تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس کا فرمان ہے:
﴿ وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا ﴾
’’اور تھام کر رکھو اللہ کی رسی کو تم سب اور آپس میں پھوٹ کے شکار نہ بنو‘‘
اور درود و سلام ہو اللہ تعالیٰ کا تا روز قیامت ہمارے نبی محمد پر جن کا فرمان ہے:
أيها الناس، عليكم بالجماعة، واياكم والفرقة، أيها الناس، عليكم بالجماعة، واياكم والفرقة
”اے لوگوں اجتماعیت کو لازم پکڑو اور آپس میں تفرقہ بازی سے بچو، اے لوگوں اجتماعیت کو لازم پکڑو اور آپس میں تفرقہ بازی سے بچو۔“
نیز رحمت و سلامتی ہو ان کے آل و اصحاب پر جو ان کی راہنمائی پر چلتے رہے اور ان کی سنتوں پر گامزن رہے۔
اما بعد!
ایک ایسے نازک وقت میں جب ایک طرف امت مسلمہ پہلے ہی سے ان وطنی لکیروں کے تحت، جو مسلمانوں کو تقسیم کرنے کی غرض سے سائکس پیکو معاہدے کے ذریعے کھینچی گئی تھیں، المناک نتائج کا سامنا کر رہی ہے، تو دوسری طرف صہیونی طاقتیں اور خطوں میں موجود ان کی کٹھ پتلیاں پورے تکبر کے ساتھ اپنے منحوس منصوبوں کو آگے بڑھانے اور مسلمانوں کی سرزمینوں کو مزید ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں، ہمیں میڈیا ذرائع سے موصول ہونے والی خبروں سے معلوم ہوا کہ اس بدکردار صہیونی ریاست نے اپنے وزیر اعظم (نیتن یاہو) کے توسط سے مسلمانوں کی گنجان آبادی پر مشتمل سرزمین صومالیہ سے علیحدہ مزید ایک مستقل ریاستِ صومال (صومالی لینڈ) کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے، اور اس کا محض مقصد یہ ہے کہ اب تک کے نامزد مشہور ملکِ صومالیہ سے علیحدہ ایک ایسا مستقل مسلم علاقہ تیار ہو جائے جہاں یہ صہیونی اپنے ناپاک قدم رکھ سکیں تاکہ وہاں سے خطے کے دیگر مسلم علاقوں پر صہیونی خطرے کی سنگینی کو بڑھائیں اور اس سے بڑھ کر یہ کہ وہاں سے دو اہم سمندر بحر ہند اور بحر احمر پر اور بالخصوص آبنائے باب المندب جو عالمی اسٹریٹجی میں اہم کردار رکھتا ہے اس پر کنٹرول جاری رکھ سکیں۔
یہ قدم ایسے ہی نہیں اٹھایا گیا، بلکہ اس معاملے سے پہلے صومالی حکمرانوں نے پچھلی دہائیوں میں اپنے آپ کو امریکہ اور صہیونی دشمنوں کے آگے بالکل جھونک دیا گویا کہ وہ ان کے حلیف ہوں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح یہ حکام صہیونی صلیبی دشمنوں کی خاطر داری کے لیے کئی سارے معاملوں میں جی حضوری کرتے چلے آ رہے ہیں اور کس طرح یہ امریکہ کی ان سے متعلق ہر منشا پوری کرنے کے لیے اور بحر احمر و بحر ہند سے جڑی مغربی مصلحتوں کی خدمت ادا کرنے کے لیے تیار بیٹھے رہتے ہیں۔
خود یہودیوں کے اعتراف کے مطابق وہ صومالیہ کے حوالے چند مقاصد رکھتے ہیں:
-
صومالی سرزمین ان علاقوں میں سے ایک ہے جس کو صہیونی رجیم غزہ سے ہمارے فلسطینی بھائیوں کو جبرا منتقل کرنے کے لیے ملحوظ رکھ رہی ہے، یہ پسِ پردہ معاملات بھی کھل کر سامنے آئے ہیں کہ ان ملکوں کے طاغوتی حکمرانوں نے صہیونیوں کے اس خیال کہ جواب میں یہ پیغام پہنچایا کہ وہ غزہ سے آنے والے لاکھوں لوگوں کو قبول کرنے کو تیار ہیں۔
-
مسلم ممالک میں صہیونی فوجی اقتدار کو پھیلانا۔
-
بربرہ بندرگاہ سے اپنا مفاد نکالنا جس کی ترقی کا بیڑا خطے میں موجود صہیونیوں کے وکیل صہیونی حکومتِ متحدہ امارات نے اٹھا رکھا ہے ۔
-
خلیج عدن اور آبنائے باب المندب پر نگرانی بٹھانا جہاں سے بڑے پیمانے پر دنیا بھر کا معاشی ساز و سامان گزرتا ہے۔
-
جزیرۂ عرب اور دیار حرمین کا محاصرہ کرنا۔
باوجود صومالیہ اور عالمی ذرائع کی جانب سے اس اقدام کے انکار اور اظہارِ لاتعلقی پر مشتمل بیانات کے، یہود صومالی لینڈ کی خائن حکومت کے ساتھ ایسے عملی منصوبوں کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں جو عالمی قراردادوں کو دیوار پر دے مارنے کا معنی دے رہے ہیں۔
ساتھ ہی ساتھ ہم نے صہیونی وفود اور صومالی لینڈ کے سربراہوں کی ملاقاتوں اور آمد و رفت کا بھی مشاہدہ کیا، مزید یہ بات بھی سامنے آئی کہ صہیونی حکومتِ امارات بآسانی صومالی لینڈ کی طرف منسوب لوگوں کو اپنا ویزا فراہم کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف دیگر صومالی لوگوں کو اپنے ملک میں داخل ہونے سے روک رہی ہے، اور اس کے علاوہ کئی معاملے جن میں کچھ بالکل واضح نظر آ رہے ہیں اور کچھ خفیہ طور پر ہو رہے ہیں۔ پھر یہ بات بھی کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ اس اعتراف سے قبل ہی صومالی لینڈ میں صہیونی حکومت کے ایجنٹ و نمائندے خفیہ طور پر موجود ہیں۔ اب یہ سب وہ معاملے ہیں جو واضح طور ثابت کرتے ہیں کہ یہ عالمی قراردادیں اور بین الاقوامی تنقیدیں صہیونی و صلیبی دشمنوں کو ایک دن بھی اپنے توسیع پسندانہ ناپاک منصوبوں میں روکنے والی نہیں ہیں، انہیں اور ان جیسے دیگروں کو در حقیقت جو چیز روکنے والی ہے وہ بس اس ربانی راستے کو مضبوط پکڑنا ہے جس پر حبیب مصطفی ﷺ نے توجہ دلائی:
إِذَا تَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ، وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ، وَرَضِيتُمْ بِالزَّرْعِ، وَتَرَكْتُمُ الْجِهَادَ، سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ ذُلًّا لَا يَنْزِعُهُ حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى دِينِكُمْ
’’جب تم بیع عینہ کرنے لگو گے، گایوں بیلوں کی دم تھام لو گے، کھیتی باڑی میں مست و مگن رہنے لگو گے، اور جہاد کو چھوڑ دو گے، تو اللہ تعالیٰ تم پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا، جس سے تم اس وقت تک نجات و چھٹکارا نہ پا سکو گے جب تک اپنے دین کی طرف لوٹ نہ آؤ گے۔‘‘
اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:
لا يدع قوم الجهاد في سبيل اللّٰه إلا سلط اللّٰه عليهم الذل
’’ جو قوم بھی جہاد چھوڑ دیتی ہے اللہ تعالیٰ اس پر ذلت کو مسلط کر دیتے ہیں۔‘‘
اسی بنا پر ہم صومالیہ کے مسلمان بھائیوں کو اس بات کی طرف مدعو کرتے ہیں کہ وہ اپنے اطراف میں موجود جہادی تنظیم ’’الشباب‘‘ کے ساتھ جڑیں اور مختلف وسیلوں سے ان کی نصرت کریں، کیونکہ یہ بہت سے دشمنوں کے مقابل اللہ تعالیٰ کے بعد اس خطے کے اہم محافظین ہیں۔
اور اسی طرح ہم دنیا بھر میں بسنے والے تمام مسلمان بھائیوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس خطرے کی سنگینی کو محسوس کریں اور اس کے تئیں جہاد فی سبیل اللّٰہ کے حوالے سے جو ان پر ذمہ داری بنتی ہے اس کی تیاری کریں، اس لیے کہ اگر ہم کھڑے نہ ہوئے اور ہم نے اس معاملے کی خبر نہ لی تو یہ خطرہ انتہائی تاریک نتائج رکھتا ہے، لہٰذا یہ بات مناسب نہیں کہ ہم یہودیوں کے بڑھتے اقدامات کو لے کر مزید ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں جبکہ وہ مزید جرائم برپا کرتے جائیں۔ بلکہ ضروری ہے کہ مسلمانانِ عالم ہوش کے ناخن لیں اور اللہ کے دشمنوں سے جہاد میں سبقت اختیار کریں۔ ہمارے لیے فقط ان کے منصوبوں کو روکنا اور سرسری سامنا کرنا کافی نہیں بلکہ یہ لازم ہے کہ ہم اپنی مقبوضہ زمینوں سے ان کی جڑیں اکھاڑ پھینکیں (بإذن اللہ تعالیٰ)
والله غالب على أمره ولكن أكثر الناس لا يعلمون
تنظيم قاعدة الجهاد في جزيرة العرب
۲۶ رجب ۱۴۴۷ھ بمطابق ۱۵ جنوری ۲۰۲۶ء
٭٭٭٭٭
