الحساب
آج ہم حشر کے دن ہونے والے حساب کی کچھ مثالوں کو دیکھیں گے جو سنن میں بیان کی گئی ہیں۔ انہی میں سے ایک مثال ریاکاروں کی ہے۔
ریا کیا ہے؟
ریا یہ ہے کہ کوئی عمل بھی اللہ تعالیٰ کے لیے کرنے کی بجائے کسی اور کو متاثر کرنے کی خاطر کیا جائے۔ یہ نہایت ہی خطرناک مرض ہے جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شرکِ اصغر کہا ہے۔ شرک کیا ہے؟ شرک اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنا ہے اور ریا یہ ہے کہ کوئی عمل اس طرح کیا جائے کہ وہ ایسا معلوم ہو کہ یہ اللہ کے لیے کیا جا رہا ہے جبکہ ہو وہ کسی اور کے لیے۔ لہٰذا یہ بھی شرک ہی کی ایک قسم ہے اور اسی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شرک اصغر سے تعبیر کیا ہے۔ اس کی ایک مثال منافقین کی نماز ہے۔ وہ نماز کے لیے آتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں مگر ان کے اس عمل میں اخلاص نہیں ہوتا۔
﴿ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ ۚ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى ۙ يُرَاۗءُوْنَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا﴾ (سورۃ النساء: ۱۴۲)
’’ یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کرتے ہیں، حالانکہ اللہ نے انہیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ اور جب یہ لوگ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو کسمساتے ہوئے کھڑے ہوتے ہیں، لوگوں کے سامنے دکھاوا کرتے ہیں، اور اللہ کو تھوڑا ہی یاد کرتے ہیں۔‘‘
پس ان کے جسم تو مسجد میں موجود ہوتے ہیں مگر ان کے دل کہیں اور بھٹک رہے ہوتے ہیں۔
اسی طرح لوگوں کے درمیان عالم کہلائے جانے کے لیے علم حاصل کرنا، قاری کہلوائے جانے کے لیے قرآن حفظ کرنا اور قتال کرنا تاکہ لوگ اسے شجاع جانیں، بھی ریا ہے۔ یہ سب ریا کی مثالیں ہیں اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ غنی ہیں، وہ ہر ضرورت و حاجت سے بے نیاز ہیں اور اللہ رب العزت کو ایسا کوئی عمل بھی قبول نہیں ہے جو اللہ کے ساتھ ساتھ کسی دوسرے کے لیے بھی کیا جائے۔ جو عمل خالص للہ نہیں ہو گا، اللہ رب العزت کو اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ صرف وہی قبول کریں گے جو خالص للہ ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ شرک، یعنی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا سب سے بڑا گناہ ہے۔ مسلم شریف کی حدیث ہے:
’’ جب حضرت ابوہریرہ سے لوگ دور ہو گئے (ان کے پاس سے چھَٹ گئے)تو ان سے اہل شام میں سے ناتل نامی آدمی نے کہا:اے شیخ! آپ ہم سے ایسی حدیث بیان فرمائیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن جس کا سب سے پہلے فیصلہ کیا جائے گا وہ شہید ہو گا اسے لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتیں جتوائی جائیں گی، وہ انہیں پہچان لے گا تو اللہ فرمائے گا: تو نے ان نعمتوں کے ہوتے ہوئے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے تیرے راستہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہو گیا، اللہ فرمائے گا: تو نے جھوٹ کہا! بلکہ تو تو اس لیے لڑتا رہا کہ تجھے بہادر کہا جائے، تحقیق وہ کہا جا چکا !پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دو۔ یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اور دوسرا شخص جس نے علم حاصل کیا اور اسے لوگوں کو سکھایا اور قرآن کریم پڑھا، اسے لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتیں جتوائی جائیں گی وہ انہیں پہچان لے گا تو اللہ فرمائے گا: تو نے ان نعمتوں کے ہوتے ہوئے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے علم حاصل کیا پھر اسے دوسروں کو سکھایا اور تیری رضا کے لیے قرآن مجید پڑھا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے جھوٹ کہا! تو نے علم اس لیے حاصل کیا کہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس کے لیے پڑھا کہ تجھے قاری کہا جائے سو یہ کہا جا چکا پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اور تیسرا وہ شخص ہو گا جس پر اللہ نے وسعت کی تھی اور اسے ہر قسم کا مال عطا کیا تھا، اسے بھی لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتیں جتوائی جائیں گی وہ انہیں پہچان لے گا ،اللہ فرمائے گا: تو نے ان نعمتوں کے ہوتے ہوئے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا میں نے تیرے راستہ میں، جس میں خرچ کرنا تجھے پسند ہے، تیری رضا حاصل کرنے کے لیے مال خرچ کیا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے جھوٹ کہا بلکہ تو نے ایسا اس لیے کیا کہ تجھے سخی کہا جائے، تحقیق وہ کہا جا چکا پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔‘‘
جس عرصے میں حضرت ابو ہریرہ دمشق میں درس دیا کرتے تھے، تب شام کے چند باسی ان کے پاس آئے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث بیان کرنے کی درخواست کی، تب آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی۔
پس پیارے بھائیو! ریا بہت ہی خطرناک گناہ ہے اور اس پر مستزاد یہ خفیہ بھی ہوتی ہے اور بعض اوقات اسے پہچاننا بہت ہی مشکل ہوتا ہے الا یہ کہ انسان اپنے اعمال کو جانچتا رہے اور خود کو آزماتا رہے اور اپنی نیت کا استحضار رکھے۔ دوسری صورت میں عین ممکن ہے کہ انسان یہ سمجھتے ہوئے اعمال کرتا رہے کہ وہ انہیں اللہ کی رضا کے لیے کر رہا ہے جبکہ اس کا اصل مقصد کچھ اور ہو۔ جو شخص مستقل اپنی نیت کو جانچتا پرکھتا نہیں ہے اس کے لیے ریا میں مبتلا ہو جانا عین ممکن ہے۔ پس انسان کو ہر وقت اپنی نیت کا استحضار رکھنا چاہیے کہ میں کیوں یہ عمل کر رہا ہوں۔ اور جب انسان اپنے اعمال کو پرکھتا ہے تو شیطان اپنا مخصوص حربہ آزماتے ہوئے ضرور اسے بہکانے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسا شخص جو ریا سے بچنے کے لیے اپنے اعمال پر کڑی نگاہ رکھتا ہے ، شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اسے سجھاتا ہے کہ تم جتنا بھی عمل کر رہے ہو اس کا مقصد محض دکھاوا ہے لہٰذا اسے چھوڑ دو۔ وہ بار بار انسان کے دل میں یہ خیال ڈالتا ہے اور یوں وہ انسان سے اس کا نیک عمل چھڑوا دیتا ہے۔
ایک مرتبہ ایک شخص ابو ہریرہ کے پاس آیا اور کہا کہ میں قرآن حفظ نہیں کرنا چاہتا کیونکہ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جس نے قرآن حفظ کیا اور پھر اسے بھلا دیا، قیامت کے دن اسے مسخ چہرے کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ حضرت ابو ہریرہ نے فرمایا کہ یہی قرآن کو ضائع کرنے کا آغاز ہے کہ تمہارا قرآن حفظ نہ کرنے کا ارادہ کرنا، اسے حفظ کر کے بھلا دینے سے زیادہ برا ہے۔ یہی معاملہ ریا کا ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ گر شیطان تمہارے پاس آئے اور تمہیں کسی عمل سے یہ کہہ کر روکنا چاہیے کہ یہ مت کرو، کہیں اس میں ریا نہ ہو تو انسان کو چاہیے کہ وہ عمل ضرور کرے اور اپنی نیت کو اللہ کے لیے خالص کرنے کی کوشش کرے، مگر اس عمل کو نہ چھوڑے۔ مثلاً چندہ جمع کرنے کی اعلانیہ مہم ہو تو شیطان ضرور یہ وسوسہ ڈالے گا کہ چھوڑو چھوڑو، اس میں حصہ نہ ڈالو، بعد میں کسی وقت خفیہ طور پر صدقہ کر دینا۔ انسان اس صدقے سے ہاتھ روک لے گا تو پھر شیطان اس سے یہ عمل ہی بھلا دے گا اور یوں نہ وہ اعلانیہ صدقہ دے پائے گا اور نہ ہی خفیہ۔ علما اس بارے میں یہی نصیحت کرتے ہیں کہ انسان کو وہ عمل کر گزرنا چاہیے البتہ اپنی نیت کی درستگی کی جانب توجہ دینی چاہیے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے ریا سے پناہ چاہتے ہیں۔
’’ حضرت صفوان بن محرز مازنی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ایک بار حضرت عبداللہ بن عمر کا ہاتھ تھامے ان کے ساتھ جارہا تھا، اچانک ایک شخص سامنے سے آکر کہنے لگا: آپ نے ’نجویٰ ‘ یعنی (قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی بندے سے) سرگوشی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس طرح سنا ہے؟ حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے قریب بلا لے گا اور اس پر اپنا پردۂ عزت ڈال کر اسے چھپالے گا، پھر فرمائے گا: تجھے اپنا فلاں گناہ معلوم ہے؟ تجھے اپنا فلاں گناہ یاد ہے؟ تو وہ کہے گا: جی ہاں، یا رب ! مجھے معلوم ہے حتیٰ کہ اس سے تمام گناہوں کا اقرار کرالے گا۔ اور وہ شخص اپنے دل میں خیال کرے گا کہ وہ اب تباہ ہو چکا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تجھ پر دنیا میں پردہ ڈالا، آج تیرے لیے ان گناہوں کو معاف کرتا ہوں، پھر نیکیوں کی کتاب اس کے ہاتھ میں دے دی جائے گی۔ لیکن کافر اور منافق کے متعلق برملا گواہ بولیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا۔ سن لو ! ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔‘‘
قیامت کے دن تمام کی تمام مخلوق حاضر ہو گی اور ان سے حساب کتاب سب کے سامنے ہو گا۔ ہر ایک اسے دیکھ اور سن سکے گا، ہر چیز ظاہر ہو گی۔ مگر اس بیان کردہ واقعے میں اللہ رب العزت نیچے تشریف لائیں گے اور اس مذکورہ شخص کو اپنے پردے میں چھپا لیں گے اور اس سے تمام گفتگو باقی مخلوق سے مخفی رکھتے ہوئے کریں گے تاکہ کوئی اور اس گفتگو کو نہ سن سکے۔ اللہ رب العزت اس سے اس کے ایک ایک گناہ کے بارے میں سوال کریں گے اور وہ قبول کرتا جائے گا اور جیسے جیسے حساب کتاب طویل ہوتا جائے گا وہ شخص مایوس ہوتا جائے گا کہ میں تو بس مارا ہی گیا۔ تب اللہ رب العزت اسے اپنی مغفرت اور اس کے گناہوں کی پردہ پوشی کی بشارت اور اس کے نیک اعمال کی کتاب عطا فرمائیں گے۔ دوسری طرف کفار و منافقین کے تمام کے تمام اعمال بد ظاہر کیے جائیں گے اور ان کے اعمال پر گواہان گواہی پیش کریں گے۔
تیسری مثال اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں کے اعمال میں ان کی کوتاہی پر ان کو سرزنش کرنے کی ہے۔
’’ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل قیامت کے دن فرمائے گا: اے ابن آدم! میں بیمار ہوا اور تو نے میری عیادت نہیں کی! وہ کہے گا: اے پروردگار! میں تیری عیادت کیسے کرتا حالانکہ تو تو رب العالمین ہے؟ اللہ فرمائے گا: کیا تو نہیں جانتا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا اور تو نے اس کی عیادت نہیں کی؟ کیا تو نہیں جانتا کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو تو مجھے اس کے پاس پاتا؟ اے ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا لیکن تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا !وہ کہے گا: اے پروردگار! میں آپ کو کیسے کھانا کھلاتا حالانکہ تو تو رب العالمین ہے؟ تو اللہ فرمائے گا: کیا تو نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا لیکن تو نے اس کو کھانا نہیں کھلایا تھا؟ کیا تو نہیں جانتا کہ اگر تو اس کو کھانا کھلاتا تو تو مجھے اس کے پاس پاتا؟ اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا لیکن تو نے مجھے پانی نہیں پلایا! وہ کہے گا: اے پروردگار میں تجھے کیسے پانی پلاتا حالانکہ تو تو رب العالمین ہے؟ اللہ فرمائے گا: میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا لیکن تو نے اس کو پانی نہیں پلایا تھا، اگر تو اسے پانی پلاتا تو تو مجھے اس کے پاس پاتا ۔‘‘
مریض کی عیادت کا یہ اجر ہے کہ گویا اللہ رب العزت سے ملاقات کی۔ اور یہی اجر بھوکے کو کھانا کھلانے اور پیاسے کو پانی پلانے کا بھی ہے۔ دراصل یہ اجر ایک دوسرے کی خدمت اور مدد کا ہے۔
ضمناً یہ بتاتا چلوں کہ ان دروس کا مقصد آخرت کے موضوع سے متعلق علم کا حصول ہے۔ آخرت کے موضوع کو پیش کرنے کے دو طریقے ہو سکتے ہیں: ایک مواعظ؛ یعنی تذکیر اور دوسرا مطالعہ، جو ہم اس سلسلے میں کر رہے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ ہم آخرت بارے تمام تر تفصیلات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں اور پھر یہی مطالعاتی مواد بعد ازاں مواعظ کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے، انہی معلومات کو پھر تذکیر کے لیے ذرا مختلف طریقے سے پیش کیا جا سکتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ آخرت کے موضوع کے بارے میں ضرور علم حاصل کرنا چاہیے تاکہ ہم دوسروں تک اسے پہنچا سکیں اور دوسروں کو اس کی تذکیر کروائیں کیونکہ موت و ما بعد الموت بہترین تذکیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سلسلے کو ہم نے ترتیب وار اور بالتدریج رکھا ہے تاکہ ہم علم حاصل کریں اور پھر اسے آگے تک پہنچائیں۔ آخرت کے بارے میں بات کرنے کا مؤثر ترین طریقہ موعظہ یعنی بطور تذکیر ہے۔
نامۂ اعمال کی تقسیم
نامۂ اعمال بلندی سے نیچے کی طرف پھینکے جائیں گے کہ لوگ نیچے کھڑے ہوں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق نامۂ اعمال کی تقسیم یا ان کے پھینکے جانے کا لمحہ بھی ان لمحوں میں سے ہے جو انسان کے بالوں کو سفید کردے گا۔کیونکہ نامۂ اعمال انسان کی جانب آرہا ہوگا اور وہ نہیں جانتا ہوگا کہ یہ اس کے دائیں ہاتھ میں آئے گا یا بائیں ہاتھ میں۔ اگر اعمال نیک ہوں گے تو اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور برے اعمال والوں کا اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔یہ اعمال نامہ انسان کی پوری زندگی کے کچے چٹھے پر مشتمل ہوگا ، پس اس کا دیا جانا انتہائی مشکل اور اہم مرحلہ ہے جو انسان کے بال سفید کردے گا۔ اللہ فرماتے ہیں:
﴿فَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ ۙ فَيَقُوْلُ هَاۗؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِيَهْ اِنِّىْ ظَنَنْتُ اَنِّىْ مُلٰقٍ حِسَابِيَهْ فَهُوَ فِيْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍ فِيْ جَنَّةٍ عَالِيَةٍ قُطُوْفُهَا دَانِيَةٌ كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْۗئًۢا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ﴾ (سورۃ الحاقۃ: ۱۹ تا ۲۴)
’’ پھر جس کسی کو اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، وہ کہے گا: لوگو ! لو یہ میرا اعمال نامہ پڑھو! (وہ ہر ایک کو اپنا اعمال نامہ دکھلانا چاہے گا)میں پہلے ہی سمجھتا تھا کہ مجھے اپنے حساب کا سامنا کرنا ہو گا۔ چنانچہ وہ من پسند عیش میں ہو گا۔ اس اونچی جنت میں جس کے پھل جھکے پڑ رہے ہوں گے۔ (کہا جائے گا کہ) اپنے ان اعمال کے صلے میں مزے سے کھاؤ پیو، جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے تھے۔‘‘
دیکھیے یہاں اللہ رب العزت پہلے ذکر فرماتے ہیں جھکے ہوئے پھلوں کا اور پھر فرماتے ہیں کہ کھاؤ اور پیو، اس لمحے میں یعنی نامۂ اعمال عطا کیے جانے کے لمحے میں اللہ رب العزت کی جانب سے یہ فرمان کہ کھاؤ اور پیو نہایت برمحل اس لیے ہے کہ یوم آخرت کو لوگ بھوک اور پیاس سے بدحال ہوں گے، بھوک اور پیاس اپنی انتہاؤں کو چھو رہی ہو گی، تب جب اسے اس کا نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو اسے خوش خبری سنا دی جائے گی کہ جلد ہی تم جنت میں داخل ہو گے اور جیسے چاہو گے کھانے اور پینے کی چیزوں سے لطف اندوز ہو سکو گے۔ یوم آخرت کے طویل انتظار اور شدید بھوک اور پیاس کی حالت میں اللہ رب العزت کے اس فرمان کی اور ہی حیثیت ہو گی کہ کھاؤ اور پیو، اور اس انعام کی وجہ وہ اعمال ہیں جو تم نے گزرے دنوں میں کیے ہیں۔ پس اس انعام کا دارومدار انسان کے اعمال پر ہے، ان اعمال پر جو اس نے ماضی میں کیے اور جن کے لیے وہ جوابدہ ہے۔
اور وہ جن کے بائیں ہاتھ میں ان کا نامۂ اعمال دیا جائے گا ان کا حال یہ ہو گا:
﴿وَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ ڏ فَيَقُوْلُ يٰلَيْتَنِيْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِيَهْ وَلَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِيَهْ يٰلَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَ مَآ اَغْنٰى عَنِّيْ مَالِيَهْ هَلَكَ عَنِّيْ سُلْطٰنِيَهْ ﴾ (سورۃ الحاقۃ: ۲۵ تا ۲۹)
’’ اور جس شخص کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، وہ کہے گا: اے کاش ! مجھے میرا اعمال نامہ دیا ہی نہ گیا ہوتا اور مجھے معلوم ہی نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے ! اے کاش کہ وہی موت قصہ پاک کر دینے والی ہوتی ! میرا مال و اسباب کچھ بھی میرے کام نہ آیا۔ میرا اقتدار بھی مجھ سے چھن گیا ۔“
یہ شخص چاہے دنیا کی زندگی میں جس قدر بھی زندگی سے محبت رکھنے والا اور موت سے نفرت کرنے والا ہوا، اب وہ یہ چاہے گا کہ کاش میں مر ہی جاتا (دوبارہ نہ اٹھایا جاتا) اور کاش کہ میں کبھی پیدا ہی نہ ہوا ہوتا۔ مال اور اقتدار وہ دو چیزیں ہیں جن کے لیے انسان دنیا کی زندگی میں چاہت رکھتا ہے اور اس کے لیے کوشش کرتا ہے اور اس کے لیے جائز ناجائز، حلال حرام ذرائع استعمال کرتا ہے، مگر یہ مال اور جاہ قیامت کے دن اس کے کسی کام نہ آئے گا اور اس کا ساتھ چھوڑ جائے گا۔ دنیا میں انسان پیسے کے ذریعے سب کچھ خرید سکتا ہے، جو بھی خریدنا چاہے، خواہ وہ عالی شان مکان ہو، قیمتی گاڑی ہو، بہترین کھانا ہو یا سفر ہو، پیسہ کے ذریعے انسان اپنی خواہشات خرید سکتا ہے مگر قیامت کے دن یہی پیسہ انسان کو کچھ فائدہ نہ دے گا، وہاں اس کی کوئی حیثیت نہ ہو گی، یعنی آج جو چیز دولت یا مال کہلاتی ہے وہ اس دن کچھ بھی نہیں کہلائے گی۔ پس یہ شخص کہے گا کہ میرا وہ مال کہ جس کو کمانے میں میں نے سالوں لگائے، آج جب مجھے اس کی ضرورت ہے تو وہ میرے کسی کام کا نہیں ہے۔ یہی حال جاہ کا ہے۔ اقتدار انسان کو با اثر بناتا ہے اور اس کے لیے بہترین مواقع پیدا کرتا ہے۔ مگر یہی ذی جاہ شخص آخرت کے دن بے اختیار ہو گا۔ اسے تو اس دن اپنے اعضاء و جوارح تک پر اختیار نہیں رہے گا، اس کے ہاتھ اس کے خلاف گواہی دیں گے، اس کے پاؤں اس کے خلاف گواہی دیں گے، اس کی زبان اس کے خلاف گواہی دے گی، جب اس کے پاس کچھ اختیار نہ رہے گا تو وہ سوچے گا کہ میں اس اقتدار پر کیوں مرتا رہا جو میرے کسی کام کا نہیں ہے آج؟ میں نے لوگوں کو اس اقتدار کے حصول کے لیے قتل کیا، میں نے ان کا حق مارا، آج وہ اقتدار کہاں گیا؟ آج تو مجھے اپنے جسم تک پر اختیار حاصل نہیں ہے! پس مال اور اقتدار قیامت کے دن کسی کام نہ آئیں گے، یہ بات اگر ہم آج سمجھ لیں تو ہم مال اور اقتدار محض اللہ کی رضا کے لیے حاصل کرنے والے بن جائیں نہ کہ اپنے نفس کی خاطر۔
القصاص (لوگوں کے درمیان حساب بے باق کرنا)
آپ نے لوگوں کو یہ کہتے اکثر سنا ہو گا کہ دنیا میں کیوں اس قدر قتل و قتال ہے، بھوک ہے، پریشانیاں ہیں، آخر اللہ کہاں ہے؟ وہ یہ نہیں سوچتے کہ یہ دنیا تو محدود وقت کے لیے ہے اور ہر چیز کا فیصلہ قیامت کے دن کیا جائے گا، کچھ بھی غیر ملحوظ نہ رہے گا، ہر ہر معاملے کو حل کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کسی نزاع کو یونہی نہیں جانے دیں گے۔ یہ حساب اس قدر جامع ہو گا کہ جانوروں تک کے مابین نزاعات کو حل کیا جائے گا۔ اللہ رب العزت اس روز اپنے عدل کا اظہار فرمائیں گے اور کسی پر ذرہ برابر ظلم و زیادتی نہ ہو گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ إِلَی أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّی يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَائِ مِنْ الشَّاةِ الْقَرْنَائِ (صحیح مسلم)
’’ قیامت کے دن تم لوگوں سے حق داروں کے حقوق ادا کروائے جائیں گے یہاں تک کہ بغیر سینگ والی بکری کا بدلہ سینگ والی بکری سے لے لیا جائے گا۔ ‘‘
لوگوں کے درمیان نزاعات کا فیصلہ کیسے ہوگا؟
مَنْ کَانَتْ لَهُ مَظْلَمَةٌ لِأَخِيهِ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ شَيْئٍ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ الْيَوْمَ قَبْلَ أَنْ لَا يَکُونَ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ إِنْ کَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهِ وَإِنْ لَمْ تَکُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَحُمِلَ عَلَيْهِ(صحیح بخاری)
’’ جس کسی نے دوسرے کی عزت یا کسی اور چیز پر ظلم کیا ہو، وہ اس سے آج ہی معاف کرالے، پہلے اس سے کہ وہ دن آئے جس میں درہم و دینار نہیں ہوں گے، پھر اگر ظالم کا کوئی نیک عمل ہو گا تو اس کے ظلم کی مقدار اس سے لے لیا جائے گا، اگر اس کی نیکیاں نہ ہوئیں تو مظلوم کے گناہ ظالم کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے ۔‘‘
قیامت کے دن صرف مالی نزاعات کو حل نہیں کیا جائے گا بلکہ مثلاً اگر کسی نے کسی کے خلاف زبان درازی کی ہو، ا س پر بہتان لگایا ہو، اس کی تحقیر کی ہو تو اس نے مذکورہ شخص کی عزت پر حملہ کیا، پس ایسے تمام نزاعات کا بھی قیامت کے دن فیصلہ کیا جائے گا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کسی نے کسی دوسرے پر کسی طرح کا بھی ظلم کیا ہو، زیادتی کی ہو وہ قیامت کے آنے سے پہلے پہلے اس سے معافی مانگ لے اور اگر وہ معاف نہ کرے تو یہ زیادتی کرنے والا گڑگڑا کر، عاجزی اور انکساری کے ساتھ اس سے معافی کا خواستگار ہو، کیوں؟ کیونکہ اس دن کہ جب مال و اسباب کام نہ آئیں گے ، تب اس ظلم کا بدلہ ظالم کے نیک اعمال مظلوم کو عطا کر کے دلایا جائے گا اور اگر اس کا کوئی نیک عمل نہ ہوا تو مظلوم کے گناہ ظالم کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے۔ اس دنیا میں تو بس اتنا ہی کرنا ہو گا کہ جا کر اپنے ظلم کی معافی مانگ لی مگر دنیا میں معاف نہ کروایا تو قیامت کے دن اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی اور قیامت کے دن کی واحد پونچی، واحد سکہ حسنات ہوں گی اور اس دن لوگ ایک ایک نیکی کے محتاج ہوں گے اور اسے ہر حال میں حاصل کرنا چاہیں گے خواہ وہ انہیں دنیا و مافیہا کے بدلے ہی کیوں نہ مل پائے۔
پس اگر ظالم کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں یا بدلے کے لیے کافی نہ ہوئیں تو مظلوم کے گناہ اس کے سر ڈال دیے جائیں گے۔ وہ گناہ اس ظالم نے نہیں کیے ہوں گے مگر وہ ان کی سزا بھگتے گا، کیوں؟ اس ظلم کے بدلے جو اس نے دنیا میں کیا ہو گا۔
دنیا میں انسان کیوں کسی کی غیبت کرتا ہے، اس پر بہتان لگاتا ہے یا اس کے خلاف زبان درازی کرتا ہے، صرف اس لیے نا کہ اس کے دل میں مذکورہ شخص کے لیے نفرت ہوتی ہے، یا حسد ہوتا ہے، لیکن اگر ہم اس کو آخرت کے حوالے سے سوچیں تو ایک انسان اپنے دشمن کو کسی حال میں بھی اپنی نیکیاں نہیں دینا چاہتا کجا یہ کہ اس کے گناہ بھی اپنے سر لے لے۔ پس اگر آپ کسی سے نفرت کرتے ہیں یا اس سے بغض رکھتے ہیں تو سب سے پہلے کرنے کا کام تو یہ ہے کہ اللہ رب العزت سے دعا کریں کہ وہ آپ کے دل کو اس نفرت سے پاک کر دے اور دوسرا یہ کہ اپنے آپ کو اس دشمنی اور نفرت میں اس مقام تک ہرگز نہ لے کر جائیں کہ جہاں یہ خود آپ ہی کے لیے نقصان کا باعث بن جائے۔ امام شافعی یا حسن بصری سے کہا گیا کہ فلاں آپ کے خلاف بات کر رہا تھا، پس انہوں نے پھلوں کا ایک ٹوکرا لیا اور اس شخص کے دروازے پر تشریف لے گئے جس نے ان کے خلاف بات کی تھی، اور اس سے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ تم نے اپنی کچھ نیکیاں مجھے عطا کر دی ہیں، پس میں اس کا بدلہ تمہیں نہیں دے سکتا لہٰذا یہ تحفہ شکریے کے طور پر پیش کرتا ہوں، تم نے میرے خلاف زبان درازی کی، تمہاری نیکیاں مجھے مل گئیں، شکریے کے طور پر یہ تحفہ قبول کرو! کسی کی بے عزتی کرنا، اس کا مال ہتھیانا یا جسمانی طور پر اس پر ظلم کرنا ، سب ہی ظلم کی شکلیں ہیں۔ بخاری شریف کی حدیث ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
’’ ظلم قیامت کے دن تاریکیوں کی شکل میں ہو گا۔‘‘
خون کا بدلہ
قصاص میں سے اہم تر خون کا بدلہ ہے، کسی کو جسمانی تکلیف پہنچائی ہو یا اسے قتل کیا ہو تو قیامت کے دن یہ ان اولین امور میں سے ہو گا کہ جس کا بدلہ چکایا جائے گا۔ ترمذی شریف کی ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
يَجِيئُ الْمَقْتُولُ بِالْقَاتِلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَاصِيَتُهُ وَرَأْسُهُ بِيَدِهِ وَأَوْدَاجُهُ تَشْخَبُ دَمًا يَقُولُ يَا رَبِّ هَذَا قَتَلَنِي حَتَّی يُدْنِيَهُ مِنْ الْعَرْشِ
’’ قیامت کے دن مقتول قاتل کو ساتھ لے کر آ جائے گا، اس کی پیشانی اور سر مقتول کے ہاتھ میں ہوں گے، مقتول کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا، کہے گا: اے میرے رب ! اس نے مجھے قتل کیا تھا، (یہ کہتا ہوا) اسے لیے ہوئے عرش کے قریب جا پہنچے گا ۔‘‘
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَوَّلُ مَا يُقْضَی بَيْنَ النَّاسِ بِالدِّمَائِ (صحیح بخاری)
’’ قیامت کے دن سب سے پہلے خون کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ‘‘
پس قیامت کے دن سب سے پہلے خون کا فیصلہ کیا جائے گا۔ مقتول قاتل کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرے گا کہ یا اللہ! اس نے مجھے قتل کیا، مجھے بدلہ دلا۔ یہ تو اس کا حال ہے جس کی گردن پر ایک قتل ہے، پس سوچیے کہ ان کا کیا حال ہو گا کہ جن کی گردن پر ہزاروں انسانوں کے قتل کا گناہ ہے؟
ابو مسلم الخراسانی وہ شخص ہے کہ جسے عباسیوں نے اپنی خلافت کی راہ ہموار کرنے کے لیے استعمال کیا اور اس مقصد کے حصول کے لیے اس نے ہزاروں انسان قتل کیے۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے، واللہ اعلم یہ حقیقت ہے یا نہیں ، مگر کہا جاتا ہے کہ اس نے عرفات کے پہاڑ پر کھڑے ہو کر کہا کہ اے اللہ! میں اپنے ان اعمال کے لیے تیری مغفرت کا طالب ہوں کہ جن کے بارے میں میں سمجھتا ہوں کہ تو مجھے معاف نہیں کرے گا۔ پس ایک شخص نے اس سے کہا کہ تم کیسی باتیں کر رہے ہو؟ اللہ رب العزت تو ہر چیز معاف کر دینے پر قدرت رکھتے ہیں۔ ابو مسلم نے کہا: کیا تم یہ کثیر مخلوق دیکھ رہے ہو؟ (وہ حج کے دن تھے اور عرفات میں ہزاروں لوگ جمع تھے)، ان سب کا مجھ پر کچھ حق ہے۔ ان میں سے کسی کے شوہر، کسی کے باپ، کسی کی ماں، کسی کے بھائی کو میں نے قتل کیا ہے یا ان پر ظلم کیا ہے، جب یہ سب لوگ قیامت کے دن اللہ رب العزت کے سامنے پیش ہوں گے اور مجھ سے بدلے کا مطالبہ کریں گے تو کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ ان کا بدلہ مجھ سے نہ لیں اور مجھے معاف کر دیں؟ پس ہر دور کے ظالموں کو قیامت کے دن اپنے ظلم کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔
قیامت کے دن دیوالیہ کون ہوں گے؟
نبی کریم ایک روز اپنے صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ فرمایا:
أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ قَالُوا الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ فَقَالَ إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَکَاةٍ وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا وَقَذَفَ هَذَا وَأَکَلَ مَالَ هَذَا وَسَفَکَ دَمَ هَذَا وَضَرَبَ هَذَا فَيُعْطَی هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَی مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ (صحیح مسلم)
’’ کیا تم جانتے ہو کہ مفلس (دیوالیہ) کون ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: ہم میں مفلس وہ آدمی ہے کہ جس کے پاس مال و اسباب نہ ہو، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: قیامت کے دن میری امت کا مفلس وہ آدمی ہو گا کہ جو نماز روزے زکوۃ وغیرہ سب کچھ لے کر آئے گا لیکن اس آدمی نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہو گی اور کسی پر تہمت لگائی ہو گی اور کسی کا مال کھایا ہو گا اور کسی کا خون بہایا ہو گا اور کسی کو مارا ہو گا تو ان سب لوگوں کو اس آدمی کی نیکیاں دے دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں ان کے حقوق کی ادائیگی سے پہلے ہی ختم ہو گئیں تو ان لوگوں کے گناہ اس آدمی پر ڈال دیے جائیں گے پھر اس آدمی کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔‘‘
پس دیوالیہ کی تعریف پر توجہ کریں۔ معاشیات کی اصطلاح میں دیوالیہ کون ہوتا ہے؟ دیوالیہ وہ ہوتا ہے کہ جس کے پاس موجود مال ضائع ہو جائے اور یہ غریب اور فقیر سے مختلف ہے کیونکہ غریب اور فقیر وہ ہوتا ہے کہ جس کے پاس بہت عرصے سے مال نہ ہو۔ دیوالیہ تو وہ ہوتا ہے کہ جو مالدار ہو اور پھر کسی وجہ سے اس کا مال ضائع ہو جائے۔ اب مذکورہ حدیث ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جہنم میں جانے والا شخص نیکیوں کے معاملے میں مالدار تھا، اس کی بہت سی نیکیاں تھیں، نماز، روزے، زکوۃ، اس نے دنیا میں بہت سے نیک کام کیے ہوں گے مگر چونکہ اس نے لوگوں کا حق مارا ہو گا لہٰذا وہ اپنی تمام نیکیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے گا، نا صرف یہ بلکہ عین ممکن ہے کہ وہ دوسروں کے گناہوں کا بوجھ بھی اپنے اوپر لاد کر جہنم میں جا گرے۔ اس بات پر ہمیں خوب اچھی طرح غور کرنا چاہیے تاکہ ہم اپنے معاملات درست رکھ سکیں۔ مثلاً ایک مسلمان ہے مگر وہ فاسق و فاجر ہے، جبکہ دوسرا وہ ہے جس کا وقت مسجد میں گزرتا ہے اور وہ خوب بھر بھر کے نیکیاں کمانے کی کوشش کرتا ہے، مگر پھر یہ نیک مسلمان اس فاسق و فاجر سے ناروا سلوک کرتا ہے اور قیامت کے دن اس نیک مسلمان کی نیکیاں اس فاسق و فاجر کو مل جاتی ہیں جس نے نہ کبھی نماز پڑھی نہ کبھی روزہ رکھا اور اس کے گناہ اس نیک مسلمان کو مل جاتے ہیں کہ جس نے نہ کبھی شراب پی، نہ چوری کی، نہ جھوٹ بولا وغیرہ۔ پس اس سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ ہمیں کبھی بھی حقوق العباد کو اور لوگوں کے ساتھ معاملات کو ہلکا نہیں سمجھنا چاہیے کہ اس میں کوتاہی انسان کے تمام نیک اعمال کے ضائع ہونے کا سبب بن کر اسے آخرت کے دن مفلس بنا سکتی ہے، جس دن انسان ایک ایک نیکی کا محتاج ہو گا۔
میں سمجھتا ہوں کہ ہم لوگوں کے ساتھ معاملات کو بہت ہلکا سمجھتے ہیں اور نیکی صرف نماز روزے ہی کو سمجھتے ہیں اور محض یہ مراسم عبودیت ادا کر کے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی جنت بنا رہے ہیں اور اللہ کا قرب حاصل کر رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ معاملات میں ہماری کوتاہی ہمارے سب کیے کرائے پر پانی پھیر سکتی ہے۔ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں دین کا درست فہم عطا فرمائے کیونکہ دین میں سے ہم اپنی مرضی سے کچھ لے اور کچھ چھوڑ نہیں سکتے بلکہ دین اسلام ایسا دین ہے کہ جسے ہم نے پورا کا پورا لینا ہے، اگر کوئی معاملات اور اخلاق میں بہت اچھا ہے مگر نماز روزے کے قریب بھی نہیں پھٹکتا تو اس کا دین کامل نہیں ہے اور اسی طرح اس کا دین بھی کامل نہیں ہے جس کی عبادات تو بہت ہوں مگر حقوق العباد کی ادائیگی کا خانہ بالکل خالی ہو۔
جیسا کہ ہم نے شروع میں کہا کہ تمام مخلوقات کے مابین نزاعات کا فیصلہ قیامت کے دن کیا جائے گا، پس ابن جریر الطبری کی روایت کردہ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ اللہ رب العزت تمام حیوانات کے مابین نزاعات کا فیصلہ فرمائیں گے اور پھر تمام حیوانات کو حکم دیں گے کہ مٹی ہو جاؤ تو وہ سب کے سب حیوانات خاک ہو جائیں گے اور ان کا کوئی وجود باقی نہیں رہے گا کیونکہ جانوروں کے لیے کسی ثواب و عقاب کا وعدہ نہیں ہے، ان کے لیے نہ جنت ہے اور نہ ہی جہنم، پس تمام کے تمام جانور، جو کہ مکلف نہیں ہیں، انہیں اللہ رب العزت مٹی کر دیں گے اور کافر یہ سب دیکھ رہا ہو گا اور تب یہ سب دیکھ کر وہ کہے گا:
﴿وَيَقُوْلُ الْكٰفِرُ يٰلَيْتَــنِيْ كُنْتُ تُرٰبًا﴾ (سورۃ النبا: ۴۰)
’’ اور کافر کہے گا: کاش کہ میں مٹی ہوتا (میں کبھی پیدا ہی نہ ہوا ہوتا، میرا کوئی وجود ہی نہ ہوتا)!۔‘‘
عَنْ أَبِي ذَرٍّ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى شَاتَيْنِ تَنْتَطِحَانِ فَقَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ هَلْ تَدْرِي فِيمَ تَنْتَطِحَانِ قَالَ لَا قَالَ لَكِنَّ اللَّهَ يَدْرِي وَسَيَقْضِي بَيْنَهُمَا (مسند احمد)
’’حضرت ابوذرؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بکریوں کو آپس میں ایک دوسرے سے سینگوں کے ساتھ ٹکراتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: اے ابوذر ! کیا تم جانتے ہو کہ یہ کس وجہ سے ایک دوسرے کو سینگ مار رہی ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں! (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے) فرمایا: لیکن اللہ جانتا ہے اور عن قریب ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا ۔‘‘
یہ واقعہ ایسا نہیں ہے کہ جو کبھی کبھار پیش آئے بلکہ اس قسم کے بہت سے واقعات ہمارے سامنے بھی پیش آتے ہیں، غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اس حدیث سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سامنے ہونے والی کسی بھی بات اور کسی بھی واقعے کو ایک خاص تناظر میں دیکھتے تھے۔ پس اس واقعے نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخرت اور حساب کتاب کی یاد دلائی اور آپ نے حضرت ابو ذر کو بھی اس کی تعلیم دی۔ پس اس میں ہمارے لیے نصیحت ہے کہ ہماری نگاہیں جو کچھ دیکھتی ہیں اور ہمارے کان جو کچھ سنتے ہیں ہم ان سے نصیحت اور عبرت حاصل کریں۔
وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد وعلی صحبہ وسلم
٭٭٭٭٭
