امریکی ویٹرنز ڈپارٹمنٹ کا سابق امریکی فوجیوں میں خودکشی کی روک تھام کے لیے اے آئی کا استعمال |
ویب سائٹ Nextgov کی خبر کے مطابق ویٹرنز افئیر محکمے نے اے آئی ٹیکنالوجی کو ویٹرنز (ریٹائرڈ فوجیوں) میں خودکشی کی روک تھام کے لیے استعمال کرنا شروع کیا ہے، لیکن یہ انسانی مداخلت کی جگہ نہیں لے سکتا۔ AI صرف خطرے کی نشاندہی کرتا ہے، جبکہ علاج اور رابطہ انسانی ڈاکٹرز اور کوآرڈینیٹرز کے ذریعے ہوتا ہے۔ ایپلی کیشنز میں AI سے چلنے والے آلات سے لے کر ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں کے لیے آن نیٹ ورک جنریٹو چیٹ بوٹ تک شامل ہیں۔ ان میں سے زیاہ تر، مکمل یا جزوی طور پر، ایسے سابق فوجیوں کی شناخت اور مدد کرنے پر مرکوز تھے جن کے حوالے سے خود کو نقصان پہنچانے کا زیادہ خطرہ پایا جاتا ہو۔ ویٹرینز افئیر میں دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے خودکشی کی روک تھام ایک اہم ترجیح رہی ہے۔ محکمہ اس مدت کے دوران خطرے سے دوچار سابق فوجیوں کو فراہم کردہ دیکھ بھال اور خدمات کو بڑی حد تک بڑھانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ لیکن ان اقدامات کے باوجود خودکشی کے اعداد و شمار خطرناک حد تک زیادہ رہے ہیں۔ 2001ء سے اب تک ایک لاکھ چالیس ہزار سے زیادہ سابق فوجی اپنی جانیں لے چکے ہیں۔ VA کے اعداد و شمار کے مطابق صرف 2022ء میں چھ ہزار چار سو سات سابق فوجیوں نے خودکشی کی تھی۔ کچھ تنظیموں نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ اعداد و شمار سابق فوجیوں کی خود کشیوں کی کل تعداد سے بہت کم۔
ان فوجیوں تک، جن کے حوالے سے خود کو نقصان پہنچانے کا خطرہ زیادہ ہے، بہتر طریقے سے پہنچنے کے لیے VA کی AI سے چلنے والی کوششوں میں سے ایک،The Recovery Engagement and Coordination for Health-veteran Enhanced Treatment، یا REACH VETپروگرام، ابتدائی طور پر 2017ء میں شروع کیا گیا تھا۔ ریٹائرڈ سروس ممبران میں سب سے زیادہ خود کشی کرنے والے افراد کی شناخت کے لیے محکمہ کے الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈ کو سکین کرتا ہے۔ ہاؤس ویٹرنز افیئرز کی ٹیکنالوجی ماڈرنائزیشن ذیلی کمیٹی کی سماعت کے دوران VA کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر اور چیف AI آفیسر چارلس ورتھنگٹن نے قانون سازوں کو بتایا کہ REACH VET نے ایک لاکھ تیس ہزار سے زیادہ سابق فوجیوں کی شناخت کرنے کے لیے AI الگورتھم کا استعمال کیا ہے جو زیادہ خطرے میں ہیں۔
اسرائیلی فوجی بھی امریکیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خودکشیاں کرنے لگے |
ایک 34 سالہ اسرائیلی ٹینک آپریٹر ڈمٹری شاپیرو کو وسطی اسرائیل میں بیت الزاری کسپععے قریب پیرا ٹروپرز یادگار کے قریب مردہ پایا گیا۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس کی موت خودکشی کے نتیجے میں ہوئی۔ اس کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ غزہ سے ’ٹوٹا ہوا‘ لوٹا تھا۔ جنوری 2024ء سے جولائی 2025ء کے درمیان 279 فوجیوں نے خودکشی کی کوشش کی۔ 2023ء میں 17 اسرائیلی فوجیوں نے اپنی جانیں لیں۔ 2024ء میں 20 فوجیوں نے خودکشی کی۔ 2025ء کی پہلی ششماہی میں 16 فوجیوں نے خودکشی کی۔ ٹائمز آف اسرائیل کی ایک رپورٹ میں شائع ہونے والی داخلی فوجی تحقیقات کے نتائج کے مطابق، اسرائیلی فوجیوں میں حالیہ خودکشیاں جاری جنگ کے نفسیاتی صدمے کی وجہ سے ہوئیں، جن میں جنگی علاقوں میں طویل تعیناتی، دل خراش مناظر اور دوستوں کا کھو جانا شامل ہے۔ زیادہ تر خودکشیاں جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیچیدہ حقیقت کے نتیجے میں ہوئیں۔ IDF نے کہا کہ وہ نتائج اخذ کر رہا ہے اور ذہنی صحت کے حوالے سے اپنے اقدامات کو بڑھا رہا ہے۔ فوج مبینہ طور پر کمانڈروں کی تربیت کو بڑھا رہی ہے تاکہ وہ اپنے فوجیوں میں پریشانی کی علامات کا پتہ لگانے میں مدد کر سکیں، جبکہ دماغی صحت کے افسران کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایکٹو ڈیوٹی سپاہیوں کے لیے 200 اور ریزروسٹ کے لیے 600، جبکہ ایک ہزار کے قریب پہلے سے ہی جنگ کے آغاز سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ چینل 12 کے حوالہ کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 2025ء کے اختتام تک ۱۷ سے زیادہ فوجی خود کشی کر چکے ہیں – ایک ایسی تعداد جس میں ریزروسٹ شامل نہیں ہیں جو اپنی موت کے وقت فعال ڈیوٹی پر نہیں ہیں، جیسے کہ Roi Wasserstein۔ اس کے کیس نے عوامی بحث کو بھڑکا دیا ہے کہ فوج کس طرح فارغ اور ریزرو فوجیوں میں ذہنی صحت کا خیال رکھ رہی ہے۔
گوگل اور یوٹیوب کی اسرائیل کے لیے سہولت کاری |
معروف جرنلسٹ رابرٹ انلاکیش Robert Inlakesh کا کہنا ہے گوگل سروسزGoogle جی میلGmail اور یوٹیوبYouTube نے اس کی رپورٹنگ کو ڈیلیٹ کر دیا اور اس پر پابندی عائد کر دی ہے۔ جس میں اس نے اسرائیلی فوجیوں کے بچوں سمیت غیر مسلح فلسطینی شہریوں کو گولی مار کر شہید کرنے کے بارے میں تحقیقی مقالے شامل تھے۔
اس نے ایکس پر لکھا: ’’اسرائیلی فوجیوں کی طرف سے شہریوں کو گولی مارنے کی میری تمام کوریج، بشمول لائیو سٹریم پر نشانہ بنائے گئے بچے، اور میرا پورا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا گیا اور پھر مجھ پر مکمل پابندی لگا دی گئی۔‘‘
انلاکیش پر یہ پابندیاں اس وقت سامنے آئی ہیں جب یوٹیوب نے مبینہ طور پر اسرائیلی جنگی جرائم کو دستاویز کرنے والی تقریباً 700 ویڈیوز کو ہٹا دیا ہے۔ یہ نسل کشی کو چھپانے کے لیے صحافیوں کو خاموش کرانے کی ایک کوشش ہے۔ یو ٹیوب کے پاس ADL کے ساتھ باضابطہ مواد کی پالیسی کی شراکت داریاں ہیں جو اسرائیل کی حمایت کرنے والی سب سے طاقتور تنظیموں میں سے ایک ہے۔ اور Google ’’انتہا پسندی‘‘ کی بلیک لسٹ اور مواد کی ماڈریشن پر اسرائیلی حکومت کی وزارتوں کے ساتھ براہ راست کام کرتا ہے۔ یہ ایک سنسرشپ انفراسٹرکچر ہے۔ جہاں سیلیکون ویلی اور اسرائیلی ریاست معلومات کو وہ شکل دیتی ہے کہ دنیا غزہ کے بارے میں کیا دیکھ سکتی ہے اور کیا نہیں۔
غزہ کے بچوں کی نسل کشی کے لزرہ خیز اعداداو شمار |
فلسطین کے سرکاری پریس آفس نے عالمی یومِ اطفال کے موقع پر لرزہ خیز اعداد و شمار جاری کیے، جو واضح طور پر بتاتے ہیں کہ قابض اسرائیل غزہ کی پٹی میں بچوں کے خلاف صدی کی سب سے بڑی نسل کشی کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق:
-
بیس ہزار سے زائد بچے شہید ہوئے، جو اس صدی میں بچوں کے خلاف سب سے بڑا عالمی جرم ہے۔
-
ایک ہزار پندرہ بچے ایک سال سے کم عمر کے تھے۔
-
450 سے زائد شیر خوار بچے پیدا ہونے کے بعد شہید ہوئے۔
-
154 سے زائد بچے بھوک کی وجہ سے شہید ہوئے۔
-
14 بچے زبردستی بے دخلی کے کیمپوں میں، بغیر کسی پناہ گاہ، کپڑوں یا حرارت کے سبب سردی کی وجہ سے شہید ہوئے۔
-
864 سے زائد بچے براہِ راست حملوں کے نتیجے میں اعضا کے نقصان کا شکار ہوئے۔
-
پانچ ہزار دو سو بچے فوری طبی امداد کے منتظر ہیں ۔
-
چھ لاکھ پچاس ہزار ببچے بھوک سے موت کے خطرے میں ہیں۔
-
چالیس ہزار شیر خوار بچے بچوں کے دودھ کی کمی کی وجہ سے موت کے خطرے میں ہیں۔
-
چھپن ہزار تین سو اڑتالیس سے زائد بچے یتیم ہوئے، ایک یا دونوں والدین کھو بیٹھے، اور یہ جدید دور کی ایک بڑی یتیمی کی لہر ہے۔ یہ بچے آج بغیر پناہ، بغیر حفاظت اور محفوظ ماحول کے زندگی گزار رہے ہیں اور ان پر دیرپا نفسیاتی اثرات مرتب ہوں گے۔
فلسطینیوں کو مکمل حقوق فراہم کیے بغیر کوئی سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں: انور ابراہیم |
ملیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے فلسطینی قضیہ کے حوالے سے اپنے ملک کے موقف کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ ملیشیا کسی صورت فلسطینی حقوق پر سمجھوتے کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ کوئی بھی ایسا معاہدہ جو فلسطینی عوام کے مکمل حقوق کو یقینی نہ بنائے، دیرپا نہیں ہو سکتا۔ انور ابراہیم نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ بین الاقوامی برادری کو واضح مؤقف اپنانا چاہیے تاکہ وہ ان منصوبوں کی حقیقت سامنے لا سکے جو فلسطینیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قابض اسرائیل کی جارحیت کا خاتمہ اور مغربی کنارے میں استعماری بستیوں کی تعمیر روکنا کسی بھی منصفانہ اور مستقل تصفیے کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔ انور ابراہیم نے واضح کیا کہ ملیشیا کے نزدیک فلسطینی ریاست کا قیام 1967ء کی حدود کے اندر اور اس کا دارالحکومت مشرقی القدس ہونا، فلسطینی عوام کی مشکلات ختم کرنے اور خطے میں حقیقی امن قائم کرنے کا واحد راستہ ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سات اکتوبر ۲۰۲۳ء سے قابض اسرائیل کی فوج نے امریکی اور یورپی حمایت کے ساتھ غزہ میں منظم نسل کشی کی ہے، جس میں قتل، قحط، تباہی، جبری نقل مکانی اور گرفتاریاں شامل ہیں۔ اس دوران بین الاقوامی برادری کی اپیلیں اور عالمی عدالت کے احکامات کو نظر انداز کیا گیا۔ اس سفاکیت کے نتیجے میں دو لاکھ انتالیس ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے، جن میں اکثریت بچے اور خواتین ہیں، جبکہ گیارہ ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ مزید برآں، ہزاروں افراد بے گھر اور قحط کا شکار ہوئے، جس سے بے شمار جانیں ضائع ہوئیں، جن میں زیادہ تر بچے شامل ہیں۔
مصری مبلغ شیخ محمود شعبان کا جیل میں ناروا سلوک پر بھوک ہڑتال کا اعلان |
مصری مبلغ اور الازہر یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکٹر محمود شعبان نے جیل میں ناروا سلوک کے خلاف احتجاجاً بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ قید تنہائی کے ایک بند سیل کے اندر سے ڈاکٹر محمود شعبان کا ایک تکلیف دہ پیغام باہر پہنچا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ انہیں بھوک ہڑتال کیے ہوئے 14 دن سے زائد ہو چکے ہیں۔ پیغام سے پتہ چلتا ہے کہ شیخ کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور ان کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا جاتا ہے، بشمول:
-
پاک جگہ پر نماز پڑھنے سے روکنا۔
-
سیل میں حفظان صحت کی اشیاء کا مہیا نہ ہونا۔
شیخ محمود شعبان کو 2019ء میں شامی جہاد میں شمولیت کے الزام پر گرفتار کیا گیا تھا اور پندرہ سال سزا سنائی گئی تھی۔ اس سزا سے پہلے حراست میں دوران تفتیش ان پر تشدد کیا گیا ۔ وہ اس سے قبل 2022ء میں بھی جیل حکام کے تشدد اور تذلیل آمیز رویے کے سبب ہڑتال کر چکے ہیں۔ اس وقت اپنے خط میں، شعبان نے اسام الفی نامی افسر کی طرف سے اپنے اور دوسرے قیدیوں کے خلاف روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک کا انکشاف کیا تھا جس میں ایک قیدی سے اس اہلکار کا یہ کہنا بھی شامل ہے: ’’جب تم اپنے خدا سے ملو تو اسے میرا فون نمبر دے دینا۔‘‘
یورپ روس سے جنگ کے لیے تیار نہیں، فرانسیسی تھنک ٹینک کا انتباہ |
فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق نمایاں یورپی تھنک ٹینک فرینچ انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (آئی ایف آر آئی) نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ روس کے ساتھ کسی شدید نوعیت کے تنازع کی صورت میں یورپ کمزوری کا شکار ہو سکتا ہے، اور رپورٹ کے مصنفین نے روس کو ’ایک طویل مدتی خطرہ‘ قرار دیا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورپ کو آئندہ 5 برسوں میں روس کے ساتھ ممکنہ تصادم کی تیاری کے لیے سیاسی عزم اور ہم آہنگ دفاعی معاشی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ آئی ایف آر آئی کے ڈائریکٹر تھامس گومارٹ نے کہا کہ ہماری طاقت اور کمزوریوں کی نشاندہی کرنا ضروری ہے، اور انہوں نے یورپ کی فوجی کمزوریوں کی طرف اشارہ کیا۔ یورپی ممالک کے پاس روس کا مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت موجود ہے، یعنی معاشی وسائل، عسکری استعداد، اور تکنیکی مہارت، لیکن سب سے اہم چیز ہے سیاسی عزم، اور اگر یہ دکھایا جائے تو 2030ء تک روس کا مقابلہ ممکن ہے۔ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے فروری 2022ء میں یوکرین پر مکمل حملہ کیے جانے کے بعد سے یورپی ممالک نے عسکری اخراجات میں اضافہ کیا ہے تاکہ روس کو محدود رکھا جا سکے۔ گزشتہ ماہ فرانس کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف فابیئن مانڈون نے کہا تھا کہ ملک کو آئندہ 3 سے 4 سال میں روس کے ساتھ ممکنہ تصادم کے لیے تیار رہنا چاہیے، کیوں کہ روس ممکنہ طور پر ہمارے براعظم پر جنگ جاری رکھنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اگرچہ یورپ کو فضائی اور بحری میدان میں روس پر برتری حاصل ہے، لیکن بری افواج کے پاس گہرائی اور گولا بارود کے ذخائر کے حوالے سے ’انتہائی تشویش ناک کمی‘ پائی جاتی ہے۔ اس تنازع میں امریکہ بھی یورپی ممالک پر دباؤ ڈالے ہوئے ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم، روس پر مزید پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن یورپ کو بھی اس معاملے میں واشنگٹن کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا ہو گا۔ ٹرمپ نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں کہا ہے کہ ’’یورپ، روس سے تیل خرید رہا ہے اور میں نہیں چاہتا کہ وہ تیل خریدیں۔ اس کے علاوہ جو پابندیاں انہوں نے لگائی ہیں وہ کافی سخت نہیں ہیں۔ میں پابندیاں لگانے کے لیے تیار ہوں لیکن انہیں بھی اپنی پابندیاں اسی سطح پر سخت کرنا ہوں گی جتنی کہ امریکہ کی ہیں۔‘‘
مشرقی ترکستان ترک صحافی کا دورہ اور اس کے مشاہدات
|
ترک صحافی اور مصنف طحہ کِلن نے مشرقی ترکستان میں آٹھ دن کا سفر کیا اور پھر اپنے مشاہدات کو دستاویزی شکل دیتے ہوئے “In Pursuit of the Lost Land ” کے عنوان سے ایک سفری جریدہ شائع کیا۔ طحہ جس نے مسلم دنیا کا مطالعہ کرنے میں کئی سال گزارے ہیں ، نے بتایا کہ ان کا جون کا مشرقی ترکستان کا سفر ’’سب سے مشکل اور سخت مہم‘‘ تھی۔ اس آٹھ روزہ مہم نے طحہ کو پہلی بار اس ’’بند علاقے‘‘ کو دیکھنے کا موقع فراہم کیا جو چینی پابندیوں کی وجہ سے کئی سالوں سے ناقابل رسائی تھا۔ اپنے سفر کے دوران اس نے خطے کے بہت سے قصبوں اور شہروں کا دورہ کیا، جیسے کاشغر، یارکند، ارمچی، ترپن، ہوتن، ارتوش، گلجا۔ وہ چار اہم سوالات کی تحقیق کرنا چاہتا تھا:
-
کیا مساجد کھلی ہیں؟ کیا لوگ مساجد میں نماز پنجگانہ ادا کر سکتے ہیں؟
-
کیا اذان سنی جا سکتی ہے؟
-
آپ سڑکوں پر کیا دیکھتے ہیں (مثال کے طور پر حجاب پہننے والی خواتین، نظر آنے والی مذہبی شناخت)؟
-
روزمرہ کی زندگی میں لوگ کن عملی پابندیوں کا شکار ہیں؟
اس کے مشاہدات:
مساجد اکثر بند رہتی تھیں، یا صرف میوزیم کے طور پر کام کرتی تھیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ وہ کسی مسجد میں پانچوں نمازوں میں شریک نہیں ہوئے۔ ’’ہمیں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں تھی۔ بہت سی مساجد یا تو تباہ ہو چکی ہیں یا عجائب گھروں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ کاشغر کی مشہور عید گاہ مسجد میں نماز ادا کرنا ناممکن ہے، یہ صرف کاغذات میں ہی کھلی ہے۔‘‘ ان کے مشاہدے کے مطابق بہت سی مساجد شراب خانوں، ہوٹلوں اور ریستورانوں میں تبدیل ہو چکی ہیں اور سڑکوں سے ’’اسلامی تشخص‘‘ کے تمام نشانات غائب ہو چکے ہیں۔ اذان (نماز کے لیے) کھلے عام نہیں سنی گئی۔ اس نے جتنے بھی مقامات کا دورہ کیا، ان کا کہنا ہے کہ اس نے کم سیاحتی محلوں اور گلیوں میں بھی ایک بھی عورت کو حجاب پہنے (گلی میں) نہیں دیکھا۔ اس کے علاوہ روایتی مذہبی لباس میں کوئی مرد نظر نہیں آیا۔ اس نے روزمرہ کے بہت سخت کنٹرول کا مشاہدہ کیا۔ مثال کے طور پر، ایک علاقے میں یہ فہرستیں تھیں کہ ایک ایغور ڈرائیور کتنے لیٹر پیٹرول خرید سکتا ہے، یا وہ کتنے کلومیٹر تک گاڑی چلا سکتا ہے۔ کچھ سامان (رسی، خیمہ، دوربین) کو اویغوروں کے لیے ممنوع قرار دیا گیا ہے، کیونکہ انہیں ’’بغاوت کی تیاری‘‘ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ہوتن میں اس نے ایک مسجد کا مشاہدہ کیا جہاں بوڑھے مسلمان مردوں کو انفرادی طور پر چیک کیا جاتا تھا اور فہرستوں سے ان کی شناخت کی جاتی تھی، پھر صحن میں انہیں چین سے وفاداری کا حلف دلایا جاتا تھا۔
اس نے مشاہدہ کیا کہ ترپن کے قریب ایک ’’ری ایجوکیشن‘‘ یا ’’پیشہ ورانہ تعلیم‘‘ کا مرکز نظر آتا ہے جس میں اونچی دیواریں، خار دار تاریں اور گارڈ ٹاورز ہیں، وہ سٹرکچر جنہیں وہ اویغوروں کی بڑے پیمانے پر تعلیم کا حصہ سمجھتے ہیں۔ مشرقی ترکستان میں طحہٰ کے سفری مشاہدات سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین پر ایک بہت مختلف حقیقت ہے جو عوامی طور پر پیش کی جاتی ہے۔ یہ سفری مشاہدات وسیع پیمانے پر مذہبی دباؤ، انضمام کی پالیسیوں، بھاری نگرانی اور اویغوروں پر عائد روزمرہ کی پابندیوں کو واضح کرتے ہیں۔
ڈاکٹر عافیہ کی بہن اور بچوں کو دھمکیاں |
سابق سینیٹر مشتاق نے انکشاف کیا ہے ڈاکٹر عافیہ کےلیے امریکی عدالت میں نظرثانی کی پٹیشن فائل ہوئی ہے جس میں ڈاکٹر عافیہ کے اغوا میں ملوث افراد کے اعترافی بیانات ہیں۔ اس نئی پیش رفت کے بعد ڈاکٹر فوزیہ کو اور ڈاکٹر عافیہ کے بچوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک وفاقی وزیر نے براہ راست دھمکی دی ہے۔ انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ وہ عافیہ موومنٹ تنظیم اور ڈاکٹر عافیہ کے اہل خانہ کی پشت پر کھڑے ہوں اور ان کا ساتھ دیں۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر عافیہ کے وکیل کلائیو سمتھ بھی یہ بتا چکے ہیں کہ ڈاکٹر عافیہ کے اہل خانہ کو مسلسل دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں اور انہیں ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی جدوجہد ترک کرنے کا کہا جاتا رہا ہے۔ ڈاکٹر فوزیہ نے حالیہ دنوں میں ایک بیان میں یہ انکشاف بھی کیا کہ انہیں ڈرانے کے لیے خفیہ ادارے ان کے گھر کے سامنے لاشیں پھینکتے رہے۔ ایک اور بیان میں سابق سینیٹر مشتاق نے یہ بھی بتایا کہ شہباز حکومت ڈاکٹر عافیہ صدیقی رہائی کیس میں تاخیری ہتھکنڈوں کے ذریعے مسلسل رکاوٹیں ڈال رہی ہیں، دو، تین سطری دستاویز (Amicus Brief) جس میں حکومت پاکستان امریکی عدالت میں ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی سفارش کرے جمع کرنے سے انکاری ہے۔ حکومت نے امائیکس بریف جمع کرنے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 4 رکنی بنچ سے 3 دسمبر تک مہلت مانگی تھی۔
آئی ایم ایف کی پاکستان کی سیاسی و معاشی اشرافیہ کی کرپشن پر رپورٹ |
عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ پاکستان میں سیاسی اور معاشی اشرافیہ سرکاری پالیسوں پر قبضہ کر کے معاشی ترقی میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔ اس رپورٹ کا دائرہ صرف وفاقی سطح کی کرپشن اور گورننس تک محدود ہے۔ رپورٹ میں اہم سرکاری اداروں کو حکومتی ٹھیکوں میں خصوصی مراعات ختم کرنے، ایس آئی ایف سی کے فیصلوں میں شفافیت بڑھانے اور حکومت کے مالیاتی اختیارات پر سخت پارلیمانی نگرانی کی سفارش کی گئی ہے جب کہ اینٹی کرپشن اداروں میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف نے ایس آئی ایف سی کے اختیارات، استثنا اور شفافیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے ایس آئی ایف سی کی جانب سے سالانہ رپورٹ فوری جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ رپورٹ میں تمام سرکاری خریداری بھی 12 ماہ میں ای گورننس سسٹم پر لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پالیسی سازی اور عمل درآمد میں زیادہ شفافیت اور جواب دہی ضروری ہے۔
آئی ایم ایف کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سیاسی اور معاشی اشرافیہ سرکاری پالیسوں پر قبضہ کر کے معاشی ترقی میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں، اشرافیہ اپنی جیبیں بھرنے کے لیے معاشی ترقی میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔ ٹیکس سسٹم پیچیدہ، کمزور انتظام اور نگرانی بدعنوانی کا باعث ہے، عدالتی نظام کی پیچیدگی اور تاخیر معاشی سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب میں کمی بدعنوانی کے خطرات کی علامت ہے جب کہ بجٹ اور اخراجات میں بڑے فرق سے حکومتی مالیاتی شفافیت پر سوالات ہیں۔ گورننس اور کرپشن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اینٹی کرپشن پالیسیوں میں تسلسل کی کمی اور غیر جانبداری سے اداروں پر عوام کا اعتماد ختم ہو رہا ہے، پاکستانیوں کو سروسز کے حصولی کی خاطر مسلسل ادائیگیاں کرنا پڑتی ہے، حکومتی اور بیوروکریسی کے زیر اثر اضلاع کو زیادہ ترقیاتی فنڈ ملے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سرکاری عہدوں پر فائز شوگر ملز مالکان نے مسابقت کی قیمت پر اپنے کام کو منافع بخش رکھا، شوگر ملز مالکان اپنے فائدے کے لیے برآمدات اور قیمتوں کے تعین کی پالیسیوں پر اثر انداز ہوئے، وافر ذخیرہ ہونے کے باوجود شوگر ملز مالکان نے مصنوعی قلت پیدا کرنے اور قیمتوں میں ہیرا پھیری کے لیے ملی بھگت کی۔
آئی ایم ایف رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کی2019ءمیں چینی برآمد کی اجازت ظاہر کرتی ہے اشرافیہ اپنے مفاد کے لیے پالیسیوں پر قابض ہیں، چینی کی تحقیقاتی رپورٹ میں سیاسی ہیوی ویٹ کو مجرم قرار دیا گیا ہے اور تحقیقاتی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ برآمدی دباؤ سے چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
عدالتی نظام میں پرانے قوانین، ججوں، عدالتی عملے کی دیانتداری کے مسائل ہیں جس کے باعث قابل اعتماد طریقے سے معاہدوں کو نافذ کرنے یا جائیداد کے حقوق کا تحفظ کرنے کے قابل نہیں ہے۔ کرپشن کو پاکستان میں عدالتی کارکردگی کو متاثر کرنے اور قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچانے والے اہم عنصر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
نیشنل کرپشن سروے میں عدلیہ کو پولیس اور پبلک پروکیورمنٹ کے ساتھ سب سے زیادہ کرپٹ شعبوں میں سے ایک کے طور پر دکھایا گیا۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف اس رپورٹ میں نہ صرف عسکری اشرافیہ کے کردار کو نظر انداز کرتی ہے بلکہ وہی بیانیہ سپورٹ کرتی ہے جو فوجی جرنیل 78 سالوں سے پیش کرتے آ رہے ہیں کہ پاکستان کا اصل مسئلہ سیاسی اشرافیہ کی بیڈ گورننس اور کرپشن ہے۔ حالانکہ اس حقیقت سے اب سبھی واقف ہیں کہ چاہے بیورو کریسی ہو یا پارلیمان ، پاکستان کی فوج ہی ہے جو طے کر رہی ہے کہ کون کس جگہ پر ہو گا اور کتنا اختیار اسے حاصل ہو گا ؟ نیب کس کی کرپشن نظر انداز کرے گا اور کس کے لیے ایک معینہ مدت تک کے لیے کھلی چھوٹ ہے۔ اور اس سارے کھیل تماشے کو مینج کرنے والی عسکری اشرافیہ اور ان کے ادارے کیا کر رہے ہیں اسے آئی ایم ایف کی جانب سے نظر انداز کیا جانا یہ واضح کرتا ہے کہ آئی ایم ایف اور امریکہ اس کھیل میں شریک ہیں۔
٭٭٭٭٭
