مدرسہ و مبارزہ | دسویں قسط

مدارس اور دینی جدوجہد کی تحریک

زیرِ نظر تحریر افغانستان سے تعلق رکھنے والے عالم، داعی اور فکری جنگ پر دقیق نظر رکھنے والے مفکر فضیلۃ الشیخ مولوی عبد الہادی مجاہد (دامت برکاتہم)کی پشتو تصنیف ’مدرسہ او مبارزہ‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ کتاب بنیادی طور پر افغانستان میں مدارس اور دینی تعلیم کے نظام کو مد نظر رکھتے ہوئے لکھی گئی ہے ، لیکن کتاب میں بیان کی گئی امت مسلمہ کی حالت اور اس حوالے سے جو مطالبہ ایک افغان عالم ِاور مدرسے سے کیا گیا ہے وہ درحقیقت باقی عالمِ اسلام کے علماء اور مدارس سے زیادہ مطلوب ہے۔ اس لیے کہ افغانستان میں تو آج ایک شرعی و اسلامی حکومت قائم ہو چکی ہے جبکہ باقی عالَمِ اسلام اس سے کہیں پیچھے ہے۔ اس کتاب کے اصل مخاطبین علماء و طلبہ ہیں جن کی تاریخ بالاکوٹ، شاملی، صادق پور اور دیوبند کے پہاڑوں، دروں، میدانوں اور مساجد و مدارس کے در و دیوار پر نوشتہ ہے! ومن اللہ التوفیق! (ادارہ)


باب پنجم: دینی مدارس میں انقلابی روح کی ضرورت

علماء کو کس جذبے اور کن صلاحیتوں کا حامل ہونا چاہیے؟

علماء کو معاشرے میں دینی قیادت کے منصب کی وجہ سے نہایت بلند مقام حاصل ہے اور ان پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے دین کے احکام سکھائیں، امت کے سامنے اسلام کی خوبیاں بیان کریں، باطل نظریات اور گمراہ کن افکار کا علمی و فکری محاذ پر مقابلہ کریں اور افرادِ معاشرہ کو باطل کے خطرات اور نقصان سے باخبر رکھیں۔

ان کی بنیادی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ اپنی قوم کے دینی فہم، اخلاقی بلندی اور صحیح فکری تربیت پرتوجہ مرکوز رکھیں اور دعوت کو اپنی زندگی کا اصل مشن سمجھ لیں۔ ان میں یہ صلاحیت بھی ہونی چاہیے کہ علم و اسلامی تہذیب کے فروغ کا جذبہ ان کے اندر موجزن ہو، معاشرے کی سیاسی، سماجی، اخلاقی اور نفسیاتی حرارت محسوس کر سکیں، اور سیاسی، عسکری اور اجتماعی حالات کے مقابلے میں حکمت و شریعت کے مطابق صحیح فیصلہ کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔

اگر ہمارے علمائے کرام ان ذمہ داریوں کو صحیح طور پر سمجھیں اور ان تقاضوں کو پورا کرنے کی عملی صلاحیت اپنے اندر پیدا کر لیں، تو وہ حقیقی معنی میں انبیاء کے وارث اور قائدانہ شخصیت کے حامل ثابت ہوں گے۔ لیکن اگر وہ ان ہی میدانوں میں مطلوبہ اہلیت سے محروم پائے جائیں تو مذکورہ شعبوں میں ہونے والی کمزوریوں اور نقصانات کی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہو گی۔

علمائے دین ان ذمہ داریوں کو تب ہی ادا کر سکتے ہیں جب انہیں ایسے تعلیمی نصاب اور نظام کے تحت ایک انقلابی شخصیت کے طور پر تیار کیا جائے جس میں دین کے وسیع، ہمہ جہت اور متوازن مضامین شامل ہوں، جو دورِ حاضر کے دینی، فکری، سیاسی، عسکری اور سماجی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی روح سے آراستہ ہوں۔ اور یہ نصاب ایسے اساتذہ کے ذریعے پڑھایا جائے جو نا صرف تدریس کے اہل ہوں بلکہ با اثر بھی ہوں اور اسلام اور امت کے اعلیٰ مصالح سے بھی پوری طرح واقف ہوں۔

قریباً گزشتہ نصف صدی سے، جب سے افغانستان میں علمائے دین اور اسلامی فکر کے حاملین نے جہادی اور سیاسی میدانوں کا رُخ کیا اور بڑی حد تک ان دونوں شعبوں میں قائدانہ مقام حاصل کرکے اشتراکیت پسندوں، ملحدوں اور قوم پرستوں کو عوامی قیادت کے میدان سے دھکیل باہر کیا، تب سے ہی ان مغرب زدہ حلقوں نے بے طرح پریشان ہوتے ہوئے علماء اور حاملینِ فکرِ اسلامی کے خلاف یہ پروپیگنڈہ تیز کر دیا کہ علمائے دین کو بالخصوص اور اہلِ مدارس کو بالعموم سیاسی میدان میں داخل نہیں ہونا چاہیے، بلکہ انہیں صرف دینی تعلیم و تعلم، روحانیت اور سماجی اصلاح میں مشغول رہنا چاہیے، جبکہ سیاست، عسکریت اور حکومت کے میدان اُن ’’ماہرینـ‘‘ کے لیے چھوڑ دینے چاہئیں جو ان کے بقول اس کے ’’اصل‘‘ متخصص و ماہر ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ بات سیکولر فکر پر مبنی ایک دھوکہ ہے جس کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے، اور اسی راستے سے کوشش کی جاتی ہے کہ دین کو سیاسی، حکومتی اور عسکری میدانوں سے باہر نکالا جائے اور تمام امور سیکولر ازم کے تصور کے مطابق چلائے جائیں۔

مغربی افکار کے پیروکاروں کو سمجھ لینا چاہیے کہ اگر افغانستان میں جہادی دور سے پہلے اسلام عملی طور پر نافذ ہوتا، معاشرہ امن و استحکام کی فضا میں زندگی بسر کررہا ہوتا اور سیاسی نظام اور عسکری شعبے مومن اور صالح لوگوں کے ہاتھ میں ہوتے، تو ہمارے علماء پر صرف دینی قیادت اور فکری رہنمائی کی ذمہ داری ہی عائد ہوتی۔ مگر چونکہ یہاں کے دیگر سیاسی و عسکری حلقے سالم قیادت اور صالح نظام کے قیام میں بار بار ناکام ہوئے اور اپنی گمراہی اور اس ملت کی اقدار سے بیگانگی کے باعث ایسے المیوں اور تباہ کاریوں کا باعث بنے کہ جن کی بھاری قیمت عوام کو ادا کرنا پڑی، اس لیے علماء نے اپنے شرعی اور اجتماعی فرض کے تحت سیاسی اور عسکری میدان میں قدم رکھا۔

انہوں نے نا صرف دین، ثقافت اور معاشرتی اقدار کا دفاع کیا، بلکہ سیاست، عسکریت، نظام اور ملت سازی کے میدانوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ حتیٰ کہ ایک ایسی عالمی فوجی یلغار کے مقابلے میں، جو پوری دنیا پر اپنی عسکری و اقتصادی برتری کا دعویٰ رکھتی تھی، شریعت کے نفاذ کے لیے جہاد اور آزادی کے حصول کی اسلامی عوامی مزاحمت کی قیادت بھی انہی علماء اور دینی طلبہ نے سر انجام دی۔

اور اب جبکہ علماء اور مدرسے کے طالبان بڑے بڑے کاموں کی انجام دہی میں مصروف ہیں اور دین و دنیا دونوں کی کشمکش میں عالمی قوتوں کے مقابل کھڑے ہیں، تو ضروری ہے کہ مدرسے کا نصاب بھی ایسے افکار و مضامین پر مشتمل ہو جو اپنے طلبہ میں انقلابی روح، قائدانہ صلاحیتیں اور عملی استعداد پیدا کریں۔

انقلاب کا مفہوم کیا ہے؟

انقلاب سے وہ سطحی سیاسی اور عسکری اقدامات مراد نہیں جنہیں لوگ جماعتوں کی تشکیل، حکومتوں کے تختے الٹنے، مظاہروں کے انعقاد، ’’مردہ باد‘‘ اور ’’زندہ باد‘‘ کے نعرے لگانے یا بیرونی نظریات کی بنیاد پر فاشسٹ اور پولیس ریاستیں قائم کرنے کے کلچر میں دیکھتے ہیں۔

بلکہ انقلاب سے مراد یہ ہے کہ علمائے دین اپنے اندر وہ علمی، فکری، سیاسی، سماجی، نفسیاتی اور عسکری صلاحیتیں پیدا کریں جن کی مدد سے وہ معاشرے کو فکری، دینی، اخلاقی، سیاسی، قانون سازی کے اور تہذیبی بگاڑ سے نجات دلا سکیں، اور دین داری، آزادی، انصاف، خوش حالی اور ہر طرح کی بھلائی کی طرف اس کی رہنمائی کر سکیں۔

علمائے دین کو چاہیے کہ اس مثبت اور حقیقی انقلاب کے ذریعے اپنی قوم کو قدیم و جدید جاہلیت، ظلم، تاریکی، غربت، داخلی اختلافات، محکومی، دین سے بے پرواہی اور سامراجی قوتوں اور ان کے مقامی ہرکاروں کے تسلط سے باہر نکالیں۔ انہیں ایسا فکری اور عملی نظام قائم کرنا چاہیے جو ان تمام مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو نیز وہ نظام یہ بھی یقینی بنائے کہ نہ معاشرے اور ریاست کو بیرونی قوتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے اور نہ ہی خود علماء سیاسی، سماجی اور فکری تنہائی کا شکار ہونے پائیں۔

علمائے دین کب انقلابی بن سکتے ہیں؟

علمائے دین میں مذکورہ بالا انقلابی روح اُس وقت پیدا ہو سکتی ہے جب اس کے لیے دو بنیادی امور سر انجام دیے جائیں:

  1. علمائے دین کو ایک مضبوط علمی، فکری اور انقلابی نصاب و نظریے سے لیس کیا جائے، اور ان کے اندر اپنے عقائد، اصولوں اور اقدار پر ایسا پختہ یقین پیدا کیا جائے کہ کوئی بھی لالچ، منصب یا دنیاوی وفائدہ ان کے اس یقین کو متزلزل نہ کرسکے، نہ ہی وہ ان کے نفاذ اور پاسداری کے راستے میں کسی دھمکی سے خوف کھائیں اور نہ ہی ان پر عمل کرنے میں کبھی تھکاوٹ یا تذبذب محسوس کریں۔

  2. علمائے دین عملی انقلابی جدوجہد میں شامل ہوں، تاکہ وہ اپنے عقائد، منصوبوں اور اقدار کو عملی میدان میں نافذ کر کے اس کے حقیقی نتائج دیکھ سکیں اور یہ اصول محض نظری بحث یا خیالی فلسفہ بن کر نہ رہ جائیں۔

انقلابی تعلیمی نصاب کی تاثیر اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب طلباء کو انقلابی ماحول اور عملی میدان سے جوڑ دیا جائے۔ اس حقیقت کو ذیل کی عملی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے:

آج کے دور میں بہت سے مدارس، بڑے بڑے علماء، اسلامی تحریکیں اور فکری ادارے دینِ اسلام کے لیے سرگرم ہیں اور لوگوں کی تربیت کرتے ہیں، لیکن ان سب کی محنت اور تربیت کے وہ اثرات پیدا نہ ہو سکے جو مرحوم ملا محمد عمر مجاہد کے طرزِ عمل کے نتیجے میں ظاہر ہوئے۔ ان کے طرز پر ایک نظام قائم ہوا، شر و فساد کا راستہ بند ہوا، دنیا کی بڑی طاقتوں کا مقابلہ کیا گیا، علماء بیدار اور انقلابی بنے، اور دینِ اسلام کے بہت سے مفاہیم اپنے شرعی معنوں میں دوبارہ زندہ ہوئے۔

یہ سب اس لیے ممکن ہوا کہ اُن کی بات محض بات نہ تھی، بلکہ اس کے پیچھے ایک عملی لائحہ عمل موجود تھا۔ انہوں نے علماء کے لیے ایسا انقلابی ماحول قائم کیا جس میں وہ اسلامی شریعت، فکر اور ثقافت کو عملی میدان میں نافذ کر سکیں۔ ملا محمد عمر مجاہد کا طرزِ عمل کسی جذباتی یا غیر مرتب حکمتِ عملی پر مبنی نہ تھا جس کی بنیاد ذاتی ذوق ہو، بلکہ وہ ہر معاملے میں علمائے اسلام سے رجوع کرتے تھے اور ساتھ یہ بھی فرماتے تھے کہ:

’’اگر میں کوئی غلط قدم اٹھاؤں اور آپ مجھے نہ روکیں، تو قیامت کے دن میرا ہاتھ ہو گا اور آپ کا گریبان۔‘‘

اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ جب فکری تربیت اور تعلیمی جدوجہد کے ساتھ عملی میدان بھی موجود ہو، تو علماء میں حقیقی معنی میں انقلابی مزاج پیدا ہوتا ہے۔

علماء کو انقلابی کیوں ہونا چاہیے؟

آخر علمائے دین کو انقلابی کیوں ہونا چاہیے اور وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے ذمہ دار کیوں ہیں؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ ذمہ داری خود شریعت نے ان کے کندھوں پر رکھی ہے۔ علماء کا فریضہ صرف مسجد کی امامت، خطابت یا درسی کاموں تک محدود نہیں، بلکہ معاشرے کی اصلاح، حقانی نظام کا قیام اور باطل کے نظاموں کا خاتمہ بھی انہی کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ کا ارشاد ہے:

«إِنَّ العُلَمَاءَ وَرَثَةُ الأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّ الأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، إِنَّمَا وَرَّثُوا العِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ» (رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ)

’’ بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ انبیاء نے (اپنی میراث میںدینار و درہم نہیں چھوڑے، بلکہ علم چھوڑا ہے، پس جس نے اس علم کو حاصل کر لیا اُس نے عظیم حصہ پا لیا۔‘‘

اب آئیے اس نکتے پر غور کریں کہ آیا انبیاء علیہم السلام کا علم ایسا تھا کہ صرف ہماری طرح مسجد کی امامت ہی اس کے ذریعے انجام دیتے؟ یا وہ ایسا انقلابی اور متحرک علم تھا جس کے ذریعے باطل نظاموں کو گرا یا جاتا اور ایک صالح و عادل نظام وجود میں آتا؟ وہی علم تھا جس سے طاغوتی طاقتیں ٹوٹتی تھیں، مظلوموں کو سہارا ملتا تھا، فساد ختم ہوتا تھا اور اصلاح پھیلتی تھی، اور بڑے بڑے تمدنی اور حکومتی نظام اسی علم کی بنیاد پر قائم ہوتے تھے؟

جی ہاں! انبیائے کرام کا علم ایک زندہ، بامقصد اور پر اثر علم تھا، اور اسی علم نے معاشروں پر گہرا اثر چھوڑا۔ انہی کے علم کی برکت سے ایک جاہلی معاشرہ ایک پاکیزہ اور مسلم معاشرے میں تبدیل ہوا۔ شرک پر مبنی تصورات اسلامی عقائد اور توحیدی افکار میں ڈھل گئے۔ بگڑے ہوئے اخلاق نیک اور بلند اسلامی اخلاق میں تبدیل ہوئے۔ عدل اور اسلامی نظام کا قیام، ظلم و فساد کا خاتمہ، اور امن و امان کا پھیل جانا، یہ سب انبیاء کے اُسی علم کا نتیجہ تھا۔

آج جب مسلم دنیا میں شرعی نظام قائم نہیں ہوتا، عدل نافذ نہیں ہوتا، باطل حکومتیں قائم رہتی ہیں، اسلام اپنی اصل صورت میں نافذ نہیں ہوتا، کفری نظریات اور مغربی نظام غالب ہیں، امت ظلم، غربت اور غلامی سے آزاد نہیں ہو پاتی، تو یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ علماء ابھی تک انقلابی نہیں بن سکے۔ ان کا علم مسجد کی دیواروں میں محصور ہے، اُس میں وہ روح، وہ حرارت اور وہ عمل کی قوت نہیں جو رسول اللہ ﷺ نے بطور میراث چھوڑی تھی اور جس پر صحابہ کرام اور سلف الصالحین نے عمل کیا تھا۔

صحابہ کرام اور تابعین مدینہ اور عرب کی سرزمین سے پا پیادہ نکل کر آرمینیا ، ہندوستان اور چین تک اسلام کی روشنی پہنچا گئے۔ لوگوں نے نا صرف اسلام قبول کیا بلکہ اسی علم کی بنیاد پر اپنے تمدن اور نظام قائم کیے یہاں تک کہ چین کا بادشاہ بھی انہیں جزیہ ادا کرتا۔ یہ سب اس لیے ممکن ہوا کہ ان کے پاس عملی، زندہ اور انقلابی علم تھا۔

مگر آج صورتِ حال یہ ہے کہ مسلم ممالک میں علماء کے علم سے نہ کوئی نظام قائم ہوتا ہے، نہ معاشرہ اس علم سے منظم ہوتا ہے، اور نہ ہی معیشت، سیاست اور عدلیہ جیسے بڑے شعبے اس سے چل پاتے ہیں۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ مدارس میں علم کو ناقص، غیر متوازن اور محدود انداز میں پڑھایا جاتا ہے، اور پھر یہ کہ وہاں طلبہ کو عمل، قیادت اور انقلابی فکر کی روح سے آراستہ نہیں کیا جاتا۔ انہیں صرف اس بات کے لیے تیار کیا جاتا ہے کہ وہ مسجد کی امامت کر سکیں یا پھر وہی پڑھی ہوئی کتابیں کسی اور کو پڑھا سکیں۔

اگر علمائے دین کا تعلق علم کے ساتھ آج بھی اسی حد تک محدود رہے کہ وہ محض کتاب سے معلومات اپنے ذہن میں منتقل کریں، پھر انہیں دوبارہ کتاب میں منتقل کر دیں، اور کتاب الماری میں رکھ دی جائے، جبکہ معاشرے میں عملی حکمرانی، لوگوں کی زندگیوں پر اثر رکھنے والے افکار، ثقافت اور قوانین دشمنوں کے ہاتھ میں ہوں، تو ایسے علم سے نہ کبھی کوئی انقلاب برپا ہو سکتا ہے اور نہ ہی کوئی مثبت تبدیلی جنم لے سکتی ہے۔ آج علمائے کرام نے اپنے مدارس کا نصاب نہایت سادہ اور چھوٹے، محدود اہداف کے حصول کے لیے مرتب کیا ہوا ہے، حالانکہ افغانستان کی موجودہ صورتِ حال، اور یہاں اسلام اور مسلمانوں کو درپیش چیلنجز، تعلیمی نصاب میں گہری اور اسٹریٹجک تبدیلیوں، اور وسیع اسلامی تصورات کی شمولیت کا تقاضا کرتے ہیں۔

علمائے دین: صرف مساجد کے امام یا دینی و سیاسی دونوں قیادتوں کے اصل وارث؟

اسلام میں دینی اور سیاسی قیادت کی ذمہ داری اُس شخص کے سپرد ہوتی ہے جو دین کی گہری معرفت رکھتا ہو۔ اس بات کی دلیل یہ ہے کہ پیغمبرِ اسلام، حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول بھی تھے، مسلمانوں کے دینی قائد بھی، اور اسلامی حکومت کے سربراہ بھی۔ وہ مدینہ منورہ کی مسجد کے امام بھی تھے، اور اسی مسجد سے اسلام کی اشاعت اور باطل کے خاتمے کے لیے لشکر بھی روانہ فرماتے تھے۔ آپ ﷺ نے دین بھی سنبھالا اور دنیا بھی، مسلمانوں کو حلال و حرام اور شریعت کے احکام بھی سکھائے، فتاویٰ بھی دیے، اور عدالتی و جزائی احکام بھی نافذ فرمائے۔ ان تمام جہتوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس طرح دین اور دنیا دونوں کے معاملات کی نگرانی رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داری تھی، اسی طرح یہ ذمہ داری آپ کے بعد آپ کے علم کے وارثوں یعنی علماء کے سپرد بھی ہے۔

رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایسا نہیں ہوا کہ دینی قیادت مسجد یا دارالافتاء تک محدود ہو اور دنیوی قیادت کسی محل میں کسی بادشاہ کے ہاتھ میں ہو، بلکہ یہ دونوں قیادتیں مکمل طور پر رسول اللہ ﷺ ہی کے ہاتھ میں تھیں۔ رسول اللہ ﷺ کے بعد امت کی سب سے عظیم شخصیت، سیدنا ابوبکر صدیق ﷜، بھی مسجد کے امام تھے اور مسلمانوں کے سپہ سالار بھی، انہوں نے مدینہ منورہ کی اسی مسجد سے ایک ہی وقت میں گیارہ لشکر فتنۂ ارتداد کے خاتمے کے لیے روانہ کیے۔

رسول اللہ ﷺ کے دوسرے عظیم صحابی سیدنا عمر فاروق ﷜کا حال بھی یہی تھا، وہ مسجد کے امام بھی تھے اور مسلمانوں کے امیر بھی۔ اسی مسجدِ نبوی سے وہ کسریٰ و قیصر کی عظیم الشان سلطنتوں کو گرانے کے عملی اقدامات کرتے تھے، اور ان کے لشکر مشرق و مغرب تک فتوحات حاصل کرتے چلے جاتے تھے۔ انہوں نے ایسا عدل و انصاف کا نظام قائم کیا جس سے دنیا بھر کے کفار لرزتے تھے۔ وہ احتساب کا نظام بھی مسجد ہی سے نافذ کرتے تھے اور اپنے گورنروں اور ماتحت حکام سے سختی کے ساتھ پوچھتے تھے: ’’مِنْ أَیْنَ لَكَ هٰذَا؟‘‘ یہ تم نے کہاں سے حاصل کیا؟ اسی ایک فقرے نے خلافت کے پورے دائرے سے ہر طرح کے فساد کا قلع قمع کر دیا تھا۔ خلیفہ اول ابوبکر صدیق اور امیرالمومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہما کا مسجد اور امامت سے تعلق اتنا مضبوط تھا کہ سیاست انہیں مسجد کی امامت سے غافل نہ کر سکی۔ حتی کہ عمر ﷜تو مسجد کی محراب ہی میں شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔

تیسرے خلیفہ، سیدنا عثمان ﷜بھی مسلمانوں کے دینی پیشوا اور مسجد نبوی کے امام تھے اور ساتھ ہی ایک ایسی وسیع اسلامی حکومت کے سیاسی قائد اور امیرالمومنین تھے جس کی فتوحات شمالی افریقہ سے لے کر خراسان، آرمینیا اور ہندوستان کی سرحدوں تک پھیلی ہوئی تھیں۔ چوتھے خلیفہ، حضرت علی ﷜ نے بھی اپنا مکمل نظام مسجد سے چلایا۔ اس طرح انہوں نے مسلمانوں کو عملی طور پر یہ سبق دیا کہ امت کی سیاسی قیادت کا اصل مرکز بھی مسجد ہے اور عبادت کا مرکز بھی مسجد ہی ہے۔ یوں خلفائے راشدین کے پورے دور میں مسلمانوں کی دینی اور سیاسی قیادت مسجد سے ہی جاری رہی، اور مسجد کے امام نے ایک عظیم اسلامی حکومت کی قیادت کی ذمہ داری سنبھالی۔

تاریخ اسلام میں ہر اس موقع پر کہ جب مسلمانوں کی دینی اور سیاسی قیادت متحد رہی، اسلام مشرق و مغرب کی وسیع سرزمینوں تک پھیلا، لیکن جب سیاست مسجد سے جدا ہو کر محلوں اور درباروں میں منتقل ہوگئی تو امت کمزور ہوگئی، شریعت کے نفاذ میں سستی پیدا ہوئی، حکمران داخلی اختلافات میں الجھے، فتوحات رک گئیں اور اکثر اوقات سیاست اپنی اصل سمت سے ہٹ کر گمراہ ہو گئی۔ اسلامی حکومتوں کی کمزوری اور مسلمانوں کے اندلس، مشرقی و مغربی ترکستان اور اسلامی ہندوستان جیسی عظیم سرزمینیں کھو دینے کا باعث دین و سیاست کی یہ علیحدگی ہی بنی۔ لاکھوں مسلمان دینی و سیاسی ضعف کا شکار ہوکر صلیبیوں، اشتراکیت پسندوں اور ہندوؤں کے زیر تسلط آ گئے اور مسلم معاشروں میں مستعمرین کے زیرِ اثر کمیونزم، جمہوریت، لبرل ازم، قوم پرستی، ہیومن ازم اور معاصر جاہلیت کے مختلف نظریات پھیل گئے۔ یہ سب اس لیے ہوا کہ سیاسی قیادت ان لوگوں کے ہاتھ سے نکل گئی جنہوں نے سیاست، نظام اور عسکری امور کو دین کے مطابق چلایا تھا۔

انقلابی علمائے کرام کا کارنامہ؟

جب طویل عرصے کے بعد دینی اور سیاسی قیادت ایک بار پھر علمائے کرام کے ہاتھ آئی تو عالمِ اسلام میں سیاسی اور عسکری نقشہ اس طرح بدل گیا کہ دنیا بھر کے کفار، مجاہد علماء کے مقابلے میں یکجا ہو گئے اور ان کے خلاف ایسی خونریز جنگ چھیڑ دی جو عالمی جنگوں کے بعد سب سے بڑی اور شدید جنگ تھی۔

سوویت یونین اور اشتراکی قوتوں کی شکست کے بعد لوگ کہا کرتے تھے کہ دنیا مغرب کے حق میں یک قطبی ہو گئی ہے۔ لیکن جب مغرب کے مقابلے میں دینی اور عسکری لحاظ سے علماء نے ثابت قدمی کے ساتھ قیادت سنبھالی تو دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ سیاسی، دینی اور نظام کے اعتبار سے عالمی نقشہ دوبارہ دو قطبی بن گیا، جس کی ایک جانب علماء کھڑے ہیں اور دوسری جانب وہ طاقت کہ جو خود کو دنیا کا واحد غالب قطب سمجھتی تھی۔

سیاسی اور دینی فکر کی بالا دستی کے اعتبار سے دنیا کا دو حصّوں میں بٹ جانا اُس وقت ممکن ہوا جب علماء نے گوشہ نشینی کی فکر و فضا سے نکل کر پھر سے میدانِ فکر و جدوجہد میں قدم رکھا۔ انہوں نے وہ مقام دوبارہ حاصل کیا جو ان سے چھن گیا تھا۔ چاہے وہ ہندوستان میں شیخ الہند محمود الحسن دیوبندی ہوں، لیبیا میں محمد بن علی السنوسی اور عمر المختار، مغرب میں محمد بن عبد الکریم الخطابی، الجزائر میں عبد الحمید بن بادیس، مصر میں حسن البنّا، افغانستان میں جلال الدین حقانی اور ان کے مجاہد علماء ساتھی یا بالآخر ملا محمد عمر مجاہد اور عالمِ اسلام کے دیگر انقلابی علماء ہوں۔ جب ان علماء نے دوبارہ انقلابی مزاج، سیاست اور جہاد کے میدان میں استقامت کا ثبوت دیا، تو یہی وہ لمحہ تھا جب دنیا کی بڑی طاقتوں کو ان کے مقابلے میں عسکری شکست کا مزہ چکھنا پڑا۔

افغان علماء کو دیگر علماء سے زیادہ انقلابی کیوں ہونا چاہیے؟

افغان علماء کو دیگر مسلم ممالک کے علماء کے مقابلے میں زیادہ انقلابی کیوں ہونا چاہیے، اس کے دلائل درج ذیل ہیں:

  1. دیگر مسلم ملکوں کے بہت سے علماء نے اپنے لیے صرف مسجد کی ذمہ داری کو کافی سمجھا ہے اور دیگر میدانوں میں ان کا کوئی فعال کردار نہیں۔ کچھ نے خانقاہ سنبھال لی اور دین کے روحانی پہلو اور لوگوں کی اصلاح ہی کو اپنی کل مصروفیت بنا لیا۔ بعض نے صرف تدریس اور تعلیمی خدمات تک خود کو محدود رکھا اور علماء کی تربیت پر ہی اکتفا کیا۔ ایک طبقہ صرف تصنیف، تحقیق اور ترجمہ میں مشغول ہے اور کسی پُرسکون گوشے میں بیٹھ کر اسلامی جدوجہد کے عملی میدانوں سے الگ تھلگ رہتا ہے، اور یہی اس کی کل کائنات بن گئی ہے۔ لیکن افغان علماء نے اس کے برخلاف بہت بڑے بڑے کاموں کو اپنی ذمہ داری سمجھا ہے، جیسے عوام کی فکری رہنمائی اور باطل نظریات و جماعتوں کے خلاف جدوجہد، سیاسی میدان میں فعال شرکت، حکمرانی، نظامِ حکومت اور پورے ملک کے لیے قانون سازی، شریعت کا نفاذ، جدید طرز کے ریاستی نظم و نسق اور بدعنوانی کا خاتمہ، عالمی برادری سے اسلامی اصولوں کے مطابق سفارتی تعلقات، ملک کی اقتصادی بحالی اور صنعتی ترقی، قوم کے دینی، تاریخی اور سماجی اقدار کا تحفظ، عالمی طاقتوں کی حملہ آور اور قابض قوتوں کے خلاف کئی دہائیوں پر مشتمل مسلح جہاد، اس جہاد کے لیے لاکھوں لوگوں کو فکری، روحانی اور عملی طور پر تیار کرنا، اپنے چار کروڑ عوام کی قیادت اور انہیں امن و امان فراہم کرنا، دنیا کے مسلمانوں کے سامنے ایک کامیاب اسلامی نظام کی عملی مثال پیش کرنا اور اس نوعیت کے بے شمار دیگر بڑے کام، جنہیں افغان علماء نے اپنا فریضہ سمجھا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ انہیں ان تمام میدانوں میں سرگرم ہونے کا موقع بھی میسر ہے، اور لاکھوں عوام ان کی پشت پر کھڑے ہیں۔ جبکہ باقی مسلم ممالک میں علمائے دین ان مواقع سے محروم ہیں۔ زندگی کے اکثر میدان سیکولر قوتوں کے قبضے میں ہیں اور علماء کو اثر انداز ہونے سے محروم رکھا گیا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ افغان علماء میں سیاسی، فکری اور انقلابی صلاحیتیں دیگر تمام ملکوں کے علماء کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور نمایاں ہوں۔

  2. پورے عالمِ اسلام میں علمائے دین کے خلاف اتنے دشمن کبھی اکٹھے نہیں ہوئے جتنے افغان علمائے دین کے مقابلے میں جمع کیے گئے۔ افغان علماء کے سیاسی، عسکری، فکری اور معاشرتی اثر و رسوخ اور افغانستان کے اسٹریٹیجک محلِ وقوع کو دیکھتے ہوئے، یہاں علمائے دین کے خلاف ایسا عالمی عسکری اتحاد قائم کیا گیا تھا کہ عالمِ کفر کی طاقتوں نے ایشیا، یورپ، آسٹریلیا، امریکہ اور کینیڈا سے لاکھوں فوجیں، ہلکا و بھاری جدید اسلحہ، زمینی، فضائی اور بحری جنگی ساز و سامان، مضبوط خفیہ ادارے، طاقتور پروپیگنڈہ کرنے والا میڈیا، تحقیقی مراکز اور مختلف شعبوں کے لاکھوں تربیت یافتہ ماہرین یہاں جھونک دیے۔

انہوں نے علمائے دین اور ان کی سیاسی و عسکری فکر کو سمجھنے اور ختم کرنے کے لیے ہزاروں ارب ڈالر خرچ کر ڈالے۔ یہ ساری حقیقت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ پوری دنیا کے کفار اور ان کے مسلمان نما اتحادی اس خطے میں علمائے دین کے اثر و نفوذ سے سخت خوف زدہ ہیں۔

  1. دشمنانِ دین نے یہاں علماء کو سیاسی میدان سے ختم یا کمزور کرنے کے لیے ان کے خلاف اپنی قوم کو ورغلانے میں بے پناہ کوششیں اور وسائل صرف کیے۔ مختلف اداروں، انٹیلی جنس، پولیس، اربکی اور دیگر محکموں کے دائرے میں لاکھوں افراد کو علمائے دین اور ان کی سیاسی فکر کے خلاف لڑایا گیا۔ افغان علماء کے مقابل صف آرا عسکری، مادی، پروپیگنڈہ اور سیاسی طاقت اور ان کی دشمنی کی شدت و پیچیدگی افغان علماء سے سیاست اور انقلابی مزاج کے تمام میدانوں میں مضبوطی کا تقاضا کرتی ہے کیونکہ دشمن نے ان کا نظام و حکومت تباہ کیا، مدارس کو مسمار کیا، محراب پر قبضہ کیا، عوامی اجتماعی ڈھانچے کو بدلنے کی کوشش کی، عوام کی ثقافت میں تبدیلی کی، ان کے فکر و عقیدہ کے پھیلاؤ پر پابندی عائد کی اور اپنے مقاصد کے لیے تمام وسائل استعمال کیے۔ لہٰذا اگر افغان علماء آج بھی انقلابی نہیں بنتے، اور مستقبل میں معاشرے کے لیے ایک انقلابی اور قائدانہ نسل تیار کرنے کے مقصد سے مدارس میں ایک انقلابی اور درست سمت کی طرف گامزن تعلیمی نصاب فراہم نہیں کرتے، تو یہ ان کی ایک بہت بڑی غلطی ہو گی۔

مذکورہ صورتِ حال کو سامنے رکھتے ہوئے، یا تو ہم اپنے اندر یہ صلاحیتیں پیدا کریں کہ نظام کی تشکیل، شریعت کے نفاذ، عوام کی آزادی و خودمختاری کے تحفظ، سرزمین کے دفاع، اقتصادی ترقی، اسلامی حکمرانی، دینی و اخلاقی اقدار کے بقا اور دیگر عظیم مقاصد کو پورا کر سکیں، بصورت دیگر اپنے فرائض کو درست طریقے سے انجام نہ دینے کے باعث ہم اسلام کی بدنامی کا سبب بن جائیں گے۔ کیونکہ ہم ہر معاملے میں اسلام اسلام کے نعرے تو لگاتے ہیں، لیکن ہمارے اعمال اسلام کے مطابق نہیں ہوتے۔

ہم جو مدارس سے انہی بڑے کاموں کے لیے نکلے ہیں، اور اتنے عظیم میدانوں پر قابض ہوئے ہیں، اور دنیا کے تمام نظاموں اور قوانین کے مقابلے میں جنگ، سیاست، معیشت، عسکری امور، امن و امان، نظامِ حکومت، تعلیم، اخلاق اور عوام کی معاشرتی و سیاسی قیادت کے میدانوں میں ایک الگ راستہ اختیار کیا ہے، اور ان تمام شعبوں کی قیادت ہمارا ہدف ہے، ایسے میں جب ہمارے مدارس کے تعلیمی نصاب میں ان مقاصد اور موضوعات پر ایک بھی مکمل نصابی کتاب موجود نہیں جس کے ذریعے طالب علم کا امتحان لیا جا سکے، تو پھر ہم آنے والی نسلوں کو ان عظیم اہداف کے لیے کس طرح تیار کر سکیں گے؟

اگرچہ ہم ایرانی شیعہ انقلابی ملاؤں سے عقیدے اور مذہب کا اختلاف رکھتے ہیں، لیکن اگر ہم انہیں اور ان کے انقلاب کو ایک مثال کے طور پر دیکھیں، تو واضح ہوتا ہے کہ وہ بھی دینی مدارس سے نکلے، اور اپنے سیاسی و مذہبی عقیدے کے مطابق انقلابی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور اپنا نظام قائم کیا۔ چونکہ انہوں نے اپنے اندر نظام چلانے اور معاصر انقلابی مزاج کی صلاحیتیں پیدا کیں، اس لیے آج تک ان کا نظام قائم ہے۔ وہ اپنی سرزمین، فضا اور سمندر پر مکمل تسلط رکھتے ہیں، مضبوط عسکری قوت اور جدید صنعت کے مالک ہیں، اور کسی کی پروا کیے بغیر اپنے حکومتی امور انجام دے رہے ہیں۔

ہم افغان اگرچہ عسکری جنگوں میں ان سے بھی زیادہ قربانیاں دے چکے ہیں، اور اسلامی نظام کے قیام کے لیے گزشتہ چالیس سال سے زائد عرصے میں بھاری قیمت ادا کر چکے ہیں، لیکن ہماری جہادی تنظیمیں آخرکار دوبارہ دشمن کے صف میں شامل ہو گئیں۔ اس طرح کے ناکام و تلخ تجربات سے بچنے کے لیے افغان علمائے دین کو اس بار اپنے اندر مکمل اور حقیقی انقلابی صلاحیتیں پیدا کرنی ہوں گی۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

Exit mobile version