قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا ۭ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰكِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْاِيْمَانُ فِيْ قُلُوْبِكُمْ ۭ وَاِنْ تُطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ لَا يَـلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَـيْـــــًٔا ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ (سورۃ الحجرات: ۱۴)
’’ بدو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے، کہہ دیجیے کہ ت م ایمان نہیں لائے البتہ تم یہ کہو کہ تم مسلمان ہو گئے ہو، جبکہ ایمان ابھی تمہارے دلوں میں نہیں اترا، اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کرو گے تو وہ تمہارے کاموں میں کچھ بھی کم نہ کرے گا، بلاشبہ اللہ بہت بخشش کرنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔ ‘‘
اسلام اور ایمان
اسلام اور ایمان کا فرق
اسلام اور ایمان بڑی حد تک ایک ہی مفہوم میں استعمال ہوتے ہیں ، لیکن قرآن و حدیث کی اصطلاح میں ان کو کچھ فرق کے ساتھ بھی استعمال کیا گیا ہے، جس کی وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے جو امام مسلمؒ نے اپنی صحیح کے آغاز میں درج کی ہے، اس کو حدیث جبرئیل کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے، یہ ۱۰ ہجری کا واقعہ ہے، حضرت جبرئیل علیہ السلام آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے ایسے سوالات کیے کہ ان کے جوابات سے حضرات صحابہؓ کے سامنے ان کی زبان مبارک سے پورے دین کا خلاصہ ہو جائے، ان ہی سوالات میں ایک سوال اسلام کے بارے میں تھا، اور ایک ایمان کے بارے میں ، اسلام کے بارے میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا تھا:
’’أن تشھد أن لا إلہ إلا ﷲ وأن محمد رسول ﷲ وتقیم الصلوۃ وتؤتی الزکوۃ وتصوم رمضان وتحج البت إن استطعت إلیہ سبیلا۔‘‘1صحیح مسلم، باب معرفۃ الایمان والاسلام
’’تم زبان سے اس کا اقرار کروکہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں ، تم نماز قائم کرو، زکوٰہ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، اور استطاعت ہو تو حج بیت اﷲ کرو۔‘‘
ایمان کے بارے میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد یہ تھا:
’’أن تؤمن باللہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الآخر والقدر خیرہ وشرہ۔‘‘
’’تم اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر اور بھلی یا بری تقدیر پر۔‘‘
ان دونوں ارشادات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اسلام کا تعلق ظاہر سے ہے اور ایمان کا تعلق باطن سے اور دین ان دونوں کے مجموعہ کا نام ہے، نہ ایمان کے بغیر اسلام کا تصور ممکن ہے، اور نہ ایمان اسلام کے بغیر مکمل ہوسکتا ہے، دونوں ایک دوسرے کے لیے ضروری ہیں ، عقائد کی درستگی دین کی بنیاد پر ہے اور اعمال کے بغیر اس بنیاد پر تعمیر نہیں ہوسکتی، اسلام کی عمارت ان دونوں سے مل کر مکمل ہوتی ہے، اگر عقائد درست ہیں لیکن اعمال میں کوتاہی ہے تو یہ فسق ہے اور اگر عقائد ایمان کے مطابق نہیں ہیں اور اعمال اسلامی ہیں تو یہ نفاق ہے۔
اسلام لانے والوں کی قسمیں
زمانہ نبوت میں جب اسلام کا بول بالا ہوا، اور ’’یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اﷲِ أَفْوَاجاً‘‘2سورۃ النصر: ۲ کا سماں بندھ گیا تو کافروں کی ایک بڑی تعداد اسلام میں صرف اس لیے داخل ہوگئی تاکہ اس کو ہر طرح منافع حاصل ہو سکیں ، اور اسلامی معاشرہ میں ان کو قدر و منزلت حاصل ہو، ان میں بڑی تعداد بعد میں مخلص مسلمان ہو گئی اور ایک تعداد ان لوگوں کی باقی رہی جو صرف ظاہری طور پر مسلمان تھے، اور ایک تعداد ان دشمنوں کی بھی تھی جنہوں نے اسلام کا لبادہ صرف اس لیے اوڑھا تھا تاکہ وہ مسلمان بن کر مسلمانوں میں انتشار پیدا کر سکیں ، اور اس کے لیے ان کو اندر گھسنے کے مواقع آسانی سے حاصل ہو جائیں ، آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ان کے ساتھ مسلمانوں جیسا معاملہ فرماتے تھے، اگرچہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی ان کے بارے میں بخوبی علم ہو چکا تھا لیکن اعمال کی بنیاد پر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ مسلمانوں جیسا برتاؤ باقی رکھا تھا، پھر جب غزوۂ تبوک کے بعد ان منافقین کے سلسلہ میں بہت سخت آیات نازل ہوئیں تو ان منافقین کے بارے میں آپ کا رویہ تبدیل ہوگیا جن کا نفاق کھل گیا تھا، ان منافقین میں اکثریت یہودیوں کی تھی، جو محض بغض و عناد میں اپنے نفاق پر قائم تھے اور ان کا مقصد ہی مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنا اور ان کو کمزور کرنا تھا، ورنہ اور منافقوں کا حال یہ تھا کہ چند کو چھوڑ کر تقریباً سب ہی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ اور اسلام کے نظام عادلانہ سے متأثر ہوکر سچے مسلمان بن چکے تھے۔
بدوؤں کا حال
غلبۂ اسلام کے بعد اسلام لانے والوں کی ایک بڑی تعداد ان بدوؤں کی تھی جو مختلف علاقوں سے آ کر مسلمان ہوتے تھے اور ان ہی میں بعض صرف فائدہ اٹھانے کے لیے مسلمان ہوئے تھے، ان ہی لوگوں میں بنو اسد کا وفد بھی تھا، جو ۹ھ میں آیا تھا، وہ زمانہ ان کے یہاں قحط سالی کا تھا، وہ خود ہی مسلمان ہو کر اس لیے آ گئے تھے تاکہ ان کو مصیبت میں کچھ راحت مل سکے، وہ آئے تو انہوں نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو خطاب کر کے کہا کہ ہم خود اپنے مال و اولاد کے ساتھ خدمت میں حاضر ہو گئے ہیں ، ہم ان دوسرے قبائل کی طرح نہیں ہیں ، جن سے آپ کو مقابلہ کرنا پڑا، بار بار وہ یہ احسان جتاتے تھے، اور چاہتے تھے کہ ان کو زیادہ سے زیادہ صدقات حاصل ہو جائیں ، سورۂ حجرات کی یہ آخری آیات اسی موقع پر نازل ہوئیں:3مختصر تفسیر ابن کثیر، تفسیر سورۃ الحجرات: ۳۲۹ (مطبوعہ دارا لقلم)
قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا ۭ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰكِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْاِيْمَانُ فِيْ قُلُوْبِكُمْ
’’بدو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے، کہہ دیجیے کہ تم ایمان نہیں لائے البتہ تم یہ کہو کہ ہم مسلمان ہو گئے، جبکہ ایمان ابھی تمہارے دلوں میں نہیں اترا۔‘‘
أعراب، أعرابي کی جمع کے طور پر استعمال ہوتا ہے، عرب کے بدوؤں کے لیے یہ لفظ بولا جاتا تھا، عام طور پر ان میں ثقافت کی کمی ہوتی تھی، لیکن عربوں کی بہت سی خصوصیات کے وہ حامل ہوا کرتے تھے، خاص طور پر عربی زبان میں ان کو امتیاز بہت بعد تک حاصل رہا، ان کے مزاج میں عام طور پر سختی ہوتی تھی، بنو اسد بھی ان ہی اعراب میں شامل تھے، اور یہاں آیت میں خاص طور پر ان ہی کو خطاب کیا جا رہا ہے، تاکہ حقیقت ان کی سمجھ میں آ جائے، اور ان کی یہ غلط فہمی دور ہو جائے کہ زبان سے اسلام کا اقرار کافی ہے، اور اس سے ان کو وہ ساری سہولیات حاصل ہو جائیں گی جو مسلمانوں کو غلبہ اسلام کے وقت کسی درجہ حاصل ہو گئی تھیں ، آگے ارشاد ہوتا ہے:
وَاِنْ تُطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ لَا يَـلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَـيْـــــًٔا ۭ
’’اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کرو گے تو وہ تمہارے کاموں میں کچھ بھی کم نہ کرے گا۔‘‘
قرآنی تلقین
یہ حکمت قرآنی ہے کہ ان کو غلطی پر متنبہ کرنے کے بعد صحیح راستہ کی تلقین بھی کی جا رہی ہے کہ اپنے وقت کو صرف حصول دنیا میں ضائع نہ کرو، جب تم مسلمان ہو رہے ہو تو صحبت نبوت کا فیض اٹھاؤ، اور آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم جس طرح بتائیں اس طرح اپنے ایمان کی تجدید کرو اور اسلام کو مکمل کرو تو اللہ تعالیٰ تمہارے اقرار کو ضائع نہیں فرمائے گا اور تم سچے پکے مسلمان بن جاؤ گے، پھر اسی کی تاکید کے طور پر ارشاد ہے:
اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ
’’بلاشبہ اللہ بہت بخشش کرنے والا اور نہایت رحم فرمانے والا ہے۔‘‘
دعوتِ فکر
یہ آیت شریفہ ہم سب مسلمانوں کے لیے دعوت فکر ہے، صرف زبان سے اقرار کرلینا، اعمال کو اختیار کرلینا کافی نہیں ہے، جب تک ایمان دل میں اتر نہ جائے اس وقت تک خواہ نام کچھ بھی ہو لیکن وہ اللہ کے یہاں مقبول نہیں ، ایک بڑے عارف نے یہ بات بڑی دل سوزی کے ساتھ کہی کہ آج مسلمانوں کے قبرستانوں میں نہ جانے کتنے وہ لوگ دفن ہورہے ہیں جو اللہ کے یہاں مسلمان نہیں ، صحیح مسلمان ہونے کے لیے ایمان شرط ہے، اور ایمان صحت عقائد کا نام ہے، اور عقائد میں پہلا مرحلہ عقیدہ توحید کا ہے اور اس کے بارے میں عام طور پر مسلمانوں کاذہن صاف نہیں ، ایک اللہ کے ساتھ نہ جانے کتنے معبودان باطل اپنے دل کے نہاں خانوں میں پالے جارہے ہیں ، اور بعض مرتبہ ان لوگوں کی زبان و قلم سے جو اہل حق کہلاتے ہیں ، مسلمانوں کے نمائندے سمجھے جاتے ہیں ، ایسے جملے نکل جاتے ہیں جو عقیدہ توحید کے چشمہ صافی کو گدلا کرکے چھوڑتے ہیں ، کہنے والا شاید محسوس بھی نہیں کرپاتا لیکن بات کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے، اچھے اچھے لوگوں کی زبان سے یہ جملہ سنا گیا ہے کہ ’’اللہ اور اس کا رسول چاہے تو ایسا ہوجائے گا۔‘‘ یہ اللہ کی صفت قدرت میں شرک ہے، وہ جو چاہے کرے، ’’فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ‘‘ صرف اسی کی صفت ہے۔
عقائد و ایمانیات کو بہت کھنگالنے کی ضرورت ہے، ایمان کے منافی جو چیزیں بھی ہمارے معاشرے میں داخل ہوگئی ہیں ان کو کھرچ کھرچ کر پھینکنے کی ضرورت ہے، تاکہ ہم جس طرح مسلمان نظر آتے ہیں ، حقیقی معنوں میں مسلمان بن جائیں ، اور ایمان واسلام کو مکمل کرکے دین کے پوری طرح حامل و ترجمان بن جائیں ، ہماری زندگی حقیقت دین کی دعوت ہو، اور ہم سراپا عمل ہوں ، ہمارا ایمان بھی خالص ہو اور ہمارا سلام بھی مکمل ہو۔
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوْا وَجٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ(سورۃ الحجرات: ۱۵)
’’ایمان والے تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول پر یقین کیا پھر وہ شک میں نہیں پڑے اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے انہوں نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا، سچے لوگ تو وہی ہیں۔‘‘
حقیقتِ ایمان
ایمان صرف اقرار کا نام نہیں
ایمان صرف زبان سے اس کے اقرار کا نام نہیں ، حقیقت میں اس کا تعلق دل سے ہے، اگر کوئی اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہے اور کام کاج بھی مسلمانوں جیسے کرتا ہے، اس کو دنیا لاکھ مسلمان سمجھے لیکن اگر اس کا دل اللہ کے سامنے جھکا نہیں ہے اور شکوک و شبہات کے دائرہ سے وہ نہیں نکل سکا ہے تو اہل ایمان کی فہرست میں اس کا شامل ہونا بہت مشکل ہے، اس کا امتحان ہوتا ہے، مصائب و مشکلات کے وقتوں میں ، اس وقت اگر آدمی ثابت قدم ہے اور اس کا دل پوری طرح مطمئن ہے تو وہ ایمان والا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
أَفَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ یُّتْرَکُوْآ أَنْ یَّقُوْلُوْآ آمَنَّا وَھُمْ لاَ یُفْتَنُوْنَ، وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْکَاذِبِیْنَ
’’کیا لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے اس قول کے بعد کہ ہم ایمان لے آئے ان کو یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا اور ان کو آزمایا نہ جائے گا، جبکہ ہم نے ان سے پہلے والوں کو بھی آزمایا، تو اللہ سچوں کو بھی خوب پرکھ لے گا اور جھوٹوں کو بھی خوب پہچان لے گا۔‘‘
سورۂ حجرات کی پندرہویں آیت میں اسی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے:
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ آمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَجَاھَدُوْا بِأَمْوَالِھِمْ وَأَنْفُسِھِمْ فِیْ سِبِیْلِ اﷲِ أُولٓئِکَ ھُمُ الصَّادِقُوْنَ۔ (سورۃ الحجرات: ۱۸)
’’ایمان والے تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول پر یقین کیا پھر وہ شک میں نہیں پڑے اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے انہوں نے اللہ کے راستہ میں جہاد کیا، سچے لوگ تو وہی ہیں ۔‘‘
یقین کی ضرورت
اوپروالی آیت میں گزر چکا ہے کہ بنواسد کے بدو اپنے ایمان کے دعویٰ کے ساتھ آئے تھے، ان سے کہہ دیا تھا کہ ابھی تم ایمان والے نہیں ہو، مذکورہ آیت میں ایمان کی تشریح کی جارہی ہے، اور یہیں سے ان بدو قبائل کے سامنے یہ وضاحت بھی ہورہی ہے کہ اگر تم ایمان چاہتے ہو تو اس کی پہلی شرط یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول پر پورا یقین ہو، اس میں شبہ نہ ہو، اور اس کی بڑی علامت یہ ہے کہ جان و مال کی قربانی دشوار نہ رہ جائے۔
یہ بات ہر ایک آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ اگر کوئی بڑی منفعت پیش نظر ہو تو انسان کے لیے دشواریاں آسان ہوجاتی ہیں ، فائدہ کا جتنا زیادہ یقین ہوجاتا ہے اس کے بقدر اس کی راہ کی مشکلات آسان ہوتی ہیں ، یہی حال ایمان کا ہے، اللہ اور اس کے رسول پر ایمان جتنا زیادہ طاقتور ہوتا ہے، اس کے بہترین نتائج کا یقین بڑھتا جاتا ہے، پھر آدمی کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ اس راہ میں اپنی جان کی بھی کوئی قیمت نہیں رہ جاتی: ؎
جان کی قیمت دیار عشق میں ہے کوئے دوست
اس نوید جانفزا سے سر و بالِ دوش ہے
حقیقی ایمان کا نتیجہ
حضرات صحابہ کی قربانیوں کا راز یہی تھا، غزوۂ احد کے موقع پر ایک صحابی کھجوریں کھاتے کھاتے بے خود ہو کر کہنے لگے کہ یہ تو طویل عمر ہوئی، کھجوریں پھینکیں اور بڑھ کر جام شہادت نوش کیا، انہوں نے جنت کی خوشبو محسوس کر لی، اور حضرات کا یقین مشاہدہ کے درجہ کو پہنچ رہا تھا، حضرت علی کرّم اللہ وجہہ سے منقول ہے کہ اگر جنت اور دوزخ میرے سامنے لے آئے جائیں تو میرے یقین میں اضافہ نہ ہو، اس یقین کا نتیجہ یہ تھا کہ انہوں نے دنیا کے حالات بدل دیے، وہ جہاں گئے وہاں کی دنیا بدل گئی، ایمان و یقین کی ہوائیں چلنے لگیں ، وہ ذات نبوی صلی اﷲ علیہ وسلم کے فیض یافتہ تھے، جو ان کی صحبت میں رہ گیا وہ کندن بن گیا، یہ حقیقت ایمان ہے۔
اللہ کی ذات پر اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وعدوں پر یقین جتنا بڑھتا جاتا ہے، دل کی بستی آباد ہوتی جاتی ہے، دل کی بسی ہوئی بستی کو دنیا کی کوئی طاقت ویران نہیں کر سکتی، آج مسلمانوں کی پستی کا راز یہی ہے کہ دلوں کی بستیاں ویران ہیں ، اس میں جب تک ایمان و یقین کی شمعیں نہیں روشن کی جائیں گی، مسلمانوں کے لیے عزت و بلندی کا حصول سخت دشوار ہے، سربلندی کا وعدہ تو ایمان پر ہے، ’’وأنتم الأعلون إن کنتم مؤمنین‘‘۔
موجودہ صورت حال
مسلمان کروڑوں نہیں ارب سے متجاوز ہیں، لیکن دنیا میں ان کی کوئی وقعت نہیں، اس کی وجہ ایمان و یقین کی کمی بلکہ عام طور پر اس کا فقدان ہے، اسی کا نتیجہ ہے کہ روپیوں کی خاطر ایمان بیچا جا رہا ہے، حدیث میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس کی پیشین گوئی فرمائی تھی:
یصبح الرجل مؤمنا ویمسی کافرا ویمسی مؤمنا ویصبح کافرا یبیع دینہ بعرض من الدنیا
’’آدمی صبح مسلمان ہو گا اور شام کو کافر، شام کو مسلمان ہو گا صبح کو کافر، وہ اپنے دین کو دنیا کے چند ٹکوں کی خاطر بیچ دے گا۔‘‘
آج یہ چیز حقیقت بن کر سامنے آرہی ہے۔
ایمان کی کسوٹی
ایمان جب تک اللہ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم پر مضبوط نہ ہو گا، اور اسباب دنیا ہی میں آدمی پڑا رہے گا، اس وقت تک شکوک و شبہات کا ازالہ بہت مشکل ہے، اور اس کی کسوٹی یہی ہے کہ اللہ کے راستہ میں جان و مال کی قربانی کی جب بھی ضرورت پیش آئے وہ ہمہ وقت تیار رہے، ’’جَاھَدُوْا بِأَمْوَالِھِمْ وَأَنْفُسِھِمْ فِیْ سِبِیْلِ ﷲِ‘‘ کا یہی مطلب ہے، ایمان مضبوط ہو اور قربانی دینا آسان ہو جائے تو یہ ’’صدق‘‘ کی علامت ہے اور ان ہی لوگوں کو ’’صادقین‘‘ کہا گیا ہے، صدق سچائی کو کہتے ہیں ، یہاں صرف زبان کی سچائی کافی نہیں بلکہ قول و عمل دونوں کی سچائی مراد ہے، قول میں بھی سچائی ہو، عمل میں بھی سچائی ہو اور نیت میں بھی سچائی ہو، صادقین ان لوگوں کو یہاں اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ صرف زبان سے مسلمان نہیں ہوتے بلکہ ان کا دل بھی اس کی گواہی دیتا ہے اور وہ دل سے اس کو تسلیم کرتے ہیں ، ان کی زبان دل کی صحیح ترجمان ہوتی ہے، وہ اس میں نہ کچھ ہیر پھیر رکھتے ہیں اور نہ ہیر پھیر کرتے ہیں ۔
قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِيْنِكُمْ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ يَمُنُّوْنَ عَلَيْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا ۭ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَيَّ اِسْلَامَكُمْ ۚ بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِيْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ غَيْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ(سورۃ الحجرات: ۱۶)
’’کہہ دیجیے کہ تم اللہ کو اپنا دین جتلاتے ہو جبکہ اللہ جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب جانتا ہے اور اللہ ہر چیز سے خوب واقف ہے۔ وہ آپ پر احسان دھرتے ہیں کہ اسلام لے آئے، کہہ دیجیے کہ اپنے اسلام لانے کا احسان ہم پر مت رکھو، البتہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کا راستے چلایا، اگر تم واقعی سچ کہتے ہو۔ بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کے ڈھکے چھپے سے واقف ہے ، اور جو کچھ تم کرتے ہو اس پر اس کی پوری نگاہ ہے۔‘‘
تحفۂ ربّانی
اللہ تعالیٰ کے احسانات
اللہ تعالیٰ کے احسانات انسانوں پر بے شمار ہیں ، وہ قدرت الٰہی کا شاہکار ہے، باقی کل مخلوقات انسان کی خدمت کے لیے مسخر ہیں ، زمین، آسمان، سورج، چاند ستارے، پہاڑ، دریا، ہوا، پانی، زمین کے اندر خزانے، سمندر کی مچھلیاں ، ہیرے جواہرات، تیل کے چشمے، سونے چاندی کی کانیں ، یہ ساری نعمتیں تمام انسانوں کے لیے ہیں ، نہ اس میں کالے گورے کا کوئی فرق ہے نہ امیر غریب کا، نہ اس میں خاندان کی کوئی تقسیم ہے، نہ علاقے کی، ہر انسان کے لیے اللہ نے ضرورتیں رکھی ہیں ، اور وہ ان کو پورا کرنے کے لیے اللہ کی دی ہوئی عقل کا استعمال کرتا ہے، دنیا کی ان نعمتوں میں اللہ تعالیٰ نے ایسا عموم رکھا ہے کہ اس میں کسی کا کوئی امتیاز نہیں ، جو چاہے اپنی عقل و ذہانت کا استعمال کرے اور جدوجہد کر کے جہاں تک چاہے ترقی کرتا چلا جائے۔
سب سے بڑا احسان
لیکن ان تمام نعمتوں میں اس کی سب سے بڑی نعمت ایمان ہے، جس کی توفیق ہر ایک کو نہیں ہوتی، جو بھی اس کی نگاہ رحمت کا مستحق ٹھہرے، جس کو چاہے جہنم کے گڑھے سے نکال کر جنت کی بلندیاں عطا فرما دے، راستہ اس نے بتادیا:
مَنْ شَآئَ فَلْیُوْمِنْ وَمَنْ شَآئَ فَلْیَکْفُرْ
’’جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے نہ مانے‘‘
بیشک انسان تو اس میں پورا ختیار ہے، لیکن توفیق اسی کے ہاتھ میں ہے۔
حضرت ابوطالب محبوب رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے محبوب چچا، محسن اسلام، لیکن ایمان مقدر میں نہیں تھا، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں :
’’چچا کان میں ایک مرتبہ اقرار کرلیجیے، گواہی دے دیجیے۔‘‘4صحیح بخاری، باب قصۃ أبی طالب/۳۸۸۴، صحیح مسلم، کتاب الایمان،باب أول الایمان قول لاالہ الااﷲ/۱۴۱
لیکن جواب یہ ہے کہ قوم کیا کہے گی۔ قرآن مجید میں صاف کہہ دیا گیا:
إِنَّکَ لاَ تَھْدِیْ مَنْ أَحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ ﷲ َ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ
’’آپ جس کو چاہیں اس کو ہدایت دے دینا آپ کا کام نہیں ، ہاں اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے۔‘‘
نعمت ایمان کی ہدایت اسی کے ہاتھ میں ہے، عم رسول صلی اﷲ علیہ وسلم حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے قاتل ’’وحشی‘‘ جن کے سامنے آنے سے آپ کو تکلیف پہونچتی تھی، جاں نثار چچا یاد آ جاتے تھے، رحمت الٰہی کا ہاتھ ان کو گمراہی کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان کی روشنی عطا کرتا ہے، آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے دست مبارک پر وہ اسلام قبول کرتے ہیں۔5صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب قتل حمزۃ/۴۰۷۲، شعب الایمان، باب فی معالجۃ کل ذنب بالتوبہ/۶۸۷۶
توفیق الٰہی
ایمان وہ تحفۂ ربانی ہے وہ جس کو چاہے عطا فرمائے، جس کو یہ نعمت گھر بیٹھے مل گئی وہ ہزار بار شکر کرے، سراپا تشکر و سپاس بن جائے تو بھی شاید حق ادا نہ ہو، اپنے بارے میں خوش گمانی کبھی کبھی انسان کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ہے، نیکی کا چھوٹے سے چھوٹا عمل انسان اللہ کی توفیق سے کرتا ہے۔
یہی دو باتیں سورۂ حجرات کی آخری آیات میں کہی جا رہی ہیں ، یہاں بات یہ کہ انسان اپنے کیے ہوئے کسی کام کے سلسلہ میں اس خوش فہمی کا شکار نہ ہو کہ وہ کام اس نے مکمل طریقہ پر کر لیا، اور اس کا حق ادا کر دیا، اس میں دسیوں خامیاں ہو سکتی ہیں ، جن کی طرف اس کی نگاہ نہیں پہنچ رہی ہے، دوسری بات یہ کہ وہ عمل کی نسبت اپنی ذات کی طرف نہ کرے، حقیقت تو یہ ہے کہ چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی انسان اللہ کے حکم اور اس کی توفیق کے بغیر نہیں کر سکتا، ایمان تو بہت بڑی چیز ہے، کوئی اس دھوکہ میں نہ رہے کہ اس نے اس دولت کو خود حاصل کر لیا، ہر ایمان والے کو سراپا سپاس ہونا چاہیے۔
غلط فہمی کا ازالہ
بنو اسد کا وفد آیا تو وہ ان دونوں غلط فہمیوں کا شکار تھا ایک تو ان کو یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ وہ ایمان لائے ہیں اور بغیر کسی دوسرے کی کوشش کے ایمان لائے ہیں ، اس پر ان کو ناز تھا، اور وہ اس کو اسلام اور رسول اسلام صلی اﷲ علیہ وسلم پر ایک احسان تصور کر رہے ہیں ، دوسرا خیال ان کو یہ تھا کہ دولت ایمان پوری طرح حاصل کر چکے ہیں ، جبکہ وہ اس وقت صورت اسلام سے واقف تھے، حقیقت ایمان سے ان کو واقفیت نہیں ہوئی تھی، اسی لیے پہلے ہی مرحلہ میں ان سے کہہ دیا گیا کہ:
قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْا أَسْلَمْنَا
’’آپ کہہ دیجیے کہ تم ایمان نہیں لائے، ہاں یہ کہو کہ ہم مسلمان ہو گئے ہیں۔‘‘
جب یہ بات ان سے کہی گئی تو شاید انہوں نے اور صراحت اور مزید قوت سے کہا کہ ہم مسلمان ہی ہیں، اور ایمان ہم پوری طرح قبول کر چکے ہیں، اس پر آیات نازل ہوئیں:
قُلْ أَتُعَلِّمُوْنَ ﷲ َ بِدِیْنِکُمْ وَﷲ ُ یَعْلَمُ مَا فِیْ السَّمٰوَاتِ وَمَا فِیْ الأَرْضِ وَﷲ ُ بِکُلِّ شَیْیٍٔ عَلِیْمٌ
’’آپ فرما دیجیے کہ کیا تم اللہ کو اپنا دین جتلا رہے ہو، جبکہ اللہ جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے اس کو جانتا ہے اور اللہ ہر چیز کا بخوبی علم رکھتا ہے۔‘‘
آیت میں بات بالکل صاف کر دی گئی کہ تم بڑے زور شور سے جس ایمان کا اظہار کر رہے ہو بلکہ جتلا رہے ہو، اس کی ضرورت نہیں ، اللہ تمہارے دلوں کی حقیقت سے واقف ہے۔
وفد نے آ کر حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے سامنے اپنے اس احسان کا ذکر کیا کہ قبائل ہوازن و غطفان اور محارب نے آپ سے جنگیں کیں ، ہم بغیر قتال کے خود آئے اور پھر اپنے اہل و عیال و اموال لے کر آئے، یہ امتیاز صرف ہم ہی کو حاصل ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کے احسان جتانے کا تذکرہ کیا ہے:
یَمُنُّوْنَ عَلَیْکَ أَنْ أَسْلَمُوْا
’’وہ آپ پر احسان رکھتے ہیں کہ وہ مسلمان ہوگئے۔‘‘
اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہ آئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے خیالات درست کرنے کا حکم فرمایا:
قُلْ لاَّ تَمُنُّوْا عَلَيَّ إِسْلاَمَکُمْ
’’آپ کہہ دیجیے کہ تم اپنے اسلام کا احسان ہم پر نہ رکھو۔‘‘
اور پھر اصل حقیقت کی طرف رہنمائی فرمائی اور ارشاد ہوا:
بَلِ ﷲ ُ یَمُنُّ عَلَیْکُمْ أَنْ ھَدَاکُمْ لِلإِیْمَانِ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ۔ (سورۃ الحجرات: ۱۹)
’’بلکہ تم پر اللہ کا احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی راہ دی، اگر تم سچ کہتے ہو۔‘‘
یہ کلام الٰہی کا اعجاز ہے، پہلے کہا جاچکا ہے کہ تم مومن نہیں ہو بلکہ مسلمان ہو، اور ایمان چونکہ احسان خداوندی کا تذکرہ ہے، اس لیے خود ان کے اپنے خیال کے مطابق یہ کہا جا رہا ہے اور اگر تم اپنے آپ کو صاحب ایمان سمجھتے ہو اور اگر تم اپنے اس خیال میں سچے بھی ہو تو یہ سمجھ لو کہ یہ تم پر اللہ کا احسان ہے کہ اس نے توفیق دی، دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں ، وہ جس طرح چاہتا ہے اس کو الٹتا پلٹتا ہے۔
قرآن مجید کتاب ہدایت ہے، اس نے بدوؤں کے قصہ کو اس لیے پیش کیا تاکہ قیامت تک امت سبق حاصل کرتی رہے، جس کو بھی ایمان مل جائے، خیر کی توفیق حاصل ہو جائے، وہ اس حقیقت کو نہ بھولے کہ یہ سب کچھ فضل الٰہی ہے، ہم کچھ بھی کرتے ہیں ، اللہ کے حکم سے کرتے ہیں ، اس کے نتائج اللہ کے حکم سے سامنے آتے ہیں ، کسی کو اپنے عمل پر ناز نہ ہو، وہ اللہ کا شکر گزار ہو اور سر نیاز خم کر دے۔
آخری بات
سورۂ شریفہ کی آخری آیت میں بات صاف کر دی گئی ہے کہ ایک آدمی جتنا بھی جتلائے اور اپنے اسلام کا دعویٰ کرے، اچھے اعمال کا تذکرہ کرے لیکن اللہ حقیقت حال سے خوب واقف ہے، کسی کے کہنے سے اور باور کرانے سے کچھ نہیں ہوگا جب تک حقیقت نہ ہو، صورت و حقیقت کا فرق سب جانتے ہیں ، تنہا صورت و شکل بنا لینا اور مظاہر اختیار کر لینا کافی نہیں ہے جب تک حقیقت کی روح نہ پیدا کی جائے۔
اس آیت کا اس سے پہلے کی آیتوں سے تو بہت واضح ربط ہے ہی بلکہ واقعہ یہ ہے کہ یہ پوری سورہ کی جان ہے، شروع سے لے کر اب جتنے احکامات دیے گئے ان سب کے اندر حقیقت پیدا کرنے کی اس میں تلقین کی جا رہی ہے، اور یہ اسلام کی بڑی خصوصیت و امتیاز ہے کہ اس نے صورت کو حقیقت کے ساتھ جوڑا ہے اور اس میں جان پیدا کی ہے، اس سے عمل کے اندر وہ طاقت پیدا ہو جاتی ہے اور ایسے نتائج سامنے آتے ہیں کہ بعض مرتبہ آدمی کو ان کا تصور بھی نہیں ہوتا، اور یہ اسی وقت ممکن ہے کہ جب اللہ کی اس صفت کا استحضار رہے کہ وہ آسمانوں اور زمین کے ڈھکے چھپے سے واقف ہے، سینوں کے راز اس کے پاس ہیں ، اندر کی کیفیتوں کو وہ خوب جانتا ہے، ارشاد ہوتا ہے:
إِنَّ ﷲ َ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوَاتِ وَالأَرْضِ
’’بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کے ڈھکے چھپے سے واقف ہے۔‘‘
وَﷲ ُ بَصِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ
’’اور جو کچھ تم کرتے ہو اس پر اس کی پوری نگاہ ہے۔‘‘
آدمی اپنے کیے پر کیسا ہی پردہ ڈالے لیکن وہ اپنے خالق و مالک سے کچھ چھپا نہیں سکتا، جس کے دربار میں حاضر ہونا ہے اور اپنے کاموں کا حساب دینا ہے، اس کا استحضار انسان کو ہزار خرابیوں سے بچا سکتا ہے، اور واقعہ یہ ہے کہ معاشرہ کی اصلاح میں اس کی خاص اہمیت ہے، ایک روسی مفکر نے یہ بات لکھی ہے کہ ’’سماج کو سنوارنے کا سب سے بڑا ذریعہ آخرت کی جزا و سزا کا یقین ہے‘‘ یقین جتنا بڑھتا جاتا ہے زندگی سنورتی جاتی ہے، پھر انسان پھونک پھونک کر قدم رکھتا ہے اور ڈرتا ہے کہ کوئی کام مالک کی مرضی کے خلاف نہ ہو جائے کہ اس کے نتیجہ میں آخرت کی پکڑ کا سامنا کرنا پڑے۔
حاصل یہ کہ صفات حمیدہ پیدا کرنے اور زندگی کو صحیح رخ پر ڈالنے کا یہ سب سے قیمتی نسخہ ہے، ضرورت ہے اس کے یقین کو بڑھانے کی اور اسے آزمانے کی۔
٭٭٭٭٭
- 1صحیح مسلم، باب معرفۃ الایمان والاسلام
- 2سورۃ النصر: ۲
- 3مختصر تفسیر ابن کثیر، تفسیر سورۃ الحجرات: ۳۲۹ (مطبوعہ دارا لقلم)
- 4صحیح بخاری، باب قصۃ أبی طالب/۳۸۸۴، صحیح مسلم، کتاب الایمان،باب أول الایمان قول لاالہ الااﷲ/۱۴۱
- 5صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب قتل حمزۃ/۴۰۷۲، شعب الایمان، باب فی معالجۃ کل ذنب بالتوبہ/۶۸۷۶
