اخباری کالموں کا جائزہ | جنوری ۲۰۲۶ء

اس تحریر میں مختلف موضوعات پر کالم نگاروں و تجزیہ کاروں کی آرائ پیش کی جاتی ہیں۔ ان آراء اور کالم نگاروں و تجزیہ کاروں کے تمام افکار و آراء سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ (ادارہ)


انڈیا: حجاب کھینچنے کا واقعہ

انڈیا میں مسلمان آبادی کے خلاف نفرت انگیز، متشدد اور ناروا سلوک یوں تو مسلسل جاری ہے جو اکثر اوقات میڈیا میں سامنے نہیں آتا۔ لیکن حال ہی میں ایک مسلمان خاتون کے ساتھ ہونے والی توہین اور ان کے حجاب کی بےحرمتی پر غیرت مند مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ اس قدر گری ہوئی حرکت کسی عام شہری نے نہیں بلکہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ایک سرکاری تقریب میں ڈاکٹروں کی تقرری کے موقع پر کی۔ جب ایک خاتون ڈاکٹر جو اپنی تقرری کی سند لینے اسٹیج پر آئیں تو نتیش کمار نے ان کے چہرے سے نقاب کھینچا اور ساتھ موجود دیگر لوگ ہنستے رہے۔ اس واقعے نے حکومت میں موجود ہندُتوا ذہنیت کو اچھی طرح واضح کر دیا۔ ایک اعلیٰ عہدے دار نےبھری محفل میں مسلمان خاتون کی عزت و عصمت کا پاس نہیں رکھا اور محفل میں موجود لوگوں میں سے کسی میں اتنی جرات نہیں ہوئی کہ اٹھ کر اس حرکت کے خلاف کچھ بولتا تو آپ اندازہ لگا لیں کہ بھگوا غنڈے جو مسلمانوں کی بستیوں میں دندناتے پھرتے ہیں وہ کیا کرتے ہوں گے۔ ایسے ہی ان گنت واقعات آئے روز مسلمانوں کے ساتھ پیش آتے رہتے ہیں،اور بھگوا غنڈے بڑے فخر سے مسلمانوں کے خلاف ہر حرکت کی وڈیو بنا کر عام کرتے ہیں۔

مسلمان عورت کی عزت و عصمت کس قدر مسلمانوں کے لیے مقدم ہے اس بات کا اندازہ مسلمانوں کی تاریخ سے لگا لیں۔ مدینہ میں یہود کی جانب سے ایک مسلمان صحابیہ کے ساتھ ناروا سلوک سے لے کر معتصم باللہ اور محمد بن قاسم تک جس نے ایسی ناپاک جرأت کی ہے اس کا انجام تاریخ میں ثبت ہو گیا۔لیکن اس تقریب میں موجود لوگوں کے ایک ہجوم میں سے کسی کو اس واقعے پر غیرت نہ آئی کہ اسی وقت اٹھ کر ایسی نازیبا حرکت کے خلاف آواز اٹھاتا۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہفتہ دس دن میڈیا، سوشل میڈیا پر اور احتجاجوں کی صورت میں اس واقعے پر آواز اٹھائی گئی، نتیش کمار سے معافی اور استعفے کا مطالبہ بھی کیا گیا،لیکن اس کے بعد یہ واقعہ نظروں سے ہی اوجھل ہو گیا۔

اس واقعہ پر پاکستانی میڈیا پر بھی کافی کچھ لکھا گیا اور بہت سے آن لائن پوڈکاسٹ میں اس کی مذمت کی،خود انڈیا میں بھی اس واقعے کے خلاف مسلمانوں نے احتجاج کیا اور نتیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا لیکن ہم یہاں صرف ہندوستانی اخبارات کی تحریر کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں:

حجاب کا مسئلہ نہیں اقتدار کی بے لگامی کا سوال | جاوید جمال الدین

’’یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک میں مسلم خواتین کے حجاب کو سیاسی ہتھیار بنایا گیا ہے۔ کہیں تعلیمی اداروں میں پابندیاں، کہیں عوامی مقامات پر تضحیک اور کہیں انتخابی سیاست میں مذہبی شناخت کو نشانہ بنایا جاتا ہے، یہ سب سی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ بہار کا واقعہ اس رجحان کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ اب مذہبی اقلیتوں، خصوصاً مسلم خواتین کے وقار کو آزمائش میں ڈالنا معمول بنتا جا رہا ہے۔

……آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا یہ واقعہ بھی دیگر تنازعات کی طرح وقت کی گرد میں دب جائے گا، یا پھر واقعی کوئی اخلاقی اور سیاسی احتساب ہو گا؟ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ یہ طاقت کے استعمال پر اخلاقی قدغن کا نظام بھی ہے۔ اگر اخلاق کے اعلیٰ ترین منصب پر بیٹھا شخص ہی اس حد کو پامال کرے تو پھر عام شہری سے قانون اور شائستگی کی توقع کھوکھلی لگنے لگتی ہے۔

یہ معاملہ حجاب کا نہیں بلکہ احترام ، مساوات اور آئینی اقتدار کا ہے۔ اور جب تک ہم اس حقیقت کو تسلیم نہیں کر تے، ایسے واقعات بار بار ہمارے سماج کا چہرہ مسخ کرتے رہیں گے۔ ‘‘

[اردو ٹائمز]

دشمن کے ارادوں کو ظاہر ہے اگر کرنا | رشید الدین

آزادی کے بعد سے آج تک تاریخ گواہ ہے، جارحانہ فرقہ پرستوں نے بھی حجاب کو ہاتھ لگانے کی ہمت نہیں کی، لیکن سیکولرازم اور مسلم دوستی کی آڑ میں نتیش کمار نے اپنی مخفی ذہنی خباثت کو برسر عام کر دیا۔ حجاب کی توہین پر مسلم سماج کی جانب سے جس قدر احتجاج ہونا تھا، نہیں ہوا۔ صرف رسمی انداز میں مذمتی بیانات پر مذہبی، سیاسی اور سماجی قائدین نے اکتفا کیا۔ لیڈی ڈاکٹر نصرت جہان نے اسلامی حمیت اور غیرت اسلامی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملازمت کو ٹھکرا دیا ہے۔

……نتیش کمار کی بیہودہ حرکت ہو یا پھر مسلمانوں کے خلاف ماب لنچنگ کے واقعات، یہ تمام مسلمانوں کی کمزوری کا نتیجہ ہے۔ جب تک مسلمان کمزور رہیں گے اور مرعوب اور ذہنی غلامی کے ساتھ جینا چاہیں گے، اس وقت تک ہر طاقتور ان پر حملہ آور ہو گا۔ دنیا میں اصل جنگ دولت کی نہیں بلکہ فکری برتری کی ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو خود کو مضبوط بناتے ہوئے ظالم سے مقابلہ کرنے کی ہمت پیدا کرنی ہو گی۔“

[روزنامہ سیاست]

سوڈان کا بحران

سوڈان مسلم اکثریتی ملک جو کہ جغرافیائی اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے، قدرتی وسائل (تیل اور سونے کے ذخائر) سے مالہ مال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کی تاریخ بیرونی طاقتوں کی طرف سے کیے گئے استحصال سے بھری پڑی ہے، جنہوں نے وہاں کے وسائل پر قبضہ کے لیے وہاں کے لوگوں کو خود مختاری اور ترقی سے دور رکھا۔

پچھلے دو سال سے جاری خانہ جنگی نے عوام الناس کو جس ظلم و بربریت، بھوک و افلاس ، قتل عام اور دربدری سے دوچار کیا ہےاس کی مثال نہیں ملتی۔دو کروڑ دس لاکھ افراد شدید بھوک اور غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ ایک کروڑ چالیس لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔سوڈان کی صورتحال اگرچہ تفصیل طلب اور پیچیدہ ہے۔ لیکن ہم یہاں مختصرا موجودہ صورتحال کا احاطہ کر رہے ہیں۔

ان دونوں بڑے گروہوں میں سے کوئی نہیں جو لوگوں کی بھلائی کا سوچ رہا ہے، اس کا حل جو اقوام متحدہ میں پیش کیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ آر ایس ایف کو غیر مسلح کیا جائے اور ایک عوامی حکومت تشکیل دی جائے۔ لیکن خطے کے وہ ممالک جو اس ساری جنگ میں اپنے مفادات حاصل کر رہے ہیں کیا وہ ایسا ہونے دیں گے؟ اس سرمایہ دارانہ نظام مین کون اپنے مفادات لوگوں کی بھلائی کے لیے داو پر لگائے گا؟

Sudan’s war is a business model of violence | Muhammad Shahzaib Hassan

’’آر ایس ایف محض ایک نیم فوجی تنظیم نہیں ہے بلکہ یہ وسیع تجارتی اثر و رسوخ رکھنے والا ایک معاشی کردار بھی ہے۔ جنجاوید ملیشیاز سے تبدیلی کے بعد، آر ایس ایف اور اس کی قیادت نے سونے کے شعبے اور دیگر منافع بخش کاروباروں کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔ آزادانہ تحقیقات کے مطابق 2024ء میں آر ایس ایف کے زیرِ کنٹرول سونے کی پیداوار تقریباً دس ٹن تک پہنچ چکی تھی، جو ایک ایسی غیر معمولی آمدنی ہے جس نے جنگجوؤں کی مالی معاونت کی، اسلحے کی خریداری ممکن بنائی، اور تنازع کو مذاکراتی تصفیے کی طرف لے جانے کے بجائے اسے جاری رکھنے کا ایک سٹرکچرل انگیزہ پیدا کیا۔

بیرونی سرپرستی نے مقامی محرکات کو مزید تقویت دی اور انہیں بین الاقوامی شکل دی ہے۔ قابلِ اعتماد رپورٹس اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے آر ایس ایف کے اسلحہ خانے میں چین میں تیار شدہ جدید ہتھیاروں اور جدید ڈرونز کا سراغ لگایا ہے، جبکہ متعدد تحقیقات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ ہتھیار خلیجی ثالثوں کے ذریعے دوبارہ برآمد کیے گئے۔ یہ اسلحہ جاتی رسد محض اتفاقی عیاشی نہیں ہے، یہ میدانِ جنگ کے حساب کتاب کو بدل دیتی ہے، شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کی اجازت دیتی ہے، اور ان عناصر کو مضبوط کرتی ہے جو مسلسل عدم استحکام سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

انسانی قیمت بہت بھاری رہی ہے اور مسلسل بڑھی جا رہی ہے۔ اس تنازع نے دسیوں ہزار جانیں لے لی ہیں اور لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق بے گھر افراد کی تعداد ایک کروڑ سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے اور بڑھتی جا رہی ہے، جس سے یہ بحران دنیا کے سب سے بڑے اندرونی نقل مکانی کے بحرانوں میں شامل ہو گیا ہے۔ اسی دوران عالمی ادارۂ صحت نے صحت کی سہولیات اور طبی عملے پر بار بار حملوں کی تصدیق کی ہے، جس سے زخمیوں کے علاج اور شہریوں کے تحفظ کی صلاحیت مزید کمزور ہو گئی ہے۔

……سوڈان کا موجودہ المیہ تاریخ کا کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے، یہ ایسے نظام کا قابلِ پیش گوئی نتیجہ ہے جو تشدد کو منافع بخش بنا دیتا ہے۔ اگر بین الاقوامی برادری واقعی مزید قتلِ عام کو روکنے میں سنجیدہ ہے تو اسے سفارتی بیانات پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ پیسے اور اسلحے کے بہاؤ کا بھی اتنی ہی باریکی سے تعاقب کرنا ہو گا۔ صرف اسی صورت میں، جب جنگ کو غیر منافع بخش بنایا جائے گا، امن کے لیے محرکات ابھرنا شروع ہوں گے۔ اب ہی عمل کا وقت ہے۔‘‘

[Middle East Monitor]

غزہ: جنگ بندی کاسراب

دو سال جاری فلسطینیوں کی مسلسل نسل کشی کے بعد جبکہ غزہ کے لوگوں کو امید کی ایک کرن نظر آئی کہ ان کی زندگیاں اب پر امن او آسان ہونے لگی ہیں، تو معلوم ہوا کہ جنگ بندی کا اعلان محض ایک دکھاوا اور سراب نکلا۔ اس جنگ بندی نے امریکہ اور اس کی ناجائز اولاد اسرائیل کو ہر زاویہ سے فائدہ پہنچایا جبکہ فلسطینیوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا۔ جنگ اب بھی جاری ہے بس انداز بدل گیا ہے۔ صہیونی ناپاک فوجیں اب بھی ہر روز غزہ کے لوگوں کو شہید کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں جنگ بندی شروع ہونے سے اب تک ۴۱۴ لوگ شہید اور ایک ہزار ایک سو بیالیس لوگ زخمی ہو گئے۔ یہ تو سرکاری اعداد و شمار ہیں ورنہ اگر ان میں سردی سے شہید ہونے والے اور طوفانی ہواؤں سے ملبہ تلے دب کر شہید ہو جانے والے لوگوں کی تعداد بھی شامل کی جائے تو یہ تعداد دوگنی ہو جائے۔ جبکہ پچھلے دو سال میں لاکھوں شہداء اور زخمیوں کو ہم کیسے بھول سکتے ہیں؟ ٹرمپ کے ۲۱ نکاتی معاہدے کے تحت یہ بھی طے تھا کہ غزہ کے لوگوں کو امداد کی مکمل فراہمی کے لیے ۶۰۰ ٹرک یومیہ غزہ میں داخل ہوں گے، جبکہ اسرائیل صرف ۱۷۰ ٹرک داخل ہونے دیتا ہے۔ جن میں بنیادی طاقت اور توانائی والی غذائیں مثلاً گوشت، انڈے، دودھ اور اس سے بنی اشیاء اور سبزیوں وغیرہ کے داخلے پر پابندی ہے اور چپس، چاکلیٹیں اور سافٹ ڈرنکس اور ہائی کاربوہائیڈریٹس اور چکنائی والی غذائیں داخل ہو رہی ہیں جبکہ پورٹ ایبل گھر، زندگی بچانے والی دوائیں اور بنیادی انسانی ضروریات کی اشیاء بھی روک رہا ہے۔ لیکن ’’انسانی حقوق کے چیمپین‘‘ تو ایسے موقعوں پر اندھے ہو جاتے ہیں۔

بے سروسامانی اور کپڑے کے بنے خیموں میں سخت سردی طوفان اور بارشوں نے غزہ کے لوگوں کو جس تکلیف، کوب اور آزمائش میں مبتلا کیا ہے، ہم اپنے گرم گھروں میں بیٹھ کر وہاں سے آنے والی ویڈیوز دیکھ کر بھی تصور نہیں کر سکتے۔ الغرض غزہ کے لوگ جس کسمپرسی میں جی رہے ہیں ایک تحریر ان پر گزرنے والی تکلیف کا معمولی سا احاطہ بھی نہیں کر سکتی ، نہ ہی لکھے جانے والے الفاظ ان کے احساسات کی ترجمانی کر سکتے ہیں۔ جنگ بندی کی پابندی صرف فلسطینیوں کے لیے ہے جبکہ اسرائیل ہر روز جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فلسطینیوں کو نشانہ بناتا ہے۔ مڈل ایسٹ مانیٹر میں ایک لکھاری لکھتے ہیں:

Ceasefire is “holding”: So long as only non-Israeli-Jews are murdered | Jamal Kanj

’’اسرائیل کے لیے جنگ بندی کوئی پابند ذمہ داری نہیں بلکہ حکمت عملی کے تحت ایک عارضی وقفہ ہے۔ یہ فلسطینی مزاحمت کو محدود کرتا ہے، جبکہ اسرائیل کو بلا خوفِ مواخذہ اس کی خلاف ورزی کی اجازت دیتا ہے۔ یہ عالمی غم و غصے کو وقتی طور پر کم کرنے، تنقید سے توجہ ہٹانے، اور عرب ثالثوں کو عزتِ نفس بچانے کا موقع دینے کا ذریعہ بنتا ہے، جبکہ اسرائیل کی جنگ بلا تعطل جاری رہتی ہے۔ عرب ثالث، واشنگٹن کو خوش کرنے کے خواہاں اور اسرائیل کا سامنا کرنے سے گریزاں، ایک مؤثر جنگ بندی کے فریب کو برقرار رکھتے ہیں، جبکہ روزمرہ کے فلسطینی جنازوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

سفارت کاری ایک تماشہ بن چکی ہے، اور فلسطینی روزانہ ہونے والی لائیو پرفارمنس میں شکار ہیں۔ ضروری نہیں کہ یہ جنگ بندی کی ناکامی ہے بلکہ یہ تو اس کے اصل مقصد کی تکمیل ہے۔ اسے اسی لیے وضع کیا گیا تھا کہ فلسطینیوں کی تکالیف کو ریڈار سے اوجھل رکھا جائے اور اسرائیلی خلاف ورزیوں کو “چھوٹی جھڑپیں” قرار دے کر ان کی سفید پوشی کی جائے۔

سب سے پہلے اسرائیل‘ کے خول میں قید ڈانلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کے لیے دباؤ غزہ میں بھوک ختم کرنے کے لیے نہیں ڈالا۔ اس کے برعکس، یہ ایک سیاسی سہارا تھا جس کا مقصد اسرائیل کو بڑھتی ہوئی تنہائی سے نکالنا تھا۔ اس کا مقصد نسل کشی کو روکنا نہیں تھا، بلکہ اسرائیل کو یورپ کے بڑھتے ہوئے دباؤ سے بچانا اور یورپی یونین کو اسرائیل کے خلاف پابندیوں کی طرف بڑھنے سے روکنا تھا۔

ایسی جنگ بندی جو اسرائیل کو خاموشی سے قتل کی اجازت دے، جنگ بندی نہیں ، یہ فریب دینے کا ایک آلہ ہے۔ یہ عالمی طاقتوں کے ذریعے نارملائز کر دیا گیا ایک منظم نسلی امتیاز پر مبنی قتل کا میدان ہے۔ ٹرمپ کے ’سب سے پہلے اسرائیل‘ کے خول کے لیے، جنگ بندی اس وقت تک ’برقرار‘ سمجھی جاتی ہے جب تک صرف غیر اسرائیلی یہودی قتل کیے جاتے رہیں۔‘‘

[Middle East Monitor]

جنگ بندی نے ایک طرف اسرائیل کو موقع دیا ہے کہ فیز-1 (Phase 1) کے تحت اس کی فوجیں پیلی لکیر سے باہر کا علاقہ کنٹرول کریں گی، جو کہ غزہ کا ۵۸ فیصد بنتا ہے، جبکہ غزہ کی تمام آبادی کو۴۲ فیصد رقبے میں محصور کر دیا گیا ہے جو تباہی اور ملبے سے بھرا ہوا ہے۔،اس طرح غزہ کے تمام بارڈر کا کنٹرول بھی اسرائیل کے پاس رہے گا ۔ اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے بھی واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اسرائیل یہ علاقہ نہیں چھوڑے گا۔ اور دوسری طرف جنگ بندی کا بڑا نقصان یہ ہوا کہ غزہ کی خبروں سے عالمی میڈیا کا فوکس ہٹ گیا۔ اس طرح غزہ میں جو ظلم جاری ہے وہ پس منظر میں چلا گیا۔ غزہ کی ایک لکھاری الجزیرہ پر لکھتی ہیں:

The ceasefire did what it was meant to do – make Gaza invisible | Eman Abu Zayed

’’……جنگ بندی کا اصل مقصد نہ تو تشدد یا اموات کو روکنا تھا، نہ لوگوں کا تحفظ کرنا، اور نہ ہی خونریزی اور نسل کشی کو محدود کرنا۔ اصل مقصد یہ تھا کہ دنیا غزہ کے بارے میں بات کرنا بند کر دے، وہاں کیے جانے والے جرائم کے بارے میں، اور لوگوں کے روزمرہ کے درد و الم کے بارے میں۔

اب غزہ بڑی حد تک نظروں سے اوجھل ہو چکا ہے، کیونکہ دوسری خبریں اور دیگر ’’ہاٹ سپاٹس‘‘ عالمی میڈیا کی توجہ اپنی طرف کھینچ چکے ہیں۔

اسی دوران، بڑے پیمانے پر اموات جاری ہیں۔

……اسرائیلی حملے بدستور جاری ہیں، اور دیگر طریقوں سے بھی بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہو رہی ہیں: منہدم عمارتیں، غیر پھٹے بم، سیلاب، شدید سردی سے اموات (Hypothermia)، بھوک اور بیماریاں، یہ سب اسرائیلی نسل کش حکمتِ عملی کی ہی پیداوار ہیں۔ ہم اب بھی مناسب پناہ، خوراک، حرارت، بجلی یا پینے کے صاف پانی کے بغیر جدوجہد کر رہے ہیں۔

صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ اب خود موسمِ سرما لوگوں کو ہلاک کر رہا ہے۔

……اسرائیل رفح سرحد کو بھی بند رکھے ہوئے ہے۔ باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں، سوائے اس کے کہ آپ اسرائیل سے منسلک جنگی منافع خوروں کو بے تحاشا رقم ادا کریں اور کبھی واپس نہ آنے پر رضامند ہوں۔ سولہ ہزار سے زائد افراد جنہیں فوری طبی انخلا کی ضرورت ہے، اسرائیل کی جانب سے غزہ سے نکلنے سے روکے جا رہے ہیں، اور ایک ہزار سے زیادہ لوگ اجازت کے انتظار میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

غزہ نسل کشی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، کم شدت کا اجتماعی قتل و غارت، جو اس لیے ہیڈ لائنز نہیں بنتا کہ یہ کارپٹ بمباری جیسا دھماکہ خیز نہیں ہوتا۔ مگر حتمی نتیجہ وہی ہے: غزہ میں فلسطینی زندگی کا خاتمہ۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ اسرائیلی سیاست دان ہماری زمین کو اپنی کالونی بنانے کی باتیں بند نہیں کر رہے۔ وہ اب بھی فلسطینیوں سے خالی غزہ کو ایک حقیقی اور قابلِ حصول امکان سمجھتے ہیں۔‘‘

[Aljazeera English]

غزہ: مغربی میڈیا کا منافقانہ کردار

یوں تو اس پورے عرصے میں مغربی طاقتوں کا منافقانہ کردار اور دوغلی پالیسی کسی سے پنہاں نہیں رہی۔ لیکن مغربی میڈیا کا منافقانہ کردار ہم سے اس لیے اوجھل رہا کیونکہ عموماً ہماری نظر اپنے میڈیا تک ہی رہتی ہے۔ لیکن جس انداز سے فلسطین، غزہ، جنگ، فلسطینی قیدیوں، حماس اور مزاحمتی تحریک اور اسرائیل کا ’’حق دفاع‘‘، اسرائیلی یرغمالی اور حماس کی ’’بربریت‘‘، ان کے لیے فلسطینی بچے، بچے نہیں، نہ ہی غزہ کے ڈاکٹر، ڈاکٹر ہیں، نہ ہی صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ کوئی معنی رکھتا ہے۔

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

اسی موضوع پر بہت اچھا مضمون مڈل ایسٹ آئی میں نشر ہوا۔ جس میں سے ایک اقتباس شامل کر رہے ہیں:

The New York Times discovers its conscience when the murdered journalist isn’t Palestinian | Hamid Dabashi

’’اکتوبر 2023ء سے اب تک اسرائیل تقریباً 220 صحافیوں کو قتل کر چکا ہے، جس کے بعد آزادیٔ صحافت پر نظر رکھنے والے ادارے نے اسے ’’صحافیوں کا بدترین دشمن‘‘ قرار دیا ہے۔

پھر بھی، ان نتائج کی سنگینی کے باوجود، بڑے مغربی نیوز ٹ لیٹس نے، جو اخلاقی برتری کے ساتھ آزادیٔ صحافت اور انسانی حقوق کے علمبردار بنے رہتے ہیں—نے آر ایس ایف1RSF (Reporters Sans Frontières): ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم جو پریس فریڈم اور صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرتی ہے۔ کے ریکارڈ میں سب سے ہلاکت خیز سال کے لیے بمشکل ہی جگہ نکالی، اور اس حقیقت کا تو ذکر ہی نہیں کیا کہ ان صحافیوں کی بھاری اکثریت فلسطینی تھی……

یہ خاموشی کسی بھی تناظر میں تشویش ناک ہوتی، مگر نسل کشی کو دو برس سے زائد گزر جانے کے بعد یہ اس کو برقرار رکھنے والی اہم ترین حکمتِ عملیوں میں سے ایک ثابت ہو چکی ہے۔

اور شاید ہی کوئی ادارہ اس انتخابی غم و غصے کی اس سے زیادہ واضح مثال پیش کرتا ہو جتنی دی نیو یارک ٹائمز، جس کے ایڈیٹوریل بورڈ نے گزشتہ ماہ یہ جسارت کی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سعودی عرب کے محمد بن سلمان سے ملاقات پر تنقید کا نشانہ بنایا، اور ولی عہد کے 2018ء میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا حکم دینے میں اس کے ’تقریباً یقینی‘ کردار کا حوالہ دیا۔

انتخابی غم و غصہ

نہیں جنابِ صدر، ہم اسے یوں ہی نہیں چھوڑ سکتے!‘

یہ 19 نومبر کو نیو یارک ٹائمز کے ایک اداریے کی سرخی تھی، جس میں ٹرمپ کو اس بات پر ملامت کی گئی کہ انہوں نے اس رپورٹر کو جھڑک دیا تھا جس نے سعودی عرب کے طاقتور حکمران، بن سلمان، کو خاشقجی کے قتل کی ذمہ داری یاد دلائی تھی۔

افسوس کہ NYT نے اعلان کیا کہ ’جغرافیائی سیاست (geopolitics) کی حقیقتیں طویل عرصے سے امریکہ کو ایسے غیر ملکی رہنماؤں سے اتحاد پر مجبور کرتی رہی ہیں جو ہولناک اعمال کے مرتکب ہوتے ہیں۔‘ آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی بات کر رہے ہیں، مگر آپ غلط ہوں گے۔ وہ ایک عرب حکمران کی بات کر رہے تھے جس نے ایک عرب صحافی کو قتل کیا۔

اداریہ آگے کہتا ہے: ’غیر ملکی خطرات کو شکست دینے کے لیے اکثر ایسے ممالک کی مدد درکار ہوتی ہے جو انسانی حقوق کا احترام کرنے والی لبرل جمہوریتیں ہونے سے بہت کم تر ہوتے ہیں۔‘

ایک لمحے کے لیے آپ پھر یہ تصور کر سکتے ہیں کہ ٹائمز کے مدیراس اسرائیلی نسل کش فوجی ریاست کی بات کر رہے ہیں، جس نے اپنے فلسطینی شہریوں اور اپنے قابض افواج کے زیرِ تسلط فلسطینیوں کو مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ مگر آپ ایک بار پھر غلط ثابت ہوں گے۔

نیو یارک ٹائمز اس بات پر برہم تھا کہ ٹرمپ نے ایک ہی صحافی کے قتل پر بن سلمان کو جواب دہی سے بچ نکلنے دیا۔ یہ ریکارڈ کا اخبار، جیسا کہ وہ خود کو کہلوانا پسند کرتا ہے، اس بات پر خفا تھا کہ انہوں نے ایک واحد سعودی رپورٹر کے قتل کو اس قدر جلدی نظر انداز کر دیا۔‘‘

[Middle East Eye]

مڈل ایسٹ مانیٹر پر بھی ایسی ہی ایک اہم تحریر شائع ہوئی جس میں کالم نویس نے حماس کے ھاتھوں پکڑے جانے والے فوجیوں اور اسرائیلیوں کے لیے “”یرغمالی “ اور بے گناہ فلسطینیوں کے اسرائیل کے ہاتھوں پکڑے جانے والوں کو “قیدی “ کہنے کو موضوع بحث بنایا۔ لکھتے ہیں:

Who gets to be a hostage? The language that legitimises Palestinian captivity | Jwan Zreiq

’’اس کا جواب عالمی تعصبات میں گہرائی سے الجھا ہوا ہے جس کے تحت تشدد اور قید کو بیان کیا جاتا ہے۔ دو بظاہر ملتے جلتے الفاظ پر غور کیجیے: ’یرغمال‘ (hostage) اور ’قیدی‘(prisoner)۔ یرغمال کا لفظ معصومیت کی پامالی اور ناحق چھینی گئی زندگی کا تصور ابھارتا ہے۔ اس کے برعکس، قیدی کا لفظ کسی عمل، قانونی حیثیت، بلکہ شاید جرم کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ آخر کار، ’قیدی‘ ہمیں قید میں رکھے گئے فرد کے بارے میں کم اور اس نظام کے بارے میں زیادہ بتاتا ہے جو اسے قید کرتا ہے۔ مگر جب خود وہ نظام جبر اور نسلی امتیاز پر مبنی ہو تو کیا ہمیں طاقت کے ان انفراسٹرکچرز پر سوال اٹھائے بغیر ان اصطلاحات کو قبول کر لینا چاہیے جو انہیں استعمال کرتے ہیں؟

یہاں عالمی تعصب میں ہی پوشیدہ ہے جس کے ذریعے تشدد اور قید کو فریم کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اسرائیلی فوجیوں کو لیجیے، جیسے متان اینگریسٹ، جو اکتوبر 2023ء کے بعد اپنے ٹینک سے پکڑا گیا۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ، مثلاً دی نیو یارک ٹائمز، ان واقعات کو مستقل طور پر یوں بیان کرتے ہیں کہ متان کو ’اس کے ٹینک سے اغوا کیا گیا‘، ایک ایسا فقرہ جو ذاتی کمزوری کو نمایاں کرتا ہے اور دانستہ طور پر اس حقیقت سے پہلو تہی کرتا ہے کہ وہ ایک جنگجو تھا۔ اس طرزِ بیان سے توجہ کا رخ بدل جاتا ہے، اور وسیع تر سیاسی و عسکری تناظر کے بجائے ذاتی دکھ اور اذیت کے بیانیے کو آگے لایا جاتا ہے۔ جب ان فوجیوں کو رہا کیا جاتا ہے تو اکثر انہیں عوامی طور پر شہری اور خاندانی کرداروں میں دوبارہ ضم کر دیا جاتا ہے، اور بعض، جیسے ایڈن الیگزینڈر، نے آئی ڈی ایف میں اپنی سروس دوبارہ شروع کرنے کے ارادے کا اعلان بھی کیا۔ یہ بیانات اور میڈیا کی جانب سے ان کی واپسی کا جشن ان کی انسانیت کے تصور کو تشکیل دیتے ہیں، اور آئی ڈی ایف کے جنگی قیدیوں کو فلسطینیوں کے خلاف جبر اور نسلی امتیاز کے نظام میں سرگرم شریک کے بجائے تشدد کے شکار مظلوم کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

اس کے برعکس، میڈیا فلسطینیوں کو محض ’قیدیوں‘ کے زمرے میں سمو دیتا ہے، ایک ایسی اصطلاح جو قانونی جواز کا تاثر دیتی ہے مگر ان کی قید کی اصل حقیقت کو مٹا دیتی ہے۔ مغربی کنارے بھر میں اسرائیلی فورسز معمول کے مطابق چھاپے مارتی ہیں، جن میں مردوں، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو بغیر کسی الزام یا مقدمے کے گرفتار کیا جاتا ہے، ایک ایسا عمل جو بیک وقت من مانی بھی ہے اور معمول بھی بنا دیا گیا ہے۔ اسرائیلی فورسز ان افراد کو ایک ایسے نظام کے ذریعے یرغمال بناتی ہیں جو ’سکیورٹی اقدامات‘ اور ’انتظامی حراست‘ (Administrative Detention) کے قانونی لیبل کے تحت غیر معینہ مدت تک قید کو معمول بنا دیتا ہے۔ ان کارروائیوں کے ساتھ تشدد، گھروں کی مسماری اور خوف کی دانستہ فضا پیدا کی جاتی ہے، جبکہ اسرائیل اردگرد کی زمینوں پر منظم انداز میں قبضہ کر کے اپنی آبادکار کالونیوں کو وسعت دیتا ہے۔

اس وقت ہزاروں فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں یرغمال بنے ہوئے ہیں، جہاں انہیں منظم تشدد کا سامنا ہے۔ اعداد و شمار خود سب کچھ بیان کر دیتے ہیں۔ حالیہ رہائیوں سے قبل، دس ہزار سے زائد فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں قید تھے، جن میں کم از کم ساڑھے تین ہزار ایسے تھے جو بغیر مقدمے کے انتظامی حراست میں رکھے گئے تھے۔ سیاسی قیدیوں کی تعداد دوگنی ہو چکی تھی، جو پانچ ہزار دو سو پچاس سے بڑھ کر تقریباً دس ہزار تک جا پہنچی۔ عصمت دری اور تشدد سے لے کر بجلی کے جھٹکوں اور تذلیل تک، جسے کسی بھی انسان کبھی برداشت نہیں کرنا چاہیے، فلسطینی جسم اور روح پر یہ مسلسل حملہ اس نظام سے جدا نہیں کیا جا سکتا جو انہیں قید کرتا ہے۔ پھر بھی، اس کے واضح شواہد ہونے کے باوجود کہ اسرائیلی فورسز بہت سے فلسطینیوں کو من مانے انداز میں قید رکھتی ہیں، دنیا انہیں محض ’قیدی‘ ہی کہتی ہے۔

یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسرائیل قانونی اصطلاحات کا سہارا لینے کی زحمت کیوں کرتا ہے؟ آخر کار یہ ایک ایسی رجیم ہے جس کی بنیادی منطق ہی نسلی امتیاز اور نوآبادیات پر قائم ہے۔ ہر چھاپہ، ہر گرفتاری، زمین پر قبضے کی بے رحم مشینری میں ایک چھوٹا مگر ناگزیر قدم ہے۔ اسرائیل قانونی حیثیت کا یہ فسانہ اس لیے برقرار رکھتا ہے کہ بین الاقوامی قانون اس کا تقاضا کرتا ہے۔ یوں ’قیدی‘ کا لیبل بین الاقوامی قانون کی ان خلاف ورزیوں کو صاف ستھرا بنا کر پیش کرتا ہے جو درحقیقت سٹرکچرل اور دانستہ ہیں۔ یہ اصطلاح ظلم کو ایک پراسیس میں بدل دیتی ہے، قید کے اخلاقی بوجھ کو مٹا دیتی ہے اور نظامی تشدد کو معمول بنا دیتی ہے۔ یہ نہ صرف اس بات پر اثر انداز ہوتی ہے کہ ہم تشدد کے متاثرین کو کیسے دیکھتے ہیں، بلکہ اس پر بھی کہ ہم کس کے درد کو تسلیم کیے جانے کے قابل سمجھتے ہیں۔

اس بیانیے میں فلسطینی تجربہ اجتماعی برداشت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، ایک تجریدی دکھ، جس میں انفرادی انسانی کہانیوں کے لیے بہت کم گنجائش ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، اسرائیلی تکلیف کو ذاتی، انسانی اور مقدس بنا کر دکھایا جاتا ہے۔ ایسی زبان، جو ’یرغمال‘ اور ’قیدی‘ میں فرق قائم کرتی ہے، ہمدردی اور جواز میں گہری ناہمواری پیدا کرتی ہے، طاقت کے عدم توازن کو مضبوط کرتی ہے اور عالمی رائے عامہ اور تاثر کی تشکیل کرتی ہے۔‘‘

[Middle East Monitor]

غزہ: ٹرمپ کی مزاحمتی تحریک کو زبردستی کچلنے کی دھمکی

ٹرمپ کے ۲۱ نکاتی ایجنڈے کا ایک حصہ حماس اور دیگر جہادی تنظیموں کو غیر مسلح کرنا بھی ہے۔ جو کام دو سال میں ایک سپر پاور کی پشت پناہی میں اسرائیل اپنی پوری طاقت لگا کر نہ کر سکا اب اس کے لیے دوسرا حربہ آزما یا جا رہا ہے۔ حماس نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ جب تک فلسطینیوں کو آزادی ملتی نظر نہیں آتی ہم ہتھیار نہیں چھوڑیں گے۔ اس پر ٹرمپ نے دھمکی بھی دی ہے کہ یہ حماس کے لیے بہت خوفناک ہو گا اور دیگر ممالک بزور طاقت حماس کو غیر مسلح کریں گے۔ لیکن سوال دراصل یہ ہے کہ جس تحریک اور مزاحمت کو پچھلے اسی پچاسی سال میں ختم نہ کیا جا سکا، کیا اسے یوں ختم کرنا ممکن بھی ہے؟ فلسطینیوں کے اندر اللہ نے غیر معمولی صبر، استقامت اور ایمان کی مضبوطی رکھی ہے۔ اور یہ بات صہیونیوں سے ہضم نہیں ہوتی کہ جہاں انہوں نے پورے غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا اور وہاں کے لوگوں نے قتل، بھوک دربدری سمیت تمام ممکن تکالیف سہ لیں لیکن مزاحمتی تحریک کی سپورٹ اب بھی اسی طرح موجود ہے۔

اگر زبردستی تحریک کو کچل دیا گیا تو پھر کیا ہو گا؟َ یہ سوچ بھی بہت بھیانک ہے۔ ڈاکٹر رمزی بارود لکھتے ہیں:

If Gaza resistance ends: What history tells us about the Palestinian fate | Dr Ramzy Baroud

’’اسرائیل اس امید میں ہے کہ معاہدے کے پہلے مرحلے کو مستقل بنا دیا جائے۔ اس نیت کا اظہار مسلسل بمباری، زندگی بچانے والی رسد اور امداد کی روک تھام، اور فلسطینیوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بے بنیاد اور مسلسل الزامات سے واضح ہے۔

یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو غزہ کو غیر مسلح کرنے کے مطالبے کو بنیادی رکاوٹ بنا دے گا، حالانکہ وہ پہلے سے جانتا ہے کہ غزہ اپنے ہتھیار نہیں ڈالے گا۔ وہ اس بات کو متعدد بار واضح کر چکا ہے، جن میں 15 نومبر کا بیان بھی شامل ہے، جب اس نے کہا تھا:

حماس کو غیر مسلح کیا جائے گا ، چاہے آسان طریقے سے یا مشکل طریقے سے۔‘

لیکن اگر غزہ ہتھیار ڈالنے پر رضامند ہو جائے تو کیا اسرائیل فلسطینیوں کو چھوڑ دے گا؟ کیا منصفانہ امن اور فلسطینی آزادی کے امکانات غیر معمولی حد تک بڑھ جائیں گے؟ اس سوال کا جواب دینے کے لیے، آئیے بہت مختصر طور پر تین تجربات کا جائزہ لیتے ہیں، جن میں سے دو تاریخ سے تعلق رکھتے ہیں۔

فلسطینی، اور حتیٰ کہ بعض اسرائیلی مؤرخین نے بھی دلیل دی ہے کہ تاریخی فلسطین کی نسلی تطہیر، یعنی نکبہ کے دوران، اسرائیل کا مقصد فلسطینیوں کو ملک سے بے دخل کرنا تھا، چاہے فلسطینی مزاحمت کریں یا نہ کریں۔

پلان دالت2Plan Dalet، جسے پلان ڈی بھی کہا جاتا ہے، وہ خاکہ تھا جسے نئی اسرائیلی فوج اور اس کی پیش رو ملیشیا نے 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے دوران مقامی فلسطینیوں کو ان کے وطن سے بے دخل کرنے کے لیے استعمال کیا۔ ۱۰مارچ 1948ء کو باضابطہ طور پر منظور کیے گئے اس منصوبے میں ان فلسطینی شہروں اور قصبوں کی نشاندہی کی گئی تھی جنہیں نشانہ بنایا جانا تھا، اور ان کے باشندوں کو نکالنے اور ان کی بستیوں کو تباہ کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں۔ پر عمل درآمد، جو فلسطینی آبادی کو نکال باہر کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا، کا فلسطینی مزاحمت کے طریقے یا شدت سے کوئی تعلق نہیں تھا، نہ ہی صہیونی ملیشیاؤں کے تشدد سے کوئی تقابل۔

درحقیقت، اس بے دخلی کا فریم ورک، جنگ کو بطور بہانہ استعمال کرنے پر مبنی تھا، نہ کہ فلسطینی مزاحمت کی جوابی جنگ کے طور پر پر۔ صہیونی رہنما اور اس وقت کے اسرائیل کے پہلے وزیرِاعظم ڈیوڈ بن گوریون نے لکھا تھا:

عربوں کو جانا ہوگا، لیکن اس کے لیے ایک موزوں موقع درکار ہے، جیسے کہ جنگ۔‘

اگرچہ بعض مختاروں (دیہاتی سرداروں) نے یہ سمجھا کہ اگر وہ مزاحمت نہ کریں تو انہیں وہ انجام نہیں بھگتنا پڑے گا جو مزاحمت کرنے والوں کا ہوا، مگر وہ غلط ثابت ہوئے۔ اسرائیلی مورخ ایلان پاپے لکھتا ہے:

اگرچہ سرکاری پلان دالت میں دیہاتوں کو ہتھیار ڈالنے کا اختیار دیا گیا تھا، لیکن عملی احکامات میں کسی بھی وجہ سے کسی بھی گاؤں کو مستثنیٰ نہیں رکھا گیا تھا۔‘

یہی طرزِ عمل تاریخ میں بار بار دہرایا گیا۔ 1982ء میں، امریکہ کی ثالثی سے ہونے والے ایک معاہدے کے بعد فلسطینی تنظیم پی ایل او کی افواج کو لبنان سے نکالنے کا فیصلہ ہوا۔ یہ تصور کیا گیا تھا کہ ان کے انخلا کے بعد اسرائیلی فوج فلسطینی شہریوں پر حملے نہیں کرے گی۔

واقعی، 21 اگست 1982ء کو پی ایل او کے دھڑے لبنان چھوڑنے لگے، جس کے نتیجے میں کیمپ غیر محفوظ ہو گئے اور ان کے لبنانی اتحادی بھی کمزور پڑ گئے۔ تاہم، مغربی بیروت میں اسرائیلی تشدد کم ہونے کے بجائے بڑھ گیا، اور ستمبر 1982ء میں صبرا اور شتیلا کا قتلِ عام ہوا، جس میں تقریباً ساڑھے تین ہزار تک فلسطینی مہاجرین اور لبنانی شہری شہیدہوئے۔

…… اگر غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی کا مقصد صرف مسلح گروہوں کو کچلنا ہے، تو پھر مغربی کنارے میں مسلسل کچلنے کا عمل کیوں جاری ہے؟

جو لوگ اب بھی غزہ کے حوالے سے اسرائیلی بیانیے کو قبول کرتے ہیں، انہیں اس تاریخی ریکارڈ کا سامنا کرنا ہو گا اور دو نہایت اہم اور مستقل حقائق کو تسلیم کرنا ہو گا۔

اوّل، اسرائیلی تشدد کی بنیادی محرک اس کی آبادکار نوآبادیاتی (سیٹلر کالونیل) خواہشات ہیں، نہ کہ محض فلسطینی مزاحمت۔

دوم، فلسطینی مزاحمت ایک گہری جڑی ہوئی تاریخی ضرورت ہے، مقامی آبادی کی خود مختاری کے لیے غیر ملکی قبضے سے خود کو آزاد کرانے کی پُرعزم جدوجہد۔

[Middle East Monitor]

غزہ: ابو عبیدہ (حذیفہ سمیر الکحلوت) کی شہادت

اسرئیل نے جہاں آدھے سے زیادہ غزہ پر قبضہ کر لیا ہے، تو ساتھ ہی رفح کے علاقے سے ملبہ اٹھانے اور زمین کو ہموار کرنے کا کام تیزی سے جاری ہے جو کہ سیٹلائیٹ سے لی گئی تصاویر میں بھی نمایاں ہوا ہے، جبکہ وہاں کنسن ٹریشن کیمپ (Concentration Camp) کی تعمیر کا کام بھی شروع ہو چکا ہے، جو غزہ کے ان لوگوں کے لیے ہے جو غزہ چھوڑ کر جانے سے انکار کریں گے۔ جبکہ رفح بارڈر سے فلسطینیوں کو گزرنے کے لیے بھی اسرائیل نے شرط رکھی ہے کہ جو غزہ سے باہر جائے گا اسے دوبارہ واپس آنے نہیں دیا جائے گا۔

ابھی جبکہ یہ خبریں آ رہی تھیں تو ایسے میں ایسی خبر بھی آ گئی جس نے دلوں کو دکھی اور آنکھوں کو نم کر دیا۔ اور وہ تھی حماس کے نئے ترجمان ابو عبیدہ کی طرف سے جاری بیان میں حماس کے پانچ راہنماؤں کی شہادت کی خبر۔ جس میں حذیفہ سمیر الکحلوت بھی شامل تھے جنہیں ہم سب سرخ کفیہ والے ابو عبیدہ ﷫ کے نام سے پہچانتے تھے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

سبحان اللہ! غزہ کے باسیوں نے کیسے کیسے ہیرے موتی اس مبارک جہاد میں لٹا دیے۔ کچھ تو گمنامی کے سایوں میں بہادری و جرأت کی تاریخ رقم کر گئے اور کچھ دنیا کے سامنے دشمن پر قہر بن کر ٹوٹے۔ جس طرح ابو عبیدہ نے معرکہ طوفان الاقصیٰ میں اور اس کے بعد میڈیا اور سوشل میڈیا کے محاذوں پر، لوگوں کی سکرینوں پر، اس معرکہ کی قیادت کی، اپنے لوگوں کو صبر و استقامت کے ساتھ ڈٹے رہنے کا پیغام دیتے رہے، زندہ ضمیروں کو جھنجھوڑتے رہے، مسلم حکمرانوں کو آئینہ دکھاتے رہے، علماء و ائمہ کو ان کا فرض یاد دلاتے رہے، دشمن کے سینے پر مونگ دلتے رہے اور اپنی ہیبت سے ان کے نیندیں اڑاتے رہے۔ ان کی آخری تقریر کے الفاظ ’انتم خصومنا الی اللہ‘ ہمیں شرمسار کرنے اور عاقبت یاد دلانے کے لیے کافی ہیں۔

ابو عبیدہ ﷫ کی شہادت کے اعلان کے بعد جہاں سوشل میڈیا پر ہر رنگ و نسل اور مذہب کے ماننے والوں نے جس طرح دکھ اور غم کا اظہار کیا، اس کے برعکس مین سٹریم میڈیا، بشمول پاکستانی میڈیا، یہ خبر صرف ایک خبر سے آگے نہ بڑھنے دی گئی۔ حتیٰ کہ الجزیرہ اور مڈل ایسٹ مانیٹر، جو مستقل فلسطین کے لیے آواز اٹھاتے آئے ہیں، انہوں نے بھی شیخ ابو عبیدہ کو خبر سے زیادہ اہمیت نہ دی۔ ہمیں صرف روزنامہ جسارت میں بس ایک کالم ہی مل سکا جس میں سے اقتباس پیش کر رہے ہیں:

شیخ ابو عبیدہ: نقاب میں چھپا چہرہ، تاریخ میں روشن نشان| میر بابر مشتاق

’’کچھ آوازیں جسم کی محتاج نہیں ہوتیں۔ وہ لہجے، ارادے اور ایمان سے جنم لیتی ہیں۔ شیخ ابو عبیدہ بھی ایسی ہی ایک آواز تھے۔ نقاب میں لپٹی ہوئی، مگر پوری امت کے دل میں اُترتی ہوئی۔ ان کی شہادت کی خبر محض ایک فرد کے دنیا سے رخصت ہونے کی اطلاع نہیں، یہ اْس عہد کی علامت ہے جس میں لفظ، مزاحمت اور قربانی ایک دوسرے میں مدغم ہو گئے تھے۔ غزہ کی گلیوں سے اٹھنے والی یہ آواز آج جسمانی طور پر خاموش ہو چکی ہے، مگر تاریخ کے کاغذ، ضمیر کے آئینے اور آنے والی نسلوں کے حافظے میں اس کی گونج باقی رہے گی۔ شیخ ابو عبیدہ کا امتیاز یہ تھا کہ وہ محض ترجمان نہیں تھے، وہ بیانیہ تھے۔ ایسے بیانیے کے علمبردار جس نے طاقت کے نشے میں بدمست دنیا کو یہ باور کرایا کہ حق، اگرچہ بے سروسامان ہو، تب بھی باطل کے ایوانوں کو لرزا دیتا ہے۔ ان کا ہر خطاب، ہر جملہ، ہر وقفہ ایک منظم مزاحمتی حکمت ِ عملی کا حصہ تھا۔ وہ لفظوں کو ہتھیار بناتے تھے، مگر نفرت کے نہیں، یقین کے۔ خوف پھیلانے کے نہیں، حوصلہ جگانے کے۔ ان کے نقاب نے دنیا کو متجسس رکھا، مگر ان کی آنکھوں کی چمک اور لہجے کے ٹھہراؤ نے اہل ِ ایمان کو مطمئن کیا۔ وہ اپنے چہرے کی نمائش سے بے نیاز رہے، کیونکہ ان کی ترجیح ذات نہیں، مقصد تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن ان کی شناخت کے پیچھے بھاگتا رہا اور وہ شناخت سے ماورا ہو کر تاریخ میں جگہ بناتے رہے۔ اس گم نامی میں ایک عظمت تھی ایسی عظمت جو خود کو پس منظر میں رکھ کر قوم کو پیش منظر میں لے آئے۔ غزہ کے اندھیرے میں، جب بموں کی گھن گرج نے راتوں کو یرغمال بنایا، ابو عبیدہ کی آواز امید کا چراغ بن کر ابھری۔ وہ شکستہ لمحوں میں بھی شکستہ نہیں ہوئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مزاحمت محض بندوق کا نام نہیں، یہ صبر، نظم، اخلاقی برتری اور مسلسل استقامت کا نام ہے۔‘‘

[روزنامہ جسارت]

آخری بات

یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ اسرائیل کسی صورت جنگ بندی معاہدے کے اگلے مرحلے پر عمل درآمد نہیں چاہتا۔ کیونکہ نہ تو وہ غزہ سے اپنی فوجیں نکالنے پر تیار ہو گا اور نہ ہے باقی ماندہ غزہ کے فلاح و بہبود کے کسی عمل کو آگے بڑھنے دے گا۔ غزہ میں امدادی کام کرنے والی ۳۷ متحرک تنظیموں پر پابندی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ناجائز صہیونی ریاست ایک طرف غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے اور دوسری طرف دریائے اردن کے مغربی کنارے سے فلسطینوں کی زمینیں ہتھیانے کے لیے پوری طرح سرگرم ہے۔ نہ صرف فلسطین بلکہ جنوبی لبنان اور جنوبی شام کے علاقے بھی اپنے قبضے میں لینا چاہتی ہے۔ جنوبی شام میں گولان کی پہاڑیاں تو اسرائیلی قبضے میں ہیں ہی۔ لیکن اس سے آگے بڑھ کر خود نیتن یاہو کے مطابق۴۰۰ مربع کلومیٹر مزید شام کے علاقوں پر قبضہ کر کے اسے بفر زون قرار دے چکا ہے۔ اور اس سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں جبکہ تازہ رپورٹس کے مطابق امریکہ کی سربراہی میں اسرائیل اور شام کی حکومتوں کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس پیرس میں ہوا۔ جس میں ایک مشترکہ سیل تشکیل دیا گیا جس کا مقصد دونوں ممالک میں انٹیلی جنس شیئرنگ، فوجی تناؤ میں کمی، سفارتی اور تجارتی تعاون شامل ہے۔ شامی حکومت کے مطابق یہ ایک ’تاریخی‘ موقع ہے۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ شام اسرائیل کے ساتھ ’انٹیلی جنس‘ شیئرنگ کس کے خلاف کرے گا؟ ظاہر ہے اسرائیل کے دشمنوں کے خلاف!

احمد الشرع کی سربراہی میں بننے والی شامی حکومت پہلے بھی اسرائیل کے ساتھ ’’نارمل‘‘ تعلقات بنانے کی خواہش کا اظہار کر چکی ہے۔ حالانکہ صہیونی طاقتیں ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ عزائم کا کھل کر اعلان کرتی آئی ہیں اور اگر انہیں اسرائیل سے کوئی خوش فہمی ہے کہ وہ ۱۹۷۴ء کے معاہدے پر راضی ہو کر گولان کی پہاڑیوں سے پیچھے ہٹ جائے گا تو یہ خوش فہمی بھی جلد دور ہو جائے گی۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی طرف سےملحمۃالکبریٰ بھی اسی مبارک سرزمینِ شام میں لڑی جائے گی فلسطین جس کا حصہ ہے۔ اسی لیے مستقبل میں باذن اللہ مسلمانوں کا ہی پلڑہ بھاری ہو گا۔ لیکن ہمارے لیے عمل کا وقت آج کا ہے، جس وقت امریکہ و اسرائیل وقت کے فرعون بنے فلسطینیوں پر انہی کی زمین تنگ کر رہے ہیں۔ ابو عبیدہ، یحیٰ سنوار، اسماعیل ہنیہ اور ہزاروں گمنام شہداء رحمہم اللہ کا لہو ہمیں پکار رہا ہے۔ صرف غزہ نہیں بلکہ پورے فلسطین کے مظلوم اور وہاں کے غیور مجاہدین کو مسلم حکمرانوں سے تو کوئی امید نہیں، اگر کوئی ہے جسے ان کی پکار پر لبیک کہنا چاہیے وہ علم جہاد بلند کرنے والے علماء و قائدین ہیں، کہ وہ بیت المقدس کی طرف پیش قدمی کریں۔ جبکہ عوام الناس کے لیے رول ماڈل سڈنی کے ساحل پر یہودیوں پر حملہ آور وہ باپ بیٹے ہیں، جنہوں نے رسائی پا کر انہیں نشانہ بنایا جو پچھلے ستر سال سے فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں۔ ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اسرائیل فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کر رہا ہے اس میں اسے یہودی عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ یہ حملہ ہر اس مسلمان کے لیے عمل کی پکار ہے جس کی دسترس میں صہیونیوں و صلیبیوں کے مقامات و اہداف ہوں کہ اٹھیں اور اپنا فرض ادا کریں۔

٭٭٭٭٭

Exit mobile version