۲۰۲۵ء کے اختتام پر دنیا میں خصوصاً مشرق وسطی میں حیران کن اور پریشان کن تبدیلیاں ظہور پذیر ہوئیں۔ ان میں ایک اہم اسرائیل کی طرف سے صومالی لینڈ کو باضابطہ تسلیم کرنا ہے۔ اسرائیل کی یہ حرکت پورے خطے کو بہت آسانی سے غیر مستحکم کر سکتی ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے صومالی لینڈ کی مختصر تاریخ اور جغرافیائی محل وقوع کو سمجھنا ضروری ہے۔
تعارف
صومالیہ افریقہ کے مشرقی حصے میں واقع ایک بڑا ملک ہے، چونکہ اس کی شکل ایک سینگ کی طرح ابھرتی ہے اسی لیے اسے قرن افریقہ (Horn of Africa) کہتے ہیں۔ صومالیہ کے دو طرف طویل ساحلی پٹی ہے، اس کے مشرق میں بحر ہند جبکہ شمال میں خلیج عدن ہے۔ صومالی لینڈ، صومالیہ کے مشرقی حصے پر واقع صومالیہ کے اندر ہی ایک خود مختار ریاست ہے، جس کے پاس صومالیہ کا تقریبا ایک چوتھائی حصہ ہے۔ ۱۹۹۱ء میں شمالی صومالیہ کے قبائلی عمائدین نےایک بڑے اجتماع میں صومالی لینڈ کو ایک آزاد ریاست قرار دیا۔ اس کی اپنی خود مختار حکومت، فوج اور کرنسی ہے اور اس کا دار الحکومت ہرگیسا ہے اور یہاں کے سیاسی اور معاشی حالات باقی صومالیہ کی نسبت مستحکم ہیں۔ یہاں کی آبادی کی اکثریت سنی مسلم ہے۔ اب تک بین الاقوامی طور پر اور اقوام متحدہ کے نزدیک صومالی لینڈ کو صومالیہ کا ہی ایک حصہ تسلیم کیا گیا تھا، لیکن ۲۶ دسمبر ۲۰۲۵ء کو اسرائیل وہ پہلا ملک بنا جس نےصومالی لینڈ کے صدر عبد الرحمن محمد عبداللہ کے ساتھ ویڈیو کال پر مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے اور صومالی لینڈ کو باضابطہ طور پر ایک آزاد اور خود مختار ریاست تسلیم کیا۔ جس کی خطے کے تمام ممالک نے پر زور مخالفت کی۔
اگرچہ یہ خبر مسلم ممالک خصوصاً مشرق وسطی کے لیے کافی حیران کن تھی، لیکن یہ سب کچھ اچانک نہیں ہو گیا بلکہ اس کے پیچھے پوری تاریخ ہے اور یہ بہت پرانے صہیونی ایجنڈے کا حصہ تھا۔
۱۹۹۵ء میں پہلی مرتبہ صومالی لینڈ کے صدر ابراہیم ایگال نے اسرائیلی وزیر اعظم اسحاق رابن کو خط لکھا جس میں اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا، خاص طور پر ’’علاقائی اسلام پسندی‘‘ کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر بات کی۔ اس کے علاوہ سن ۲۰۰۰ء سے ہی موساد صومالی لینڈ میں سرگرم رہا اور وہاں کے اعلیٰ سطح کے افسران سے خفیہ ملاقاتیں، طویل مدتی اور خفیہ تعلقات اور ذاتی روابط قائم کر کے تسلیم کرنے کی بنیاد رکھی۔
صومالی لینڈ کا محل وقوع اور جغرافیائی اہمیت:
صومالی لینڈ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کا قیام محض ممالک کا دو طرفہ معاملہ نہیں بلکہ اسے اسرائیل کی وسیع تر حکمتِ عملی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اس کی سب سے اہم وجہ صومالی لینڈ کا جغرافیائی محل وقوع ہے۔
صومالی لینڈ بحیر ۂ احمر اور بحیرۂ عرب کے سنگم پر واقع ہے، صومالی لینڈ کی بربیرہ بندرگاہ باب المندب کے قریب ترین تجارتی و عسکری پوائنٹس میں شمار ہوتی ہے۔ باب المندب دنیا کے سب سے اہم بحری راستوں میں سے ایک ہے، جس میں افریقہ اور ایشیا کی دو براعظم مشترک ہیں۔ یہ بحیرۂ احمر کو بحیرۂ عرب، خلیجِ فارس اور قرن افریقہ سے جوڑتا ہے۔ یہ محض ایک آبنائے نہیں بلکہ ایشیا اور یورپ کے درمیان عالمی سپلائی چین اور نہر سوئز کی براہ راست اقتصادی شہ رگ ہے جس پر قبضہ جمانا کسی بھی طاقت کو غیر معمولی سیاسی، عسکری اور معاشی برتری دلا سکتا ہے۔
صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے پس پردہ اسرائیلی عزائم
اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اقدام کو صومالیہ نے اپنی سالمیت پر حملہ قرار دیا۔ لیکن اسرائیل نے اسے ’’ابراہیمی معاہدوں کی روح‘‘ کے عین مطابق قرار دیا۔ جس طرح صہیونیوں نے سازشوں کے ذریعے پوری دنیا کے معاشی نظام کو جکڑا ہوا ہے ،اب وہ پانیوں میں اہم اور سٹریٹجک مقامات پر قبضہ جمانا چاہ رہا ہے اور اسرائیل کی اس ایک حرکت نے اس کے سامنے مشرق وسطیٰ اور افریقہ پر اثر انداز ہونے کے نئے مواقع کھول دیے۔
صومالی لینڈ سے یمن کے درمیان فاصلہ صرف ۳۰۰ سے ۵۰۰ کلومیٹر کی دوری کا ہے۔ بربیرہ کی بندرگاہ پر اپنی بحری و فضائی بیس بنا کر حوثیوں کو نشانہ بنانا اسرائیل کے لیے آسان ہو جائے گا۔ پچھلے دو سال میں جو حوثیوں نے براہ راست نشانہ بنا کر اور اسرائیل کے تجارتی بحری جہازوں پر حملہ کر کے جس طرح اس کی ناک میں دم کیا اس طرح ان سے نبٹنا آسان ہو جائے گا۔
ایک اہم اور قابل توجہ امکان یہ بھی ہے، جس کا اسرائیل پچھلے ایک ڈیڑھ سال سے نہ صرف ذکر کر رہا ہے بلکہ افریقہ کے مختلف علاقوں میں رابطے بھی کر رہا ہے، اور وہ ہے غزہ کے فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے جبری بے دخل کر کے کہیں اور آباد کرنا۔ اس سلسلے میں پہلے بھی صومالی لینڈ کا نام سامنے آیا تھا اور ابھی بھی اس معاملے پر بات چیت جاری ہے۔ اور اسی بات کا ذکر کرتے ہوئے صومالیہ کے صدر نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا:
’’صومالی انٹیلی جنس کے مطابق صومالی لینڈ نے اسرائیل کی تسلیم کے بدلے تین شرائط قبول کی ہیں:۱۔ فلسطینیوں کی دوبارہ آبادکاری، ۲۔ خلیج عدن کے ساحل پر اسرائیلی فوجی اڈے قائم کرنا اور ۳۔ ا براہیمی معاہدوں میں شمولیت۔ اسرائیل فلسطینیوں کو زبردستی صومالیہ منتقل کرنے کی کوشش کرے گا، اسرائیل اپنا مسئلہ (غزہ اور فلسطین) صومالیہ میں ایکسپورٹ کر رہا ہے۔ صومالیہ کے پاس ایسی معلومات ہیں کہ صومالی لینڈ میں اسرائیل کی پہلے سے ایک حد تک موجودگی ہے، اور یہ تسلیم کرنا صرف ان امور کو نارملائز کرنے کا ایک طریقہ ہے جو خفیہ طور پر پہلے سے ہو رہے تھے۔ ……اسرائیل تجارتی اور معاشی اہمیت کے اہم سمندروں کو جوڑنے والے اسٹریٹجک پانیوں پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے یعنی بحیرۂ احمر، خلیج اور خلیج عدن۔ “
باب المندب تک رسائی کےذریعے اسرائیل نہ صرف اپنے تجارتی روٹ کو محفوظ بنائے گا بلکہ یہاں سے گزرنے والی تمام تجارت پر نہ صرف نظر رکھ سکتا ہے بلکہ جب چاہے اثر انداز بھی ہو سکتا ہے۔ اسرائیل کی عسکری و ٹیکنالوجیکل موجودگی و برتری کی وجہ سے نہ صرف خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہو گا بلکہ افریقہ و مشرق وسطیٰ کے ممالک خصوصاً یمن و سعودی عرب براہ راست نشانہ پر ہوں گے اور اپنے جدید ترین ڈرونز کے ذریعے ان ممالک کی جاسوسی اور بوقت ضرورت عسکری حملے آسان ہو جائیں گے۔
متحدہ عرب امارات کا کردار
متحدہ عرب امارات کے چہرے سے جوں جوں نقاب کھسک رہا ہے، اندر سے ایک بھیانک اور کریہہ صہیونی پالتو غلام کی شکل سامنے آ رہی ہے۔ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات مل کر صہیونی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ اس بات کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جس صومالی لینڈ سے اسرائیل نے حال ہی میں سفارتی تعلقات استوار کیے ہیں، وہاں متحدہ عرب امارات نے ۲۰۱۷ء میں بربیرہ ائر بیس کی تعمیر شروع کر دی تھی اور ۲۵ سال کے لیے اس بندرگاہ و ائیر بیس تک رسائی حاصل کر لی تھی۔ نہ صرف یہ بلکہ متحدہ عرب امارات بربیرا بندرگاہ، سڑک کے بنیادی ڈھانچے، ہرگیسا ہوائی اڈے کو اپ گریڈ کرنے کے پراجیکٹس پر کام کر رہا ہے اور صومالی لینڈ کی بربیرہ بندرگاہ سے ایتھوپیا تک ریل روڈ بنانے پر بھی کام کر رہا ہے۔ اس وقت صومالی لینڈ کی مستحکم معیشت کے پیچھے بھی متحدہ عرب امارات کا ہاتھ ہے۔ یہ شراکت داری وسیع تر جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے۔
سوڈان میں جو طاقت (RSF) مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہی ہے اور وہاں کے وسائل کو لوٹ رہی ہے وہ بھی متحدہ امارات کی ہی پراکسی ہے۔
یمن میں متحدہ عرب امارات کی پراکسی، سدرن ٹرانزیشنل کونسل(STC) ، مجاہدینِ انصار الشریعہ اور حوثی ملیشیا کے خلاف ساحلی علاقوں اور سعودی عرب سے ملحقہ علاقوں میں اپنا کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کر رہی تھی، جس کے نتیجے میں بن سلمان کے بن زید سے اختلافات شدید بڑھ گئے۔ ایسی رپورٹس بھی سامنے آ رہی ہیں کہ STC کےجنگجووں کو اسرائیل نے تربیت دی تھی۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات مل کر صہیونی ایجنڈے کے مطابق پورے خطے کے حالات اور جغرافیہ تبدیل کرنے کے مشن پر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صومالیہ نے متحدہ عرب امارات سے اپنے تمام تعلقات و معاہدے ملتوی کر دیے ہیں۔ اسلامی کانفرنس کی تنظیم اور سلامتی کونسل میں بھی متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کی مذمت کرنے سے انکار کر دیا۔
مذمتی قراردادیں اور امریکہ کا ’ٹرمپانہ‘ رد عمل
اسرائیل کے اس اقدام سے مسلم ممالک اور افریقن یونین میں تشویش پیدا ہوئی اور تمام ممالک نے اسرائیل کے اس اقدام کی مذمت کی۔ او آئی سی کی ہنگامی میٹنگ بلائی گئی، عرب لیگ کا اجلاس ہوا، اور سب نے مل بیٹھ کر اس کے خلاف عملی اقدامات کرنے کے بجائے کھوکھلی قراردادیں پاس کیں جس کی متحدہ عرب امارات نے مذمت کی اور اسرائیل کا ساتھ دیا۔ پھر صومالیہ کی درخواست پر سلامتی کونسل کا اجلاس بلایا گیا، جس میں صومالیہ نے یہ مؤقف اپنایا کہ صومالی لینڈ کو آزاد ریاست تسلیم کرنا صومالیہ کی علاقائی وحدت پر حملہ ہے اور بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ صومالی لینڈ قانونی طور پر کسی دوسرے ملک کے ساتھ معاہدہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔
سلامتی کونسل کے اس اجلاس میں امریکہ نے اسرائیل کا ساتھ دینے کے لیے اس قدر مضحکہ خیز مؤقف اپنایا جس کی امید ٹرمپ سے ہی کی جا سکتی ہے۔ اجلاس میں موجود امریکی نمائندےنے کہا کہ اسرائیل کو کسی بھی ملک کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا پورا حق ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی ہرزہ سرائی کی کہ سال کے شروع میں کچھ ممالک نے تو ایک ایسی فلسطینی ریاست کے وجود کو تسلیم کیا تھا جس کا کوئی وجود ہی نہیں، تب تو کوئی ایمرجنسی میٹنگ نہیں بلائی گئی۔ اس نے اسے کونسل کا ’’دوہرا معیار‘‘ قرار دیا۔
اس طرح کے لا یعنی جھوٹ بول کر امریکہ فلسطین کی تاریخ بدل دینا چاہتا ہے۔ یہ مؤقف وہاں موجود عرب و مسلمان ممالک کے منہ پر ایک طمانچہ سے کم نہیں جو اس پر واضح اور دو ٹوک جواب نہ دے سکے۔ ان دو معاملات کا تو کوئی جوڑ ہی نہیں، فلسطین صدیوں سے فلسطینیوں کا تھا جس پر یہودیوں نے قبضہ جما لیا جبکہ صومالی لینڈ خودمختار صومالیہ کا ہی حصہ تھا جس نے الگ ہو کر اپنی خود مختاری کا اعلان کیا، حالانکہ کسی ملک نے اب تک اسے علیحدہ ریاست تسلیم ہی نہ کیا تھا۔
صومالی لینڈ کے مفادات
یوں تو صومالی لینڈ کی حکومت مسلمانوں کی ہے، لیکن باقی مسلم حکومتوں کی طرح ان کے آگے بھی پہلی اور آخری ترجیح ان کے داخلی مفادات ہیں۔ یہ بات وہ بھی جانتے ہیں کہ امریکہ کو راضی کرنے کا راستہ تل ابیب سے گزر کر جاتا ہے۔ اس وقت دنیا کی تمام طاقتیں اسرائیل کے ہر مجرمانہ فعل کی محافظ ہیں۔ اسی لیے صومالی لینڈ میں ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت پر علی الاعلان جشن منایا گیا ہے اور اسرائیل کو عسکری بیس بنانے پر بھی رضامندی کا اظہار کیا ہے۔ صومالی لینڈ نے اسرائیل کے ساتھ ماضی میں بھی ’’اسلامی انتہا پسندی‘‘ کے خلاف کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ صومالیہ کو یہ ڈر ہے کہ اگر اسی طرح امریکہ نے بھی صومالی لینڈ کو تسلیم کر لیا تو یہ دوبارہ کبھی صومالیہ کا حصہ نہیں بن سکے گا، لیکن صومالی لینڈ کو متحدہ عرب امارات اور اسرائیل سے ملنے والی اقتصادی مدد اور سفارتی تعلقات، ترقیاتی منصوبے اور آگے چل اقوام متحدہ میں شمولیت کی وجہ سے انہیں اپنا مستقبل ’’روشن ‘‘ دکھائی دے رہا ہے۔
حرف آخر
جس طرح تمام ممالک اپنے مفادات کو ہر شے پر فوقیت دیتے ہیں ، ایسے میں صومالی لینڈ کو کیا مورد الزام ٹھہرانا۔ اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں۔ اسرائیل نے ایسی چال چلی ہے کہ عرب و مسلم ممالک کے پاس ایسی کوئی آفر ہی نہیں ہے جسے پیش کر کے وہ بازی پلٹ سکیں۔ اس چال سے اسرائیل نے بغیر کسی مقابلے کے پورے خطے میں برتری حاصل کر لی۔ جبکہ اسرائیلی پالتو متحدہ عرب امارات اپنی پراکسیوں کے ذریعے صہیونی اہداف کو قابلِ رسائی بنانے کے لیے سرگرم ہے۔ حالات جس قدر تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں آنے والے چند سال خطے کے حالات کا تعین کریں گے۔ ایسے میں خطے کی جہادی تنظیموں کو اس کے مطابق اپنے اہداف مقرر کرنے ہوں گے۔ اسرائیل اور تمام صہیونی طاقتیں ہماری اوّلین دشمن اور ہمارا اولین ہدف ہونے چاہئیں۔ دشمن اپنی چالیں چل رہا ہے اور اللہ اپنی چال چل رہا ہے، اور بےشک اللہ کی چال ہی غالب ہے۔
٭٭٭٭٭
