زیرِ نظر تحریر افغانستان سے تعلق رکھنے والے عالم، داعی اور فکری جنگ پر دقیق نظر رکھنے والے مفکر فضیلۃ الشیخ مولوی عبد الہادی مجاہد (دامت برکاتہم)کی پشتو تصنیف ’مدرسہ او مبارزہ‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ کتاب بنیادی طور پر افغانستان میں مدارس اور دینی تعلیم کے نظام کو مد نظر رکھتے ہوئے لکھی گئی ہے ، لیکن کتاب میں بیان کی گئی امت مسلمہ کی حالت اور اس حوالے سے جو مطالبہ ایک افغان عالم ِاور مدرسے سے کیا گیا ہے وہ درحقیقت باقی عالمِ اسلام کے علماء اور مدارس سے زیادہ مطلوب ہے۔ اس لیے کہ افغانستان میں تو آج ایک شرعی و اسلامی حکومت قائم ہو چکی ہے جبکہ باقی عالَمِ اسلام اس سے کہیں پیچھے ہے۔ اس کتاب کے اصل مخاطبین علماء و طلبہ ہیں جن کی تاریخ بالاکوٹ، شاملی، صادق پور اور دیوبند کے پہاڑوں، دروں، میدانوں اور مساجد و مدارس کے در و دیوار پر نوشتہ ہے! ومن اللہ التوفیق! (ادارہ)
باب چہارم: اقدار کی کشمکش میں ایمان کی قوت اور کمزوری کا اثر
عقیدے اور اقدار کی جنگ کی اہمیت
عقیدے، افکار اور اقدار کی جنگ میں جو قوم غالب آ جائے، وہ دیگر میدانوں میں کبھی شکست نہیں کھا سکتی، لیکن جو قوم دشمن کے مقابلے میں عقیدے اور فکری میدان میں شکست کھا لے، وہ مالی اور عسکری لحاظ سے کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو، طویل عرصے تک اپنی آزادی برقرار نہیں رکھ سکتی۔ بالآخر ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ دشمن کی صف میں شامل ہو جاتی ہے، اور اپنی سرزمین، معیشت، فوج، عوام اور تمام تر وسائل دشمن کے قبضے میں دے بیٹھتی ہے۔
مسلمانوں اور ان کے دشمنوں کے درمیان جو امتیاز ہے، وہ عقیدے اور فکر کے اختلاف کی بنیاد پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کفار ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو فکری طور پر اپنے جیسا بنا لیں، تاکہ یہ دونوں جداگانہ ملتیں ایک ملت بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
﴿وَدُّوا لَوْ تَكْفُرُونَ كَمَا كَفَرُوا فَتَكُونُونَ سَوَاءً﴾ (النساء: ۸۹)
’’ وہ (کفار) یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی اسی طرح کافر ہو جاؤ جیسے وہ خود کافر ہو چکے ہیں، تاکہ تم اور وہ برابر ہو جاؤ۔‘‘
اگر ہم گزشتہ ایک صدی کے دوران کفار اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف کے پہلوؤں پر غور کریں تو واضح ہوتا ہے کہ کفار مسلسل اس کوشش میں ہیں کہ مسلمانوں اور کفار کے درمیان فکری، سیاسی، اقتصادی اور عسکری فاصلے کم کر دیں، بلکہ انہیں بالکل ختم کر دیں۔ اسی مقصد کے تحت وہ عالمی سطح پر ذرائع ابلاغ اور مطبوعات میں یہ کوشش کر رہے ہیں کہ ’’کفر‘‘ اور ’’کفار‘‘ کے الفاظ بالکل استعمال نہ کیے جائیں، بلکہ ان کی جگہ ’’دیگر‘‘ جیسے الفاظ رائج کیے جائیں، مثلاً یہ کہا جائے کہ ’’مسلمانوں اور دیگر اقوام کے درمیان‘‘ یا ’’مسلمانوں اور دوسری تہذیبوں کے درمیان‘‘۔ اس تبدیلی کا مقصد یہی ہے کہ ’’کفر‘‘ اور ’’کفار‘‘ جیسے الفاظ، جو تمام مذاہب اور ادیان میں ایک منفی اور نفرت انگیز حیثیت کے حامل ہیں، آہستہ آہستہ ذہنوں سے محو کر دیے جائیں۔
مزید یہ کہ مسلمانوں اور کفار کے درمیان جو طویل عرصے سے جدائی اور امتیاز قائم و برقرار رکھا گیا ہے، اس کی بنیاد یہی تھی کہ جو شخص مسلمان نہ ہوتا، وہ مسلمانوں کی نظر میں کافر کہلاتا اور اس سے نفرت کی جاتی تھی۔ کفار سے محتاط رہنا مسلمانوں کی ایک مقصود اور پسندیدہ پالیسی تھی، اور ان کے مقابلے میں اسلامی صف کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل جدوجہد کی جاتی تھی۔
جب سے سیاسی، معاشی اور عسکری تعلقات کے میدان میں کفر و اسلام کی تمیز ختم ہوئی اور اس کی جگہ مشترکہ مفادات کے الفاظ اور اصطلاحات رائج ہوئیں، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج اگرچہ دنیا میں تقریباً دو ارب مسلمان موجود ہیں، مگر بین الاقوامی سطح پر کفار کی نظر میں مسلمانوں کا کوئی ایسا علیحدہ دینی وجود باقی نہیں رہا جس سے عالمی فیصلوں یا معاملات کے بارے میں رائے لی جائے۔
آج مسلمان نہ تو سلامتی کونسل کے مستقل اراکین میں شامل ہیں، نہ عالمی سطح پر کیے جانے والے اجتماعی فیصلوں میں ان کے دین کو کوئی اہمیت دی جاتی ہے، نہ ہی ان کے مقدسات، حلال و حرام اور مذہبی اقدار کا احترام کیا جاتا ہے، کیونکہ کفار اس حد تک کامیاب ہو چکے ہیں کہ مسلم ممالک اور ان کی حکومتوں کو سیاسی، عسکری، اقتصادی اور ثقافتی میدانوں میں اپنے تابع بنا لیا ہے۔
عالمی طاقتور کفری قوتیں اب اس ضرورت کو محسوس نہیں کرتیں کہ قوانین سازی کے وقت مسلمانوں سے ان کے دینی اصولوں یا حلال و حرام کے بارے میں کوئی مشورہ لیا جائے، اور نہ ہی وہ مسلمانوں کی مذہبی اقدار کو کسی درجہ میں اہمیت دیتی ہیں۔
جب تک سیاسی، اجتماعی، عسکری، اقتصادی، ثقافتی اور تمدنی میدانوں میں ’’اسلام‘‘ اور ’’کفر‘‘ کی اصطلاحات رائج تھیں، انہی ناموں کے اپنے مخصوص معنی اور اثرات بھی انہی شعبوں میں قائم تھے۔ مسلمان ایک امت اور کفار دوسری امت سمجھے جاتے تھے۔
مگر آج کل گلوبلائزیشن کی ثقافت میں سب کو ایک جیساسمجھا جاتا ہے، اور سب پر لازم سمجھا جاتا ہے کہ وہ ایک ہی اصول و معیار قبول کریں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلم ممالک نے معنوی اور معاشرتی اقدار کے لحاظ سے کفار کے مقابلے میں اپنا مضبوطی سے دفاع نہیں کیا، اپنی تہذیب، اپنے معیار، اپنے عقائد اور اپنے اعتقادات کی حفاظت نہ کر سکے اور کفار سے یہ تسلیم کروانے میں ناکام رہے کہ وہ ان تمام پہلوؤں میں ایک جداگانہ امت ہیں جن کے الگ قوانین اور نظریات ہیں۔
آج مسلم ممالک اپنی اسلامی، سیاسی، ثقافتی اور عسکری شناخت کھونے کی وجہ سے کفار کے عالمی منصوبے کا ایسا جزو بن چکے ہیں جس کی اپنی کوئی شناخت نہیں، اور نہ ہی ان کی کوئی حیثیت ہے، جس کی پرواہ کی جائے، بلکہ جو ارادے اور فیصلے بڑی کفری طاقتیں کر لیں، مسلمان ممالک پر لازم ہے کہ چار و ناچار انہی کے مطابق عمل کریں۔
اس صورتحال کے بارے میں استاد محمد قطب نے اپنی کتاب ’’واقعنا المعاصر‘‘ میں واضح کیا ہے کہ جب مسلمان اپنے دین کو زندگی کے ہر شعبے میں ایک ضابطہ سمجھ کر اس کے مطابق رہنمائی اختیار کرتے تھے اور دین نے ان کے لیے طریقۂ زندگی، اصول اور راہِ عمل مقرر کیے تھے تو خواہ وہ بڑے فتنے اور طوفانوں کا سامنا کرتے، یہ طوفان انہیں وقتی طور پر متاثر ضرور کرتے لیکن وہ کبھی دشمن کی صف میں شامل نہ ہوئے۔ اس کے برعکس آج عالمِ اسلام میں مختلف قسم کی لاکھوں کی تعداد میں افواج ہونے کے باوجود سب یا تو اپنی اقوام کے خلاف یا دوسرے مسلمان ہمسایہ ممالک کے خلاف جنگ میں مصروف ہو چکی ہیں۔ آج پورے عالمِ اسلام میں کوئی ایسی باقاعدہ منظم فوج موجود نہیں جو اسلام کی خاطر کفار کے مقابل کھڑی ہو، بلکہ ایسی بیشتر قوتیں یا تو اپنی ہی عوام کے خلاف ہیں یا دوسرے مسلمان ملک کے خلاف برسرپیکار ہیں۔
تاریخ اسلام میں مسلمانوں پر ایک کے بعد ایک خطرناک طوفان آئے، رسول اللہ ﷺ کی وفات کے فورا بعد ارتداد کا عظیم فتنہ برپا ہوا، جس نے پورے جزیرۂ عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہزاروں نئے مسلمان عرب مرتد ہو گئے اور انہوں نے خلافت اسلامیہ کے خلاف مختلف محاذ قائم کیے، یہاں تک کہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ کہیں اسلامی سلطنت ہی ختم نہ ہو جائے۔
لیکن سچے مسلمان اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے، اور خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسی ایمانی استقامت کے نتیجے میں مرتدین کو کچلنے کے لیے جزیرۂ عرب کے مختلف حصوں میں گیارہ لشکر روانہ کیے۔ ایک سال سے بھی کم مدت میں ارتداد کا فتنہ ختم کر دیا گیا اور لوگ دوبارہ اسلام کی آغوش میں آ گئے۔
استاد محمد قطب اپنی مذکورہ کتاب میں لکھتے ہیں کہ اس وقت مسلمانوں کا اپنے عقائد، اصولوں، تعلیمات اور احکام پر ایمان اتنا مضبوط تھا کہ ارتداد جیسا عظیم فتنہ، جو قریب تھا کہ پورے جزیرۂ عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا، نہ انہیں ڈگمگا سکا اور نہ ہی ختم کر سکا۔
ارتداد کے فتنے کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا فتنہ برپا ہوا۔ مسلمان دو گروہوں میں بٹ گئے، یہاں تک کہ صحابہ کرام کے درمیان بھی جنگیں ہوئیں، کافی خون بہا اور فتوحات رک گئیں۔ باوجود اس کے کہ اس فتنہ کے بڑے منفی اثرات تھے، مگر پھر بھی مسلمانوں کو مٹایا نہ جا سکا۔ وہ اس آزمائش سے نکل آئے، دوبارہ ایک قیادت کے زیرِ سایہ جمع ہوئے اور پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئے۔
استاد محمد قطب فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد صحابہ کرام کے درمیان جو جھڑپیں ہوئیں وہ اسلام کے خلاف جنگیں نہ تھیں بلکہ اسلام کی خاطر تھیں، ہر گروہ یہی کہتا تھا کہ اگر وہ قیادت کے عہدے پر آ جائے تو دینِ اسلام مزید ترقی کرے گا۔ یہ لڑائیاں اسلام کے بنیادی تصورات پر اختلاف کی وجہ سے نہیں تھیں بلکہ ہر فریق کا یہ دعویٰ تھا کہ جب سیاسی، سماجی اور عسکری حالات ویسے ترتیب پائیں جیسا وہ چاہتے ہیں تو امت ترقی کرے گی اور نظام مضبوط ہو گا۔
بڑے فتنوں اور طوفانوں کے سلسلے میں بعد ازاں صلیبی حملے بھی آئے۔ یورپی بادشاہوں نے خشکی اور سمندر کے راستے فلسطین، شام اور مصر پر بڑے حملے شروع کیے، وسیع علاقے فتح کیے اور طویل عرصے تک فلسطین اور اس کے اطراف میں ایک سلطنت اور چار امارتیں قائم کیں۔ اس کے باوجود مسلمان بکھرے یا ختم نہیں ہوئے۔ چونکہ اس وقت بھی مسلمان اپنے ایمانی و مذہبی اقدار پر مضبوطی سے قائم تھے، اسی لیے عماد الدین زنگی، ان کے بیٹے نور الدین زنگی اور پھر صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہم کی قیادت میں اٹھ کھڑے ہوئے اور تاریخی جنگوں کے بعد انہوں نے وہ سب علاقے آزاد کروائے اور امت مسلمہ کو صلیبیوں کے شر سے نجات دلائی۔
صلیبی جنگوں کے بعد تاتاریوں اور چنگیز کے عظیم حملے ہوئے۔ انہوں نے منگولیا سے لے کر شام تک زمینیں زیرِ نگیں کر لیں، بڑے مسلم خطوں کو تباہ کر دیا، لاکھوں انسان قتل کیے، عباسی خلافت کو مٹایا اور مسلمانوں پر ایسا خوف طاری کر دیا کہ لوگ کہتے تھے اگر کہیں کوئی کہے کہ تاتاری ہار گئے ہیں تو اس پر یقین مت کرنا، کیونکہ وہ منگولیا سے لے کر فلسطین کے مقام عین جالوت تک پہنچ گئے تھے اور کوئی طاقت بھی ان کا مقابلہ نہ کر سکی۔
تاتاری فتنے نے خلافت کو تباہ کر دیا، تاتاریوں نے مسلمانوں کی کتابیں دجلہ میں پھینک دیں، مؤرخین لکھتے ہیں کہ ایک ماہ تک دریا کا پانی کتابوں کی سیاہی سے سیاہ بہتا رہا۔ لیکن یہ عظیم فتنہ بھی مسلمانوں کو اپنے دین، اقدار اور قوت کے سرچشموں سے کاٹ نہ سکا۔ اس دور میں ایسے جید علماء پیدا ہوئے جنہوں نے مسلمانوں اور ان کے حکمرانوں کو جہاد کے میدان میں اتارا، ان کے ایمانوں کو تازہ کیا اور ان کے اندر دینی غیرت اور عزم پیدا کیا۔
ایمانی اقدار سے چمٹے رہنے کا ہی نتیجہ تھا کہ اس وقت ایسے قائدین پیدا ہوئے جو عزم و استقلال میں اپنی مثال آپ تھے۔ انہی کے جہاد اور دعوت کے نتیجے میں تاتاریوں کے اس بڑے طوفان کو نہ صرف روک دیا گیا بلکہ وہی وحشی تاتاری خود مسلمان ہو گئے اور امتِ مسلمہ کا حصہ بن گئے۔ دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح تاتاری طوفان، چنگیزی درندگی، عسکریت اور عظیم منگول سلطنت مسلمانوں کی ایمانی قوت اور اسلامی اصولوں کے سامنے پگھل گئی۔
فتنہ تاتار کے بعد سقوطِ اندلس کا المناک سانحہ پیش آیا اور یورپ میں اسلامی خلافت کا خاتمہ ہوا۔ مسلمانوں کو اندلس چھوڑنے یا جبر کے ذریعے اسلام سے برگشتہ ہونے پر مجبور کیا گیا۔ اندلس کی وہ عظیم اسلامی تہذیب اور علم و دانش کے مراکز، جن سے خود یورپ نے روشنی حاصل کی تھی، مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئے۔ مسلمان پیچھے ہٹ کر شمالی افریقہ، مراکش، تیونس، لیبیا اور مصر بلکہ دوبارہ ایشیا اور حجاز تک سمٹ گئے۔
لیکن اس سب کے باوجود اسلام اور مسلمان نہیں مٹے بلکہ اپنی ایمانی قوت اور اسلامی اصولوں کی بدولت وہ اندلس کے سقوط کے بعد دوبارہ ابھرے اور عثمانی خلافت کی شکل میں اتنے مضبوط ہوئے کہ ان کا اقتدار روس کے شہر پطرس برگ (Petersburg) اور مشرقی یورپ تک پھیل گیا۔ انہوں نے عالمِ اسلام کے تمام منتشر علاقوں کو، جزیرۂ عرب سے لے کر شمالی افریقہ تک، دوبارہ ایک خلافت کے زیرِ سایہ جمع کیا، یہاں تک کہ بحرِ روم (Mediterranean Sea) ایک بار پھر اسلامی سمندر کہلانے لگا۔ یوں خلافتِ عثمانیہ اسلام اور مسلمانوں کی قوت و شوکت کی نئی علامت بن گئی۔
امت کی خطرناک کمزوری کا آغاز کہاں سے ہوا؟
استاد محمد قطب اپنی کتاب ’’واقعنا المعاصر‘‘ میں امت مسلمہ میں فکری کمزوری کے پیدا ہونے اور اس کے اسباب و عوامل پر تفصیل سے بحث کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ کہاں سے شروع ہوا اور مغرب کے مقابلے میں مسلمانوں کا زوال کب سے شروع ہوا۔
استاد کے مطابق اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب مسلمانوں کے نظام اور وہ ادارے جو امت کی قیادت کرتے تھے، اور جن کے ذریعے مسلمانوں میں قوت اور آزادی کا احساس پیدا ہوتا تھا، انہوں نے اپنے عقائد، اقدار و روایات پر شک کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے مغرب کے نظام اور اس کی کامیابیوں کو اپنی نظر میں زیادہ کامل سمجھا، اس کے اخلاق، پالیسیاں، حکومتیں اور ثقافت زیادہ اعلیٰ سمجھی، اور اپنے نظام و اقدار کو کمتر جانا۔ نتیجتاً وہ مغربی تہذیب اور اس کے فکری، ثقافتی اور دینی اصولوں کی طرف مائل ہو گئے اور اپنی دینی اقدار اور معنوی قوت کے عوامل کھو دیے۔
استاد محمد قطب فرماتے ہیں کہ اس وقت تک مسلمانوں میں یہ کیفیت کبھی پیدا نہیں ہوئی تھی کہ وہ اپنے دین، عقائد، قرآن و حدیث، پیغمبر ﷺ، تاریخ اور اپنی معنوی و ثقافتی اقدار کو کمتر سمجھیں۔ اس سے پہلے سیاسی کمزوریاں، استبداد، ظلم، جہالت اور دیگر جرائم تو موجود تھے، سیاسی انتشار بھی موجود تھا، جیسے ابن سبا کی یہودی تحریک کے فتنے، عراق کے بعض شہروں میں زنجیوں کا تسلط، جزیرۂ عرب کے بعض علاقوں میں قرامطیوں کی تحریکیں، اور شام و فلسطین میں صلیبیوں کے مقابلے میں عسکری شکستیں، مگر اس وقت امت روحانی اور معنوی شکست سے دوچار نہیں ہوئی تھی۔ کمزوری کے باوجود امت دوبارہ مضبوط ہو جاتی تھی۔
لیکن جب مسلمان امت روحانی اور معنوی شکست سے دوچار ہوئی، تو انہیں دشمن کے اقدار میں کمال اور ترقی اور اسلامی اقدار میں نقصان و زوال نظر آنے لگا اور جب زوال اور کمال کے معیار بدل گئے، تو ان کے مقدر اور نصیب میں وہی آیا جو ان کی سوچ میں تھا۔ وقت کے ساتھ یہ امت اغیار کی ثقافت، تمدن اور قافلے کا حصہ بن گئی، اور آج امت کے تقریباً دو ارب لوگ ایسے حکمرانوں کے زیرِ اثر ہیں جو انہیں سیاست، فکر، معیشت، تمدن، اخلاق اور دنیا کے ساتھ تعلقات میں ایک ایسے کاروان میں لے جا رہے ہیں جس کی قیادت عالمِ کفر کر رہا ہے۔
آج مسلم ممالک اور مسلم اقوام مغرب کے سیاسی و فکری نظام کا حصہ بن چکے ہیں اور جو بھی اس نظام سے الگ تھلگ رہنے کی کوشش کرتا ہے، اس پر پسماندہ، تنگ نظر، انتہا پسند یہاں تک کہ دہشت گرد کے القابات لگائے جاتے ہیں، جبکہ جو لوگ اسی نظام میں چلنے کو ترجیح دیتے ہیں، انہیں متمدن، ترقی پسند، روشن خیال اور گلوبلائزیشن کے حامی کہا جاتا ہے۔
آج اغیار کے نظام میں شامل ہونے والوں کو اچھے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے، لیکن اپنے اصولوں پر قائم رہنے اور اپنی اسلامی شناخت سے وابستگی کو رجعت پسندی کہا جاتا ہے۔
کاش ہم رجعت پسندی اختیار کریں اور اپنے اصل کی طرف رجوع کریں، جب ہمارا پرچم اندلس (موجودہ سپین) میں لہرایا کرتا تھا۔
یہ وہ زمانہ تھا جس کی طرف نسبت کی وجہ سے وہ لوگ ہمیں رجعت پسند کہتے ہیں، جی ہاں! ہم اسی دور کی فکری بنیادوں کی طرف رجوع کرنا چاہتے ہیں۔ اُس زمانے میں تو روس بھی مسلمانوں کو جزیہ ادا کرتا تھا۔ اُس وقت مسلمانوں کی سرزمینوں میں امن و امان کا یہ عالم تھا کہ اگر کوئی عورت ایک شہر سے دوسرے شہر تک سفر کرتی، تو اُسے صرف اللہ تعالیٰ اور راستے کے درندوں کا خوف ہوتا، اسے سفر میں اپنی عزت یا مال پر دست درازی کا کوئی خوف نہ ہوتا۔
اگر ہم اپنی تاریخ کی طرف لوٹیں تو اسی میں ہماری عزت ہے۔ وہ ایسا دور تھا کہ جب بادل بغداد کے اوپر سے گزرتے اور بارش نہ ہوتی، تو دارالاسلام کے خلیفہ ہارونِ الرشید ان بادلوں کو مسکراہٹ کے ساتھ دیکھتے اور فرمایا کرتے: ’’اے بادل! جہاں جانا چاہو چلے جاؤ، اور جہاں برسنا چاہو وہیں برسو، تمہارا خراج پھر بھی میرے پاس ہی پہنچے گا۔‘‘ اس سے مراد یہ تھی کہ اُس کے ملک و سلطنت کا دائرہ اتنا وسیع تھا کہ اگر بارش مصر، لیبیا، الجزائر، مراکش، سوڈان یا ایران، خراسان، بخارا اور ہند میں بھی ہوتی تو اس کا پھل اور عشر و ٹیکس بغداد پہنچتا۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے اصل مسئلہ پیدا ہوا۔ ایک طرف مسلمانوں میں اغیار کے اقدار کی طرف جھکاؤ پیدا ہوا، اور دوسری طرف ’’لا إله إلا الله‘‘ کے مفہوم کے ساتھ مسلمانوں کا تعلق بدل گیا۔
یہ تبدیلی اس معنی میں تھی کہ پہلے ’’لا إله إلا الله‘‘ مسلمانوں کے دین، سیاست، اخلاق، تہذیب، عسکریت اور ثقافت کا عنوان اور محور تھا۔ اس کلمے کے دو ارکان ہیں،ایک نفی اور دوسرا اثبات۔
نفی کا مطلب یہ تھا کہ مسلمان یہ عقیدہ رکھتے تھے اور اس پر عمل پیرا بھی تھے کہ حق ’’الٰہ‘‘ کے سوا کسی دوسرے ’’الٰہ‘‘ کی طرف سے پیش کردہ دین، حلال و حرام، اخلاق، سیاست، تہذیب، عسکریت، معیشت غرض کسی چیز کو نہیں مانتے، بلکہ اسے کفر اور جاہلیت سمجھتے تھے۔
اور ’’إلا الله‘‘ کے اقرار اور اثبات کا مطلب یہ تھا کہ مسلمان اپنے دل و دماغ میں یہ یقین رکھتے تھے کہ زندگی کے ہر میدان میں چاہے وہ عبادت، سلوک، اخلاق، سیاست، عسکریت، معیشت یا طرزِ زندگی ہو، جو کچھ حق ’’الٰہ‘‘ نے فرمایا ہے، وہی ماننا اور اسی پر عمل کرنا ان کا فرض ہے۔
بعد میں مسلمانوں کا ’’لا إله إلا الله‘‘ کے ساتھ تعلق ایسا بدلا کہ انہوں نے اسے صرف ایک جملہ اور عبارت سمجھ لیا۔ وہ اسے ایک زندہ عقیدہ اور دین کے بجائے ایک لفظی ذکر کے طور پر برتنے لگے، جو صرف ثواب حاصل کرنے کے لیے زبان سے ادا کیا جاتا ہے، اور قانون، سلوک، اخلاق، معیشت، تہذیب، عسکریت اور سماجی روابط میں اس کا کوئی اثر باقی نہ رہا۔
اس غلط فہمی اور ناقص تصور کے نتیجے میں آج کے مسلمان کا حال یہ ہو گیا ہے کہ وہ کہتا ہے کہ میں عقیدے میں مسلمان ہوں، مگر معیشت میں کیپٹلِسٹ (سرمایہ دار) یا سوشلسٹ (اشتراکی) ہوں، میں ’’لا إله إلا الله‘‘ کہتا ہوں اور مسلمان ہوں، مگر اخلاق میں لبرل ہوں، میں کلمہ پڑھتا ہوں مگر سیاست میں ڈیموکریٹ (جمہوری) ہوں، اور یہاں تک کہ کلمہ گو اور مسلمان ہو کر بھی تشریع (قانون سازی) اور فیصلوں میں سیکولر بن گیا ہوں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ کے احکام کی طرف رجوع نہیں کرتا، بلکہ شرعی دلائل کے بجائے اکثریت کی رائے اور انسانی وضع کردہ قوانین کو ترجیح دیتا ہوں اور انہی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
جب مسلمانوں کی زندگی کے تمام شعبوں سے ’’لا إله إلا اللہ‘‘ کے احکام اور مفاہیم مٹ گئے یا مٹا دیے گئے تو یہ کلمہ یہ محض ایک ثواب حاصل کرنے والی عبارت بن کر رہ گئی۔ اور جب مسلمانوں کا ’’لا إله إلا اللہ‘‘ کے ساتھ تعامل بدل گیا تو مسلمان اپنی اقدار و روایات کھو بیٹھے، اور دین صرف ایک روایتی یا قومی نسبت بن کر رہ گیا، عبادت کے علاوہ کلمے کے مفہوم، اوامر، احکام اور نواہی پر عمل نہیں رہا۔ حکومتوں نے مسلمانوں کو زندگی کے مختلف شعبوں میں اغیار کے طور طریقوں اور معیارات اپنانے کی ترغیب دی، انہیں قبول کرنے پر مجبور کیا اور اُن معیارات کے تقدس پر قائل کیا، اور جس نے قبول نہ کیا اُس کو قتل، بمباری، قید اور مختلف قسم کی دھمکیوں سے ڈرایا گیا۔ اس استبدادی کیفیت نے مسلم اقوام میں اغیار کے پیچھے چلنے کو ’’ترقی‘‘ باور کروایا، جبکہ اپنے ہی معیارات پر قائم رہنے کو انتہاپسندی، تنگ نظری، بنیاد پرستی اور پسماندگی کے القابات سے نوازا گیا۔
ایسے حالات کے نتیجے میں امت کی نئی نسلیں اپنی شرعی اور دینی اقدار سے دور ہوتی گئیں، اور اغیار کی اقدار کو اپنانے لگیں۔ انہی اقدار کو اپنانے کے نتیجے میں مسلم ممالک کی افواج، عسکری اداروں، پولیس، سیاستدانوں، تعلیمی اداروں، میڈیا، جامعات، نصاب، سیاسی جماعتوں، تنظیموں، معاشرتی ڈھانچوں اور اخلاقیات پر غیروں کا رنگ چڑھ گیا۔
استاد محمد قطبؒ ایمان میں کمزوری کے حوالے سے ایک اور مسئلے کا ذکر کرتے ہیں، اور وہ یہ کہ بعض اسلامی ممالک میں ایسے لوگ جو علومِ شریعت سے ناواقف تھے مگر خود کو مذہبی روحانیت سے منسوب کرتے تھے، انہوں نے نادان مسلمانوں میں قضا و تقدیر کے بارے میں ایک غلط فہمی پھیلائی۔ وہ لوگوں سے کہتے تھے کہ دنیا میں جو کچھ بھی ہوتا ہے، وہ سب اللہ کی تقدیر کے مطابق ہوتا ہے، اور اب جب کہ مغربی استعمار ہم پر مسلط ہو چکا ہے، تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیر کا حصہ ہے، اور اس کے خلاف مزاحمت کرنا گویا تقدیر کے خلاف لڑنا ہے۔
اس قسم کے جاہلانہ خیالات اور تصورات نے بعض افریقی مسلم ممالک میں مغربی استعمار کے خلاف مزاحمت کے جذبات کو کمزور کر دیا۔ یہ لوگ جسمانی امراض کے علاج میں تو، جو خود بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر تھے، کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرتے اور اس علاج کو تقدیر کے مخالف نہ سمجھتے، مگر جب معاملہ مستعمرین(حملہ آور کفار) کے مقابلے کا ہوتا تو اسے تقدیر کی مخالفت تصور کرتے۔ قضا و قدر کے بارے میں ایسے منفی تصورات کو بعض لوگوں نے روحانیت کا نام دے دیا اور اسی بہانے اپنے آپ کو جہاد و مزاحمت کی شرعی ذمہ داری سے بری کر دیا۔
استاد محمد قطب نے اپنی کتاب ’’واقعنا المعاصر‘‘ میں ایمانی کمزوری کا ایک اور بنیادی سبب یہ بیان کیا ہے کہ مسلمان کی زندگی ایک موروثی اور روایتی شکل اختیار کر گئی ہے، اور ہر چیز رسم و عادت بن گئی ہے۔ مسلمان عبادت اس لیے کرتا ہے کہ اس کے والد، دادا اور سارے رشتے دار نماز پڑھتے ہیں، وہ عبادت کے حقیقی مفہوم سے بے خبر ہوتا ہے۔ ایک شخص اسّی برس تک نماز پڑھتا ہے لیکن نہ اسے نماز کے فرائض و مبطلات کا علم ہوتا ہے، نہ ہی وہ نماز کے الفاظ کا مطلب جانتا ہے۔ یہ تو صرف ایک رسم بن چکی ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں سے شعور و اخلاص پر مبنی بندگی چاہتا ہے۔ عبادت رسم بن گئی، سلوک و اخلاق رسم بن گئے، عورت کا حجاب رسم بن گیا، معاشرتی تعلقات اور لباس رسم بن گئے، حتیٰ کہ میل جول اور مذہبی تہوار بھی رسموں میں بدل گئے۔ وہ روحانی قوت اور خلوص، جس کے ساتھ اللہ جل جلالہ نے اپنے بندوں کو عبادت کا حکم دیا تھا، کمزور ہو گیا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ﴾ (البينة: ۵)
’’اور انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، اس کے لیے دین کو خالص رکھتے ہوئے۔‘‘
عبادت، سلوک، اخلاق، سیاست، تمدن، اور زندگی کے دیگر شعبوں اور اجتماعی معاملات میں بھی اخلاص اور للّٰہیت کی جگہ رسم و رواج نے لے لی ہے۔ حالانکہ للّٰہیت کا مفہوم یہ ہے:
﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ (الأنعام:۱۶۲)
’’کہہ دو بے شک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ ربّ العالمین کے لیے ہے۔
لیکن اب تقریباً ہر چیز رسم و عادت بن چکی ہے۔ جب دین کے تمام مظاہر رسموں میں بدل گئے تو لوگوں نے خود دین کو بھی ایک شرعی فریضے و ذمہ داری کے بجائے ایک رواجی معاملہ سمجھ لیا، ہر شخص نے دین کے بارے میں اپنی الگ تعبیر اختیار کر لی، حتیٰ کہ بعض نے رواجی دین کے نام سے مضامین اور نظریات تک پھیلائے۔
درج بالا تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان اگر اپنی تاریخ کے مختلف ادوار میں جنگوں، مشکلات اور مادی کمزوریوں سے دوچار بھی ہوئے، جب تک وہ ایمان کے لحاظ سے مضبوط رہے، اپنے اصولوں پر قائم رہے، اور اپنے روحانی اقدار کو محفوظ رکھا، وہ ہر شکست و کمزوری کے بعد پھر سے ابھرے اور کامیاب ہوئے۔ لیکن جب ان کے ایمان اور معیارِ حق پر سے اعتماد کمزور ہوا، تو وہ سیاسی، عسکری، تمدنی، اخلاقی اور ثقافتی لحاظ سے اغیار کے تابع بن گئے۔ اگرچہ مسلمانوں کا ایک طبقہ ثابت قدم رہا اور استعمار کے خلاف جہاد و مزاحمت کرتا رہا، لیکن ان کی کوششیں عمومی کمزوری کی تلافی نہ کر سکیں، اور آج بھی کفار عالمِ اسلام پر غالب ہیں۔
اس دگرگوں صورتحال سے مسلمانوں کو نکالنے کی امید کا بڑا انحصار مدارس اور اسلام کے نفاذ کے لیے سرگرم جماعتوں پر ہے، کیونکہ مسلمان حکومتیں کافی حد تک کفار کے زیرِِ اثر ہیں، اور وہ مطلوبہ انداز میں دین کے نفاذ یا مغرب کی سیاسی و فکری بالادستی کے خاتمے کی امید پوری نہیں کر سکتیں۔ چونکہ مدرسے کو یہ عظیم کام انجام دینا ہے، لازمی ہے کہ وہ جمود، پسماندگی اور سطحیت کے ماحول سے نکل آئے اور حقیقی معنوں میں مسلمانوں کی دینی و دنیوی قیادت سنبھالنے کی اہلیت اپنے اندر پیدا کرے۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭
