ہم نے ظہورِ مہدیؓ سے پہلے فتحِ کابل میں دیکھی۔ ان مجاہدین نے کابل کو فتح کرنے کے لیے ایک گولی بھی نہ چلائی، بس ان کی زبانوں پر ’اللہ اکبر‘ رواں تھا، کابل کے سب حفاظتی حصار اسی تکبیر سے منہدم ہو گئے۔ آپ کے سچے عاشق شاہی محل پہنچے۔ ہبلِ عصر امریکہ کے پجاری اپنی بندوقوں کی نالیوں میں گولیاں چڑھائے بیٹھے تھے۔ یا رسول اللہ! ایک بہت بڑے عالم نے کہا ہے کہ قسطنطنیہ کی پہلی فتح دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے جو سلطان محمد فاتح کے ہاتھ پر ظاہر ہوا۔ کابل میں بھی آپ کا معجزہ ’’نُصِرتُ بِالرُّعب‘‘ آپ کے پندرہویں صدی کے عاشقوں کے ہاتھوں پرظاہر ہوا۔ ہبلِ عصر کے پجاریوں کی آنکھیں خوف کے مارے پلکیں جھپکنا بھول گئیں، ہاتھ شل ہو گئے اور وہ مٹی کے انسان سے مٹی کے بت بن گئے۔ ایک سفید ریش مجاہد کمان دار کی آواز آئی ’تسلیم شا!‘ اور آن کی آن میں ہزاروں فوجیوں نے محض دو ڈھائی سو مجاہدوں کے سامنے اسلحہ ڈال دیا۔

مجاہدین کا ایک دستہ ظالمِ زمانہ این ڈی ایس کی ریاستِ چہل میں پہنچا۔ یہاں تہ خانوں میں پانچ ہزار مجاہدین اور آپ کی امت کی پانچ سو عفیفہ عورتیں قید تھیں۔ مجاہدین کو اگر یہاں گولی چلانے کی ضرورت پڑی تو بس ان تالوں کو توڑنے کے لیے جن سے آپ کی امت کے بہترین لوگوں کو مقفل کیا گیا تھا۔ ایک مجاہد نے عورتوں کی جیل کا دروازہ توڑا تو ایک عمر رسیدہ خاتون قیدی آگے بڑھیں اور اس مجاہد بیٹے سے لپٹ گئیں، انہوں نے اس فدائی مجاہد کے ہاتھ چومے، ماتھا چوما۔ یوں کتنی ایمان کے رشتے سے جڑی مائیں نکلتیں اور اس مجاہد کو چومتی باہر نکلتی جاتیں۔ ان ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کے ساتھ درجنوں بچے بھی قید تھے، وہ سب نکلے اور اس مجاہد کی ٹانگوں سے چمٹ گئے، کچھ اس کے بازوؤں سے جھولنے لگے اور اس کو ’ماموں ‘’ماموں‘ کہنے لگے۔ یا رسول اللہ! آپ کی امتی بیٹیوں نے نے اپنے بچوں کو بتا رکھا تھا کہ تمہارے مجاہد ماموں ، تمہارے نبی کے حکم ’فکو العانی‘ کی تعمیل میں ایک دن اس جیل کو توڑنے آئیں گے، الحمد للہ الذي صدق وعدہ و نصر عبدہ!

یا رسول اللہ! جتنے کابل کے فاتح مجاہدوں سے میری بات ہوئی سبھی نے یہی بتایا کہ یہ ایک معجزہ ہے۔ آپ کی لڑی جنگ، بدر کی نسبت سے ’بدری دستے‘ کے ایک کمان دار نے گل محمد کابلی کو بتایا کہ یہ ایک خواب سا محسوس ہوتا ہے۔ یقین نہیں آتا کہ میں یہ سب کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔

یا رسول اللہ!

آپ کا غلام گل محمد کابلی، کابل ائیر پورٹ پر پہنچا۔ وہاں دیو قامت بانسوں پر آپ کے سفید توحید و رسالت والے پرچم لہرا رہے تھے اور کابل ائیر پورٹ کی عمارت پر آپ کا فرمانِ مبارک ، آپ کے مجاہد امتیوں نے چار زبانوں، عربی، پشتو، فارسی اور انگریزی میں چسپاں کر رکھا تھا ’’لا ضرر ولا ضرار في الإسلام!‘‘، اسلام نہ کسی کو ضرر پہنچاتا ہے اور نہ ہی کسی کو اپنے لوگوں کو ضرر پہنچانے کی اجازت دیتا ہے۔

کابل کی ہر شاہراہ، ہر سڑک، ہر گلی، ہر محلے، ہر دفتر اور ہر مکان پر آپ کا ہی جھنڈا لہرا رہا ہے۔

اے میرِ عرب! اے سردارِ اہلِ عجم! اے رحمتِ دو جہاں!

میں اپنے وطن سے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا لے کر آیا ہوں، خوشی کی خبریں لایا ہوں۔

اے میرے اللہ! یہ پیغام اپنے اور ہمارے حبیب ﷺتک پہنچا دے اور اس گنہگار کو بخش دے، جن کو تو نے شفیعِ محشر بنایا ہے انہی کے ہاتھوں جامِ کوثر عطا کر۔ تیری رحمت ہر شے پر چھائی ہوئی ہے ورنہ عاصی اس قابل کہاں؟

٭٭٭٭٭

Exit mobile version