ایک اہم پیغام – پاکستانی مجاہدین کے نام

آج سے تیرہ سال قبل مشہور عرب عالم شیخ عبد العزیز الطریفی فک اللہ بالعز اسرہ نے شام کے مجاہدین کے لیے ایک مضمون قلم بند کیا تھا جس کا عنوان تھا ’’رسالة إلى أهل الثغور في الشام‘‘۔ اس مضمون میں ایسی اہم نصیحتیں ہیں جو آج کے زمانے میں پاکستانی مجاہدین کے لیے بھی اسی قدر اہم ہیں جس قدر شام کے مجاہدین کے لیے تھیں۔ مجاہدین کے فائدۂ عام کے لیے شیخ کے اس مضمون کا اردو استفادہ ذیل میں پیش ہے۔ (ادارہ)


یہ مجاہدین کے نام ایک مختصر پیغام ہے۔ جس طرح ان کا حق ہے کہ ان کی نصرت کی جائے، اسی طرح ان کا یہ حق بھی ہے کہ انہیں نصیحت کی جائے۔ پس گزارش ہے کہ:

۱۔ وحدت کو لازم پکڑو، اگر پورے حق پر جمع نہ ہو سکے تو ایک دوسرے کی بعض کمیوں کی وجہ سے علیحدہ نہ ہو جانا، بدعت یا گناہ کی وجہ سے تفرقہ میں نہ پڑنا، کیونکہ تمہارا سامنا کفر سے ہے۔ عبیدیوں کے خلاف جنگ میں مسلمان اکھٹے ہوگئے تھے حالانکہ ان کا قائد خارجی تھا، اور امام ابنِ تیمیہؒ نے اہلِ بدعت کے ساتھ مل کر تاتاریوں کے خلاف جنگ کی ۔

۲۔ تفرقہ ہو جائے تو کثرت کو بھی شکست ہو جاتی ہے، مگر وحدت ہو تو قِلّت بھی فتح یاب ہوتی ہے۔ تم اُس وقت تک غالب نہیں آ سکتے جب تک دشمن کو قتل کرنے سے پہلے اپنے نفس کی خواہش کو قتل نہ کرو۔ کیونکہ خواہشِ نفس دشمنی کے پیمانے بدل دیتی ہے۔ بسا اوقات انسان یہ سمجھتے ہوئے بدلہ لیتا ہے کہ وہ اپنے رب کے لیے لے رہا ہے، حالانکہ دراصل وہ اپنی خواہشِ نفس کی خاطر لڑ رہا ہوتا ہے۔

گناہوں کی تھوڑی مقدار بھی دلوں میں جدائی ڈال دیتی ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’تم اپنی صفوں کو ضرور درست کرو گے ورنہ اللہ تمہارے دلوں میں اختلاف ڈال دے گا۔‘‘ (مسند أحمد، سنن أبي داود)

جب نماز کی صفوں کی درستگی نہ کرنے سے دلوں میں انحراف پیدا ہو گیا، تو دورانِ جہاد اور دشمن سے مقابلے کے وقت صفوں کے ٹیڑھے پن سے کیا حال ہو گا؟ پس اگر دلوں میں اختلاف ہو تو اس کا سبب اپنے اعمال کی خرابی میں تلاش کرو۔

۳۔ تم ایسے مقام پر ہو جو چناؤ کا بھی ہے اور آزمائش کا بھی، جنت کے بلند ترین درجات اس مقاتِل کے لیے مقرر کیے گئے ہیں جو اللہ کے لیے قتال کرتا ہے، اور سب سے پہلے جن لوگوں سے جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی ان میں وہ قتال کرنے والا شامل ہو گا جس نے اپنی خواہشِ نفس کے لیے قتال کیا ہو گا۔

۴۔ خبردار! اقتدار اور اختیار کی محبت سے بچو۔ نبی کریم ﷺ نے دوسروں پر خود کو ترجیح دینے سے خبردار فرمایا ہے۔ پس کسی جماعت یا گروہ کی برتری کے بجائے دین کی نصرت ہی تمہارا فکر و غم ہونا چاہیے۔

۵۔ کہیں بعض القابات تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دیں کہ ان کی بنیاد پر دوستی اور دشمنی کرنے لگو۔ اللہ تمہارے جھنڈے، پرچم اور جماعتوں کے ناموں کو نہیں دیکھتا، بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔ کسی نام کی بنا پر جھگڑا نہ کرو، کیونکہ بہرحال تمہارے نام کتنے ہی معزز کیوں نہ ہوں، وہ ’’رسول اللہ‘‘ ﷺ کے لقب سے زیادہ معزز نہیں ہو سکتے، جسے خود رسول اللہ ﷺ نے صلح حدیبیہ کے موقع پر اپنے ہاتھ سے مٹا دیا تھا جب مشرکین نے اس پر اعتراض کیا، تاکہ حق کو نافذ کیا جا سکے اور امت کی مصلحت قائم رہے۔

۶۔ تمہارے آج کے یہ القابات (جماعتوں و اتحادوں کے نام ) کسی بھائی کو دوسرے بھائی سے یا کسی جماعت کو دوسری جماعت سے زیادہ افضل نہیں بنا دیتے، چاہے وہ متعدد ہی کیوں نہ ہوں۔ اپنے لیے ایسے نام نہ رکھو کہ انہیں شریعت، دوستی اور دشمنی کا معیار بنا لو۔ یہ چند حروف پر مبنی محض نام ہیں، تاکہ ان کے ذریعے تم ایک دوسرے کو پہچانو۔

یہ تمہیں جوڑیں نہ کہ جدا کریں۔ اصل معیار تمہارے اعمال ہیں، اسی طرح اللہ کے ہاں دنیا میں صرف ’’حزب اللہ‘‘ نام رکھ لینے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

۷۔ کسی بھی شخص کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنی جماعت یا گروہ کو دوستی اور دشمنی کا معیار و محور بنائے، اس طرح کہ وہ بیعت لینے کا حق صرف اپنے لیے خاص سمجھے اور امارت (سربراہی) کو صرف خود ہی میں دیکھے۔ پس جو شخص اپنے آپ کو باقی مسلمانوں سے بہتر سمجھتا ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ صرف وہی قیادت کا حق دار ہے، تو وہ ان لوگوں میں سے ہے جن کے بارے میں اللہ عزوجل نے فرمایا:

اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِيْ شَيْءٍ ۭ (سورۃ الانعام۱۵۹)

’’(اے پیغمبریقین جانو کہ جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور گروہوں میں بٹ گئے، ان سے تمہارا کوئی تعلق نہیں۔‘‘

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا:

’’اللہ نے مومنوں کو اجتماعیت میں رہنے کا حکم دیا ہے، اور اختلاف و تفرقہ سے منع فرمایا ہے، اور انہیں یہ بتایا کہ جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں، ان کی ہلاکت کا سبب دین میں جھگڑے اور لڑائیاں تھیں۔‘‘ (تفسير ابن ابی حاتم)

اختلاف اور تنازع سے اللہ کی نصرت ختم ہو جاتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:

وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْهَبَ رِيْحُكُمْ (سورۃ الانفال۴۶)

’’اور آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم ناکام ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔‘‘

حضرت قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا:

’’اختلاف نہ کرو، ورنہ تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری مدد نہیں کی جائے گی۔‘‘ (تفسير ابن ابی حاتم)

۸۔ اس وقت جبکہ تم حالتِ جنگ میں ہو اور تمہارے اندر مختلف گروہ موجود ہیں، اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ تم میں سے کوئی ایک شخص عمومی بیعت کا اختیار حاصل کر کے کر اس کی بنیاد پر تمام فیصلے کرے۔ یہ بیعت محض جہاد، قتال، ثابت قدمی، صبر اور اصلاح کے لیے ہونی چاہیے۔ کسی فرد کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اپنے گروہ کا تشخص جدا کر کے اپنے آپ کو ’’امیر المؤمنین‘‘ کے لقب کا حق دار بنائے، بلکہ اسے ’’امیر الجیش‘‘ (سپہ سالار) یا ’’امیر الغزو‘‘ (امیرِ لشکر) کہنا چاہیے۔

ولایتِ عامہ کا دار ومدار مومنین کی مشاورت پر ہے، نہ کہ کسی فرد کی خواہش پر۔ القابات کی اجارہ داری باہمی اختلافات اور فتنے کا سبب بنتی ہے۔

اور حضور اکرم ﷺ کے لیے ولایتِ کبری اُس وقت قرار پائی جب روئے زمین پر نبی کریم ﷺ اور ان کے اصحابِ کرام رضی اللہ عنہم کے علاوہ کوئی مسلمان موجود نہ تھا، اور نہ ہی نبی ﷺ سے کوئی افضل اور ان سے زیادہ اس امر کا کوئی حقدار تھا، لہذا اگر نبی ﷺ نے اقتدار حاصل بھی کر لیا تو وہ انہی کا حق تھا، وہ نبی تھے۔ لوگوں نے انہی کی طرف رجوع کرنا تھا نہ، کہ انہوں نے لوگوں کی طرف۔

۹۔ تم لوگ ایک دوسرے کی گردنیں نہ کاٹنے لگ جانا، اور خون کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔ خوں ریزی کو سندِ جواز بخشنے اور اس کی توجیہات نکالنے میں شیطان کے بہکاوے میں نہ آ جانا، کہ تم کسی کو محض اس لیے قتل کر ڈالو، کیونکہ تمہیں اس کے متعلق مخبری، جاسوسی، یا بد گمانی یا عدمِ نصرت کا گمان تھا۔ اللہ رب العزت نے ہمیں ان گمانوں سے خبردار کیا ہے جو امت کا شیرازہ بکھیر دیتے ہیں:

اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ ۡ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ (سورۃ الحجرات۱۲)

’’بہت سے گمانوں سے بچو، بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔‘‘

کسی مسلمان معصوم کے قتل میں امیر کی اطاعت جائز نہیں۔ اور جس امیر نے کسی حرام کا حکم دیا، مثلاً قتلِ ناحق، تو اس امیر کی نہ اطاعت جائز ہے، نہ بیعت، چاہے وہ بیعتِ قتال ہی کیوں نہ ہو۔ حتیٰ کہ اگر وہ بیعت لے تو اس کی بیعت ساقط ہے۔ اور کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی ایسے حکم کی تعمیل کرے جو بظاہر حرام ہو، جب تک کہ اس کا جواز یقینی طور پر معلوم نہ ہو جائے۔ اور اگر وہ نہیں جانتا تو کسی عالم سے دریافت کرے، تاکہ وہ اللہ کے سامنے حرام خون یا حرام مال کے ساتھ پیش ہو کر لاعلمی یا کسی اور کی تاویل کی بنا پر اپنی آخرت نہ تباہ کر بیٹھے۔ پس اللہ ہر شخص کو اسی کے اعمال کا بدلہ دیتا ہے۔ ارشاد ربّانی ہے:

كُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌ؀ (سورۃ المدثر۳۸)

’’ہر شخص اپنی کمائی کی وجہ سے گروی رکھا ہوا ہے۔‘‘

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک حدیث ثابت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو جُذَیمہ (قبیلہ) کی طرف بھیجا اور انہوں نے انہیں اسلام کی دعوت دی۔ جُذیمہ کے لوگوں نے اسلام قبول کرنے کے بجائے ’’صبأنا‘‘ (ہم نے دین تبدیل کر لیا) کہا۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے (ان کے اس قول کے رد میں) ان کے قیدیوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا:

’’میں اپنے قیدی کو نہیں ماروں گا اور میرے ساتھی بھی اپنے قیدیوں کو نہیں ماریں گے۔‘‘ جب وہ نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچے اور حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے اس عمل کو بیان کیا، تو نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھا کر دو مرتبہ فرمایا: ’’اے اللہ! میں خالد کے عمل سے آپ کے حضور براءت کا اظہار کرتا ہوں۔‘‘ (صحيح بخاری)

۱۰۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی نافرمانی اس لیے کی، کیونکہ معاملہ ان پر مشتبہ تھا۔ اور یہ تو ان لوگوں کے خون کا معاملہ تھا جو اصلاً کفار کے حکم میں آتے تھے، تو جہاں معاملہ ایسے شخص کا ہو جو اصلاً مسلمان ہے تو اس کے خون کی حرمت کا کیا حال ہو گا؟

جب تم میں اختلاف ہو، تو اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کرو، جیسا کہ اللہ نے فرمایا:

وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيْهِ مِنْ شَيْءٍ فَحُكْمُهٗٓ اِلَى اللّٰهِ ۭ (سورۃ الشوریٰ۱۰)

’’اور جس چیز میں تم اختلاف کرتے ہو، اس کا حکم اللہ کے پاس ہے۔‘‘

اور اسی طرح ارشاد فرمایا:

فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ (سورۃ النساء۵۹)

’’اگر تمہارے درمیان کسی معاملے میں اختلاف ہو جائے تو اگر واقعی تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کے حوالے کر دو۔‘‘

اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کرنا ایمان کی نشانی ہے، اور اس سے گریز کرنا نفاق کی علامت ہے۔ اگر دو افراد یا دو گروہ اختلاف کریں تو ان کو اپنے علاوہ کسی تیسرے شخص کی طرف رجوع کرنا چاہیے، تاکہ جانبداری کی تہمت سے بچا جا سکے۔ احادیث میں آیا ہے کہ ’’مخالف کی اور متہم کی گواہی جائز نہیں‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ، معرفہ السنن والآثار) اور یہ کہ ’’اپنے بھائی سے بغض رکھنے والے کی گواہی نہیں لی جا سکتی، اور نہ ہی خادم کی اپنے گھر والوں (مالکوں) کے حق میں، نہ ہی اپنے نسب اور ولاء میں تہمت زدہ شخص کی۔‘‘ (مسند أحمد، سنن أبي داود)

اس حدیث کا مفہوم متعدد اسانید سے مروی ہے، اور گواہی اور قضاء میں ان امور کا خیال کرنا بدرجہ اولیٰ ہے۔

۱۱۔ اپنی زبانوں کی حفاظت کرو، کیونکہ تمہارا ایک دوسرے کی عزت اچھالنا آپس کی نفرتوں کو بڑھاتا ہے۔ اور یہ معاملہ یونہی جاری رہتا ہے حتی کہ اس شخص (جس کے بارے میں بدگوئی کی گئی) کا دل نفرت اور کینے سے بھر جاتا ہے۔ پھر وہ اپنے بھائی کے متعلق بدگمانی کرنے لگتا ہے اور اس کے اندر موجود یقینی خیر کو رد کرتا جاتا ہے۔

۱۲۔ علماء سے حسنِ ظن رکھو، وہ نبیوں کے وارث ہیں۔ ان کی قدر و احترام کرتے ہوئے (ان سے رہنمائی حاصل کرنے کی خاطر) ان کی طرف رجوع کرو، اور ان کی باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کرو۔ ان سے اچھے گمان رکھو، اور ان کی باتوں (کو غلط معنی دینے کے بجائے اس) کے بہتر پہلو کو اختیار کرو۔ علماء کے علم کا اثر شہداء کے خون سے زیادہ ہے، جیسا کہ بعض سلف سے منقول ہے کہ ’’قیامت کے دن ترازو میں علماء کے علم کی سیاہی شہداء کے خون سے زیادہ وزنی ہو گی۔‘‘

۱۳۔ امت پر رحمت نہیں نازل ہوتی، جب تک کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر رحم کا معاملہ نہ کریں۔ مجاہدین کے ساتھ اللہ کی محبت اور نصرت کا وعدہ ان کی طرف سے مومنین پر رحمت اور ان کے لیے عاجزی اختیار کرنے اور کفار پر سختی کرنے پر منحصر ہے۔ اللہ عزوجل نے مجاہدین کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:

فَسَوْفَ يَاْتِي اللّٰهُ بِقَوْمٍ يُّحِبُّهُمْ وَيُحِبُّوْنَهٗٓ ۙ اَذِلَّةٍ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ ۡ يُجَاهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَاۗىِٕمٍ (سورۃ المآئدۃ۵۴)

’’اللہ ایسے لوگ پیدا کر دے گا جن سے وہ محبت کرتا ہو گا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے، جو مومنوں کے لیے نرم اور کافروں کے لیے سخت ہوں گے، اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے، اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے ۔‘‘

اور اللہ ہی سے مدد اور نصرت مانگو، وہی تمہارا مولیٰ ہے، وہی بہترین حامی اور بہترین کارساز ہے۔

عبدالعزیز الطریفی

۱۷ ذو القعدہ ۱۴۳۴

٭٭٭٭٭

Exit mobile version