إن الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله، صلى الله عليه وعلى آله وصحبه وسلم.
تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، ہم اسی کی حمد کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں، اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور اپنے نفسوں کی برائیوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ کی رحمت و سلامتی ہو آپ پر اور آپ کے آل و اصحاب پر۔
أما بعد:
دنیا کے ہر کونے سے مسلمانوں کو بار بار دلی پیغامات وصول ہو رہے ہیں، ان نوجوانوں کی طرف سے جن کے کارنامے عظیم ہیں، اگرچہ ان کی عمریں چھوٹی ہیں، کیونکہ انسان کی قدر اس کے دل اور زبان سے پہچانی جاتی ہے۔ یہ پیغامات دل سے، بلکہ روح سے نکلے ہیں، جو ہر غیرت مند مسلمان سے کہتے ہیں کہ مسجد اقصیٰ خون کے آنسو رو رہی ہے۔
یہ پیغامات لکھنے والے، عظیم مرتبے والے، جلیل القدر لوگ ہیں، ان کا مقام دلوں میں بہت بلند ہے، اور نگاہوں میں ان کی عظمت نمایاں ہے۔
یہ پیغامات لکھنے والے، جوان ہیں، عمر کے ابتدائی مرحلے میں ہیں، فطرتِ سلیمہ پر پیدا ہوئے اور انہوں نے اسی پر پرورش پائی۔ ان کی آنکھیں مسجد اقصیٰ کے نظارے سے منور ہوئیں، جس نے ان کے دلوں کو موہ لیا، اور ان کے دلوں میں اس کی عظمت بھر دی۔ کیونکہ:
وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَي الْقُلُوْبِ(سورۃ الحج: 32)
’’ جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرتا ہے، تو یقیناً یہ دلوں کی تقویٰ سے ہے۔‘‘
لہٰذا اس کے دفاع کو انہوں نے اپنی اولین ترجیحات میں شامل کر لیا۔ کیونکہ ان کی فطرتِ سلیمہ کو ذلت و غلامی اور ہتھیار ڈالنے والے معاہدوں نے آلودہ نہیں کیا، اور نہ ہی ان کے کانوں پر مایوسی و شکست کے الفاظ کا کوئی اثر ہوا۔ انہوں نے اپنے دشمن کو پہچان لیا اور اس سے دشمنی نبھائی۔ منافق خائنوں اور فلسطین کو بیچنے والوں کو پہچانا اور ان سے ہوشیار رہے۔ انہوں نے جمہوریت، وطن پرستی اور قوم پرستی کو مسترد کر دیا اور نام نہاد فلسطینی اتھارٹی سے اعلانِ براءت کیا۔
اور جب غاصب یہودیوں نے مسجدِ اقصیٰ کی بے حرمتی کی، تو اپنے دلوں کے گہرے زخموں سے نہ تو وہ خاموش رہ سکے اور نہ ہی اسے برداشت کر سکے، دشمنوں کو جواب دینا ان کے لیے ناگزیر ہو گیا۔ مگر اپنی امت کی بے حسی اور بے رخی ان کے دلوں کے لیے بے پناہ درد کا باعث تھی۔ ان کے دل کی پکار یہ تھی: کیا مسجدِ اقصیٰ صرف ہماری ہے، ہماری امت کی نہیں؟ آخر امت نے ہم سے کیوں رخ موڑ لیا؟
اور جب حالت یہ تھی کہ دشمن غالب ہو چکا تھا اور دوست بے وفا ہو چکے تھے، تو انہوں نے سچے عزم، مضبوط ارادے اور پختہ فیصلے کے ساتھ جدائی اختیار کی، اور اللہ کے اس حکم پر لبیک کہا جو اس نے قرآنِ مجید میں دیا ہے:
فَقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ (سورۃ النساء:84)
’’اللہ کی راہ میں لڑو۔ آپ کو اپنے سوا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاتا۔ اور مومنوں کو ترغیب دو۔‘‘
پس انہوں نے اپنے رب کی اطاعت کی، اور اللہ کی راہ میں اپنی جانوں کی کوئی پرواہ نہ کی۔ اللہ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے، ان کا اجر اللہ تعالی کے پاس ہے۔
اِنَّهُمْ فِتْيَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنٰهُمْ هُدًى وَّرَبَطْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَا۟ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلٰـهًا لَّقَدْ قُلْنَآ اِذًا شَطَطًا (سورۃ الكہف:13، 14)
’’وہ نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کی ہدایت میں اضافہ کیا۔ اور جب وہ کھڑے ہوئے تو ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط کیا اور انہوں نے کہا کہ ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے، ہم اس کے سوا کسی کو نہیں پکاریں گے، اور اگر ہم اس کے ساتھ کسی اور کو شریک بناتے تو یقیناً بہت بڑا جھوٹ بولتے۔‘‘
انہوں نے اپنی جانوں کو، جو ان کے پاس سب سے قیمتی متاع ہیں، قربان کر دیا تاکہ دشمنوں کے فریب کو ناکام بنائیں اور اپنے خون سے لکھے ہوئے، گرم جوشی کے پیغامات اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے بھیجیں جو ان کے ضمیروں کو جھنجوڑتے ہوئے، ان کے عذروں اور بہانوں کو باطل کر دیتے ہیں، اور ان کے سامنے پکار اٹھتے ہیں کہ آج کے بعد تمہارے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ چھریاں ہمارا ہتھیار ہیں، تو کیا تمہارے پاس ایک چھری بھی نہیں؟
فاعجب لأعزل كل الناس تخذله
كادت تموت أعاديه من الوجل
يصوغ بالدم للأجيال ملحمة
حب الشهادة فيها مضرب المثل
ما فل من عزمه خذلان أمته
أو هول تعذيبه في كل معتقل
ولا استراح إلى تأييد ألسنة
باتت تزخرف أقوالًا بلا عمل
لو خاذلوه استعادوا نبض نخوتهم
لمات أكثرهم من شدة الخجل
ما القدس إلا عروس مهرها دمنا
وما لتقديمنا للمهر من بدل
يا قدس مهما أراقوا فيك من دمنا
فليس حقك إلا الحفظ في المقل
والله يا قدس مهما كان مغرمنا
يبقى خلاصك دومًا غاية الأمل
تعجب ہے اس غیر مسلح انسان پر جسے سب نے تنہا چھوڑ دیا
لیکن اس کے دشمن خوف سے تقریباً مرنے لگے
وہ اپنے خون سے نسلوں کے لیے جنگ کی ایک داستان رقم کرتا ہے
جس میں شہادت کی محبت ضرب المثل بن جاتی ہے
اپنی امت کی بے وفائی سے اس کی ہمت کم نہ ہوئی
نہ قید خانوں کی اذیتوں سے اس کا عزم ڈگمگایا
نہ اسے ان زبانوں کی تائید سے سکون ملا
جو عمل کے بغیر فقط الفاظ کی زینت بنتی ہیں
اگر اس کے چھوڑنے والے اپنی غیرت کو پھر سے جگا لیں
تو ان میں سے اکثر شرم کے مارے مر جائیں
القدس تو ایک دلہن ہے جس کا مہر ہمارا خون ہے
اور اس مہر کا کوئی متبادل بھی نہیں ہے
اے مسجدِ اقصیٰ! چاہے وہ تیرے لیے ہمارا کتنا ہی خون بہا دیں
تیرا حق تو صرف ہماری آنکھوں میں محفوظ رہنا ہے
خدا کی قسم اے مسجدِ اقصیٰ! چاہے ہماری قربانیاں کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہوں
تیری آزادی ہمیشہ ہماری آرزو رہے گی
پس امتِ مسلمہ پر لازم ہے کہ وہ فلسطین میں اپنے بھائیوں کے انتفاضے میں بیرونِ فلسطین سے حصہ لے، اس کی مدد کرے، اس کی حمایت کرے، یہود کو قتل کر کے اور دنیا بھر میں ان کے مفادات پر حملہ کر کے اسے تقویت بخشے۔ ہم پر لازم ہے کہ مسلمانوں کے ممالک اور مسلم سرزمینوں کو یہود کی نجاست سے پاک کریں اور ان کے سب سے بڑے حامی، مددگار اور ارضِ فلسطین میں ان کے وجود کے محافظ، یعنی امریکہ اور مغربی ممالک، کی نجاست اور گندگی سے بھی مسلم سرزمینوں کو پاک کریں۔واشنگٹن اور تل ابیب کی حکومتوں کے درمیان سکیورٹی تعاون اب تک دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑا تعاون ہے۔ لہٰذا یہود کے مددگاروں اور حامیوں کو بھی اس کی قیمت اپنے خون سے ادا کرنا ہو گی، اور انہیں بھی وہی تکلیف چکھنی ہو گی جو ہمارے اہلِ فلسطین اور اہلِ غزہ چکھ رہے ہیں۔
پس ہر وہ مسلمان جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اور یقین رکھتا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ، قبلۂ اول اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کا مقامِ اسراء و معراج ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ مسجدِ اقصیٰ کے دفاع میں بنفسِ نفیس جہاد کرے، اپنی ان پاکیزہ بہنوں کا بدلہ لے جنہیں یہود نے بے دردی سے قتل کیا اور جب بھی یہودیوں اور صلیبیوں کو اپنے سامنے امن و سکون سے دیکھے تو اس کے دل میں درد و غصہ پیدا ہو۔
یہی ہے مسجدِ اقصیٰ کی آزادی کا راستہ، جہاد اور قتال کے ذریعے، جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم کتاب میں حکم فرمایا ہے:
فَقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۭ وَاللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّاَشَدُّ تَنْكِيْلًا(سورۃ النساء:84)
’’ لہٰذا تم اللہ کے راستے میں جنگ کرو، تم پر اپنے سوا کسی اور کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ہاں مومنوں کو ترغیب دیتے رہو، کچھ بعید نہیں کہ اللہ کافروں کی جنگ کا زور توڑ دے۔ اور اللہ کا زور سب سے زیادہ زبردست ہے اور اس کی سزا بڑی سخت۔‘‘
جب اللہ کی نصرت آتی ہے تو جمود کا دور ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بہانے، عذر و حجتیں، تاویلات و فلسفے سب بے معنی ہو جاتے ہیں۔
اسی مدد و نصرت کے ساتھ، جس کی ہم مسلمانوں کو دعوت دیتے ہیں، لازم ہے کہ امتِ مسلمہ سامانِ جنگ تیار کرے، ماہرین اور کمانڈر تیار کرے، تاکہ وہ ایک عظیم فوج کی تشکیل میں حصہ لے سکے، ایک ایسی فوج جو بادلوں کی طرح گرج دار اور پُرہیبت ہو، جو اللہ کے حکم سے بیت المقدس کی آزادی کی فوج ہو گی۔ اس عظیم مشن میں پوری امت کی شمولیت اور شرکت ضروری ہے، کیونکہ آنے والی القدس کی آزادی کی جنگ، اللہ کے حکم سے، کسی گاؤں یا شہر کی آزادی کی جنگ نہیں ہے، نہ ہی یہ کسی تنظیم یا جماعت کی لڑائی ہے، بلکہ یہ ایک عظیم فیصلہ کن معرکہ ہے، ایمان اور کفر کے درمیان معرکہ، ظالم و جائر کفری اقوام کے مقابلے میں پوری امت کا معرکہ ہے، وہ بہترین امت جسے بنی نوع انسان کی بھلائی کے لیے بھیجا گیا ہے۔
اور اس عظیم کام کے لیے بہترین، سب سے موزوں اور تیار میدان، شام کی بابرکت سرزمین ہے۔ لہٰذا امتِ مسلمہ کو چاہیے کہ وہ اپنی توجہ شام میں جہاد پر مرکوز کرے، جہادِ شام کی رہنمائی، اصلاح اور شرعی و سیاسی شعور کی بیداری پر توجہ دے۔ نیز مجاہدین کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی فکر کی جائے کیونکہ آج فرقہ بندی اور اختلاف پر اصرار کرنے والوں کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہا، جب کہ سارا عالمِ کفر اہلِ اسلام کے خلاف متحد ہو چکا ہے۔ مسلمانوں خصوصاً مجاہدین کے درمیان نظریات و تصورات کی اصلاح بھی ضروری ہے، ان نظریات و تصورات میں سے ایک یہ ہے کہ جماعتوں یا گروہوں کے ساتھ تعصب اور عدم برداشت سے اجتناب کیا جائے۔ ہماری محبت یا نفرت کا معیار صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی شخص کسی خاص جماعت سے تعلق رکھتا ہے یا نہیں، اور نہ ہی وفاداری اور براءت کا مدار جماعت یا گروہ میں شمولیت پر ہونا چاہیے، اور اسی طرح فتوحات یا شکستوں، شہداء یا زخمیوں پر خوشی یا غم بھی اس بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے۔ یہ سب جاہلیت کے مظاہر ہیں۔ کوئی بھی مؤمن یا مجاہد جو لوگوں کو رنگ، نسل اور وطن کے تعصبات سے بچنے کی نصیحت کرتا ہے، اسے خود جماعتی تعصب میں نہیں پڑنا چاہیے۔ کیونکہ مومن سب بھائی بھائی ہیں، ان میں سے کسی عربی یا عجمی کو کوئی برتری حاصل نہیں سوائے تقویٰ کے۔
اہلِ حق علماء پر لازم ہے کہ وہ اللہ عزوجل سے ڈریں اور خود کو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے پیش کریں، کیونکہ جہاد کے میدانوں کو ان کی سخت ضرورت ہے۔ مال داروں، تاجروں اور کاروباری افراد پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنی زکوٰۃ کے ذریعے جہاد کی مدد کریں اور ماہرین، اہلِ ہنر اور اہلِ تجربہ پر لازم ہے کہ وہ اپنی مہارتوں اور تجربات سے جہاد کی معاونت کریں، تاکہ تمام کوششیں ایک ہی ڈھانچے میں جمع ہو جائیں، جس سے، باذنِ اللہ، بیت المقدس کی آزادی کا لشکر تشکیل پائے گا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْـتَـطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمْ وَاٰخَرِيْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ ۚ اَللّٰهُ يَعْلَمُهُمْ ۭوَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ يُوَفَّ اِلَيْكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ (سورۃ الأنفال:60)
’’اور ان کے مقابلے میں جو کچھ تم طاقت رکھتے ہو اور جنگی سواریوں سے تیار رہو جس سے تم اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کو خوف زدہ کر سکو جنہیں تم نہیں جانتے (لیکن) اللہ جانتا ہے۔ اور جو کچھ تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدلہ تمہیں دیا جائے گا اور تم پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا ۔‘‘
آخر میں ہم اپنے فلسطینی بھائیوں سے کہتے ہیں:
آپ کے آباء کا خون ہمارے آباء کا خون ہے اور آپ کا خون ہمارا خون ہے۔ پس خون کا بدلہ خون اور تباہی کا بدلہ تباہی ہے۔ اور ہم عظمت والے اللہ کو گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ ہم آپ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے اور ہم اپنے قائدین کے شروع کردہ جہاد کو ویسا ہی پاک اور خالص رکھیں گے جیسا ہمارا رب پسند فرماتا ہے، یہاں تک کہ فتح حاصل ہو جائے یا ہم بھی وہی ذائقہ چکھیں جو حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے چکھا تھا۔
اور ہم آپ کو خوشخبری دیتے ہیں کہ اسلام کی مدد آ رہی ہے، یمن سے مدد خدائے واحد و احد کے اذن سے جاری رہے گی، جبکہ، خراسان، صومالیہ، شمالی افریقہ اور اسلامی مغرب (افریقہ) کی طرف سے آنے والی مدد بھی مضبوط ہو چکی ہے۔
وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ
’’اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين.
٭٭٭٭٭
