سالِ گزشتہ ماہ اگست کی تیس تاریخ تھی، آفتاب کی مدھم مدھم سی کرنیں در و بام پر پڑتی جا رہی تھیں، تمازت قہر سامانی پر اتر آئی تھی، دن چڑھے یہ جانکاہ خبر گردش کرنے لگی کہ ترجمان القسام، مزاحمت کی پہچان، لاکھوں کروڑوں دلوں کی جان ابو عبیدہ،(حذیفہ سمیر الکحلوت) ایک فضائی حملے میں جام شہادت نوش فرما چکے ہیں، لیکن اس روح فرسا خبر کی تصدیق ابھی باقی تھی۔ جسے ہم ایک عرصے سے دل کا مکین بنائے ہوئے تھے، ان کا فراق و فرقت یقیناً زیاں تھا، حلقۂ دل میں ایک عجیب کشمکش تھی۔ تصدیق نہ ہو سکی، چار و ناچار دلِ سوزاں کے سوز و گداز کو فصلِ بہار میں بے مہار چھوڑ دیا۔ زخم دروں بڑھتا ہی گیا، اور محبت و عقیدت کی مدھم لے مضراب ساز کو جھنجھوڑتی گئی۔ عشق و عقیدت کا ایک طوفان موجزن تھا، جس اندیشے نے امروز و فردا کو بے رنگ کر دیا تھا، وہ اندیشہ حقیقت کا لبادہ اوڑھ چکا تھا، یہ حادثہ گزر چکا تھا، لیکن عشاق کو کہاں اس مرگ نا گہاں کا یقین! دل کو بہلاتے گئے، سمجھاتے گئے، یہ یقین دہانی کرواتے گئے کہ وہ زخمی ہیں، پھر شیر اپنی کچھار سے نکلے گا، اور اپنی گرج دار آواز میں کہے گا :
سلامٌ عليكم بما صبرتم ورابطتم وثبتّم في وجه الطغيان
سلامٌ على أرواح شهدائنا و أطفالنا الأبرياء وأهلنا المظلومين،
سلامٌ على أرواحكم التي ستحلق يومًا بسماء قدسنا وأقصانا المحرر المطهر من دنس قاتليكم.
انتظار کی گھڑیاں طویل ہوتی گئیں، وقت کی سوئیاں گزرتی گئیں، لیکن شش و پنج کے پردے چاک نہ ہوئے، جب کوئی خبر نہ آئی تو ہم نے یہ کہہ کر زخم دل سی لیا:
آنکھوں میں انتظار کی شمعیں جلا کے رکھ
اے دل وہ آج آئے گا تو گھر سجا کے رکھ
لیکن بناوٹ کے اصولوں سے حقیقت چھپا نہیں کرتی، کاغذ کے پھولوں سے خوشبو نہیں آیا کرتی۔ بالآخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں، انتیس دسمبر کو شہادت کی تصدیق کر دی گئی، کئی آنکھیں نم ہوئیں، کئی سینے فراق سے زخمی ہوئے، یہ ستارہ جہاد فی سبیل اللہ کا استعارہ سو اسے جگمگانا تھا جگمگا گیا، اسے بامِ عروج تک پہنچنا تھا سو وہ پہنچ گیا۔
ترجمان القسام ابو عبیدہ ہفتہ کی شام، 30 اگست 2025ء کو اپنے فلیٹ پر موجود تھے، ہنگامۂ شب و روز حسب معمول جاری تھا کہ اقصیٰ کے ایک غدار جاسوس کی اطلاع پر اسرائیلی خفیہ ادارے شاباک نے کارروائی کرتے ہوئے چودہ مرتبہ کی ناکام کوششوں کے بعد اس بار ایک رہائشی عمارت کو مکمل طور پر نشانہ بنایا۔ انہدام کے لیے شدید آتش گیر بم استعمال ہوئے اور محض ایک شخص کی جستجو میں پوری عمارت تباہ کردی گئی۔
اے یہودیو! تمہیں معصوم بچوں کا بھی خیال نہ آیا؟ تمہارے دل بھیڑیوں کے دل ہیں، تم نے ظلم کو بھی شرمسار کر رکھا ہے۔ اس حملے میں ابو عبیدہ، ان کی اہلیہ، ان کے تین معصوم بچے اور خاندان کے متعدد افراد واصل بحق ہو گئے۔
جس دن سے جدا وہ ہم سے ہوئے، اس دل نے دھڑکنا چھوڑ دیا
ہے چاند کا منہ اترا اترا، تاروں نے چمکنا چھوڑ دیا
وہ پاس ہمارے رہتے تھے، بے رت بھی بہار آ جاتی تھی
اب لاکھ بہاریں آئیں بھی تو کیا، پھولوں نے مہکنا چھوڑ دیا
ابو عُبیدہ فلسطین کے تاریخی شہر عسقلان سے تعلق رکھنے والے ایک مہاجر خاندان میں پیدا ہوئےن 1948ء کے نکبہ کے بعد ان کا خاندان ہجرت پر مجبور ہوا، اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جبالیہ مہاجر کیمپ میں آ بسا، بعد ازاں زمانے کی گردش نے ابو عبیدہ کے والدین کو روزگار کے لیے سعودی عرب پہنچا دیا، وہیں پر 11 فروری 1984ء کو حذیفہ نامی ایک مردِ مومن مردِ حق کی پیدائش ہوئی، کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ نوخیز کل ایوانِ کفر پر بجلیاں گرائے گا، جس کی تقریروں کی گونج دشمنوں کے دل دہلا دے گی، جس کی دھاڑ دجالوں کی ناک میں دم کر دے گی، ابھی عہد طفولیت تھا، ابتدائی تعلیم کے لیے سر زمین عرب کو منتخب کیا، لیکن وطن کی یادوں نے رہنے نہ دیا، ہواؤں نے پیام وصال بھیجے، ارضِ مقدس کی کشش نے پھر اپنی طرف کھینچ لیا۔ بالآخر والدین اپنے ہونہار فرزند کو لے کر واپس لوٹ آئے۔ مہاجر کیمپوں کے حالات، شب و روز منڈلاتے مصائب، غاصبین کی زیادتی نے حذیفہ کے ذہن و خیال پر ایک عجیب نقش چھوڑا، حالات نے انہیں کندن بنا دیا، دین کی فضائیں اور صالحانہ ماحول نے حذیفہ کی زندگی میں رنگ بھرے، ایمان کی بادِ بہاری نے تن و من کو سنوارا، بڑوں سے آداب خود آگاہی سیکھے، کہنہ سال افراد سے اسرار شہنشاہی جانے، غصب ہوتی زمینوں، خیموں کی قطاروں اور نیم تاریک گلیوں سے حق گوئی و بیباکی کا سبق لیا، صبر و استقامت، ہمت و عزیمت نے جواں مردی کا درس دیا، بالپن سے ہی کاسہ لیسی، چاپلوسی، روباہی اور بزدلی سے نفرت ہو گئی، قرآن و سنت کے ماحول میں والدین کی تربیت نے انہیں مرد آہن بنا دیا، صعوبتوں سے گھری فضا مزاحمتی اور فکری سوچ کی تشکیل کا سبب بنی۔
کانٹوں میں جو کھلتا ہے شعلوں میں جو پلتا ہے
وہ پھول ہی گلشن کی تاریخ بدلتا ہے
آپ نے جامعہ اسلامیہ غزہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی، 2013ء میں ماسٹرز مکمل کیا، اور تحقیقی مقالہ بھی لکھا جو بعد میں 650 صفحات میں کتاب کی صورت میں شائع ہوا۔ پی ایچ ڈی کا آغاز کیا مگر عملی طور پر مزاحمت میں مصروفیت کے باعث مکمل نہ ہو سکا، ابو عبیدہ صرف ایک مجاہد ہی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ طالب علم، محقق اور صاحبِ نظر شخص تھے۔ انہوں نے 2002ء میں کتائب القسام میں شمولیت اختیار کی، اپنی فصاحت و ذہانت اور فکری گہرائی کی بنا پر جلد ہی میڈیا و اطلاعات کے شعبے میں نمایاں مقام حاصل کر لیا اور ابو عُبیدہ ان کا عرفی نام بن کر جگمگانے لگا۔
ابو عبیدہ، کتائبِ شہید عزالدین القسام، جو تحریکِ مزاحمتِ اسلامی (حماس) کا عسکری بازو ہے، کے سرکاری میڈیا ترجمان تھے، وہ براہِ راست کتائب القسام کے عسکری میڈیا شعبے کی نگرانی کرتے تھے اور فصاحتِ لسان، قوتِ بیان اور فنِ خطابت میں امتیازی مقام رکھتے تھے۔ وہ صہیونی ریاست کی جانب سے تیار کی گئی اغتیالی فہرستوں میں مطلوب افراد میں شامل تھے، کیونکہ انہیں نفسیاتی جنگ اور میڈیا وار کی مرکزی شہ رگ سمجھا جاتا تھا جو حماس کو دشمن کے خلاف برسرِ پیکار رکھتی تھی۔ ابو عبیدہ کا یہ نام صحابیِ رسول ﷺ، فاتحِ القدس حضرت سیدنا ابو عبیدہ عامر بن الجراح کی نسبت سے رکھا گیا تھا، جو خلیفۂ ثانی حضرت عمر بن خطاب کے عہد میں بیت المقدس کے فاتح تھے۔ انہیں کئی القابات سے یاد کیا جاتا ہے، جن میں سب سے معروف ’’الملثم‘‘ (نقاب پوش) ہے۔ وہ ہمیشہ پس پردہ رہے، اگرچہ بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا اور ان کے نقاب کو خواتین کے نقاب سے تشبیہ دینے کی کوشش کی، مگر اس سے حقیقت میں کوئی فرق نہ آیا، کیونکہ ابو عبیدہ کا اثر و رسوخ اور ان کی محبوبیت و مقبولیت اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ ان کا نام ہر خورد و کلاں، خاص و عام کی زبان زد تھا، یہاں تک کہ ان جیسا بننا بہتوں کا خواب بن گیا۔
ہمارے نزدیک نقاب پہننا کسی خوف یا کمزوری کی علامت نہیں، اگر ایسا ہوتا تو ہم دیکھتے کہ تمام عسکری اور مزاحمتی قائدین بھی اپنے چہرے چھپاتے، لیکن حقیقت اس سے کہیں آگے ہے۔ ابو عبیدہ محض ایک شخص نہیں تھے بلکہ ایک فکر، ایک راستے اور ایک مقصد کا نام ہے۔ وہ ایک جائز مزاحمت کے فکری نمائندے تھے، اور یہ مزاحمت ہر فلسطینی کا وہ حق ہے جو اس وقت تک باقی رہے گا جب تک قابض فلسطینی سر زمین پر اپنی درندگی، غرور اور ظلم مسلط رکھے گا۔
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
ابتدا میں سیاہ نقاب اور بعد میں سرخ دھاریوں والا کفیہ ان کی شناخت بنا، اسلامی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو دجانہؓ پر بھی یہ نقاب نظر آتا تھا،اسی وجہ سے انہیں ذو المندیل الأحمر (سرخ رومال والے) کہا جاتا تھا، اور یہی وہ وصف تھا جو انہیں رسولِ اکرم ﷺ کی خاص محبت کا مستحق بناتا تھا۔ ابو عبیدہ نے بھی سرخ رنگ کا وشاح اختیار کیا، جو ان کی شناخت بن گیا۔ انہوں نے ایک طرف صہیونیوں کے دلوں میں خوف و دہشت بٹھا دی، تو دوسری طرف پوری امت کو سکون و اطمینان اور خوشی عطا کی، یہ سرخ وشاح کسی اتفاق یا لمحاتی انتخاب کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی فکر اور راہِ حق میں جاری جدوجہد کی علامت تھا۔
اے ابو عبیدہ! صدیاں تمہیں یاد کریں گی، طوطیانِ خوش نوا تمہاری یاد میں نواسنج رہیں گی، جب بھی چلے گی سرد ہوا یہ دل تمہیں یاد کرے گا، شہداء کی سرخی جب آزادی کا پروانہ لائے گی تب تمہیں نہ پاکر آنکھیں اشکبار ہوں گیں، حریت کے گیت جب گائے جائیں گے تب آپ سے ترجمان کا فراق بہت رلائے گا۔
کلیوں کو میں خونِ جگر دے کر چلا ہوں
صدیوں مجھے گلشن کی فضا یاد کرے گی
حریت جانفشانی اور قربانی چاہتی ہے، آزادی کوئے طلب میں جاں واری کا تقاضا کرتی ہے، یہ خیرات میں نہیں ملتی، بلکہ خونِ جگر سے ارض چمن کو سینچا جاتا ہے، سروں کے نذرانے پیش کیے جاتے ہیں، سر فروشی کی تمنا لیے دستِ قاتل سے دو بدو ہو کر زور آزمائی کرنی پڑتی ہے، تب جا کر آزادی کی بادِ سحر ہر شاخِ گل بداماں کو چھوتی ہے، کلیاں کھلتی ہیں، غنچے مسکراتے ہیں اور آزادی کا سورج شب گزیدہ سحر کے لیے پیامِ حریت لے کر طلوع ہوتا ہے، اور پھر ایک صبح نو کا آغاز ہوتا ہے، جس کی روشنی میں فداکاری اور شہادت کی سرخی، امن و امان اور صداقت کی سفیدی، امید و امنگ اور کارزارِ زیست کی ہریالی شامل ہوتی ہے۔ شاید آپ بھول گئے کہ ہمارے قائد انقلاب یحییٰ السنوار رحمہ اللہ نے میدانِ کارزار میں خستہ مکانوں کے درمیان لاٹھی کے سہارے کھڑے ہو کر انگشت شہادت لہراتے ہوئے کیا فرمایا تھا ؟ وہ کہہ رہے تھے :
وللحرية الحمراء باب
بكل يد مضرجة يدق
’’آزادی کے سرخ دروازے کو صرف خون میں رنگے ہوئے ہاتھوں سے کھٹکھٹایا جا سکتا ہے۔‘‘
ارض مقدس کی حریت کے لیے، جب بھی ضرورت ہوئی شہسوارانِ اسلام صف اول میں مسلح سربکف، کفن بہ دوش نظر آئے۔ امیر عزیمت ابو عُبیدہ رحمہ اللہ بھی انہی موفق من اللہ لوگوں میں سے تھے جو ارض مقدسہ کی بازیابی کے لیے اپنی عملی تگ و دو اور اپنی تقریروں اور تحریروں سے تا دمِ آخر سوتوں کو ہوشیار کرتے رہے۔ یہی وہ دیدہ ور ہیں جو مشکل سے چمن میں پیدا ہوتے ہیں، اور یہی پاکیزہ نفوس رشکِ چمن مشکِ ختن ہوتے ہیں۔ یہ وہ پروانے ہیں جو شمعٔ جہاد کے دیوانے ہو کر جاں اپنی نچھاور کر دیتے ہیں۔ اس وارفتگی میں بلبل کو پروانے سے کیا نسبت ؟ بلبل تو فقط ہجر کا مارا ہے، پروانہ تو جاں بھی فدا کر دیتا ہے۔ وہ اس سر زمین کے پروردہ تھے جسے تاریخ نے زخم دیے، جس کے وجود مسعود کو اغیار کے تیشوں نے مجروح کیا، مگر ان ماہ پاروں نے ہر زخم کو اپنی شناخت بنا لیا۔ زخموں سے بدن گلزار سہی مگر صبر و استقامت کو اپنی طبیعت بنا لیا۔ حالات نے یہ درس دیا کہ زندگی محض جینے کا نام نہیں، بلکہ حیات مستعار کے نشیب و فراز اور پیچ و تاب سے نبرد آزما ہو کر ثابت قدم رہنا بھی ضروری ہے۔ یہ وہ پامردی اور استقلال ہے جس کے سبب دشمن شکست خوردہ ہے، اور اپنی ذلت و مسکنت پر ماتم کناں ہے ۔
جب ساز سلاسل بجتے تھے، ہم اپنے لہو میں سجتے تھے
وہ رِیت ابھی تک باقی ہے یہ رسم ابھی تک جاری ہے
کس زعم میں تھے اپنے دشمن شاید یہ انہیں معلوم نہیں
یہ خاکِ وطن ہے جاں اپنی اور جان تو سب کو پیاری ہے
بطلِ حریت ابو عُبیدہ کی تشکیل میں صرف بارود اور محاصرہ ہی شامل نہیں تھا، بلکہ قرآن و سنت، شعور حیات بھی شامل تھے۔ اسی لیے اس کی گفتگو محض نعرہ نہیں بلکہ بیان بن جاتی تھی، اور بیان دلیل میں ڈھل جاتا تھا۔ انہوں نے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا، مگر شہرت سے گریز کیا، اقصیٰ کے قضیے کو سدا مقدم رکھا۔ ان کی ایک آواز پر دوست متوجہ ہوتے اور دشمن چونک جاتے تھے۔ ان کی زبان میں جذبات تھے، مگر بے لگام نہیں۔ جوش تھا، مگر ہوش کے ساتھ۔ وہ کبھی ہم مردہ ضمیروں کو جھنجھوڑتے ہوئے کہتے:
یا جماهير شعبنا المعطاءة! يا أحرار العالم! يا أمتنا العربية!
وہ اپنے خطاب کے دوران انگشت شہادت کو جنبش دیتے تھے جو ان کے خطاب کی مضبوطی اور استحکام پر براہِ راست اور گہرا اثر ڈالتی تھی، اور اب ان کی شخصیت کا مستقل حصہ بن چکی ہے۔
وہ کبھی اپنوں کی اپنائیت میں ڈوب کر دلوں سے مخاطب ہوکر کہتے تھے:
يا جماهير شعبنا الصابر الأبي! أيها الصامدون في وجه عدو الله وعدوكم! يا عنوان كرامة الأمة وأمل فجرها! يا مجاهدينا الأبطال! يا جماهير أمتنا الكبيرة الممتدة! يا كل أحرار العالم! يا أبناء شعبنا العظيم المبارك! يا جماهير شعوب و قوى أمتنا الكبيرة الممتدة! يا أحرار العالم في كل مكان! ياشعبنا العظيم! يا رأس مالنا و تاج رؤوسنا!
وہ اپنے خطابات کا آغاز ہمیشہ صیغۂ جمع سے کرتے تھے۔ صیغۂ جمع کے اس مسلسل استعمال میں ایسے معانی پوشیدہ ہیں جو عوام کے دلوں میں یہ یقین راسخ کر دیتے ہیں کہ وہ مزاحمت، جدوجہد اور جہاد میں لازماً شریک ہیں۔ اس اسلوب میں وفا داری، اعتراف، توجہ اور قدر دانی کی وہ سطح جھلکتی ہے جو بآسانی محسوس اور سمجھی جا سکتی ہے۔
ان کے یہ خطابات محض لفظی اظہار نہیں ہوتے تھے بلکہ ان میں الفاظ اور جملوں کی صورت میں بہت سے معانی پوشیدہ ہوتے تھے تاکہ وہ پیغام اربابِ بصیرت سامعین تک زیادہ گہرے اور مؤثر انداز میں پہنچ سکے۔ اسی تناظر میں، 8 مارچ 2024ء کے خطاب میں آپ نے یہ اشعار پڑھے:
يا عابد الحرمين لو أبصرتنا
لعلمت أنك بالعبادة تلعب
من كان يخضب خده بدموعه
فنحورنا بدمائنا تتخضب
’’اے حرمین کے عبادت گزار! اگر تم ہم مجاہدین کو دیکھ لو تو تم جان لو گے کہ تم تو عبادت کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہو، اگر تمہارے آنسو تمہارے رخساروں کو تر کرتے ہیں تو ہماری گردنیں ہمارے خون سے رنگین ہوتی ہیں۔‘‘
ان اشعار کو اپنے خطاب میں اس وقت شامل کیا جب ماہِ عبادت کا استقبال کیا جا رہا تھا۔ یہ دراصل غزہ کے مظلوم، زخم خوردہ لوگوں کی مدد و نصرت کی طرف اشارہ تھا، اس امید میں کہ شاید کوئی جاگ جائے، شاید مسلم حکمراں خواب غفلت سے بیدار ہو جائیں۔
کبھی وہ بر محل اشعار لا کر ہماری بے حسی اور سرد مہری کو نشانہ بناتے۔ 23 اپریل 2024ء کے خطاب میں تمیم البرغوثی کے اشعار نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں:
لقد عرفنا الغزاة قبلكم
ونشهد الله فيكم البدعُ
ستون عاماً وما بكم خجلٌ
الموت فينا وفيكم الفزعُ
أخزاكم الله في الغزاة
فما رأى الورى مثلكم ولا سمعوا
حين الشعوب انتقت أعاديها
لم نشهد القرعة التي اقترعوا
’’ ہم نے تم سے پہلے بھی بہت سے حملہ آوروں کو دیکھا ہے، مگر خدا کو گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ تم میں بڑی انوکھی چیزیں ہیں۔ ساٹھ برس گزر گئے، مگر تمہیں ذرا بھی شرم نہیں آئی۔ ہم میں تو موت رچی بسی ہے، لیکن تم میں اب بھی خوف ہی خوف ہے۔ اللہ تمہیں حملہ آوروں میں بھی رسوا کرے، کیونکہ دنیا نے نہ تم جیسے دیکھے ہیں اور نہ ہی تم جیسا کوئی سنا ہے۔ گرچہ قومیں خود اپنے دشمن چنتی ہیں، مگر ہم نے کبھی ایسی قرعہ اندازی نہیں دیکھی جیسی تم نے کی ہے۔‘‘
ہائے ابو عبیدہ! ہم آپ کی دید و زیارت کے لیے مچلتے رہیں۔ عشق و عقیدت کی جولانی نے آپ کے نین و نقش کو دیکھ تو لیا لیکن افسوس اس وقت آپ ہمارے درمیان نہ تھے۔ تاریخ مجاہدوں سے بھری پڑی ہے لیکن ابو عبیدہ کی تاریخ الگ لکھی جائے گی۔ نہ نام و نمود کی خواہش نہ جاہ و حشمت کا شوق، نہ نمائش اور شہرت کا خیال۔ ہائے ایسے اخلاص کے پیکر، چشم فلک نے بہت کم دیکھے ہوں گے!
وے لوگ تم نے ایک ہی شوخی میں کھو دیے
پیدا کیے تھے چرخ نے جو خاک چھان کر
بہت ہی کم نظر آیا مجھے اخلاص لوگوں میں
یہ دولت بٹ گئی شاید بہت ہی خاص لوگوں میں
وہ ایک عجیب شخص تھا جو خوشبو کے حوالوں کی طرح چہار سو پھیلا ہوا تھا۔ وہ اندھیروں میں اجالوں کی طرح تھا، وہ بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے تھے۔ وہ اپنوں کے لیے امن و الفت کا پیام تھا، غاصبوں کے لیے شمشیر بے نیام تھا۔ وہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم کی عملی تصویر تھا۔ اس کی شعلہ بار تقریروں سے دشمنوں کے دل دہلتے تھے۔ عسکری ترجمان کے خطابات میں غیر معمولی معنوی طاقت پائی جاتی تھی اور یہی قوت انہیں فکری وقار عطا کرتی تھی اور ان کے خطابات کو مختلف زاویوں سے تجزیے کے قابل بناتی تھی۔ ابو عبیدہ کی آواز میں خاص کشش، گہرائی اور ٹھہراؤ پایا جاتا تھا۔ ان کا طرزِ خطاب اور آواز کا زیر و بم اس قدر متوازن ہوتا تھا کہ سامعین کے دل میں صداقت کا احساس پیدا ہو جاتا تھا۔
خطابت کی دنیا پہ ہے حکمرانی
دلوں کو جگاتی ہے سحر البیانی
فدا ان کی تقریر پر ہے یقیناً
گلوں کا تبسم کلی کی جوانی
ابو عبیدہ کے مزاحمتی خطابات میں زبان کے مختلف موضوعات پائے جاتے تھے، تاہم ان میں دینی اور انقلابی پہلو سب سے نمایاں رہا۔ ان کا مزاحمتی خطاب قوت، وقار اور مضبوطی کی واضح مثال تھا، کیونکہ آپ اس میں نہایت شستہ، باوقار اور فصیح عربی زبان استعمال کرتے تھے، جو سامع پر گہرا اثر ڈالتی تھی۔ ان کے خطابات میں دینی رنگ نمایاں طور پر جھلکتا تھا، وہ اکثر اپنی گفتگو کا آغاز قرآنِ کریم کی آیات سے کرتے تھے، اور یہ آیات براہِ راست خطاب کے موضوع سے جڑی ہوتی تھیں۔ جب وہ دشمن کا ذکر کرتے تھے تو طنزیہ اور تحقیر آمیز الفاظ استعمال کرتے تھے، وہ کہتے :شراذم الأمم يا أبناء اليهوديةسمح الله ۔اس انداز سے وہ دشمن کے رعب کو توڑنے کی کوشش کرتے تھے۔ اہلِ غزہ سے خطاب کرتے وقت ان کا انداز بالکل جداگانہ ہوتا تھا۔ وہ طاقت و ہمت، ثابت قدمی اور حوصلہ بخش الفاظ استعمال کرتے تھے اور عوام کو یہ احساس دلاتے تھے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔ وہ کہتے : أنتم منا و نحن منكم، أنتم تيجان فوق رؤوسنا۔
زبان پر ان کی مضبوط گرفت نے اور الفاظ کے نہایت محتاط انتخاب نے ان کے خطابات کو غیر معمولی طاقت بخشی۔ وہ الفاظ کو ایسے خاص معنی دیتے تھے جو براہِ راست فلسطینی عوام کی مزاحمت سے جڑے ہوتے تھے، اور اسی چیز نے ان کے خطابات کو ایک منفرد اور الگ شناخت عطا کی۔ قرآنِ کریم کی آیات اور نبی ﷺ کی احادیث اور عربی اشعار کے حوالوں سے خطابات کو وسعت حاصل ہوئی، ان کے مقاصد واضح ہوئے اور ان کا پیغام مؤثر انداز میں عوام تک پہنچا۔
خطابت میں یکتا فصاحت کا پیکر
فرعونوں پہ بھاری یہ آتش نوائی
بیاں آج کیسے ہو سوزِ دروں
بہت ہے گراں تیرا داغِ جدائی
ابو عبیدہ اپنے عہد کی ایک عہد ساز شخصیت تھی، جس نے بڑوں سے لے کر چھوٹوں تک کے دلوں کو مسخر کر کے ان میں اپنی جگہ بنا لی۔ وہ دلوں پہ راج کرنے والا ایک عظیم شہزادہ تھا، اس کی جدائی پر دل کی ویرانیاں مجھے افسردہ رکھتی ہیں۔ سینکڑوں طوفان زیرِ لب لفظوں میں دبے ہیں، سوچتا ہوں آج حضرتِ انسان شہرت کے لیے کیا کچھ نہیں کرتا، نام و نمود کے لیے کن کن اسباب کا سہارا نہیں لیتا، لیکن اس جانباز کو دیکھیے دنیا والوں سے پوشیدہ رہا، حقیقی نام بھی پس پردہ رہا، لیکن خالق کائنات نے محبوبیت و مقبولیت کا تاجدار بنا دیا۔ لوگ ناموری کی جستجو میں رہے وہ گمنام بے نام ہوکے بھی نامور ہو گیا۔ اس مالک و بے نیاز کی عجیب بے نیازی ہے، وہ کبھی بغیر نام و چہرے کے مقبولیت عطا کر دیتا ہے۔ مجھے حیرت تو تب ہوئی جب ایک شخص بیس برس سے زائد عرصہ تک نقاب میں رہتے ہوئے دشمن کے مضبوط ترین جاسوسی نظام سے محفوظ رہا اور عام انسانوں کی طرح کھلے معاشرے میں زندگی گزارتا رہا۔ اس کی آواز منفرد تھی، چہرہ لوگوں کے سامنے تھا، مگر اصل شناخت کسی پر منکشف نہ ہو سکی۔ وہ یونیورسٹی میں تدریس بھی کرتا تھا، بازاروں میں آتا جاتا بھی تھا، مسجد میں نماز بھی ادا کرتا اور لوگوں سے میل جول بھی رکھتا تھا، مگر لوگ اسے پہچان نہ سکے۔ یہاں تک کے اس کی شہادت بھی کسی خفیہ سرنگ یا محفوظ ٹھکانے میں نہیں ہوئی بلکہ اپنے گھر میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ رہتے سہتے ہوئی۔ یہ سب انسانی حکمتِ عملی نہیں بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی خاص حفاظت اور نصرتِ غیبی کا مظہر ہے۔ معلوم ہوا کہ جب اللہ کسی کی حفاظت فرمائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
کیا پیش کروں تم کو کیا چیز ہماری ہے
یہ دل بھی تمہارا ہے یہ جاں بھی تمہاری ہے
نقشہ ترا دل کش ہے صورت تری پیاری ہے
جس نے تمہیں دیکھا ہے سو جان سے واری ہے
آخر میں مجھے شہید ابو عبیدہ کے وہ آخری دل سوز کلمات بار بار جھنجھوڑ رہے ہیں۔ جاتے جاتے وہ کہتے گئے : انتم خصومنا أمام اللہ! کبھی یہ خیال آتا ہے کہ اہل فلسطین کو بے سہارا چھوڑنے کے جرم میں کہیں اجتماعی عذاب ہمیں آ نہ گھیرے۔ ذہن ورطۂ حیرت میں ہے کہ نہ جانے امت کا یہ جمود کب ٹوٹے گا، ابو عبیدہ اپنے آخری خطاب میں امت کے سر برآوردہ شخصیات سے مخاطب ہو کر نہایت درد بھرے انداز میں کہتے ہیں :
’’ہم تاریخ سے نہایت درد و الم کے ساتھ اور اپنی امت کے تمام فرزندوں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں : اے امت مسلمہ وعربیہ کے رہنماؤ! اے امت کی اشرافیہ اور اے بڑی بڑی جماعتو اور اے علمائے امت! تم اللہ کے حضور ہمارے فریقِ مخالف ہو۔ تم ہر یتیم بچے، ہر گود اجڑی ماں، ہر بے گھر، دربدر، زخم خوردہ، دکھی اور بھوکے انسان کے دشمن ہو۔ تمہاری گردنیں اُن دسیوں ہزار بے گناہوں کے خون کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں، جنہیں تمہاری خاموشی نے بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ اگر اس مجرم، نازی صفت دشمن کو سزا کا خوف ہوتا، خاموشی کا یقین نہ ہوتا، اور بے وفائی کا خدشہ ہوتا تو وہ تمہارے سنتے کانوں اور دیکھتی آنکھوں کے سامنے نسل کشی کا ارتکاب نہ کرتا۔ ہم اس بہتے خون کی ذمہ داری سے کسی کو بری نہیں کرتے، اور نہ ہی اس شخص کو مستثنیٰ قرار دیتے ہیں جس کے پاس حرکت، اقدام اور اثر و رسوخ کی ذرا سی بھی طاقت موجود ہے۔ ہر ایک کو اس کی استطاعت کے مطابق ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔
واللہ! ہم اپنی آنکھوں سے اس امت کی بے توقیری، دشمن کی طرف سے اس کی تحقیر، اس پر کی جانے والی یلغار اور اس کی خرمستی دیکھ رہے ہیں۔ ہمارے دل خون کے آنسو روتے ہیں، کیونکہ ہم اس دشمن کی بزدلی، کمزوری، ذلت اور اس کے حقیقی قد کو خوب پہچانتے ہیں اور اس سے بھی پہلے ہم اس کے بارے میں اس الٰہی حقیقت کو جانتے ہیں : لأنتم أشد رهبة في صدروهم من الله کہ ان کے دلوں میں تمہاری دہشت اللہ سے زیادہ ہے، کاش کہ اس کا مقابلہ اہلِ اسلام کی عزت، اور کھوئی ہوئی عربی غیرت و حمیت سے کیا جاتا، مگر یہ سب وَہَن ہے، ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے۔‘‘
میرے دلبر آپ کی یادوں کا گلشن مہکتا رہے گا۔ قمریاں اپنا سر طوق میں ڈال کر اپنے ذوق میں آپ کا ذکر خیر کرتی رہیں گی۔ بلبلیں ہر گل کی بو لے کر آپ کا چرچا کرتی رہیں گی۔ وہ دور خزاں ہو یا دور بہاراں ہو، دل آپ کی یادوں سے سرشار رہیں گے۔ الوداع اے جانِ جاں الوداع۔ نیا سال تو لوٹ آیا ہے، نہیں آئیں گے تو بس وہ پیارے لوٹ کر نہیں آئیں گے جو دنیا سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگئے۔ اللہ عزوجل آپ کے درجات بلند فرمائے۔
مستند رستے وہی مانے گئے
جن سے ہوکر تیرے دیوانے گئے
لوٹ آئے جتنے فرزانے گئے
تا بہ منزل صرف دیوانے گئے
آہ کو نسبت ہے کچھ عشّاق سے
آہ نکلی اور پہچانے گئے
رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ
٭٭٭٭٭
