ابو عبیدہ: مسکن مرا آسماں ہو گیا!

ابو عبیدہ وہ نام ہے کہ جسے لیتے ہی صبر، ثبات، استقلال، جذبات اور عزم و ہمت جیسے الفاظ ذہن میں آتے ہیں، ناصرف اس شخصیت کے لیے بلکہ اس کی اس قوم اور اس تحریک کے لیے کہ جس کی ترجمانی نے اسے دنیا بھر کے اہل ایمان و اہل جہاد کے جذبات اور احساسات کا ترجمان بنا دیا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس واپس چلے گئے ، جہاں ہر ذی روح نے جانا ہے البتہ انہیں اللہ نے اس واپسی سے نوازا جو موت نہیں بلکہ دائمی زندگی کی نوید ہے۔ اس دنیا میں جس جس کا وقت پورا ہوتا جاتا ہے وہ واپس روانہ ہو جاتا ہے مگر بعض افراد اس شان سے جاتے ہیں کہ دنیا سے ان کا جانا ان کے اخلاص، ان کی لگن ، ان تھک محنت اور ان کے رستے کے حق ہو جانے کی گواہی بن جاتا ہے۔

ہم بنیادی طور پر انہیں ایک شخص کی حیثیت سے نہیں، ایک چہرے کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کی آواز کی حیثیت سے جانتے ہیں کہ جس سے فولادی عزم جھلکتا ہے، جو بدترین حالات میں بھی صبر و حکمت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا، جس کے بیانات عمل سے خالی بڑھکوں اور دھمکیوں پر مبنی نہیں بلکہ ولولے ، عزم اور استقامت پر مبنی ہوتے ہیں۔ جو اپنے مقصد کو، فلسطین کی آزادی کو، اسلامی تاریخ سے جوڑتے ہیں، جو صلاح الدین ایوبی کی جدوجہد سے ان تھک محنت کا ولولہ حاصل کرتے ہیں۔ جو قبلہ اوّل کو کفار کے ہاتھوں سے چھڑانا اپنا فرض گردانتے ہیں اور جن کی تحریک مفروضوں پر نہیں بلکہ اسلامی تاریخ کے مضبوط ستونوں پر قائم ہے۔ کون نہیں جانتا کہ اہل غزہ کو امت نے کس کس طرح مایوس کیا مگر جہاں ابو عبیدہ کے بیانات امت کو اس کی کوتاہی کا احساس دلاتے، وہیں ان کا عزم و ہمت یہ ظاہر کرتا کہ وہ امت کی مدد و نصرت کے محتاج نہیں ہیں، بلکہ امت ان کی مدد و معاونت کی محتاج ہے تاکہ وہ عند اللہ عذر پیش کر سکے۔ نیز اہل غزہ انسان ہونے کے ناتے مسلمانانِ عالم سے مدد، نصرت اور حمایت کی توقع رکھتے ہیں مگر اس کے بغیر بھی، ہمہ نوع آزمائشوں تلے، ان کے حوصلے ماند نہیں پڑے۔ آج اس وقت یہ سطریں لکھتے ہوئے، انگلیوں کی پوریں سردی سے جمی ہوئی محسوس ہو رہی ہیں، باوجودیکہ راقم ایک گھر کے ایک کمرے کے اندر موجود ہے، ایسے میں قریباً کھلے آسمان تلے (نائلون کے خستہ حال ، مہین خیموں کا ان بارشوں، آندھیوں اور سردی میں ہونا اور نہ ہونا ایک برابر ہی ہے) دن رات گزارنا ، جبکہ نہ پیٹ بھرنے کو خاطر خواہ سامان موجود ہو اور نہ ہی گرمائش کا کوئی انتظام، وہ خیمہ کہ جو ان کی واحد پناہ گاہ ہے وہ پانی سے بھرا ہوا ہے، ان کے لباس اور کمبل گیلے ہیں اور اس پر مستزاد پے درپے بمباریوں، گرفتاریوں ، بیماریوں، شہادتوں اور غیر یقینی مستقبل جیسے دہلا دینے والے حوادث کا سامنا دو سال سے زائد عرصے سے کرنے والے اہل غزہ کی استقامت منہ پر اور اعصاب پر ایک طمانچے کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ پس فلسطینی قوم نے اس جارحیت تلے اپنے ہر عمل سے یہ واضح کر دکھایا ہے کہ وہ ویسا ہی عزم و ہمت اور حوصلہ رکھتے ہیں کہ جیسا ابو عبیدہ اپنے بیانات میں بیان کرتے ہیں اور جس کی توفیق اللہ رب العزت کی ذات اور صفات پر پختہ ایمان کے بغیر نہیں مل سکتی۔

جولائی کے مہینے میں آنے والا ابو عبیدہ کا آخری مفصل بیان اہل ایمان کے رونگٹے کھڑے کرنے اور انہیں اللہ رب العزت کے سامنے جوابدہی کے خوف سے کپکپانے پر مجبور کر گیا۔ ان کے الفاظ برچھیوں کی طرح اہل ایمان کے دل میں کھب گئے اور پھر ان کی شہادت نے گویا اہل ایمان کو گنگ کر دیا۔ جانے والے اپنی جان سے چلے گئے، اپنے خون کا آخری قطرہ تک وار گئے مگر امت جہاں تھی وہیں کھڑی ہے، بلا جنبش!

انہیں چاہنے ، سراہنے اور زبان سے ان کی تائید کرنے والوں کو اپنے گریبان میں جھانک کر ضرور دیکھنا چاہیے کہ ابوعبیدہ کی سحر انگیز شخصیت کے سحر نے ان کے طرز زندگی کو کس قدر تبدیل کیا اور ان کے جوش و ولولے نے ان کے سرد جذبات کو کس حد تک گرمایا اور ان کے پیہم عمل نے ان کے منجمد ارادوں کو کس درجے میں عمل میں ڈھالا؟ وہ گریبان کہ جو قیامت کے دن ابوعبیدہ اور اہل غزہ کے ہاتھ میں ہوں گے اور وہ اللہ کے سامنے فریاد کریں گے کہ ہم نے انہیں پکارا، یہ ہماری مدد و نصرت پر قادر تھے، یہ جس قدر بھی استطاعت رکھتے تھے کیا انہوں نے اس کے مطابق ہماری مدد کی؟ ان کے سامنے ہمارے بچے کٹتے رہے، مرتے رہے، ان کے سامنے ہمارے جوان قید ہو ہو کر بدترین تشدد سہتے رہے، ان کے سامنے ہمارا ایک ایک گھر مسمار ہو گیا، ان کے سامنے ہزاروں جنازے اٹھے، ان کے سامنے ہمارے اہل غزہ بھوک سے تڑپے، پیاس سے سسکے، علاج کے لیے ترسے، مگر ان کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ انہوں نے فقط اپنی انگلیوں کی خفیف سی حرکت سے سوشل میڈیا پر ہمارا پیغا م دیکھا اور اس کو ری پوسٹ کر کے سمجھا کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ پس آج اے اللہ! ان سے ہمارا بدلہ لیجیے ، آج ان سے جوابدہی کیجیے اور آج ہمیں ہمارا حق دلائیے!

اور پھر بعض بدنصیب وہ بھی رہے کہ جنہوں نے اپنے آپ کو مسلم کہتے ہوئے بھی ابو عبیدہ اور ان کی تحریک کی مخالفت کی۔ ان کا مضحکہ اڑایا اور کہا کہ چہرے چھپا کر لڑنا کہاں کی سنت ہے، ہمت ہے تو چہرہ کھول کر میدان میں آؤ۔ ان کہنے والوں کو یہ نہیں معلوم کہ یہ چہرے چھپانا بزدلی کی علامت نہیں بلکہ اپنی شناخت چھپانا اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے احکام کے مطابق ہے کہ دشمن سے اپنی حفاظت کی جائے اور ان کے سامنے خود کو ترنوالہ بنا کر پیش نہ کیا جائے۔ نیز چہرہ چھپا کر اپنے مقصد کی طرف توجہ دلانا یہ واضح کرتا ہے کہ کہنے والے کو اپنی ذات سے بڑھ کر اپنے مقصد سے عشق ہے۔

وہ اپنی ذات کو نمایا ں کرنے کی بجائے اپنے مقصد کو واضح کرنا چاہتا ہے اور اسے اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ اس سے محبت کرنے والے اس کی شناخت تک سے واقف نہیں ہیں۔

اس مضمون کا مقصد ابو عبیدہ کو خراج تحسین پیش کرنا نہیں کہ نہ انہیں اپنی اِس زندگی میں واہ واہ کی ضرورت و چاہت تھی اور نہ آئندہ ہو گی۔ ان کی قدر اس نے کی (ان شاء اللہ) جو حقیقی قدردان ہے۔ بلکہ ان سطور کا مقصد تو یہ ہے کہ جس مقصد کے لیے وارنے والوں نے ، کہ جو اپنے الفاظ و عمل میں سچے تھے، اپنی جانیں وار دیں، ہم آج اس مقصد کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور جو جہاں ہے وہ وہاں رہتے ہوئے ہی کم از کم اپنا فرض ادا کرے۔ جب تک عملی جہاد کی راہ نہیں مل پاتی (جسے پانا ڈھونڈنے والوں کے لیے کب مشکل ہے!) تب تک کم از کم خود کو اسلامی تاریخ سے جوڑیے، اسلامی تاریخ کے اسباق یاد کیجیے اور دہرائیے تاکہ وہ ہمت و حوصلہ عطا کریں۔ اس علم کو آگے پھیلائیے، اپنے بچوں اور اپنے متعلقین کے اندر اپنی اسلامی شناخت پر فخر پیدا کیجیے اور انہیں اس فانی دنیا کے مقابلے میں دائمی راحتوں کی چاہ رکھنا سکھایئے۔ یہ بنیادی اینٹ ہی دراصل دلوں کو تبدیل کرے گی اور جب دل تبدیل ہو جائیں گے تو عمل بھی اس کے مطابق ہی ہو گا۔

چند مصرعے ابو عبیدہؒ کی نذر:

میں نے اسلاف کی ہر نشانی کے مٹنے کے اس دور میں
اجنبیت کے پرچم کو اونچا کیا
میں نے حق و صداقت کے روشن دیے
خونِ دل سے بھرے
میرے کردار کا
میرے اخلاص کا
ایک اک نقشِ پا
صدقۂ جاریہ___

٭٭٭٭٭

Exit mobile version