غزہ پر حالیہ اسرائیلی جارحیت اور ہمہ نوع و ہمہ پہلو ظلم کی اس طویل ترین لہر کو دو سال سے زیادہ عرصہ بیت گیا۔ جو کچھ اہلِ غزہ نے دیکھا، سنا، سہا اور کرب کے جس طوفان سے وہ اس آن بھی گزر رہے ہیں اس کی شدت سے یا وہ خود واقف ہیں اور یا پھر ان کا رب۔ دردِ دل رکھنے والے مسلمان اور غیر مسلم خواہ ان کے ساتھ جس قدر بھی خلوص کے ساتھ اظہار یک جہتی کریں، ان کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کریں مگر بہرحال وہ اس کرب اور درد و الم کی پرچھائیں کو بھی نہیں پا سکتے جس سے آشنا ہوئے اہل غزہ کو تیسرا سال شروع ہو چکا ہے۔ غم و الم کی اس طویل رات کا انجام کب اور کیسے ہوگا؟ یہ تو اللہ رب العزت کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پس ہم تو فلسطین کے عوام اور مجاہدین کے لیے استقامت، ثبات، دنیا و آخرت میں عافیت اور بلند ترین اور اعلی ترین درجات کے خواہاں ہیں کہ ان کٹھن راہوں سے گزر کر جن کا حصول بہرحال بچوں کا کھیل نہیں۔
ایسے میں کہ جب اسرائیل کا ظلم اپنی انتہاؤں کو چھو رہا ہے، شدید سردی اور طوفانی بارشوں میں گھرسے بے گھر، دربدر، بھوک اور غموں سے نڈھال، سردی سے ٹھٹھرتے اہل غزہ کہنے کو جنگ بندی کے دور سے گزر رہے ہیں، اور یہ ایسی جنگ بندی ہے کہ کوئی دن نہیں گزرتا کہ عوام کے اجتماعات پر اسرائیل بمباری کرتا ہے، قافلوں کے قافلے امدادی سامان اور ضروریات زندگی سے لیس کھڑے ہیں مگر اسرائیل ہے کہ ان کے غزہ میں داخلے کی اجازت مرحمت نہیں فرماتا، ایسے میں اسرائیلی جارحیت کا توڑ فقط جوابی جارحیت ہی ہے۔ اسرائیل اور اس کے مفادات پر کاری ضرب ہی اسرائیل کے تکبر کو پاش پاش کر سکتی ہے۔ اسرائیل خود تو کچھ نہیں، وہ تو جس کے بل بوتے پر اکڑ رہا ہے وہ امریکہ ہے۔ پس اسرائیل اور امریکہ یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ان میں سے کسی بھی ایک پر لگنے والی ضرب دوسرے پر بھی ضرو ر بالضرور اثر انداز ہو کر رہے گی۔ فلسطین پر تو یہود نے قبضہ کر رکھا ہے اور فلسطینیوں کی زمین پر اسرائیل قائم کر کے اس کے کرتا دھرتا بنے بیٹھے ہیں، مگر امریکہ، جہاں کہنے کو تو عیسائی حکومت ہے مگر وہ یہود سے بڑھ کر اور یہود سے بدتر یہود ہیں۔ یہ یہود تو وہ ہیں کہ جنہیں اللہ تعالیٰ کے لاڈلے ہونے کا زعم ہے، جو یہ سمجھتے ہیں کہ جہنم کی آگ تو ان کے لیے ہے ہی نہیں اور گر وہ اس میں ڈال بھی دیے گئے تو بہرحال آخر کار رب کی رضا اور اس کی جنتیں ہی ان کی حقیقی منزل ہیں۔ اور یہ زعم اعمال کی بنا پر نہیں، عبودیت کی بنا پر نہیں بلکہ تکبر کی بنا پر ہے۔ جیسا کہ ابلیس نے کہا کہ انا خیر منہ۔ اسی طرح یہود بھی خود کو بہترین اور اعلیٰ ترین تصور کرتے ہیں۔ ہزار ہزار برس جینے اور جیتے رہنے کی خواہش کرنے والے ان یہود کے لیے بدترین خواب یہ ہے کہ کوئی ان پر ضرب لگائے، کوئی ان کی طرف انگلی اٹھائے، کوئی انہیں مورد الزام ٹھہرا کر ان سے باز پرس کرے۔ پس حال ہی میں جب سڈنی میں ایمان کے تقاضوں پر لبیک کہتے ہوئے، ایمانی غیرت سے لبریز ہو کر ایک مسلمان باپ بیٹے نے یہود سے بدلہ لینے کی ٹھانی اور بحمداللہ اہل ایمان کے دل ٹھنڈے کیے تو عین مسلمانوں ہی کی طرف سے ایسا عجیب و غریب ردِّ عمل دیکھنے کو ملا کہ جسے دیکھ اور سن کر ہوش مند انسان انگشت بدنداں رہ جائے۔
عمومی ردِّ عمل جو مسلمانوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر گردش کرتا پایا گیا اور تجزیہ کاروں کی آراء اور کالم نگاروں کے کالموں سے ، حتیٰ کہ ان زبانوں اور ان قلموں کی نوک سے بھی جھلکا، جو جہاد کی داعی و شیدائی ہیں اور جن کے دلوں میں موجود امت کا غم اور اس کی فلاح کی تڑپ کسی سے پوشیدہ نہیں، وہ بھی دفاعی رنگ لیے ہوئے تھا۔ یہ کہ مسلمان تو امن پسند ہیں، ان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے، انہوں نے تو عیسائیوں کے بدترین ظلم کی چکی میں پستے یہود کی ہمیشہ مدد کی، ہمیشہ انہیں پناہ دی، اور ان کو اپنے معاشروں میں انسانوں کی طرح جینے کا حق دیا۔ پس کسی مسلمان کا یہ اقدام کہ وہ یہود کے تہوار پر ان کے اوپر فائر کھول دے یقیناً اسلامی تاریخ سے میل نہیں کھاتا اور ایسے لوگ یقیناً اپنے اسلاف کے شاندار ماضی پر بد نما داغ ہیں۔ نیز وہ احمد الاحمد کہ جس نے یہود پر حملہ آور مسلمان سے نا صرف یہ کہ اسلحہ چھینا بلکہ اسے زخمی کیا اور اس کے متوقع وار سے کئی یہودیوں کو بچایا وہ اسلامی اقدار و روایات کا امین ٹھہرا اور اسی کے حصے میں (مسلم و غیر مسلم)سارے تمغے آئے۔
بھئی کیوں مسلمان اپنے آپ کو ہمیشہ مظلوم و مسکین کارڈ کھیلتے دیکھتے رہنا چاہتے ہیں؟ کیونکر مسلمان اتنا جری نہیں ہو سکتا کہ وہ یہود سے ان کے بدترین ظلم کا بدلہ لینے کی اپنی سی کوشش کرے؟ کیوں مسلمانوں ہی کو اس کردار اور شخصیت کا مسلمان ہیرو قبول نہیں کہ جو سر جھکا کر مار کھانے یا زیادہ سے زیادہ راستہ بدل کر ظالم سے منہ موڑ کر اپنی جان بچا کر بھاگ لینے کی بجائے ظالم کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو جائے اور اس کی اینٹ کا جواب پتھر سے دے؟
نائن الیون ہوا تو بعض ’عقل مند‘ مسلمانوں نے دانتوں تلے انگلیاں داب لیں اور لگے منہ چھپانے اور وضاحتیں پیش کرنے کہ بھئی یہ تو یہود کی اپنی سازش ہے، بھلا مسلمان اس قتل و قتال میں کہاں شریک ہو سکتا ہے؟ یہ تو محض ایک مثال ہے ورنہ تاریخ کے صفحات کو جگمگا دینے والا ہر ایسا عمل کہ جہاں مسلمان نے واقعی اپنے ایمان کا مظاہرہ کیا، مسلمانوں ہی میں کے بعض طبقات کو اپنی شرمساری کا باعث دکھائی دینے لگا۔ اوّل تو مسلمان اس نبی ﷺکے پیروکار ہیں کہ جو نبیٔ رحمت ہونے کے ساتھ ساتھ نبی الملاحم بھی ہے، مگر چلیے مان لیجیے کہ وہ صرف نبیٔ رحمت کے پیروکار ہیں تو کیا مسلمان کو یہ زیب دیتا ہے کہ اس کے لاکھوں بھائی بہن بے گھر، دربدر ہوں، ان کے بچے بھوک سے جان دے رہے ہوں، ان کے کتنے ہی پیارے منوں مٹی تلے جا سوئے ہوں ، ان کی جان، مال ، عزت، کچھ بھی محفوظ نہ ہو اور پھر بھی اس کے کانوں پر جوں تک نہ رینگے؟
اپنے مسلمان بہن بھائیوں کے لیے اس کی رحمت کہاں جا سوئے گی؟ پھر کیا یہ رحمت کے منافی ہے کہ ظالم کا ہاتھ روکا جائے؟ ظالم کے حق میں تو عین رحمت یہی ہے کہ اس کے ظلم کا ہاتھ روکا جائے اور اسے جہنم کی مزید گہری گھاٹیوں میں گرنے سے بچایا جائے۔ احمد الاحمد نے جس کو ظالم سمجھا وہ تو اس امت کے نجات دہندہ بن کر آئے تھے، ان ہی جیسے تو اہل غزہ کا حقیقی بدلہ لینے والے ہیں، اہل غزہ کو ساتھ مل کر رونے والوں کی نہیں بلکہ آگے بڑھ کر ظالم کا ہاتھ روکنے والوں کی ضرورت ہے۔ پس ہمیں اپنی سوچ اور اپنی فکر کے زاویے درست کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلمان موم کی ناک نہیں ہوتا کہ جہاں چاہے موڑ دو اور وہ اف تک نہ کہے، بلکہ اللہ نے مومنین کی صفت بنیان مرصوص، سیسہ پلائی ہوئی دیوار بیان کی ہے جو نہ موڑی جائے، نہ توڑی جائے اور جو اس سے ٹکرائے وہ خود ہی پاش پاش ہو جائے۔
٭٭٭٭٭
