سیٹلر کولونیل ازم (Settler Colonialism) یا آبادکار سامراجیت کا تجربہ تب تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک آپ مقبوضہ علاقے کے اصل باشندوں کو صفحۂ ہستی سے نہ مٹا دیں یا جلاوطن نہ کر دیں ، یا مکمل غلام نہ بنا لیں یا پھر اسی سرزمین کے کسی ایک کونے میں نہ دھکیل دیں۔
شمالی امریکہ میں نیٹیو امریکنز (Native Americans) یا ریڈ انڈینز (Red Indians) کے ساتھ یہی ہوا۔ پانچ سو برس پہلے تک جو اپنے براعظم کے مالک تھے ، یورپ سے آنے والوں کے قانونی و اقتصادی و سماجی رحم و کرم پر مختص کردہ چھوٹے چھوٹے خطوں میں محدود کر دیے گئے ہیں۔ ان انسانی باڑوں کے اندر وہ ’’ خود مختار ‘‘ ہیں۔ اسی ماڈل کو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں لگ بھگ تین سو برس پہلے پہنچنے والے نووارد گوروں نے مقامی ایبرجنیز کمیونٹیز (Aborigines Communities) پر کامیابی سے لاگو کیا۔
جمہوریت کے امام اور حقوقِ انسانی کے چیمپئن امریکہ نے اپنا سامراجی آبادکار ماڈل محض نیٹیو امریکنز (Native Americans) تک ہی محدود نہیں رکھا۔ ۱۹۶۰ء کی دہائی میں اسے جنوبی ویتنام میں استعمال کیا گیا جب پوری دیہی آبادی کو کھدیڑ کر خار دار تاروں سے گھرے نئے دیہاتوں میں بسایا گیا جن کی پہرے داری امریکی اور کٹھ پتلی جنوبی ویتنامی فوجی کرتے تھے۔’’ سٹرٹیجک ہمیلٹس ‘‘(Strategic Hamlets) نامی اس جبری اسکیم کا مقصد یہ تھا کہ عام آبادی کو حریت پسند ویت کانگ گوریلوں سے الگ کر کے چھاپہ ماروں کی مزاحمتی کمر توڑی جا سکے۔
ایسی ہی اسکیم جدید سامراجیت کے گاڈ فادر برطانیہ نے ملائشیا ( ملایا ) میں نام نہاد کمیونسٹ شورش دبانے کے لیے ’’ نیو ولیجز ‘‘ (New Villages) کے نام سے 1950ء کے عشرے میں لاگو کی۔ ۱۹۷۰ء کی دہائی میں اسی برطانیہ نے یہ فارمولا سیاہ فام بغاوت کچلنے کے لیے رہوڈیشیا (Rhodesia) موجودہ زمبابوے میں ’’ پروٹیکٹڈ ولیجز ‘‘ (Protected Villages) کے نام سے آزمایا۔
۱۹۴۰ء کے عشرے میں صوبۂ سندھ کی برطانوی انتظامیہ نے سوریا بادشاہ ( پیر پگاڑا ) کے حروں کی بغاوت کچلنے کے لیے ان کے علاقوں میں نہ صرف مارشل لا لگایا بلکہ ہزاروں حر خاندانوں کو جبری کیمپوں میں شفٹ کر دیا۔ یہ کیمپ پاکستان بننے کے بعد بھی کئی برس قائم رہے۔
جنوبی افریقہ کے گورے نسل پرستوں نے سیاہ فام اکثریت کے لیے بنتوستان (Bantustan) کے نام سے کچھ علاقے مختص کر کے جغرافیائی پنجرے بنائے اور یہ کہانی گھڑی کہ ان مخصوص علاقوں کی آبادی اندرونی طور پر خود مختار ہے مگر ملک کا مجموعی انتظام مرکزی حکومت ( گوری حکومت ) چلائے گی۔ ان تمام منصوبوں کا ایک ہی مقصد تھا کہ مقامی آبادی پر مسلسل نظر رکھی جائے ، انہیں سر جھکا کے رہنے کی شرط پر جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے امداد دی جائے اور سر سے بغاوت کا خبط نکال دیا جائے۔
یہی ماڈل تھوڑی بہت سفارتی لیپا پوتی کے ساتھ غزہ پر بھی منطبق کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ پہلے تو ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا کہ غزہ فلسطینوں سے خالی ہو جائے تاکہ ٹرمپ کے خوابوں کے مطابق ساحلی پٹی کو ایک پرتعیش تفریح گاہ اور کمرشل پراپرٹی میں بدلا جا سکے اور خالی زمین نئی یہودی بستیوں سے پر ہو سکے۔ چند مغربی اور عرب ممالک نے اس تصور کی مخالفت کی تو بظاہر غزہ خالی کرانے کی تجویز کو ایک جانب رکھ دیا گیا۔
کچھ عرصے بعد میڈیا میں یہ غبارہ چھوڑا گیا کہ اسرائیل جنوبی سوڈان سمیت کئی ممالک سے بات چیت کر رہا ہے کہ بھاری امداد کے عوض وہ غزہ کے فلسطینیوں کو اپنے ہاں بسانے پر آمادہ ہو جائیں۔ اس دوران اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ جنوبی غزہ کے شہر رفاہ کے ملبے پر اسرائیل ایک ہیومینٹیرین سٹی (کنسنٹریشن کیمپ ) تعمیر کر رہا ہے جس میں تشدد سے بیزار لاکھوں فلسطینی پرامن طور پر رہ سکیں گے اور اس سٹی کا کنٹرول اسرائیلی فوج کے پاس ہو گا۔ مگر اس منصوبے کے بارے میں بھی خبریں چند دن میں دم توڑ گئیں۔
مگر اب غزہ کو تقسیم کرنے کا خواب ٹرمپ کے بیس نکاتی امن منصوبے میں سلیقے سے چھپا کے اس پر اقوامِ متحدہ کا ٹھپہ لگوا لیا گیا ہے۔ ٹرمپ منصوبے کے نفاذ سے پہلے ہی اسرائیل کو غزہ کے تریپن فیصد حصے پر براہ راست فوجی قبضے کا موقع دیا گیا۔ اس حصے کو گرین ایریا کا نام دیا گیا۔ بقیہ سینتالیس فیصد حصے کو ریڈ زون کا نام دیا گیا۔ دونوں حصوں کو اسرائیل کی ایجاد کردہ نام نہاد خیالی زرد لائن (Yellow Line) تقسیم کرتی ہے۔ اس کے قریب پھٹکنے کا انجام موت ہے۔
جنگ بندی کے باوجود بہانے بہانے سے بمباری جاری ہے اور اسرائیل نے غزہ میں مادی اور غذائی امداد کی ترسیل بھی روک رکھی ہے۔ غزہ کی تعمیرِ نو کا ٹرمپ منصوبے میں ذکر تو ہے مگر یہ تعمیرِ نو کیسے ہو گی، اسے کنٹرول کون کرے گا ، اس کا بجٹ کون دے گا اور تعمیرِ نو کتنے عرصے میں مکمل ہو گی، اس بارے میں اب تک ایک مبہم خاموشی ہے۔ امن سمجھوتے کے تحت حماس کو غیر مسلح ہونا ہے اور غزہ کے انتظام سے مکمل لاتعلق ہو جانا ہے۔ مگر اسرائیل کو کھلی چھوٹ ہے کہ وہ حماس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھ سکتا ہے۔
واشنگٹن کے کاریڈورز میں اب یہ بات کھل کے ہو رہی ہے کہ اسرائیل کے زیرِ قبضہ ترپّن فیصد غزہ ( گرین ایریا ) میں ابتدائی طور پر دس کنٹینر بستیاں بنائی جائیں گی۔ ان میں وہ خاندان مکمل چھان پھٹک کے بعد بسائے جائیں گے جو اس وقت زرد لائن کے دوسری جانب ریڈ زون میں کسمپرسی کے عالم میں رہ رہے ہیں۔ ان خاندانوں کو بنیادی سہولتیں بھی فراہم کی جائیں گی مگر وہ پھر گرین زون سے ریڈ زون نہیں جا پائیں گے۔ اس ترغیب کے جال میں جو فلسطینی نہیں پھنستے اور بدستور ریڈ زون میں رہنا چاہتے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ سمجھا جائے گا کہ حماس کے حامی ہیں۔ یوں ان کی اقتصادی و جسمانی نسل کشی اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کے نزدیک جائز رہے گی۔
اسرائیل نے مصر اور غزہ کی سرحد پر رفاہ کراسنگ بھی اس شرط پر کھولنے کا عندیہ دیا ہے کہ جو باہر جائے گا وہ لوٹ کر نہیں آئے گا۔
اس کا آسان مطلب یہ ہے کہ غزہ کی موجودہ تقسیم عبوری نہیں اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ اسرائیلی فوج کب تک پوری غزہ پٹی خالی کرے گی، اور کیا مجوزہ بین الاقوامی امن دستے غزہ کو تقسیم کرنے والی نام نہاد زرد لائن برقرار رکھیں گے یا پوری پٹی کی چوکیداری ان کے سپرد کی ہو گی تاکہ غزہ کے ہر شہری تک امداد پہنچ سکے۔
یہ ابہام لمبے عرصے تک برقرار رکھنے کی کوشش ہو رہی ہے تاکہ اسرائیل اس دوران غزہ کے کم از کم تریپن فیصد علاقے پر اپنا تسلط مستحکم کر لے۔ یوں زیادہ تر بین الاقوامی امداد کا رخ اسی زیرِ قبضہ علاقے کی جانب رکھا جائے تاکہ اس علاقے کو ایک پرامن زندگی کے سرابی جال میں فلسطینیوں کو اپنی ہی زمین پر مکمل کنٹرول میں رکھا جا سکے۔
[یہ مضمون ایک معاصر روزنامے میں شائع ہو چکا ہے۔ مستعار مضامین، مجلے کی ادارتی پالیسی کے مطابق شائع کیے جاتے ہیں۔ (ادارہ)]
٭٭٭٭٭
