جہانِ نو ہو رہا ہے پیدا، وہ عالمِ پِیر مر رہا ہے!

دنیا کے حالات اس قدر تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں کہ جس کی نظیر انسانی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ملتی۔ صبح کا قصہ شام کو اور آج شام کا کل صبح یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی قصۂ پارینہ۔ دنیا تبدیل ہو رہی ہے اور بہت تیز تبدیل ہو رہی ہے۔ لیکن ان سب تبدیلیوں میں ایک بات اٹل ہے، وہ بات باطل کے مغلوب ہونے اور حق کے غالب ہونے کا فیصلہ ہے جو لوحِ ازل پر روزِ ازل یا اس سے بھی قبل لکھ دیا گیا تھا۔ دنیا چشمِ سر سے دیکھ رہی ہے کہ ایک عظیم تبدیلی واقع ہونے کو ہے۔کسی کی نظریں ارضِ شام پر لگی ہیں، تو کوئی دریائے فرات کا پانی ناپ رہا ہے۔ آبنائے باب المندب کے دونوں کناروں پر زمین سرخ ہونے کو ہے۔ سندھ و ہند کی زمین میں فساد اپنے جوبن پر ہے، ایک طرف قانونِ الٰہی کی جگہ قانونِ باطل کو نافذ کر کے اسی باطل کو حق کہنے کی جسارت ہے تو دوسری طرف واضح کفر، بت پرستی و شرک ہے۔

مغربِ بعید میں امریکہ، ہمیشہ سے زیادہ خود سر ہو کر ’أنا ربکم الأعلیٰ‘ ڈکارتا ہوا اپنے پڑوسیوں کے گھر میں گھس بیٹھا ہے۔ امن، انصاف، عدل، مساوات کا خوگر امریکہ، انسانی حقوق کا چیمپئن امریکہ، وینزویلا کے صدر کے گھر رات کے اندھیرے میں گھس کر اس کو اور اس کی بیوی کو اٹھا کر لے جاتا ہے، تشدد کرتا ہے اور دیدہ دلیری دیکھیے، مادورو کی بیوی کو تشدد زدہ چہرے سمیت امریکہ کی ایک نام نہاد ’عدالت‘ میں پیش کرتا ہے۔ غزہ میں جاری تاریخِ انسانی کے بدترین قتلِ عام کو رکوانے کی خاطر نام نہاد ’اقوامِ متحدہ‘ میں پیش ہوئی ہر قرار داد کو امریکہ ویٹو کرتا ہے۔عالمی بدمعاش غزہ کی خاطر ایک امن کمیٹی تشکیل دیتا ہے، جس میں وہ زمانے کے سب بڑے بڑے ڈاکوؤں کو رکن بناتا ہے اور بنا کسی شرم کے ان سب ڈاکوؤں سے اس امن کمیٹی کی رکنیت کے بدلے میں ایک ارب ڈالر بھی مانگتا ہے۔ امریکہ اعلانیہ گرین لینڈ پر قبضہ کر کے اس کی معدنیات کواپنے تصرف میں لانا چاہتا ہے۔ کیا ہم میں سے کوئی ایک شخص بھی ایسا ہے جو اس سب کا عینی شاہد نہیں؟

اسی امریکہ کو اور اسی امریکہ کے سب سے بڑے بدمعاش ٹرمپ کو، ان سب عالمی بدمعاشیوں کے بعد پاکستان کا شہباز شریف (عاصم منیر کی اجازت سے)، امارات کا ابنِ زاید، سعودی کا ابنِ سلمان، قطر کا تمیم، مصر کا سیسی، اردن کا عبد اللّٰہ اور ترکی کا اردگان، امن کا تمنائی اور امن کا قائم کرنے والا اور امن کا رکھوالا کہتا ہے۔
مخبرِ صادق علیہ ألف صلاۃ وسلام نے فرمایا تھا:

’’سَيَأْتِي عَلَی النَّاسِ سَنَوَاتٌ خَدَّاعَاتُ يُصَدَّقُ فِيهَا الْکَاذِبُ وَيُکَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ وَيَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ قِيلَ وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ قَالَ الرَّجُلُ التَّافِهُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ.‘‘ (سنن إبن ماجة)

’’ عنقریب لوگوں پر دھوکے سے بھر پور سال آئیں گے۔ ان میں جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا اور سچے کو جھوٹا کہا جائے گا ۔ بددیانت کو امانت دار سمجھا جائے گا اور دیانت دار کو بددیانت کہا جائے گا۔ اور رُوَیْبِضَہ باتیں کریں گے، کہا گیا : رُوَیْبِضَہ (کا مطلب) کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : حقیر و کمینہ آدمی جو عوام کے معاملات میں رائے دے گا۔ ‘‘

ذرا غور فرمائیے، ٹرمپ سے لے کر اس کے سبھی غلاموں تک پر کیا یہ فرمانِ نبویؐ صادق نہیں آتا؟کیا تاریخ نے ٹرمپ اور اس کے خادم و غلام شہباز شریف و تمیم و ابنِ زاید وغیرہ سے اسفل لوگ کبھی دیکھے تھے؟ کیا ان سا کوئی حقیر پہلے کرسیٔ اقتدارِ عالم پر براجمان ہوا تھا؟

ہر برائی کی ایک انتہا ہوتی ہے اور جب تک وہ برائی اپنی انتہا کو نہ پہنچے، اس کا سفرِ زوال شروع نہیں ہوتا۔ دنیا کے تبدیل ہوتے حالات کو سمجھنے کے لیے کوئی بہت بقراط ہونا ضروری نہیں، نہ ہی ان کو دیکھنے کے لیے کسی جمشید کے جام کی ضرورت ہے۔

شفق نہیں مغربی افق پر یہ جوئے خوں ہے، یہ جوئے خوں ہے!
طلوعِ فردا کا منتظر رہ کہ دوش و امروز ہے فسانہ

وہ فکرِ گستاخ جس نے عریاں کیا ہے فطرت کی طاقتوں کو
اس کی بے تاب بجلیوں سے خطر میں ہے اس کا آشیانہ

جہانِ نو ہو رہا ہے پیدا، وہ عالمِ پیر مر رہا ہے
جسے فرنگی مقامروں نے بنا دیا ہے قمار خانہ

دنیا تبدیل ہو رہی ہے، اولڈ ورلڈ آرڈر کے بعد آنے والا نیو ورلڈ آرڈر بہت جلد گرنے والا ہے، اس تہذیبِ نو کو کوئی نہ گرائے تب بھی یہ تہذیبِ بد اپنے ہی بے ہنگم جثے کے وزن سے گر جائے گی۔ لیکن اس سب منظر نامے میں سوال دو ہیں!

ہم بطورِ مسلمان من جانب اللّٰہ، اللّٰہ کی عبادت کے مکلف ہیں اور اسی عبادت میں صوم و صلاۃ و زکاۃ کی مانند جہاد و اقامتِ خلافت علی منہاج النبوۃ کے پابند بھی۔ یعنی دنیا سے ہر باطل کو مٹانے اور حق کو غالب کرنے کی کوشش کے، شرعی طریق و منہج کے مطابق مکلف۔ تو دنیا کے ان بدلتے حالات میں، ہم اہلِ اسلام کیا کر رہے ہیں؟

دوسرا، نظامِ باطل میں سرِ فہرست امریکہ اور اس کے اعوان و انصار کے انہدام کے بعد ہم اہلِ اسلام جن کی شانِ حقیقی ’كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ‘ ہے، دنیا کی زمامِ اقتدار سنبھالنے کے لیے کیا انتظام رکھتے ہیں؟ کیا ہم اپنے آپ کو اور اپنی آئندہ نسلوں کو وہ تعلیم و تربیت دے رہے ہیں اور وہ فکر و ہنر سکھا رہے ہیں جس کا تقاضا مستقبل کو ہم سے ہے؟

ان سوالوں کے بعد پھر سچی بات یہ ہے کہ اجتماعی فائدے سے زیادہ، ہم سب ذاتی حیثیت میں کیا کیا کر رہےہیں؟ باطل ٹوٹ رہا ہے، حق غالب آ رہا ہے، تو اگلا سوال یہ ہے کہ راقم و قاری اپنی اپنی حیثیت میں اس ’فی سبیل اللّٰہ‘ فریضے کی خاطر کیا کر رہے ہیں؟ زمانہ، بقولِ اقباؔلؒ ہم سے مخاطب ہو کر ہم سے کہہ رہا ہے:

ہر ایک سے آشنا ہوں لیکن جدا جدا رسم و راہ میری
کسی کا راکب، کسی کا مرکب، کسی کو عبرت کا تازیانہ

نہ تھا اگر تُو شریکِ محفل، قصور میرا ہے یا کہ تیرا
مرا طریقہ نہیں کہ رکھ لوں کسی کی خاطر مئے شبانہ

اللھم اهدنا فيمن هديت وعافنا فيمن عافيت وتولنا فيمن توليت وبارك لنا فيما أعطيت وقنا شر ما قضيت إنك تقضي ولا يقضی عليك وإنه لا يذل من واليت ولا يعز من عاديت تبارکت ربنا وتعاليت!
اللھم وفقنا لما تحب وترضى وخذ من دمائنا حتى ترضى .اللھم اهدنا لما اختلف فيه من الحق بإذنك. اللھم زدنا ولا تنقصنا وأکرمنا ولا تھنّا وأعطنا ولا تحرمنا وآثرنا ولا تؤثر علینا وارضنا وارض عنا. اللھم إنّا نسئلك الثّبات في الأمر ونسئلك عزیمۃ الرشد ونسئلك شكر نعمتك وحسن عبادتك. اللھم انصر من نصر دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم واجعلنا منھم واخذل من خذل دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولا تجعلنا منھم، آمین یا ربّ العالمین!

٭٭٭٭٭

Exit mobile version