بسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
دشمن کے خلاف اعلانِ جہاد
-
لومڑی کو اس کی پناہ گاہ سے نکالنے1(إخراج الثعلب) یہ مقولہ ابو جعفر المنصور نے نفسِ زکیہ محمد بن عبد اللہ بن حسن (رحمہ اللہ) پر قابو پانے کے لیے لمبی سلسلہ وار چالوں کے بعد کہا تھا۔ کی اسٹریٹجی (اشتعال انگیزی)
آپ اس وقت تک مؤثر طریقے سے نہیں لڑ سکتے جب تک کہ آپ اپنے دشمنوں کی شناخت نہ کر لیں، اپنے دشمنوں کو ان کے چھپنے کی جگہوں سے نکالنے کا طریقہ سیکھیں، ان کے خلاف خفیہ طور پر اعلانِ جنگ کریں، سادہ لوح نہ بنیں۔ کچھ دشمنوں کے ساتھ تصفیہ ناممکن ہے، اور کوئی درمیانی راہ بھی نہیں۔ اللہ سے مدد طلب کریں اور ہمت نہ ہاریں۔ آپ کو جن رکاوٹوں کا سامنا ہے، نہ تو وہ قدرتی عوامل ہیں اور نہ ہی دیگر افراد، بلکہ آپ کے سامنے واحد رکاوٹ آپ خود ہیں۔ جب آپ ناکامی اور گھبراہٹ محسوس کرنے لگیں، جب آپ کو صحیح سمت کے احساس کا فقدان ہو، جب آپ دوست اور دشمن میں تمیز نہ کر پائیں، تب آپ، اپنے آپ کے علاوہ کسی کو ملامت نہ کریں۔
عسکری قوت خواہ وہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، اگر وہ اپنا قوتِ حوصلہ کھو دے تو وہ سقوط کر جاتی ہے، صرف مضبوط دل رکھنے والے ہی سب لوگوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مشکل حالات میں وہی نجات دہندہ ہوتے ہیں۔ جنگ کی طرف لوٹنا یا نجات پا لینا، ان میں سے ہر ایک پہلو دوسرے کی طرف لے جاتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ واپسی کا فیصلہ اتنا بھر پور ہو جس سے مہم میں کامیابی حاصل ہو جائے، اور ان مواقع پر لوگوں کی اصلیت اور ان کی نفسیاتی قوت ظاہر ہوتی ہے جو اللہ نے انہیں عطا کی ہوتی ہے۔
نَفْسُ عصامٍ سوّدَتْ عِصامَا
و علمتهُ الكرّ والإقداما
وصَيّرَتْهُ مَلِكًا هُمَامَا
حتى علا، وجاوزَ الأقواما
’’عصام کی روح نے اسے خود وداری سکھائی، حتی کہ اسے جنگجو اور دلیر بنا دیا۔ اور اسے ایک طاقتور بادشاہ بنا دیا ، یہاں تک کہ وہ سر بلند ہوا اور دیگر اقوام پر سبقت لے گیا۔‘‘
دور حاضر میں، دشمن نے بالواسطہ طور پر تنازع کو برپا کیا ہے اور دشمنی کو پوشیدہ رکھنے میں مہارت حاصل کر لی ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ مڈھ بھیڑ کے معاشرتی، سیاسی، اقتصادی اور عسکری اصول بدل چکے ہیں۔ ماضی قریب اور موجودہ دور میں، جنگ اور تنازع کا انتظام دولت مند خاندانوں اور ارب پتی سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں آ چکا ہے، جو سیاستدانوں، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور بیشتر ریاستی اداروں کو اپنے مقاصد کے لیے تابع بنا لیتے ہیں۔ ٹیلی ویژن، سینما اور انٹرنیٹ کے ذریعے میڈیا، ناقابلِ تصور حد تک چھا گیا ہے اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے سبب میڈیا کے ذرائع اور وسائل متعدد اور متنوع ہو چکے ہیں، جہاں سے اقدار و ثقافت، رسوم و رواج اور روایات و عادات دوسروں کے ہاں برآمد کی جاتی ہیں۔ اس سے بھی خطرناک اور بدترین پہلو یہ ہے کہ میڈیا نے لوگوں کے ذہنوں کو ابراہیمی مذاہب کے اتحاد2یہ ایک مضحکہ خیز اتحاد ہے جس میں مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کے حکمران شامل ہیں تاکہ اسے ہر قسم کی اسلامی تحریکوں، خصوصاً مسلح تحریکوں کے خلاف ’نیٹو‘ کی طرز پر استعمال کیا جائے۔ اسی طرح ہر اُس قوت کے خلاف استعمال کیا جائے جو مغرب کے مفادات کے لیے یا مغربی طاقتوں کے آقاؤں کے لیے خطرہ ہو۔ یہ اتحاد اب امتِ مسلمہ کی اقوام کو مزید دھوکہ دینے کے قابل نہیں رہا۔ لہٰذا، یہ ایک مسترد شدہ اتحاد ہے جو صرف میڈیا کی حد تک رہ گیا ہے جس میں کامیابی کی کوئی صلاحیت نہیں ہے۔ کے فریب میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ نرم طاقت (Soft Power) کی جنگ ہے، جو شربت میں زہر ڈال کر پلاتی ہے۔ بہت کم لوگ ہیں جو علامات اور اشاروں کی طرف توجہ دیتے ہیں، لیکن بہت سے لوگ ایسی اشیاء کی دراندازی سے غافل رہتے ہیں جو ان کے اقدار و ثقافت اور معاشرتی ورثے کو خراب کر رہی ہوتی ہیں اور انہیں اندھی تقلید کے جنون میں مبتلا مسخ شدہ انسانوں میں تبدیل کر دیتی ہیں۔
عالمی جہادی تنظیم القاعدہ کی ذہانت اسی اسٹریٹجی سے پیدا ہوئی اور بجا طور پر اسامہ بن لادن کو اس کا بانی و شہسوار بننے کا حق تھا، چنانچہ یہ نسل انہی کے نام سے پہچانی گئی۔
امریکہ کے خلاف اعلانِ جہاد، دشمن کو ایک تنبیہ تھا اور سفارت خانوں پر حملہ، بحری بیڑے یو ایس ایس کول کو اڑانا ایک تمہید تھا تاکہ امریکہ کے اندر طاقت کی علامتوں کو ڈھا دیا جائے، خفیہ دشمنی ختم ہو اور اصل چہرے سامنے آ جائیں، تاکہ لوگ نرم طاقت (Soft Power) کے جادو سے باہر نکلیں اور سخت طاقت (Hard Power) کا طبلِ جنگ انہیں بیدار کر دے۔ یہ ایک زور دار جھٹکا تھا جس نے دشمن کو اس کی پناہ گاہوں سے باہر نکالا اور لوگوں کو اس نرم جنگ کے منظر سے ہٹا دیا جو ایمان کو خراب کر رہا تھا اور انسان کو نقصان پہنچا رہا تھا اور انسان کو ایک ایسی بے جان مخلوق میں تبدیل کر چکا تھا جسے یہ احساس ہی نہیں کہ اُس کا رب اُس سے کیا چاہتا ہے۔ بیداری کا عمل چونکا دینے والا تھا کیونکہ نیند بہت گہری تھی اور پھر امتِ مسلمہ کا ردعمل بھی شاندار تھا جس سے ’القاعدہ‘، تورا بورا سے نکل کر مشرق میں برِصغیر پاک و ہند تک اور مغرب میں برِاعظم افریقہ کی آخری حد تک پہنچ گئی جبکہ شمال میں عراق و شام سے لے کر جنوب میں یمن و صومالیہ تک پھیل گئی۔ البتہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سے علم و آگاہی پھیلی، عقل و شعور کی بیداری ہوئی اور امتِ مسلمہ، تبدیلی کی جانب متحرک ہوئی، یہاں تک کہ اس سب کا نتیجہ اسلامی انقلابات کی صورت میں ظاہر ہوا۔
خطرہ صرف ظاہری دشمن پر ہی نہیں رکتا، بلکہ ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو وفاداری کا دعویٰ کرتے ہیں اور اتحاد، شراکت داری اور رفاقت کی دعوت بھی دیتے ہیں اور ظاہری طور پر اِن باتوں کے گُن گاتے ہیں، لیکن در حقیقت وہ مواقع کے انتظار میں ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان سے بھی محتاط رہا جائے اور انہیں ایسے جال میں پھنسانے کی کوشش کی جائے کہ وہ اپنے ارادوں کو قبل از وقت ظاہر کر دیں۔
دوست اور اتحادی ہی سب سے بہتر جانتا ہے کہ آپ کو کیسے نقصان پہنچایا جا سکتا ہے، وہ آپ سے بھی اتحاد کرتا ہے اور آپ کے مخالفین سے بھی۔ وہ مدد کی پیشکش کرتا ہے اور آپ کو مالی و سیاسی مدد فراہم بھی کرتا ہے، وہ آپ کو ایسے طریقے سمجھاتا ہے جن سے آپ وقت سے پہلے بڑھنے اور پھولنے لگیں، ایسے رجحانات سے تعلقات بنانے کو خوشنما کر کے دکھاتا ہے جو مستقبل میں آپ کے لیے ٹھوکروں کا باعث بنیں۔ آپ کے لیے آپ کی قبر کھودتا ہے اور ہر مرحلے پر اسے مزید گہرا کرتا جاتا ہے۔ جہاں اس کا مفاد ہوتا ہے وہاں آپ کا ساتھ دیتا ہے، لیکن پھر ساتھ دینے سے رک جاتا ہے تاکہ آپ اس کے پیچھے لگ جائیں۔ ایسا دوست اور ساتھی یہ سب حربے اس لیے استعمال کرتا ہے تاکہ وہ آپ کو کمزور، تابع اور ذلیل رکھ کر اپنے اہداف حاصل کر سکے۔
بدترین شراکت دار اور ساتھی وہ ہیں جو تبدیلی کے عمل کے دوران آپ کے خلاف ہو جائیں، شراکت داری کو دشمنی میں بدل دیں، اپنے ہاتھوں کو پاکیزہ خون سے آلودہ کریں، کل کے ساتھیوں کو جھوٹ اور بہتان تراشی کے ذریعے بدنما دکھائیں، خصوصاً جب بعض مشہور اور نامور لوگ ان کے بُرے کرتوتوں کو ان کے لیے خوش نما بنا کر دکھانا شروع کر دیں اور انہیں اس تَوَہُم میں مبتلا کریں کہ یہ تو اللہ کی تقدیر ہیں۔ یہ لوگ آپ کے دین و ایمان اور پرہیزگاری کا استحصال کرتے ہوئے ان شراکت داروں کا پردہ چاک ہونے سے بچاتے ہیں، تاکہ وہ آپ پر حملہ کریں اور انہیں یقین ہوتا ہے کہ آپ ان شراکت داروں کے ساتھ کچھ برا نہیں کریں گے، پس یہ غداری کا سب سے بھیانک اور بدترین وار ہے جو ہمیں ساتھیوں اور شراکت داروں کی طرف سے ملتا ہے۔ تو کیا ہم نے ساتھیوں کا انتخاب کرنے میں غلطی کی؟ یا وہ شروع ہی سے غدار اور خیانت کرنے والے تھے؟ کیونکہ مقولہ مشہور ہے کہ:
مَا خَانَ أَمِينٌ قَطُّ وَلَكِنَّهُ ائْتَمَنَ غَيْرَ أَمِينٍ فَخَانَ
’’دیانت دار کبھی خیانت کا مرتکب نہیں ہوتا، لیکن جب بددیانت شخص کو امین مقرر کیا جائے ہے تو وہ خیانت کرتا ہے۔‘‘
ایسے طبقے سے ہوشیار رہنا چاہیے، ان کے افعال کو جواز نہیں بخشنا چاہیے اور اگر یہ ہماری صفوں میں پائے جائیں تو ان کے ساتھ شراکت داری توڑنے میں پہل کرنی چاہیے یا اس شراکت کو تبدیل کر دینا چاہیے اس سے قبل کہ یہ مضبوط اور وسیع ہو جائے کیونکہ بعض اوقات حسنِ ظن غفلت بن جاتا ہے۔
اسلامی تحریک کے مثالی حلیف مسلم اقوام کے عوام ہیں، یہی قومیں ہیں جنہوں نے ہمیں جنم دیا اور جو بدلہ طلب کیے بغیر اپنی جان و مال سے ہماری مدد کرتی ہیں، ہماری مسلم اقوام ہی اس دین کی محافظ ڈھال تھیں اور اب بھی ہیں۔ پس اسلامی تحریک کو مسلم اقوام کی حقیقت پسندانہ نمائندگی کرنی چاہیے اور وہ تلوار بننا چاہیے جسے یہ اقوام اپنے عزائم کے حصول کے لیے اٹھاتی ہیں۔ ہماری مسلم اقوام شریعتِ اسلامیہ کے سائے تلے زندگی گزارنے کی پیاسی ہیں، کیونکہ اسی کے ذریعے عدل و انصاف، بھائی چارہ اور باہمی تعاون قائم ہو سکتے ہیں، وہ اپنے وسائل کو بہترین طریقے سے لگانے کی منتظر ہیں، جس سے انہیں، حکومتوں کی بے جا دخل اندازی اور لوٹ مار سے پاک، باعزت زندگی نصیب ہو۔ ہماری اقوام اقتدار کو ایک غنیمت کے طور پر نہیں دیکھتیں بلکہ ایک فریضے اور ذمہ داری کے طور پر دیکھتی ہیں، جو مخلص افراد ہی ادا کر سکتے ہیں، وہ افراد جو مسلم اذہان اور مسلم سرزمینوں دونوں کو آزاد بھی کرائیں اور ان کا دفاع بھی کریں۔ لہٰذا مجاہدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اقوام کے ساتھ ہر میدان کے دروازے کھلے رکھیں، انہیں ان کے مقاصد کے حصول کے طریقے سمجھانے کے لیے کام کریں اور اس کے لیے ان کی قیادت کریں۔ اس طرح اور دیگر طریقوں سے ڈھال (اقوام) اور تلوار (اسلامی تحریک) کے درمیان مکمل ہم آہنگی حاصل ہو گی۔
جو چیز سپاہیوں کے حوصلے (مورال) بلند کرتی ہے وہ ایک آسمانی اور بے عیب منہج کے سائے تلے اور ایک ایسی ربانی قیادت کے جھنڈے اور نگرانی کے تحت ان کو متحرک کرنا ہے، جو اللہ سے ڈرتی ہے اور ان کے معاملہ میں خوفِ خدا سے کام لیتی ہے، وہ سب مل کر ان مقاصد کے حصول کے لیے کام کرتے ہیں جن پر ان کا ایمان ہے۔ حوصلے (مورال) کے حقیقی معنی یہ ہیں کہ صفوں کا اتحاد اور ان کی مضبوطی و ہم آہنگی، اور یہ پختہ ایمان اور دو طرفہ اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
جھاڑیوں پر ایسا مارو کہ سانپ چونک جائیں (چینی کہاوت)، جو میرے ساتھ نہیں وہ میرے خلاف ہے (انجیل کا متن)۔ 11ستمبر کا حملہ ایک عسکری ضرب سے بڑھ کر تھا، یہ ایک زلزلہ تھا جس نے صفوں کے درمیان تفریق کر دی، اس کے بعد رونما ہونے والے واقعات جھاڑیوں میں چھپے ہوؤں کو سامنے لے آئے اور صفیں الگ ہو گئیں، دشمن اپنے سردار کے خیمے میں اس کے پیچھے اور اس کے جھنڈے تلے اکٹھے ہو گئے۔ امتِ مسلمہ کی اقوام دنیا میں اپنا مقام اور قدر و منزلت جان گئیں اور یہ کہ انہیں کس صف میں کھڑا ہونا چاہیے۔ القاعدہ کو بھی اپنے قائدانہ کردار کا ادراک ہوا کیونکہ وہ امت کا ہراول دستہ ہے۔
اسٹریٹجی کے اعتبار سے دشمن کا تصور آپ کے خلاف لڑنے والی قوت سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ موقع کی تاک میں رہنے والے بھی دشمن ہیں اگرچہ وہ آج کمزور ہیں۔ جب شکار گِر جائے یا زخمی ہو جائے تو شکاری درندے اس پر جھپٹ پڑتے ہیں اور ان کے بعد گندگی کھانے والے گھٹیا جانور بھی منہ مارنے لگتے ہیں۔ دشمن کی اصطلاح میں ہر وہ شخص شامل ہے جو اسلام کے قافلے کے خلاف کام کرتا ہے، اس کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے، گڑھے کھودتا ہے یا دشمن کی حمایت کرتا ہے اور اسے مادی اور اخلاقی مدد و حمایت فراہم کرتا ہے، وہ بھی دشمن ہے جو کمزور و بے بس انسانوں پر ظلم و زیادتی کرتا ہے، قطع نظر اس سے کہ وہ مسلمان ہیں یا کافر۔ اسی طرح، وہ بھی دشمن ہے جو انسانوں کو تباہ و برباد کرنے اور انہیں مسخ کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ وہ بھی دشمن ہے جو ذاتی مال و دولت کے لیے اور اپنے ملک کے مفادات کے لیے کرۂ ارض کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا ہے، اس کے وسائل کو لوٹتا ہے اور اس میں فساد برپا کرتا ہے۔
دشمنوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اُس وقت انصاف پسند اور اعتدال پسند ہونے کا ڈھونگ رچاتے ہیں جب ہم جنگ اور معرکے کے عین وسط میں ہوتے ہیں۔ حالانکہ ایسے وقت میں دشمن کی حقیقت، اس کی خسیس چالوں اور اس کے ظلم و بربریت کو واضح کرنا چاہیے لیکن یہ اندرونی دشمن، اس کے بجائے مغربی استعمار کی سیاہ تاریخ پر آنکھیں بند کر لیتا ہے اور امت کی حوصلہ شکنی اور عزم و ہمت توڑنے کے لیے مغرب کی اعلیٰ ٹیکنالوجی اور فوجی برتری کا پرچار کرتا ہے تاکہ امت ان کے پروپیگنڈہ کی طاقت کے سامنے ہتھیار ڈال دے، ان کی مرضی کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے اور تبدیلی لانے سے عاجز ہو جائے۔ یہ ایک ایسی نفسیاتی شکست ہے جو کئی میدانوں میں شکستوں کو جنم دیتی ہے۔ کیا ملحد اور سیکولر اپنی امت کے ساتھ یہی کچھ نہیں کرتے؟
ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو آپ کے لیے بُرے ارادے رکھتے ہیں اور خفیہ طریقے سے آگے بڑھتے ہیں، آپ کو ان سے ہوشیار رہنا چاہیے، نہ کہ شک میں پڑنا چاہیے، اشاروں اور علامات پر نظر رکھیں کیونکہ ہر ظاہری چیز حقیقی نہیں ہوتی۔ مسلم ممالک کے اندر گھس بیٹھے پانچویں کالم (منافقین) کو مشتعل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مسلمان انہیں پہچان سکیں اور ان کے خطرات سے بچ سکیں۔ انہیں جال میں پھنسانے کی بھی ضرورت ہے تاکہ انہیں حرکت دینے والے امت کے دشمن سامنے آئیں اور ان کے مکروہ چہرے بے نقاب ہوں۔
اس اسٹریٹجی کی مشکل تب واضح ہوتی ہے جب اسے اندرونی صفوں میں نافذ کیا جاتا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں لوگوں میں بدگمانی، شکوک و شبہات اور خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
’’میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
إِنَّكَ إِذَا اتَّبَعْتَ الرِّيبَةَ فِي النَّاسِ أَفْسَدْتَهُمْ» فَإِنِّي لَا أَتَّبِعُ الرِّيبَةَ فِيهِمْ فَأُفْسِدَهُمْ۔
’جب تم لوگوں کے عیبوں کی ٹوہ میں لگو گے تو انہیں بگاڑ دو گے‘، میں ان میں ان کے عیوب کی ٹوہ میں نہیں لگتا کہ انہیں بگاڑ دوں۔‘‘3صحيح الادب المفرد/حدیث: 186۔ الأدب المفرد کی تخریج میں شیخ البانیؒ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
مسلم معاشرہ کی حفاظت بھی ایک اہم مقصد ہے جس کا خیال رکھنا مقدم ہے۔ اس لیے اس اسٹریٹجی کو اس روایت پر عمل کرتے ہوئے استعمال کیا جا سکتا ہے جو صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
لاَ يُلْدَغُ المُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ۔
’’مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا۔‘‘
رہے وہ لوگ جو اپنے آپ کو شک وشبہ کی بھٹی میں ڈالتے ہیں، انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ ہمیں اشاروں اور علامات پر نظر رکھنی چاہیے اور انہیں جانچ پڑتال کے عمل سے گزارنا چاہیے کیونکہ دینی و اخلاقی پرہیزگاری ہمیں اس سے نہیں روکتی۔ عقل مندانہ معائنہ (Smart Test) سے حاسدین، منافقین، در انداز جواسیس اور موقع پرستوں کے دلوں کے بھید معلوم کیے جا سکتے ہیں۔ مثلاً جن لوگوں سے مشکوک علامات ظاہر ہوں ان سے تغافل برتنا یا انتہائی مودت کا اظہار کرنا۔ اس چال سے وہ مزید تیز ہو جاتے ہیں اور اپنی احتیاطیں چھوڑ دیتے ہیں، اس طرح ماہر تفتیش کار کو وہ ثبوت فراہم کر دیتے ہیں جسے وہ تلاش کر رہا ہوتا ہے۔ بعض دفعہ مشتبہ شخص کو غصہ دلانے اور اس کے تناؤ میں اضافہ کرنے کا حیلہ کامیاب ہو جاتا ہے تاکہ اس کے بند ٹوٹ جائیں اور وہ ما فی الضمیر ظاہر کر دے۔ اسی طرح بحث و مباحثہ کی شدت سے بھی، جو اشتعال انگیزی یا الزام تراشی یا مدح سرائی پر مبنی ہو، خاطر خواہ نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ ایسے لمحے میں اس کے ساتھ مناسب اقدام نہ اٹھانے کا کوئی جواز نہیں۔
لِین بیاؤ (Lin Biao) چینی لیڈر ماؤزے تنگ(Mao Zedong) کے قریبی دوستوں اور مشیروں میں سے تھا، ستّر کی دہائی کے آغاز میں، ماؤ نے لِین میں تبدیلی محسوس کی۔ لِین شدید مودت ظاہر کرنے لگا اور شرمناک انداز میں اس کی بہت تعریفیں کرنے لگا۔ ماؤ کے لیے یہ ایک اشارہ تھا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ ماؤ لِین کو قریب سے دیکھنے لگا، اس کا شک درست نکلا۔ لِین بغاوت کی منصوبہ بندی کر رہا تھا یا کم از کم ماؤ کی جگہ اقتدار سنبھالنے کے لیے اپنی جگہ بنا رہا تھا۔
نازک اوقات اور بحرانوں کے دوران عوام جذباتی ہوتے ہیں، اس دوران ان پر خواہشات کے حامل مفاد پرست افراد اثر انداز ہوتے ہیں اور لوگ ہر آواز لگانے والے کے پیچھے لگ کر تقسیم ہو جاتے ہیں۔ یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ بحران یک دم نہیں آتے بلکہ اس کے آثار افق پر نظر آنے لگتے ہیں۔ عقل مند انسان کو بحران کے دوران دروغ گوؤں کے خطرے کا صحیح ادراک ہوتا ہے کیونکہ اندرونی جنگ ہی مشکل ترین ہوتی ہے اس لیے کہ اس کے نتائج خطرناک ہوتے ہیں اور یہ تفرقہ اور خلفشار کا دروازہ ہے۔ یہ ایسا موقع ہے جسے بیرونی دشمن ہماری کمزوری اور تفرقہ کو مزید بڑھانے کے لیے کبھی بھی ضائع نہیں کرتا اور اس طرح وہ، حالات سے اپنی مرضی کے مطابق فائدہ اٹھانے کے قابل ہو جاتا ہے۔
اس لیے ہمیں طرح طرح کی دعوت دینے والوں کو راستہ نہیں دینا چاہیے اور نہ ہی انہیں اتنی مہلت دینی چاہیے کہ وہ موقع سے فائدہ اٹھائیں بلکہ ایسی حالت کو سنبھالنے کے لیے کئی جہتوں پر کام کرنے میں پہل کرنی چاہیے۔
-
عوام کو آئندہ رونما ہونے والی حالات کے بارے میں آگاہ کرنا۔
-
مندرجہ بالا یا دیگر طریقوں سے جب ہم ان بولنے والوں کو بے نقاب کر دیں تو ہمیں ان کا سامنا کرنا ہوگا اور ان کا پردہ چاک کرنا ہو گا تاکہ ایسی سوچ رکھنے والے کے سامنے تمام راستے بند ہو جائیں۔
-
ہر ملوث شخص کو سختی اور سنجیدگی سے سزا دینا، کیونکہ بے جا درگزر ایک آفت ہے۔ پر امن حل میں حد سے زیادہ بڑھنا تنازع کو کمزور کر دیتا ہے اور اسے تباہی کے راستے پر ڈال دیتا ہے۔
زندگی میں تنازعات اور لڑائیوں سے بچنا اور ان سے فرار ہونا، ناکامی کا ایسا نسخہ ہے جو دوسروں کو آپ پر غنڈہ گردی کرنے کی راہ ہموار کرتا ہے اور آپ کی عزت و وقار تک کو سلب کر لیتا ہے جبکہ اس ذلت کے راستے پر اپنے حقوق کا تو ذکر ہی مت کیجیے۔ خود کو مظلوم ثابت کرنا آپ کے حقوق واپس نہیں لائے گا، حتیٰ کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپ ہمدردی کی نظرسے بھی محروم ہو جائیں گے۔ وہ اقوام جو ظالم حکومتوں کو مہلت دیتی ہیں اور ان کا مقابلہ کرنے سے گریز کرتی ہیں، انہیں غلام بنا لیا جاتا ہے۔ قدیم مصری مقولہ ہے:
’’اے فرعون تجھے کس نے فرعون بنایا؟ جواب ملا: مجھے کوئی ایسا شخص نہیں ملا جو مجھے کہے ’نہیں!‘۔‘‘
لہٰذا حفاظتی تدابیر ہمیشہ علاج سے بہتر ہیں۔
شکوک و شبہات میں ڈوب جانا اور وسوسوں کو اپنے اوپر غالب کر لینا بہت خطرناک ہے۔ ایسے شخص سے گڑبڑ کرنا کتنا آسان ہے جو شک زدہ ہو اور جس پر سازشوں کا بھوت سوار ہو۔ پس ضروری ہے کہ ہم اشاروں اور علامات پر توجہ دیں، انہیں اپنے مشاہدے میں رکھیں اور ان کی جانچ پڑتال کرتے رہیں تاکہ ہم شکوک و شبہات میں نہ ڈوب جائیں اور اپنے تصور کو واضح رکھیں، اور پھر ہم دوست، احمق اور دشمن میں فرق کر سکیں، دشمنوں کی درجہ بندی کرتے رہیں اور دشمن کی ہر قسم سے نمٹنے کے طریقے متعین کریں۔ پس جہاں لاٹھی سے کام ہو وہاں تلوار استعمال نہ کریں اور جہاں الفاظ سے کام ہوتا ہو وہاں لاٹھی کا استعمال نہ کریں۔
مقولہ ہے کہ مہارت یہ ہے کہ اپنے دشمنوں کو لڑے بغیر مغلوب کر دو یا ان کو ایک دوسرے کے خلاف کر دو۔ لیکن مہارت کی انتہا یہ ہے کہ اپنے دشمنوں کو اپنے ایک حصے میں بدل دو اور انہیں اپنا ہی ایک جزو بنا ڈالو تاکہ وہ آپ پر یقین کرنے لگیں اور آپ کی مدد کرنے لگیں۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ کی عظیم سیرت میں اس حوالے سے شاندار واقعات موجود ہیں۔4نبی کریم ﷺ نے ایک گھڑ سوار دستے کو نجد کے علاقے کی طرف روانہ کیا۔ یہ دستہ بنوحنیفہ کے (سرداروں میں سے) ایک شخص ثمامہ بن اُثال کو پکڑ کر لے آیا اور اسے مسجد نبوی کے ایک ستون سے باندھ دیا۔ نبی اکرم ﷺ باہر تشریف لائے اور پوچھا: ’’اے ثمامہ! تمہارے پاس کیا ہے؟‘‘ ثمامہ نے کہا: ’’اے محمد! (ﷺ) میرے پاس خیر ہے، (اس کے باوجود) اگر آپ مجھے قتل کر دیں تو آپ ایک شخص کو قتل کریں گے جو خونی ہے، اس نے جنگ میں مسلمانوں کو مارا اور اگر آپ مجھ پر احسان کریں گے تو ایک ایسے شخص پر احسان کریں گے جو (احسان کرنے والے کا) شکر ادا کرتا ہے اور اگر آپ کو مال مطلوب ہے تو جتنا چاہیں مجھ سے مال طلب کر سکتے ہیں‘‘۔ثمامہ کو اسی حال میں رکھا گیا یہاں تک کہ اگلا دن آ گیا۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے اس سے پوچھا: ’’اے ثمامہ! تمہارے پاس کیا ہے؟‘‘ ثمامہ نے جواب دیا: ’’وہی جو میں پہلے کہہ چکا ہوں۔ اگر آپ احسان کریں تو ایک ایسے شخص پر احسان کریں گے جو شکر گزار ہے‘‘۔ ثمامہ کو اسی حال میں رکھا گیا یہاں تک کہ تیسرا دن آ گیا۔ پھر آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ’’اے ثمامہ! تمہارے پاس کیا ہے؟‘‘ ثمامہ نے کہا: ’’جو میں پہلے کہہ چکا ہوں وہی ہے‘‘۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ثمامہ کو رہا کر دو‘‘۔ ثمامہ مسجد کے قریب ایک باغ میں گئے اور غسل کرکے پھر مسجد نبوی میں حاضر ہوئے اور کہا: ’’أشہد ان لا إلہ إلا اللہ، وأشہد أن محمداً رسول اللہ۔ اے محمد! (ﷺ) اللہ کی قسم روئے زمین پر کوئی چہرہ میرے نزدیک آپ کے چہرے سے زیادہ مبغوض نہ تھا لیکن آج آپ کے چہرے سے زیادہ کوئی چہرہ میرے لیے محبوب نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! میری نظر میں آپ کے دین سے زیادہ برا کوئی دین نہیں تھا لیکن آج آپ کا دین مجھے عزیز ترین ہے۔ اللہ کی قسم! میرے نزدیک آپ کے شہر سے زیادہ مبغوض شہر کوئی اور نہ تھا لیکن آج آپ کا شہر میرا سب سے زیادہ محبوب شہر ہے۔ آپ کے دستے نے مجھے اُس وقت پکڑا جب میں عمرے کے ارادے سے نکلا تھا، تو اب آپ کی کیا رائے ہے؟‘‘ رسول اللہ ﷺ نے آپ کو خوشخبری دی اور حکم دیا کہ عمر ادا کریں۔ جب حضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ مکہ میں داخل ہوئے تو کسی نے ان سے کہا : تم صابی (یعنی بے دین) ہو گئے ہو۔ حضرت ثمامہ نے جواب دیا: ’’نہیں، بلکہ میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اسلام میں داخل ہو گیا ہوں اور اللہ کی قسم! اب تمہارے یہاں یمامہ کی گندم سے ایک دانہ بھی نہیں پہنچے گا یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ اس کی اجازت دیں۔‘‘ (بخاری)
پوری تاریخ میں زیادہ تر ممالک اور سلطنتیں، دو اہم ترین چیزوں کی خاطر زندہ اور قائم رہی ہیں اور قیادت کے لیے آپس میں مقابلہ بازی کرتی رہی ہیں: پہلا وہ منہج جو معاشرے کو باہم جوڑتا ہے اور صفوں میں وحدت اور مضبوطی پیدا کرتا ہے اور دوسرا وہ انصاف جو لوگوں کی سلامتی اور وجود کو تحفظ دیتا ہے۔ اگر یہ دو عناصر موجود ہوں تو عوام بھوک اور پیاس پر بھی صبر کر لیتے ہیں لیکن اگر ان دو میں سے ایک بھی نا پید ہو جائے تو لیڈر اور سیاست دان بیرونی دشمن کی تخلیق پر مجبور ہو جاتے ہیں جس کے خلاف قوم کو متحد کیا جا سکے، اور اگر ایسا دشمن بھی تخلیق نہ کیا جا سکے تو اس کا نتیجہ صفوں کے ٹوٹنے، اندرونی اتحاد کے خاتمے اور اقتدار کے لیے اندرونی جھگڑوں کے آغاز کی صورت میں نظر آئے گا۔
موجودہ زمانے میں، مغرب پہلے تو اندرونی کشمکش کا متبادل ایجاد کرنے میں کامیاب ہوا اور اس نے، انتخابی مقابلہ بازی کے ذریعے، داخلی تنازعات کو حقیقی تبدیلی سے چہروں کی تبدیلی کی طرف موڑ دیا۔ ظاہر ہے کہ داخلی تنازع کا شکار ہونے کے بجائے حزبِ اختلاف کا کردار ادا کرنا، بہتر ہے۔ دوسری بات یہ کہ مغرب نے اپنے عوام کو مصروف اور پُرسکون رکھنے کے لیے ہمیشہ ایک بیرونی دشمن ایجاد کیا اور اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ اس طرح لیڈروں اور سیاست دانوں نے، عارضی طور پر، اندرونی سکون اور عوام کی خاموشی کو یقینی بنایا تاکہ وہ تاک میں رہنے والے بیرونی دشمن (سوویت یونین، اسلامی تحریکوں، روس اور چین) کے خطرات کے خوف سے اندرونی بحرانوں کو حل کرنے کا مطالبہ نہ کرنے لگیں۔ بصورتِ دیگر، کسی جنونی، اشتعال انگیز اور جُوا باز شخص (جیسے مارگریٹ تھیچر یا ٹرمپ وغیرہ) کی موجودگی میں تفرقہ اور تقسیم کے بیج بکھر جائیں گے اور ایک بار جب وہ اندرونی اختلافات کے پانیوں سے سیراب ہو جائیں گے تو ریاست کا اتحاد اور ہم آہنگی ختم ہو جائے گی۔ یہ تمام اتحادوں میں قریب الوقوع نظر آتا ہے (یورپی یونین، ریاست ہائے متحدہ امریکہ، متحدہ مملکت برطانیہ)۔
اس سے بھی بدتر عرب حکمران اور سیاست دان ہیں جو بیرونی دشمن کی خاطر قوم کی وحدت کو توڑنے اور داخلی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ اس لیے انہوں نے اپنی قوموں کے جذبات سے کھیلا اور انہیں بے معنی جھگڑوں میں تھکا دیا۔ جیسے بن زاید اور بن سلمان نے قطر کو سدھارنے کے لیے خلیجی عوام کے ساتھ کیا اور کھیلوں کے ایک ٹورنامنٹ کی میزبانی کو جزیرۂ عرب کے عوام کے درمیان دشمنی پھیلانے کا نقطۂ آغاز بنایا اور پسِ پردہ اغراض کو چھپائے رکھا۔ دوسری طرف امت کے سب سے مغربی خطے میں مراکش اور الجزائر کے درمیان تند و تیز الفاظ کا استعمال ہو رہا ہے جبکہ یہی لوگ سبتہ (سیوٹا) اور ملیلیہ (میلیلا) کو سپین سے آزاد کرانے پر مکمل خاموش بلکہ گونگے بنے ہوئے ہیں۔ کھیلوں کے ان مقابلوں کا تو ذکر ہی نہ کیجیے جو ہماری اقوام کے درمیان دشمنی پیدا کرتے ہیں۔ یہ کھیل ایک طرف ایک فضول مقابلہ بازی میں عوام کو متحرک کر کے ان کے جذبات کو خرچ کر دیتے ہیں اور دوسری طرف اقوام کو ایک خیالی دشمنی کے ذریعے آپس میں چیر پھاڑ دیتے ہیں تاکہ عوام اپنے اندرونی بحرانوں کی طرف متوجہ نہ ہوں۔ یہ کھیل تماشا، ایک بدحواسی کی نمائندگی کرتا ہے جو، عوام کی توجہ حکام کی خیانت اور آلہ کاری سے دور کر دیتا ہے۔
برائی اور نقصان میں ان کے برابر وہ حکمران بھی ہے جو اپنے عوام کو گمراہ کرتا ہے اور ان کے ساتھ جہالت سازی کی صنعت پر عمل پیرا ہوتا ہے …… خود کو فرعون بنا لیتا ہے (جیسے مصر میں سیسی اور تیونس میں قَیْس سَعَیِّد) عوام کی نمائندگی کرنے والے چنیدہ افراد کو قید کرتا ہے، مخلص لوگوں کے خلاف آتش و آہن سے لڑتا ہے، اپنے مستقبل کی ضمانت کے بدلے اپنے ملک کو دین کے دشمنوں کے ہاتھ بیچ ڈالتا ہے۔ پس یہ مسندِ اقتدار پر براجمان ایک غدار ہے۔
امت کے حصے بخرے کرنے کے لیے ایسے حکمران اور ان کے پیروکار خواہ کتنے ہی حربے کیوں نہ استعمال کر لیں آخر کار ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو امت کے درمیان ان دراڑوں کو مندمل کر دیتے ہیں، اور اگر ان واقعات سے صحیح طریقے سے استفادہ کیا جائے تو امت کی یکجہتی و ہم آہنگی کو بحال کیا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالی (پانچ سالہ) بچے ریان المغربی پر رحم فرمائے جس کی وفات نے حکمرانوں کی بے حسی کو شکست دی اور امت میں بھائی چارے اور باہمی تعاون کی روح کو زندہ کیا۔5یہ واقعہ فروری 2022ء میں مراکش کے شمالی صوبہ شفشاون کے ایک گاؤں میں پیش آیا جہاں ریان نامی پانچ سالہ بچہ، ایک کنویں میں گر گیا۔ سوشل میڈیا کی توجہ دلانے پر پوری امت اسے بچانے کے لیے بیدار ہو گئی۔ انتہائی کوششوں کے باوجود اس کے لیے زندگی مقدر نہ تھی۔ یہ ایک زندہ، باشعور اور پختہ امت ہے جو اپنے تاریخی لمحے کے لیے تیاری کر رہی ہے۔ امت کی اقوام، وللہ الحمد، ایک دوسرے کو آپس میں جوڑنے والے عناصر سے بھی واقف ہیں اور اپنے لیڈروں اور سیاست دانوں کے مکروہ کردار کا بھی انہیں ادراک ہے۔
ایسے دشمن بھی پائے جاتے ہیں جو دھوکہ دہی میں ماہر ہیں اور آپ کو مشورہ دیتے ہیں کہ داؤ پیچ اور چال بازی کے میدان ہوتے ہوئے جنگی میدانوں کی ضرورت نہیں۔ آپ کے اندر معافی تلافی، صلح جوئی اور کسی ڈیل پر پہنچے کی قناعت اور رغبت پیدا کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں ان کی خواہشات کی کوئی انتہا نہیں ہوتی۔ سادہ الفاظ میں وہ آپ کو صرف غیر مسلح کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔
بعض کا یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ اصلاح یا اصلاحات کے لیے تگ و دو کر رہے ہیں۔ یہ ایک وہم ہے، کیونکہ اصلاح ایک تربیتی و تعلیمی تحریک ہے نہ کہ تبدیلی کی تحریک۔ دراصل یہ لوگ، نظام اور مختلف گروہوں یا جماعتوں کے درمیان سمجھوتوں کے ذریعے بعض مفادات اور کچھ فوائد کے حصول کے لیے کام کرتے ہیں۔ اگرچہ سیاسی میدان میں سمجھوتے تک پہنچنا ایک قابلیت اور مہارت ہے لیکن وہ اپنے اندر اصولی مواقف سے پیچھے ہٹنے اور خاطر مدارت کی دلدل میں غرق ہونے کا خطرہ سموئے ہوتے ہیں۔ جس سے اقتدار کے لیے اندرونی جدوجہد، حقیقی تبدیلی سے ہٹ کر ایک عمومی ماحول میں بدل جاتی ہے جس میں صرف چہرے بدل جاتے ہیں، تبدیلی کا عمل اپنا راستہ کھو دیتا ہے اور دوبارہ اس راستہ تک لوٹنا نہ صرف ایک مشکل کام بن جاتا ہے بلکہ وہ اس راستے میں دور نکل جاتے ہیں اور اسی کو فروغ دیتے ہیں۔
ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہمارا تنازع پیوند کاری کو قبول نہیں کر سکتا اور نہ ہی ایسے سمجھوتے برداشت کر سکتا ہے جو دین و شریعت سے متصادم ہوں۔ اگر دو تلواریں ایک نیام میں نہیں اکٹھی ہو سکتیں تو، دو عقیدے ایک دل میں بطریقِ اولیٰ جمع نہیں ہو سکتے۔ کوئی بھی امت خلط ملط منہج کے بنا پر حکمرانی نہیں کر سکتی۔ (سیاسی و عسکری دونوں طرح کے) تنازعات کا راستہ، مخالفین کی دشمنی کے خوف کے بغیر، واضح اور بے جھول ہونا چاہیے۔ معرکے ہمیں اپنے عقیدے کا چوکس محافظ بنا کر رکھتے ہیں، لڑائیوں اور معرکوں کے بغیر تنازع میں فتح کا کوئی امکان نہیں ہوتا اور فتح سے ہی ہم اپنی اقوام کی جانب سے وقار اور احترام حاصل کریں گے کیونکہ ہم اپنی دعوت میں سچے تھے اور ہماری فتح وہ ہے جس پر ہمیں یقین ہو اور اس کے لیے ہم نے امکانات پیدا کیے ہوں۔
مضبوط دشمن کے ساتھ نرم خوئی پر مبنی دوستانہ اور خوشگوار حل تلاش کرنا تباہی کا باعث بنتا ہے۔ یہ گمان مت رکھیں کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا اور وہ کھینچی ہوئی لکیروں کو عبور نہیں کرے گا۔ طاقتور لوگ سرخ لکیروں کو نہیں جانتے، نہ ہی ہم سری و برابری قبول کرتے ہیں۔ وہ ضرورت پڑنے پر اپنی نرم یا سخت قوت کو استعمال کرتے ہوئے آپ کے دروازے توڑ ڈالیں گے، وہ بحران پیدا کریں گے اور آپ کو اپنے کلب میں کھینچ لانے کی کوشش کریں گے۔ جب آپ ان کے کھیل کے میدان کی طرف پھسل جائیں گے تو انہی کے قانون و ضابطے کے مطابق حرکت کرنے پر مجبور ہوں گے اور آپ ان کے جال میں پھنس جائیں گے جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہو گا۔ لہذا دھوکہ دہی کے بازار میں اپنے آپ کو بہت ہوشیار مت سمجھیں۔ اس سب کے بعد بھی دشمن آپ سے تب تک راضی نہیں ہو گا جب تک آپ اس کی مکمل تابعداری نہیں کریں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وَلَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْيَهُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ ۭ قُلْ اِنَّ ھُدَى اللّٰهِ ھُوَ الْهُدٰى ۭ وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاۗءَھُمْ بَعْدَ الَّذِيْ جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ (سورۃ البقرۃ: ۱۲۰)
’’اور تم سے نہ تو یہودی کبھی خوش ہوں گے اور نہ عیسائی، یہاں تک کہ تم ان کے مذہب کی پیروی اختیار کر لو۔ (ان سے) کہہ دو کہ خدا کی ہدایت (یعنی دین اسلام) ہی ہدایت ہے۔ اور (اے پیغمبر) اگر تم اپنے پاس علم (یعنی وحی خدا) کے آ جانے پر بھی ان کی خواہشوں پر چلو گے تو تم کو (عذاب) خدا سے (بچانے والا) نہ کوئی دوست ہو گا اور نہ کوئی مددگار۔‘‘
جنگ اور تنازع زندگی عطا ہونے سے پہلے ہی سے زندگی کا ایک لازمی حصہ بنا دیا گیا ہے۔ انسان اپنے دشمنوں سے سیکھتا ہے، کئی مرتبہ دشمن ہی ہمیں تنازعات کے لئے مناسب حکمت عملی سُجھا دیتا ہے۔ دشمنی کی محض موجودگی اور تنازع کی شروعات ہی ہمیں باہمت، متحرک، ہر دم تیار، کمر بستہ اور اپنے ایمان، اقدار، اصول و روایات اور رسم و رواج سے جڑے رہنے کے لیے پُر عزم بنا دیتی ہیں اور ہم اپنی پوری طاقت سے اپنے اقدار و ثقافت کے ورثے اور اہم علامتوں کو محفوظ رکھتے ہیں۔ اس سے ہمارا معاشرہ مضبوط تر، ہمارا نظام زیادہ مستحکم اور مؤثر، ہمارے حوصلے بلند، ہماری جسمانی صلاحیتیں قوی اور ہمارا عزم مضبوط ہوتا ہے۔ اس سے ہمارا ذہن بھی زیادہ بیدار ہوتا ہے اور ہماری تیاری اور آمادگی کو بھی اعلیٰ ترین سطح پر لے جاتا ہے۔
تنازع ہمیں اپنی صلاحیتوں کو ماپنے کا پیمانہ فراہم کرتا ہے اور ہمیں بہتری لانے کے لیے خود کو پرکھنے اور جانچنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ ہمیں اپنی امت کو کھڑا کرنے اور ترقی دینے کے لیے علم کے مختلف شعبوں میں کوشش کرنے پر اکساتا ہے تاکہ ہماری امت منہجی، معاشرتی، سیاسی، اقتصادی، ٹیکنالوجی اور اس کی بنا پر تہذیبی طور پر ہمیشہ کے لیے قیادت کے مقام پر فائز رہے۔
- 1(إخراج الثعلب) یہ مقولہ ابو جعفر المنصور نے نفسِ زکیہ محمد بن عبد اللہ بن حسن (رحمہ اللہ) پر قابو پانے کے لیے لمبی سلسلہ وار چالوں کے بعد کہا تھا۔
- 2یہ ایک مضحکہ خیز اتحاد ہے جس میں مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کے حکمران شامل ہیں تاکہ اسے ہر قسم کی اسلامی تحریکوں، خصوصاً مسلح تحریکوں کے خلاف ’نیٹو‘ کی طرز پر استعمال کیا جائے۔ اسی طرح ہر اُس قوت کے خلاف استعمال کیا جائے جو مغرب کے مفادات کے لیے یا مغربی طاقتوں کے آقاؤں کے لیے خطرہ ہو۔ یہ اتحاد اب امتِ مسلمہ کی اقوام کو مزید دھوکہ دینے کے قابل نہیں رہا۔ لہٰذا، یہ ایک مسترد شدہ اتحاد ہے جو صرف میڈیا کی حد تک رہ گیا ہے جس میں کامیابی کی کوئی صلاحیت نہیں ہے۔
- 3صحيح الادب المفرد/حدیث: 186۔ الأدب المفرد کی تخریج میں شیخ البانیؒ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
- 4نبی کریم ﷺ نے ایک گھڑ سوار دستے کو نجد کے علاقے کی طرف روانہ کیا۔ یہ دستہ بنوحنیفہ کے (سرداروں میں سے) ایک شخص ثمامہ بن اُثال کو پکڑ کر لے آیا اور اسے مسجد نبوی کے ایک ستون سے باندھ دیا۔ نبی اکرم ﷺ باہر تشریف لائے اور پوچھا: ’’اے ثمامہ! تمہارے پاس کیا ہے؟‘‘ ثمامہ نے کہا: ’’اے محمد! (ﷺ) میرے پاس خیر ہے، (اس کے باوجود) اگر آپ مجھے قتل کر دیں تو آپ ایک شخص کو قتل کریں گے جو خونی ہے، اس نے جنگ میں مسلمانوں کو مارا اور اگر آپ مجھ پر احسان کریں گے تو ایک ایسے شخص پر احسان کریں گے جو (احسان کرنے والے کا) شکر ادا کرتا ہے اور اگر آپ کو مال مطلوب ہے تو جتنا چاہیں مجھ سے مال طلب کر سکتے ہیں‘‘۔ثمامہ کو اسی حال میں رکھا گیا یہاں تک کہ اگلا دن آ گیا۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے اس سے پوچھا: ’’اے ثمامہ! تمہارے پاس کیا ہے؟‘‘ ثمامہ نے جواب دیا: ’’وہی جو میں پہلے کہہ چکا ہوں۔ اگر آپ احسان کریں تو ایک ایسے شخص پر احسان کریں گے جو شکر گزار ہے‘‘۔ ثمامہ کو اسی حال میں رکھا گیا یہاں تک کہ تیسرا دن آ گیا۔ پھر آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ’’اے ثمامہ! تمہارے پاس کیا ہے؟‘‘ ثمامہ نے کہا: ’’جو میں پہلے کہہ چکا ہوں وہی ہے‘‘۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ثمامہ کو رہا کر دو‘‘۔ ثمامہ مسجد کے قریب ایک باغ میں گئے اور غسل کرکے پھر مسجد نبوی میں حاضر ہوئے اور کہا: ’’أشہد ان لا إلہ إلا اللہ، وأشہد أن محمداً رسول اللہ۔ اے محمد! (ﷺ) اللہ کی قسم روئے زمین پر کوئی چہرہ میرے نزدیک آپ کے چہرے سے زیادہ مبغوض نہ تھا لیکن آج آپ کے چہرے سے زیادہ کوئی چہرہ میرے لیے محبوب نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! میری نظر میں آپ کے دین سے زیادہ برا کوئی دین نہیں تھا لیکن آج آپ کا دین مجھے عزیز ترین ہے۔ اللہ کی قسم! میرے نزدیک آپ کے شہر سے زیادہ مبغوض شہر کوئی اور نہ تھا لیکن آج آپ کا شہر میرا سب سے زیادہ محبوب شہر ہے۔ آپ کے دستے نے مجھے اُس وقت پکڑا جب میں عمرے کے ارادے سے نکلا تھا، تو اب آپ کی کیا رائے ہے؟‘‘ رسول اللہ ﷺ نے آپ کو خوشخبری دی اور حکم دیا کہ عمر ادا کریں۔ جب حضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ مکہ میں داخل ہوئے تو کسی نے ان سے کہا : تم صابی (یعنی بے دین) ہو گئے ہو۔ حضرت ثمامہ نے جواب دیا: ’’نہیں، بلکہ میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اسلام میں داخل ہو گیا ہوں اور اللہ کی قسم! اب تمہارے یہاں یمامہ کی گندم سے ایک دانہ بھی نہیں پہنچے گا یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ اس کی اجازت دیں۔‘‘ (بخاری)
- 5یہ واقعہ فروری 2022ء میں مراکش کے شمالی صوبہ شفشاون کے ایک گاؤں میں پیش آیا جہاں ریان نامی پانچ سالہ بچہ، ایک کنویں میں گر گیا۔ سوشل میڈیا کی توجہ دلانے پر پوری امت اسے بچانے کے لیے بیدار ہو گئی۔ انتہائی کوششوں کے باوجود اس کے لیے زندگی مقدر نہ تھی۔
